کے پی حکومت کی جانب سے ٹی ایم ایز چیئرمینوں کے اعزازیے کیلئے رقم جاری
کے پی حکومت کی جانب سے ٹی ایم ایز چیئرمینوں کے اعزازیے کیلئے رقم جاری
پشاور(نمائندہ چترال ٹائمز) خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے بھر کے تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن (ٹی ایم ایز) کے چیئرمینوں کے اعزازیے کے لئے 2 کروڑ 54 لاکھ روپے جاری کر دیئے ہیں۔محکمہ خزانہ کے اعلامیے کے مطابق رواں مالی سال 25-2024 کی دوسری سہ ماہی کیلئے اعزازیہ کی مد میں فنڈز کی منظوری دی گئی ہے، رقم صوبے کے 106 ٹی ایم ایز چیئرمینوں کو اعزازیے کی مد میں ادا کی جائے گی۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تحصیل کے ہر عہدیدار کو ماہانہ 80 ہزار روپے اعزازیہ دیا جائے گا، جبکہ تین ماہ کے عرصے کیلئے ہر چیئرمین کو مجموعی طور پر 2 لاکھ 40 ہزار روپے ملیں گے۔محکمہ خزانہ کے مطابق فنڈز باقاعدہ منظوری کے بعد متعلقہ ٹی ایم ایز کو منتقل کئے جائینگے تاکہ چیئرمینوں کو بروقت ادائیگی ممکن بنائی جا سکے۔
…..
.
سہیل آفریدی کی ویڈیو 9 مئی کی نہیں، وہ اْس دن پشاور میں تھے: صوبائی وزیر
پشاور (سی ایم لنکس)صوبائی وزیر مینا خان آفریدی نے اختیار ولی خان کی جانب سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی شیئر کی گئیں مبینہ ویڈیوز پر ردعمل دے دیا۔اختیار ولی خان نے گزشتہ روز ویڈیوز شیئر کیں جن میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ 9 مئی واقعات میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ملوث تھے۔آج کے پی حکومت کے ترجمان شفیق جان اور صوبائی وزیر مینا خان آفریدی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ گزشتہ روز اختیار ولی خان کی جانب سے سہیل آفریدی کے خلاف الزامات عائد کیے گئے،
انہوں نے وزیر اعلیٰ کی ویڈیو توڑ مروڑ کر پیش کی۔مینا خان آفریدی نے کہا کہ شروع دن سے سہیل آفریدی کے خلاف الزامات لگائے جا رہے ہیں، ان کو وزیر اعلیٰ بننے سے روکنے کیلیے یہ لوگ عدالت بھی گئے۔انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کی ویڈیوز 9 مئی کی نہیں ہے، اس دن وہ پشاور میں تھے اور لاہور نہیں گئے تھے، مذکورہ ویڈیوز زمان پارک کی ہیں جب پی ٹی آئی پر حملہ کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ اختیار ولی خان کا کہنا تھا کہ ابھی ایک ویڈیو سامنے آئی مزید بھی لائیں گے، سہیل آفریدی اپنے ساتھ گھومنے والے بیرسٹر صاحبان سے پوچھ لیں اس کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حادثاتی وزیر اعلیٰ صاحب اگر فوجی تنصیبات پر حملہ کرنا دہشتگردی نہیں تو پھر دہشتگردی کیا ہے؟ آپ کے لیڈر کو 9 مئی پر ریاست اور افواج پاکستان سے غیر مشروط معافی مانگنا ہوگی۔