The Voice of Chitral since 2004
Friday, 5 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

داد بیداد ۔ پشاور کا تانگہ ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Posted on

داد بیداد ۔ پشاور کا تانگہ ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

ایک کا لم میں پشاور کے سینما گھروں کا ذکر آیا تو آج کے درینہ قاری خلیل احمد نے تو جہ دلا ئی کہ جی ٹی روڈ پر میٹرو سینما بھی ہوا کر تا تھا میں نے کہا جی حضور! ہوا کر تا تھا پھر کہنے لگے سینما روڈ پر ہائی سکول نمبر 3کے پیچھے تانگہ سٹینڈ ہوتا تھا میں نے کہا جی ہاں! ہوتا تھا، کہنے لگے تانگہ سٹینڈ پر سجے سجا ئے تانگے میں جوتی ہوئی سفید گھوڑی ہوتی تھی میں نے کہا ہو تی تھی اور ساتھ ہی مجھے پشاور کا پورا تانگہ کلچر یا د آیا گیا وہ بھی پشاور کی انمول ثقا فت تھی جس کا پورے بر صغیر میں چر چا تھا فلمی گیت میں آیا ہے ”تانگہ لا ہوری میرا گھوڑا پشاوری میرا بیٹھو میاں جی بیٹھو لا لا میں ہوں البیلا تانگے والا“ پشاور ی گھوڑا اپنی خو ب صورتی اور پھر تی کے لئے شہرت رکھتا تھا

جب جا پا ن، یو رپ اور امریکہ سے گاڑیاں منگوا نے کا رواج نہیں تھا، جب بجلی، تیل، کمپیو ٹر اور دیگر ترقیا تی اشیاء کی چکا چوند کا زما نہ نہیں آیا تھا جب زند گی چیو نٹی کی رفتار سے چل رہی تھی جب تر قی کا پہیہ تیزی کے ساتھ گھومنے کا عادی نہیں تھا تب ہمارے ابا و اجداد کے پا س تانگہ ہوا کر تا تھا اور تانگہ عیا شوں کی سواری سمجھا جا تا تھا، پشاور کے شہری تانگے کو چاروں اطراف سے سفید چادروں کے پر دوں میں ملبوس کر کے خوا تین اور بچوں کو لیکر تانگے کی سواری کر تے تھے پشاور کے شرفاء کے لئے تانگہ ایسا تھا جیسا دہلی اور لکھنو کے شرفا ء کے ساتھ پا لکی کا نا م لیا جا تا ہے سینما روڈ پر تانگے میں جو سفید گھوڑی جُتی ہوا کر تی تھی اُس کی جھلک شکر پڑیاں اسلا م اباد کے عجا ئب گھر میں نظر آتی ہے

ساگوان اور صندل کی لکڑی کا تانگہ ہے سنہرے پہیوں کے اوپر ہا تھی کے چمڑے کا سائبان ہے اور اعلیٰ قسم کے سفید سنگ مر مر کی گھوڑی ہے دیکھنے والے کو لگتا ہے کہ تانگہ اب چل پڑے گا پھر زقند بھرے گا مگر ہمارے لئے اس کا نظارہ ہی غنیمت ہے وہ دن گئے جب تانگہ واحد سواری کے طور استعمال ہوتا تھا پشاور میں تانگوں کے بے شمار سٹینڈ تھے ہشتنگری، فردوس سینما اور نا ز سینما کے سٹینڈ بھی مشہور تھے، گنج، ڈبگری، بھا نہ ما ڑی اور شعبہ بازارکے سٹینڈ بھی خا صے مقبول تھے نو تھیہ اور لا ل کڑ تی کے سٹینڈ بھی خا صے پر ہجو م ہوا کر تے تھے تاہم کا بلی دروازے کے با ہر سینما روڈ پر جو تا نگہ سٹینڈ تھا وہ سفید گھوڑی کی وجہ سے سب کی تو جہ کا مر کز تھا،

