The Voice of Chitral since 2004
Monday, 26 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

  بمبوریت میں قائم ‘کیمپنگ پاڈز’ کیلاش ویلیز ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حوالے کر دیے گئے

  بمبوریت میں قائم ‘کیمپنگ پاڈز’ کیلاش ویلیز ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حوالے کر دیے گئے

پشاور(نمائندہ چترال ٹائمز)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے سیاحتی ویژن کے تحت کیلاش ویلیز ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو مزید فعال بنانے کے لیے کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے زیرانتظام بمبوریت میں قائم ‘کیمپنگ پاڈز’ حوالے کر دیے گئے ہیں، جنہیں مقامی سطح پر ایک مستحکم اور پائیدار بزنس ماڈل کے تحت سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے سیکرٹری سیاحت خیبرپختونخوا کے دفتر میں گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ (G2G) پالیسی کے تحت مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
تقریب میں حبیب اللہ عارف ڈائریکٹر جنرل کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی اور منہاس الدین ڈائریکٹر جنرل کیلاش ویلیز ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے مفاہمت کی یادداشت / معاہدے پر دستخط کر دیے۔

تقریب میں سابقہ معاون خصوصی برائے وزیراعلیٰ اقلیتی امور وزیر زادہ، سیکرٹری ثقافت، سیاحت و آثار قدیمہ ڈاکٹر عبدالصمد، ممبران کیلاش ویلیز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، اور محکمہ سیاحت کے دیگر افسران نے شرکت کی۔

سیکرٹری سیاحت ڈاکٹر عبدالصمد نے کہا کہ چترال میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ صوبائی حکومت وادی کیلاش کی مقامی کمیونٹی کی بہبود کے لیے متعدد منصوبوں پر کام کر رہی ہے، جبکہ کیلاشی برادری کے مذہبی رسومات اور تہواروں کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ کیمپنگ پاڈز کے انتظامات کو مقامی سطح پر چلانے سے نہ صرف سیاحوں کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی، بلکہ مقامی معیشت کو بھی فروغ ملے گا۔ حکومت کا یہ اقدام سیاحت کے شعبے میں پائیدار ترقی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے سیاحتی وژن کے تمام ڈیویلپمنٹ اتھارٹییز کو سیاحتی مقامات کو پرکشش اور قدرتی ماحول کو برقرار رکھنے اور پوشیدہ سیاحتی خزانوں کو اُجاگر کرنے اور مقامی کمیونٹیز کو اس کے فوائد سے مستفید کرانا ترجیحات میں شامل ہے۔
camping pads

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged
112739

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی زیرِ صدارت گورننس امور پرجائزہ اجلاس، کیلاش ویلیز ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے 56 مقامات پر ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کو چیک کیا  

Posted on

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی زیرِ صدارت گورننس امور پرجائزہ اجلاس، کیلاش ویلیز ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے 56 مقامات پر ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کو چیک کیا

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت گورننس اقدامات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس میں مختلف محکموں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں اہم منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے سیاحتی مقامات سے متعلق اٹھائے گئے اقدام پر آگہی حاصل کی۔ اس موقع پر شرکاء اجلاس کو بتایا گیا کہ سیاحتی مقامات پر صوبائی حکومت کے قوانین پر عملدرآمد سخت کرنے کے فیصلے پر اہم پیش رفت ہوئی ہے جس کے تحت ان علاقوں میں خراب نکاسی آب اور سیوریج والے ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اجلاس کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے سیکرٹری محکمہ سیاحت کا کہنا تھا کہ حکومت خیبرپختونخوا کی ہدایات کی روشنی میں گلیات ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے 145 مقامات پر ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کو چیک کیا جہاں پر 40 ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں قانونی تقاضے پورے نہیں کئے گئے تھے۔ اسی طرح کیلاش ویلیز ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے 56 مقامات پر ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کو چیک کیا گیا جن میں سے 14 میں مطلوبہ قانونی لوازمات پورے نہیں تھے۔کاغان ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں 377 میں سے 193 مقامات پر ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس، اپر سوات ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں 231 میں سے 106 ہوٹل اور ریسٹورنٹس، جبکہ کمراٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں 71 میں سے 34 مقامات پر ہوٹل اور ریسٹورنٹس میں قوانین پر عمل در آمد نہیں کیا گیا تھا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ان ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کو نکاسی آب اور سیوریج کا نظام درست کرنے کے لیے 14 روز کی مہلت دی گئی ہے،سیاحتی مقامات پر ان اقدامات سے سیاحوں کے لیے آسانیاں پیدا ہوں گی اور ماحولیاتی تحفظ سمیت کاروبار اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا جس کا فائدہ مقامی آبادی کو ہوگا۔ حکومت ان مقامات پر ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے سیاحت کو فروغ دینا چاہتی ہے۔صوبے میں ڈیجیٹل گورننس کی طرف بڑھتے ہوئے ای آفس سسٹم کے نفاذ کیلئے تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ اس منصوبے کے پہلے مرحلے کا نفاذ 30 مئی سے کردیا جائے گا۔ جس کے لئے محکموں کی ٹریننگ آخری مراحل میں ہے جبکہ ای پروکیورمنٹ کیلئے بنائے گئے ای پیڈز سسٹم میں اب تک 1543 ٹینڈرز اپلوڈ کیے جا چکے ہیں۔ ای پیڈز کے علاوہ ٹینڈر کے لیے کسی بھی طریقہ کار پر پابندی ہوگی اور ای آفس اور ای پیڈز سسٹم کے اجراء سے شفافیت اور کارکردگی میں بہتری آئے گی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged
102910