ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان اورچترال چیمبر اف کامرس اینڈ انڈسٹری چترال کے باہمی اشتراک سے لوئر چترال میں دو روزہ تجارتی نمائش ’’چترال ایکسپو‘‘ کا افتتاح
چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) اور چمبر اف کامرس اینڈ انڈسٹری چترال کے باہمی اشتراک سے لوئر چترال میں دو روزہ تجار تی نمائش کا افتتاح ہوا۔چترال ایکسپو میں 80 سے زائد سٹال لگائے گئے ہیں اس تجارتی نمائش کامقصد مقامی خواتین کومعاشی و تجارتی لحاظ سے بااختیار کرناہے۔ ایکسپوکا باقاعدہ افتتاح قائم مقام وائس چانسلر یونیورسٹی آف چترال، ڈاکٹر ثناء اللہ ودیگر مہمانوں نے کیا۔
اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر ثناء اللہ،ڈائریکٹر ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان نعمان بشیر اور چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر حاجی محبوب اعظم اوردوسروں نے کہا کہ اس ایونٹ کے نتیجے میں چترال کی مصنوعات کو ملکی اور بین الاقوامی لیول پر متعارف ہونے کے ساتھ نیٹ ورکنگ اور تربیت کی سہولیات بھی حاصل ہوں گے۔چترال کے معاشی استحکام اور چترال کے ھر بزنس مین اور تجارت سے وابستہ فرد کو تجارت کا بہترین موقع فراھم کریں گے۔ چترال کے تاجر برادری اور خواتین و حضرات اپنے تیار کردہ مصنوعات لگائے ہیں۔جن میں دستکاری کے تیار کردہ معیاری اشیاء،قیمتی پتھر،انٹیکس،لکڑی کے تیار سامان ڈنر سیٹ چترالی ٹوپی چوغا شوقا وغیرہ شامل ہںں۔
اس بزنس ایکسپو میں پاکستان کے دیگر شہروں سے اس بزنس ایکسپو میں شرکت کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ تجارتی نمائش دستکاریوں کو فروغ دینے اور انہیں مارکیٹ تک پہنچا کر خواتین کیلئے روزگار کے حصول میں آسانی پیدا کرنے کے سلسلے میں انعقاد کیاہے۔چترال کی خواتین میں ہنڈی کرافٹ میں جدت پیدا کرنے کی بے انتہا صلاحیتیں موجود ہیں، لیکن اس محنت کا صلہ حاصل کرنے کیلئے اُن کے پاس ایسے مواقع اور مارکیٹ چترال میں دستیاب نہیں، اس لئے ہماری کوشش ہے، کہ مستقبل میں چترال کے ہنڈی کرافٹس کو مارکیٹ تک پہنچانے کیلئے ایسا طریقہ کار وضع کیا جائے، کہ گھر کی دہلیز پر ان محنت کش خواتین کو اُن کی محنت کی صحیح اُجرت مل سکے۔
اس قسم کے نمائش سے سیاحت پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوں گے، اور سیاح چترال کی طرف آنے میں مزید دلچسپی لیں گے
اپنے خطاب میں ڈاکٹر ثناء اللہ نے ٹی ڈی اے پی اور چترال چیمبر آف کامرس کی جانب سے مقامی صنعت کاروں اور ہنرمندوں کے لیے ایسا اہم پلیٹ فارم فراہم کرنے پر سراہا۔
انہوں نے کہا کہ چترال ایکسپو جیسے ایونٹس علاقے کی پوشیدہ معاشی صلاحیت کو اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، خصوصاً دستکاری، خشک میوہ جات، قیمتی پتھروں اور سیاحت کے شعبوں میں۔
ڈاکٹر ثناء اللہ نے مزید کہا کہ چترال کے نوجوانوں اور چھوٹے کاروباروں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، اور اس طرح کے پلیٹ فارمز کے ذریعے انہیں قومی و بین الاقوامی مارکیٹس تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
اس موقع پر ٹی ڈی اے پی کے ڈائریکٹر جنرل محمد نعمان بشیر نے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ ادارہ ملک کے پسماندہ اور ابھرتے ہوئے علاقوں میں تجارت اور کاروباری مواقعوں کو فروغ دینے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ چترال ایکسپو مقامی کاروباریوں اور ممکنہ خریداروں، سرمایہ کاروں اور برآمد کنندگان کے درمیان ایک مضبوط رابطے کا ذریعہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹی ڈی اے پی کاروباری استعداد کار میں اضافے، برآمدی روابط کے فروغ اور شمالی علاقوں کی پائیدار ترقی کے لیے ایسے میلوں اور نمائشوں کے انعقاد کا سلسلہ جاری رکھے گا۔
چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹی ڈی اے پی کی جانب سے مسلسل دوسرے سال اس ایونٹ کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایکسپو مقامی کاروباری اداروں کے لیے ایک قیمتی موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنے مصنوعات کو قومی و بین الاقوامی سطح کے مہمانوں کے سامنے پیش کریں، جس سے سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور علاقے کی معاشی ترقی کو فروغ ملے گا۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ چترال اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان تجارتی روابط کو بہتر بنانے کے لیے بنیادی ڈھانچے اور لاجسٹک سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے۔
افتتاحی تقریب کے اختتام پر مہمانِ خصوصی اور دیگر معززین نے چترال اور ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے نمائش کنندگان کے اسٹالز کا دورہ کیا۔
ایکسپو میں روایتی دستکاریاں، قدرتی و نامیاتی غذائیں، قیمتی پتھر، ہاتھ سے بنے اون کے ملبوسات اور مقامی اشیائے خوردونوش سمیت متنوع مصنوعات کی نمائش کی گئی، جسے دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔
دوسرا چترال ایکسپو 25 اور 26 اکتوبر 2025ء تک جاری رہے گا، جس میں کاروباری روابط، ثقافتی پروگرامز اور نمائشیں منعقد کی جائیں گی تاکہ چترال کو ایک ابھرتی ہوئی تجارتی و سیاحتی منزل کے طور پر اجاگر کیا جا سکے۔





