Chitraltimes Banner

تما م سرکاری دفاترپیٹرولیم مصنوعات کا استعمال ضروری سرکاری فرائض، ہنگامی ردعمل کی سرگرمیوں اور ناگزیر فیلڈ آپریشنز تک محدود رکھیں۔ سیکرٹری خزانہ خیبرپختونخوا کا اعلامیہ جاری

Posted on

تما م سرکاری دفاترپیٹرولیم مصنوعات کا استعمال ضروری سرکاری فرائض، ہنگامی ردعمل کی سرگرمیوں اور ناگزیر فیلڈ آپریشنز تک محدود رکھیں۔ سیکرٹری خزانہ خیبرپختونخوا کا اعلامیہ جاری
بیرونِ اسٹیشن دوروں، غیر ضروری معائنوں، رسمی اور غیر ضروری سرکاری سفر کو فوری طور پر محدود کیا جائے۔سرکاری گاڑیوں کا استعمال صرف سرکاری مقاصد کے لیے کیا جائے۔ سیکرٹری خزانہ خیبرپختونخوا

پشاو ر(نمائندہ چترال ٹائمز) محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا نے عالمی تناظر کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کے استعمال سے متعلق تمام محکموں،فارمیشنز اور ذیلی دفاتر کو ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں سرکاری امور کی بلا تعطل انجام دہی کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی اور بچت پر مبنی اقدامات اختیار کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے سیکرٹری محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کی جانب سے گزشتہ روز پیٹرولیم مصنوعات کے دانشمندانہ اور کفایت شعاری کے ساتھ استعمال کرنے کیلئے محکمہ خزانہ کے دفاتر اور فیلڈ فارمیشنز کیلئے ہدایات نامہ جاری کیا گیا ہے۔ اعلامیہ کے مطابق تمام دفاتر پیٹرولیم مصنوعات کے دانشمندانہ اور کفایت شعاری کے ساتھ استعمال کو یقینی بنائیں اور پیٹرولیم مصنوعات کا استعمال ضروری سرکاری فرائض، ہنگامی ردعمل کی سرگرمیوں اور ناگزیر فیلڈ آپریشنز تک محدود رکھا جائے۔

محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کے مطابق بیرونِ اسٹیشن دوروں، غیر ضروری معائنوں، رسمی اور غیر ضروری سرکاری سفر کو فوری طور پر محدود کیا جائے سرکاری گاڑیوں کا استعمال صرف سرکاری مقاصد کے لیے کیا جائے جہاں ممکن ہو گاڑیوں کے مشترکہ استعمال (پولنگ) کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ایک ہی سرکاری سرگرمی کے لیے متعدد گاڑیوں کے غیر ضروری استعمال سے اجتناب کیا جائے۔ اعلامیہ میں لکھا گیا ہے کہ تمام اندرونی، بیرونی اور رابطہ کاری کے اجلاس حتیٰ الامکان ورچوئل پلیٹ فارمز کے ذریعے منعقد کیے جائیں تاکہ غیر ضروری نقل و حرکت اور پیٹرولیم کے استعمال کو کم سے کم کیا جا سکے۔

محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کے مطابق پیٹرولیم الاٹمنٹ اور گاڑیوں کے استعمال کی متعلقہ انتظامی دفاتر کی جانب سے مناسب نگرانی اور ریکارڈنگ کی جائے اور منسلک محکموں، دفاتر کے سربراہان موجودہ حالات کے پیش نظر سرکاری وسائل کے استعمال میں کفایت شعاری کے حوالے سے تمام افسران اور عملے میں آگاہی پیدا کی جائے۔ سیکرٹری خزانہ نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاری بجٹ سائیکل اور آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ کی تیاری محکمہ خزانہ کی ترجیحی ذمہ داری ہے مذکورہ بالا اقدامات کسی بھی صورت میں بجٹ سائیکل اور بجٹ کی تیاری کے عمل میں رکاوٹ کا باعث نہ بنیں۔ ان ہدایات پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور انہیں اپنے انتظامی کنٹرول میں موجود تمام ذیلی دفاتر اور فیلڈ فارمیشنز تک پہنچائیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged ,
118482

