پیٹرول مہنگا کیوں؟ – سوال صرف قلت کا نہیں، ترجیحات کا ہے- ایس این خان
پیٹرول مہنگا کیوں؟ – سوال صرف قلت کا نہیں، ترجیحات کا ہے- ایس این خان
حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے بعد ایک مرتبہ پھر عوام کے ذہنوں میں یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ جب ملک میں پیٹرول کی قلت نہیں اور ذخائر بھی دو ماہ کے لیے کافی ہیں تو پھر قیمت بڑھانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ترجمان اوگرا کی وضاحت اپنی جگہ، مگر عوام کے لیے یہ منطق ابھی تک قابلِ فہم نہیں بن سکی۔
معاشی اصول کے مطابق قیمتیں عموماً اس وقت بڑھتی ہیں جب کسی چیز کی قلت ہو، رسد کم ہو یا عالمی منڈی میں قیمتیں بے قابو ہو جائیں۔ مگر موجودہ صورتحال میں حکومت خود تسلیم کر رہی ہے کہ ملک میں پیٹرول کے ذخائر وافر مقدار میں موجود ہیں اور فوری طور پر کسی قلت کا خطرہ بھی نہیں۔ ایسے میں قیمت بڑھانا عوام کے لیے ایک اضافی بوجھ کے سوا کچھ محسوس نہیں ہوتا۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر حکومت اپنی غیر ضروری اخراجات اور شاہ خرچیاں کم کر لے تو کیا عوام کو بار بار پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ اٹھانا پڑے؟ پاکستان جیسے ملک میں جہاں پہلے ہی مہنگائی عام آدمی کی کمر توڑ چکی ہے، وہاں ایندھن کی قیمت میں اضافہ دراصل پورے معاشی نظام میں مہنگائی کی نئی لہر کو جنم دیتا ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے، اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھتی ہیں اور یوں عام شہری کی زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پیٹرول کی قیمت صرف ایک عدد نہیں بلکہ یہ پوری معیشت کی نبض ہوتی ہے۔ جب یہ بڑھتی ہے تو اس کے اثرات ہر شعبے تک پہنچتے ہیں۔ ایسے میں حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ قیمتوں میں اضافے سے پہلے متبادل راستے تلاش کرے، اپنے اخراجات کم کرے اور عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات کرے۔
اگر واقعی ذخائر دو ماہ کے لیے کافی ہیں تو پھر عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ قیمتوں میں اضافے کی جلدی کیوں تھی؟ کیا یہ فیصلہ معاشی مجبوری تھا یا پالیسی کی کمزوری؟
حکومتوں کی اصل آزمائش یہی ہوتی ہے کہ وہ مشکل معاشی حالات میں بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے اپنے نظام میں اصلاحات لائیں۔ کیونکہ جب ریاست اپنے اخراجات کم کرنے کے بجائے عوام پر بوجھ ڈالتی ہے تو پھر سوالات اٹھنا فطری ہو جاتے ہیں۔
