The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 26 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

پانی کی قلت اور گلوبل وارمنگ پر قابو پانے کیلئے مربوط اقدامات کی ضرورت ہے‘صدر مملکت

اسلام آباد(سی ایم لنکس)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پانی کی قلت اور گلوبل وارمنگ پر قابو پانے کیلئے مربوط اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبی وسائل کے تحفظ اور مینجمنٹ کیلئے مزید تحقیق سے مثبت نتائج برآمد ہوں گے، حکومت ملک میں پانی کی بڑھتی ہوئی کمی کے مسئلہ کے حل کیلئے بھرپور کوششیں کررہی ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کو یہاں پانی کے استعمال کے مؤثر نظام پر بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس میں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز، پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز کے چئیرمین ڈاکٹر محمد اشرف، انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر جنرل مارک سمتھ، انسٹیٹیوٹ کے پاکستان میں نمائندہ ڈاکٹر محسن حفیظ، انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹیٹیوٹ کی ممبر بورڈ آف ڈائریکٹرز سیمی کمال سمیت موسمیاتی اور آبی ماہرین نے شرکت کی۔

صدر مملکت نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کو گلوبل وارمنگ اور دیگر موسمیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، حکومت پانی کے ذخائرکی بہتری کیلئے کام کررہی ہے، زراعت کے شعبے میں پانی کا بہتر استعمال بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کانفرنس کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابق چیف جسٹس نے پانی کی سٹوریج کے حوالے سے بہت کام کیا، گلوبل وارمنگ بھی پانی کے ذخائرکیلئے مسئلہ ہے، پانی کے استعمال میں سب کو ذمہ داری کا احساس دلاناچاہیے، پرانے وقتوں میں تہذیب دریاؤں کے ساتھ چلتی تھی، بلوچستان میں سینکڑوں چھوٹے ڈیم بن رہے ہیں، آج پانی کو ری سائیکل کرنے کی ضرورت ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ گلوبل وارمنگ اور دیگر موسمیاتی چیلنجز سے کم اور زیادہ بارشیں پریشانی کا باعث ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان، تھرپارکر اور چولستان کو پانی کی قلت کا مسئلہ درپیش ہے، کوئٹہ کو تین سال سے پانی کی سنگین قلت کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ڈاکٹر عارف علوی نے کہاکہ بلوچستان میں سینکڑوں کی تعداد میں چھوٹے ڈیم بن رہے ہیں تاکہ دوردراز علاقوں میں پانی کو ذخیرہ کیا جاسکے، پانی کے تحفظ کیلئے حکومتی سطح پر اقدامات ناگزیر ہیں، زرعی شعبہ سے وابستہ افراد اور کسانوں کو بھی پانی کی بچت کو اپنا شعار بنانا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ پانی بچانے کیلئے بھرپور اقدامات کی ضرورت ہے، وضو کرتے ہوئے پانی کے استعمال میں احتیاط برتنے کا حکم دیاگیا ہے، صاف پانی کی فراہمی اور تحفظ سے بیماریوں سے بھی بچا جاسکتا ہے، دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی پانی کے تحفظ کیلئے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے، کراچی میں صنعت کو ری سائیکل پانی فراہم کیا جانا چاہئے۔

صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہاکہ پنجاب میں زمین سے 12 ملین ایکڑ فٹ پانی نکالا جاتا ہے جو باعث تشویش ہے۔ صدر نے کہاکہ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں ہوا میں پانی کا تناسب بڑھ جائے گا جس سے کئی علاقوں میں کم اور کہیں زیادہ بارشیں ہوں گی۔ انہوں نے 2018ء کی واٹر پالیسی کو بہت بہتر قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس پر عملدرآمد حکومت کی ذمہ داری ہے۔صدر مملکت نے کہاکہ قدیم تہذیبیں اور شہری آبادیاں دریاؤں کے کناروں پر آباد تھیں اور موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں جب ان دریاؤں نے اپنا رخ بدلا تو یہ شہر بھی ختم ہوگئے۔ صدر نے کانفرنس کے انعقاد پر منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ 1960ء ں برصغیر میں پانی کے مسئلہ کے حل کیلئے سندھ طاس آبی معاہدہ ہوا، اس وقت ہمارا خیال تھا کہ ہمارے پاس کافی پانی ہے لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ پانی کی قلت بڑھ رہی ہے، اب دنیا کو گلوبل وارمنگ کا سامنا ہے، پانی کو ذخیرہ کرنے سے بھی معاملہ حل نہیں ہوگا۔

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت پر قابو پانے کیلئے حکومتی اداروں کا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون قابل تعریف ہے، پانی کا مسئلہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، ہمالیہ کے خطے کے گلیشیئروں کے پانی اور دنیا کے بڑے ایری گیشن سسٹم سے سندھ اور پنجاب سیراب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پانی کا سماجی اور اقتصادی ترقی میں بڑا کردار ہے، ماحولیاتی تبدیلی اور پانی کی کمی ایک بڑا چیلنج ہے، ملک میں زیرزمین پانی کی سطح گر رہی ہے جس کے نتیجے میں فوڈ سکیورٹی کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے کہاکہ متعلقہ فریقین اور اداروں کو اس مسئلہ سے نمٹنے کیلئے تعاون کرنا چاہئے۔ انہوں نے ڈیٹا شیئرنگ کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں تحقیق کو عوامی فائدے کیلئے استعمال کیا جانا چاہئے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پانی کے بحران اور کمی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آئندہ سال جون تک شہر میں 100 مقامات پر گراؤنڈ ری چارج کے ذریعے زیرزمین پانی کی سطح بہتر بنائی جائے گی۔ اسلام آباد کو واٹر سمارٹ اینڈ سسٹین ائیبل سٹی کے تحت واٹر ریسورسز میں مربوط بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پانی کے مسائل کے حل کیلئے قومی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کرے گی۔سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ 5 واں ملک ہے، اس سے نمٹنے کیلئے سنجیدہ اور مربوط کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔