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورت ) پٹرول 10 روپے اورڈیزل کی قیمت میں پانچ سے دس روپے فی لٹر تک کے اضافے کی تجویز پیش کر دی گئی ہے۔آج رات بارہ بجے سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے، ذرائع کیمطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق اوگرا نے ورکنگ مکمل کرکے تجاویز حکومت کو بھجوا دی ہیں۔وزیر خزانہ وزیر اعظم کی ہدایت پر ٓفیصلہ کریں گے، پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان ا ٓج ہوگا۔

پی ڈی ایم کی مخلوط حکومت کے دوران پٹرول کی قیمت میں کب اور کتنا اضافہ ہوا؟

لاہور(سی ایم لنکس) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے بعد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) بھی عوام پر پٹرول بم گرانے سے پیچھے نہ رہی۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے خاتمے کے وقت پٹرول کی قیمت 149 روپے 86 پیسے تھی، پی ڈی ایم کی مخلوط حکومت نے مئی 2022 میں پٹرول کی قیمت میں 30 روپے اضافہ کیا جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 179 روپے 86 پیسے ہو گئی۔بعدازاں 3 جون 2022 کو شہباز حکومت نے ایک بار پھر عوام پر پٹرول بم گراتے ہوئے قیمت میں 30 روپے اضافہ کر دیا جس کے بعد پٹرول کی قیمت 209 روپے 86 پیسے پر جا پہنچی۔محض 15 دن بعد 15 جون 2022 کو پی ڈی ایم حکومت نے غریب عوام کو ایک اور جھٹکا دیتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں مزید 24 روپے اضافہ کر دیا اور پٹرول کی قمیت 233 روپے 86 پیسے ہو گئی۔اسی طرح پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ نہ رک سکا اور حکومت نے پھر یکم جولائی 2022 کو اضافے کے بعد پٹرول کی قیمت 248 روپے 74 پیسے پر پہنچا دی۔بالآخر 15 جولائی 2022 کو حکومت کو عوام پر تھوڑا رحم آیا اور پٹرول کی قیمت میں 18 روپے 50 پیسے کمی کی گئی جس کے بعد پٹرول 230 روپے 24 پیسے پر آگیا جبکہ یکم اگست کو قیمت میں 3 روپے 5 پیسے کمی ہوئی جس کے بعد پٹرول 227 روپے 19 پیسے پر فروخت ہونے لگا۔16 اگست 2022 کو حکومت نے ایک بار پھر پٹرول کی قیمتوں میں 6 روپے 72 پیسے اضافہ کر دیا جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 233 روپے 91 پیسے ہو گئی۔یکم ستمبر 2022 سے عوام کو پٹرول کی قیمتوں میں 2 روپے 7 پیسے کے اضافے کا جھٹکا دیا گیا اور یوں نئی قیمت 235 روپے 98 پیسے پر جا پہنچی جبکہ21 ستمبر 2022 کو پھر1 روپے 45 پیسے کا اضافہ ہوا جس کے بعد نئی قیمت 237 روپے 43 پیسے ہو گئی۔بعدازاں یکم اکتوبر 2022 کو پٹرول کی قیمت میں 12 روپے 63 پیسے کمی کی گئی جبکہ 16 دسمبر کو بھی قیمتوں میں مزید 10 روپے کمی کے بعد پٹرول 214 روپے 80 پیسے پر آگیا۔نئے سال 2023 کے پہلے ماہ جنوی کی 29 تاریخ کو حکومت نے عوام کو ایک بار پھر 35 روپے اضافے کا جھٹکا دیا اور پٹرول کی نئی قیمت 249 روپے 80 پیسے پر پہنچا دی۔یاد رہے کہ پی ڈی ایم کی مخلوط حکومت اپریل 2022 سے 15 فروری 2023 تک پٹرول کی قیمتوں میں 8 بار اضافہ کر چکی ہے اور مجموعی طور پر شہباز شریف کی حکومت پٹرول کی قیمت میں تقریباً 100 روپے اضافہ کر چکی ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
71557

پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری؛ روسی وزیر توانائی کل پاکستان پہنچیں گے

Posted on

پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری؛ روسی وزیر توانائی کل پاکستان پہنچیں گے