تانگے کی مزید سجا وٹ کر کے اسے شادیوں کے لئے لے جا یا جا تا تھا، شہر کے محلہ دار، ملک، خا ن، خوا نین،علما ء اور مشا ئخ کو دعوت پر بلا یا جا تا تو میز بان اپنے معزز مہما نوں کے لئے سجے سجا ئے تانگے کا بند وبست کر تا تھا، شہر کے آزاد خیا ل اور زندہ دل نو جوان سیر کے لئے با ہر نکلتے تو خوب صورت گھوڑی والے تانگے کا انتخا ب کر تے کھلے سڑک پر آتے تو کو چوان سے کہتے گھوڑی دوڑا ؤ اور گھوڑی کی دوڑ سیر کے لطف کو دو با لا کر تی جس تانگہ سٹینڈ پر سفید گھوڑی نہ ہو تی وہ سٹینڈ سنسان ہو تا اس لئے ہر تانگہ سٹینڈ پر سفید گھوڑی والا تانگہ ضرور باندھا جا تا، زما نہ ایسا تھا کہ لو گوں کے پا س غلہ، انا ج، گھی، دودھ مکھن اور پنیر ہو تا تھا انڈا، مر غی اور گوشت ملتا تھا لیکن پیسہ لو گوں کے پا س نہیں ہو تاتھا اُس زما نے میں پشاور سے صدر تک تانگے کا کرایہ صرف 3روپے تھا کو چوان اگر 6سواریاں بٹھا تا تو ہر سواری سے آٹھ آنے لیا کر تا تھا اور یہ بھی خا صی اچھی رقم شما ر ہو تی تھی آج پشار کے اندر پروان چڑ ھنے والی نئی نسل کو تانگہ اور کو چوان کا پتہ ہی نہیں اگر کسی کو اپنی قدیم تہذیب اور ثقا فت سے محبت ہو تو عجا ئب گھر میں جا کر دیکھ سکتا ہے

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
112581

داد بیداد ۔ پشاور کا تانگہ ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد ۔ پشاور کا تانگہ ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

ہم لو ک ورثہ کے عجا ئب گھر سے باہر آکر شکر پڑیاں کی بڑی شا ہراہ پر آگئے تو دوستوں کا پہلا سوال یہ تھا کہ عجا ئب گھر کے باہر پشاور کا تا نگہ کس لئے رکھا گیا ہے؟ ہم نے کہا کہ بر صغیر کی تاریخ میں لا ہور کے تانگے کی اہمیت ہے تو پشاور کے گھوڑے کی دھوم ہے دونوں کو ملائیں تو پشاور تانگہ بن جا تا ہے یہ ہماری ثقا فت کی بچی کھچی نشا نیوں میں شمار ہوتا ہے اس لئے عجا ئب گھر کے لا ن میں فیصل اباد کی لاری کے مقا بلے میں رکھا گیا ہے، میں جب بھی تانگہ دیکھتا ہو یا تانگے والی فلم یا تانگے کی تصویر دیکھتا ہوں تو مجھے پشاور کے وہ مشہور مقا مات یا د آتے ہیں جہاں بیسیوں تانگے صبح شام سواریوں کے انتظا ر میں کھڑے رہتے تھے سامنے والا تانگہ اپنی باری پر سواریاں لیکر روانہ ہو جا تا تو فوراً پیچھے سے دوسرا تانگہ آکر اس کی جگہ لے لیتا تانگہ سٹینڈ پر ”باری“ کا بڑا خیال رکھا جا تا تھا کوئی کوچوان باری کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا تھا ہشتنگری، گنج، یکہ توت، کا بلی، کچہری اور اساما ئی دروازوں کے باہر تانگوں کے سٹینڈ ہوا کر تے تھے صدر کے سٹیڈیم چوک میں ایک سٹینڈ تھا، نو تھیہ، لا لکڑتی اور ڈبگری میں تانگوں کے سٹینڈ تھے، بھا نہ ماڑی، فردوس چوک اور چر گانو چوک کے تانگہ سٹینڈ سب کو یا د ہیں،