قبل ازیں انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر جنرل مارک سمتھ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں پانی کے وسائل میں کمی ایک بڑا چیلنج ہے جس کے اثرات زراعت اور معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ آبادی میں اضافے کے نتیجے میں پانی کے وسائل کم ہو رہے ہیں، شہروں کے پھیلاؤ اور پانی کے وسائل میں کمی کے سبب بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں، اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کیلئے مربوط اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے، پاکستان بھی اس صورتحال سے متاثرہ ملکوں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں پاکستان میں سیلاب اور خشک سالی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، پانی کے مسئلہ کے حل کیلئے قومی اور مقامی سطح پر ادارے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں اور اس حوالے سے مستقبل کی منصوبہ بندی کی جائے۔انہوں نے کہاکہ ان کا ادارہ 1986ء سے حکومت پاکستان اور صوبائی حکومتوں کی آبی معاملات میں مدد کر رہا ہے۔ انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹیٹیوٹ کی بورڈ کی رکن سیمی کمال نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ان کے ادارے نے پاکستان میں آبی وسائل کے حوالے سے منصوبوں کی فنڈنگ کی ہے، پاکستان میں پانی کے مسائل کے حل کیلئے اقدامات میں حکومتی منصوبوں میں معاونت کی جا رہی ہے جنہیں آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
55772

پانی ندارد، چترال کے نواحی گاوں چمرکن کے عوام کا احتجاجی مظاہرہ رات گئے تک جاری

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال کے نواحی گاؤں چمرکن میں بچوں اور خواتینِ پر مشتمل جلوس جاری ہے جو کہ گاؤں میں گزشتہ چار دنوں سے پینے کی پانی کی عدم دستیابی پر احتجاج کررہے ہیں۔ گاؤں والوں کا کہنا تھا کہ واٹر سپلائی لائن کو اے سی چترال نے چار دن پہلے کاٹ دیا تھا۔ وہ ڈی سی اور اے سی کا علاقے میں نہ جانے پر بھی احتجاج کررہے ہیں۔ انہوں نے پشاور روڈ کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے. اخری اطلاع تک احتجاجی مظاہرہ جاری تھی۔

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , ,
52051

پانی کو ترستا درخت بھی تو مظلوم ہے – فلاحی تنظیم چپس

(رپورٹ: مبشر علی مبشر)


ماحولیات پر کام کرنے والی تنظیم چپس نے عشورہ کے دن قاقلشٹ آکر پودوں کی آبیاری کی اور اس بات کا اظہار کیا کہ اس دنیا کو رہنے کے قابل بنانا بھی ایک طرح حضرت امام حسینؑ سے عقیدت کا اظہار ہے۔

جمعرات کے روز چیئر مین چپس رحمت علی جعفر دوست کی قیادت میں چپس کے کارکن فی کس اپنے ساتھ پانی سے بھرے گلین اور بوتل لے کر قاقلشٹ گئے اور حکومت کی طرف لگائے گئے پودوں کی آبیاری کی۔

پودوں کی صحیح دیکھ بھال پر زور دیتے ہوئے رحمت علی جعفر دوست نے کہا کہ جب تک عوام موسمیاتی خطروں کے معاملے میں حکومت کے شانہ بشانہ کھڑی نہیں ہوتی تب تک نئے پودوں کو ایک گھنے درخت میں تبدیل دیکھنا ایک بے حقیقت خواب ہے۔

ساتھ ہی جعفر دوست نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اس دنیا کو جینے کے لئے سازگار بنانا بھی ہماری سماجی اور مذہبی فرض ہے۔ لہذا ہر انسان کی کوشش ہونی چاہئے کہ وہ اپنی مذہبی یا ذاتی مواقعوں پر جیسے سالگرہ ہوگئی‘ کوئی ایک پودہ لگائے یا کم ازکم پودوں کو پانی ڈالے۔

”یوم عشورہ اپنی نیک صفات کو کسی بھی حالات میں ترک نہ کرنے کا ہمیں درس دیتا ہے“

چودہ اگست‘ یوم آزادی کے موقع پر بھی جعفردوست نے مختلف جگہوں سے آئے ہوئے بائیک سواروں کے ہمراہ قاقلشٹ آکر پودوں کی آبیاری کی تھی۔ اور اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ وہ اپنے والنٹئرز کے ساتھ مہینے میں کم از کم تین بار قاقلشٹ آکر پودوں کو پانی ڈالیں گے۔

ؔ حکومت ’کلین اینڈ گرین پاکستان‘ کے موٹو سے ہر سال ملک کے مختلف علاقوں میں پودے لگا رہی ہے‘لیکن پودوں کی صحیح دیکھ بال میں اب بھی فقدان ہے۔ اپر چترال میں بھی حکومت کی جانب سے پودے لگا ئے گئے مگر حکومت اور سول سوسائٹی دونوں کی عدم تعاون کی وجہ سے بیشتر پروجیکٹ ناکام ہوچکے ہیں‘ حال ہی میں ہی پرواک لشٹ میں بہت سے پودے پانی نہ ملنے کی وجہ سے سوکھ گئے۔

chitraltimes cheps plantation2
chitraltimes cheps plantation1
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
51658