اسلام آباد(چترال ٹائمز رپورٹ )روس سے خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور گیس کی خریداری سے متعلق روسی وزیر توانائی کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی وفد کل پاکستان پہنچے گا۔روس اور پاکستان کے مابین 18 تا 20 جنوری فیصلہ کن اجلاس اسلام آباد میں طے ہے۔ وفد میں توانائی، ریلوے، کمیونیکیشن، صنعت و تجارت کے افسران اور ماہرین شامل ہوں گے۔ذرائع کے مطابق روس سے فوری طور پر 30فیصد رعایت پر خام تیل اور دیگر توانائی مصنوعات طے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔روس سے سستی پیٹرولیم مصنوعات ملنے کی صورت میں سالانہ 2ارب ڈالر زرمبادلہ کی بچت ہوسکے گی۔ پاکستانی ریفائنریوں نے روسی خام تیل سے پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار ممکن قرار دی ہے۔انٹر گورنمنٹ کمیشن کے اجلاس کے دوران ادائیگیوں اور شپنگ کا طریقہ کار بھی طے کیا جائے گا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
70548

حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ

Posted on

حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ

لاہور(چترال ٹائمز رپورٹ )حکومت نے آئندہ پندرہ روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس بات کا اعلان آج وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے لاہور میں  پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ آج رات بارہ بجے سے آئندہ 15 روز کے لیے نئی قیمتوں کا اطلاق ہونا تھا، یہ ہی قیمتیں برقرار رہیں گی اور ان میں کوئی کمی یا اضافہ نہیں کیا جارہا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ مٹی کے تیل کی قیمت اس وقت 171 روپے 83 پیسے ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جارہی اسی طرح لائٹ ڈیزل آئل 179 روپے ہے اور یہ بھی مہنگا نہیں ہورہا۔

شدید سردی کی لہر،محکمہ موسمیات نے اہم پیشگوئی کردی

اسلام آباد(سی ایم لنکس) ملک کے میدانی علاقوں میں یخ بستہ ہواؤں اور بالائی علاقوں میں برف کا راج ہے۔تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں شدید سردی کی لہر جاری ہے، میدانی علاقوں میں یخ بستہ ہواؤں، گلگت بلتستان اور خیبر پختون خوا کے بالائی علاقوں میں برف کی حکمرانی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیش تر اضلاع شدید سردی کی لہر کی لپیٹ میں ہیں، کوئٹہ میں درجہ حرارت منفی 9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ گیا، پائپ لائنوں میں پانی اور سڑکوں پر کھڑا پانی بھی جم گیا ہے، اور شدید سردی کے باعث معمولات زندگی متاثر ہو گئے ہیں۔بلوچستان کے بیش تر اضلاع میں آج موسم خشک اور شدید سرد رہے گا، زیارت منفی 11، قلات منفی 10، نوکنڈی، مستونگ میں درجہ حرارت منفی 9، دالبندین منفی 8، چمن منفی 7، پشین منفی 6، ڑوب منفی 5، پنجگور میں منفی 4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔کراچی میں بھی سردی بڑھ گئی، آج اتوار کو رواں سیزن کی سرد ترین صبح ہے، جہاں کم سے کم درجہ حرارت 6 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔دوسری جانب شہرلاہور میں بھی درجہ حرارت 6ریکارڈ کیاگیا جس کی وجہ سیسردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہناہے کہ بارش کاتاحال کوئی امکان نہیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
70493