ہمارے ایک بزرگ ہر سال چترال سے مزار شریف کا سفر کر تے، ان کا نام کپتان میر گلاب شاہ تھا مزار شریف کے سفر پر جا تے ہوئے پشاور آتے تو یہاں کے تانگوں پر دوستوں، عزیزوں کو ملنے جا تے جس کو چوان کا گھوڑا خوب صورت، تنو مند اور چاق و چوبند ہو تا اس کو چوان کو کرایے کے علا وہ دس روپے انعام دیتے یاد رہے 1972ء میں تانگے کا کرایہ تین روپے ہوتا تھا کا بلی سے صدر کے لئے 6سواریاں بٹھا کر ہر سواری سے آٹھ آنے کرایہ لینے کا دستور تھا دہلی مسلم ہوٹل میں 3روپے کا اور طارق ہو ٹل میں 2روپے کا اچھا کھا نا مل جا تا تھا پشاور کے کوچوان اپنی و ضعداری میں مشہور تھے بڑی شاہراہوں پر سرپٹ گھوڑے دوڑاتے ہوئے چا بک لہرا تے اور ساتھ گا تے جا تے، لار شہ پیخور تہ قمیص تور ما لہ راوڑہ، ان کا پسندیدہ نغمہ تھا بعض من چلے کو چوان بنتے تو ”نن پہ دے حجرہ کی“ والا راگ الا پتے، بعض احمد خا ن ٹپے اور بعض فلمی گیت تانگہ لا ہوری میرا، گھوڑا پشوری میرا بیٹھو میاں جی بیٹھو لا لا! میں ہوں البیلا تانگے والا کی تان بکھیر تے اس طرح آٹھ آنے کی سواری کو لائیو موسیقی کا لطف آتا تھا ایک دن ہشتنگری کے بزرگ کوچوان نے دوران سفر ہمیں بتا یا کہ اس کے باپ دادا بھی کوچوان تھے،

انگریزوں کے آنے سے پہلے نو شہر ہ، مر دان، اور چارسدہ سے لو گ تانگے پر پشاور آتے تھے خواتین کے اپنے تانگے ہوتے تھے عام لو گ کرایے کے تانگوں میں سفر کر تے تھے پردہ دار اور روپوش مستورات کے لئے تانگے کو دونوں اطراف سے پر دے لگا کر باشرع کیا جاتاتھا تانگے میں خواتین ایسی بیٹھتی تھیں جیسی گھروں کے اندر پردے میں ہوتی ہیں تانگے کی سواری کا اپنا مزہ تھا میری عمر کے پشوریوں نے تانگے کے عروج کا زما نہ بھی پا یاپھر تانگے کو زوال آنا شروع ہوا، عرب دنیا میں تیل دریا فت ہوا جر منی اور جا پا ن سے گاڑیاں آگئیں لو گوں کے پاس بے تحا شا پیسہ آیا، تانگے کی جگہ جی ٹی ایس نے لے لی، پہلے ڈبل ڈیکر بس آگئی پھر اومنی بسیں آئیں، پھر ویگن، فلا ئنگ کو چ اور دوسری بسیں آنے لگیں، مو ٹروں کی بھر مار ہو گئی، آٹو رکشہ آیا، اور اب بی آر ٹی نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا ترقی اللہ پا ک کی نعمت ہے مگر یہ نعمت ہمیں باپ دادا کے ورثے اور پُر کھوں کی ثقا فت سے دور کر دیتی ہے آج پشاور کا باسی اپنے پو تے یا نوا سے کو اگر بتائے کہ یکہ توت سے تانگے پر سوار ہو کر صدر جا تا تھا اور آٹھ آنہ کرایہ دیتا تھا تو نئی نسل کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئے گی تا ہم یہ پشاور کی قدیم ثقافت تھی آج گوگل استاد کو دوڑائیں پشاور کے نقشے میں ایک بھی تانکہ سٹینڈ نظر نہیں آتا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
63288