پیٹرولیم مصنوعات پر50 روپے فی لیٹر لیوی عائد کرنے کی ترمیم منظور

Posted on

پیٹرولیم مصنوعات پر50 روپے فی لیٹر لیوی عائد کرنے کی ترمیم منظور

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ ) قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کیلئے پیٹرولیم مصنوعات پر پچاس روپے فی لیٹر لیوی عائد کرنیکی ترمیم منظور کرلی گئی، وزیرخزانہ کا کہنا ہے کہ پچاس روپے فی لیٹر یکمشت عائد نہیں کی جائے گی۔تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں فنانس بل دو ہزار بائیس تئیس کی منظوری کا عمل جاری ہے، پٹرولیم مصنوعات پر 50 روپے فی لیٹر لیوی عائد کرنیکی ترمیم منظور کرلی گئیں۔وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا پٹرولیم مصنوعات پر اس وقت لیوی صفر ہے، پچاس روپے فی لیٹر یکمشت عائد نہیں کی جائے گی، حکومت نے لیوی لگانے کی منظوری حاصل کی ہے۔قومی اسمبلی اجلاس میں وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے کہنے پر فنانس بل میں تبدیلی نہیں کی گئی، 80فیصد ترامیم براہ راست ٹیکسوں سے متعلق کی گئیں، ہمارامقصد امیرپرٹیکس لگانا اور غریب کو ریلیف دینا ہے، آئی ایم ایف سے گزشتہ حکومت کیمعاہدیپرہی عمل کیا جا رہا ہے۔ایم کیو ایم اور جی ڈی اے نے بجٹ پر تحفظات کا اظہار کیا، صابر قائم خانی نے کہا مسائل حل نہ ہوں تو ایسی وزارت پر تھوکتے ہیں، ایک شخص ہمارے منصوبوں کو بجٹ میں شامل ہونے نہیں دے رہا۔جی ڈی اے کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے بجٹ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا بجٹ کوئی معنی رکھتا ہے نہ ہی فنانس بل، ہم جانتے ہیں آگے بہت زیادہ منی بجٹ آئیں گے۔قومی اسمبلی میں جروں سیبجلی کیبلوں کے ذریعے سیلز ٹیکس وصول کرنے سے متعلق اور سافٹ ویئر اور آئی ٹی کنسلٹنٹس کی خدمات پر 5فیصدسیلزٹیکس عائد کرنے کی شق منظور کرلی گئی۔اسپیکر،چیئرمین سینیٹ کو اضافی مراعات دینے کا اختیار متعلقہ قائمہ کمیٹی خزانہ کو دینے کی شق بھی منظور کی گئی۔

شہباز دور میں کرپشن کا خدشہ: آئی ایم ایف نے قرض سے پہلے نیا مطالبہ کردیا

اسلام آباد(سی ایم لنکس) عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے قرض سے پہلے شہباز حکومت سے احتساب کے قانون پر نظر ثانی کا مطالبہ کردیا۔تفصیلات کے مطابق نواز دور حکومت میں منی لانڈرنگ کے معاملے اور شہباز دور میں کرپشن کے خدشے پر آئی ایم ایف نے حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کے بعد اینٹی کرپشن قوانین میں نظرثانی کا مطالبہ کردیا۔سابق معاون خصوصی مصدق عباسی نے کہا کہ نیب کے اختیارات کو کم کردیا گیا ہے اسی لیے آئی ایم ایف نے قوانین پر نظرثانی کا کہا۔اس حوالے سے تحریک انصاف کے فرخ حبیب نے ٹوئٹ میں لکھا کہ آئی ایم ایف نے قرض دینے سے پہلے احتساب کے قانون پر نظرثانی کی شرط لگادی، چوروں کی حکومت نے نیب ترامیم سے کرپشن مقدمات ختم کرنے کے لیے این آر او ٹو لیا، آئی ایم ایف کو اپنے قرضے چوری ہونے کا خدشہ ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ این ا?راو ٹو ا?ئی ایم ایف کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔سابق وزیر اسدعمر نے بھی اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ آئی ایم ایف کوبھی شک ہیکہ وہ جوقرض دیں گیوہ چورحکمرانوں کیاثاثوں میں اضافہ کریں گے، اس لئے نیب قانون میں تبدیلی کے بعد انہوں نے مطالبہ کردیا کہ کرپشن کو پکڑنے کے نظام کو طاقتورکیاجائے۔پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے دور حکومت میں ایف اے ٹی ایف نے منی لانڈنگ کے باعث پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالا اب شہباز شریف کے دور میں آئی ایم اہف نے مطالبہ کر دیا کہ امپورٹڈ حکومت ڈالرز لینے سے پہلے اینٹی کرپشن قوانین پر نظر ثانی کرے، نیب قوانین میں ترمیم سے خود کو 1100 ارب کا این آر او آئی ایم ایف کی نظروں میں بھی آ گیا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
62995