The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 24 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

وفاق میں بیٹھے ٹولے نے 5300 ارب روپے کی تاریخی کرپشن کی، جس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی

Posted on

وفاق میں بیٹھے ٹولے نے 5300 ارب روپے کی تاریخی کرپشن کی، جس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی

پشاور ( نمائندہ چترا ل ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے یونیورسٹی آف پشاور کے اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کا اچانک اور غیر رسمی دورہ کیا، جہاں انہوں نے طلبہ سے براہِ راست گفتگو کی اور جامعہ کے مجموعی تعلیمی ماحول اور دیگرمتعلقہ اُمور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر جامعہ پشاور کی مالی خودکفالت کے لیے وائس چانسلر کو قابلِ عمل تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی۔ صوبائی حکومت کے تعلیم و تحقیق کے فروغ کے لیے عزائم، نوجوانوں کے لیے شروع کیے گئے فلاحی اقدامات اور صوبے کی مجموعی مالی صورتحال پر خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وریراعلیٰ نے کہا کہ ملک پر قابض کرپٹ ٹولے نے پاکستان کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ وفاق میں بیٹھے کرپٹ ٹولے نے 5300 ارب روپے کی تاریخی کرپشن کی، جس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کے اس کے برعکس، صوبائی حکومت عوام کا پیسہ عوام کی فلاح و ترقی پر خرچ کرنے پر یقین رکھتی ہے اور اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات کیے جا رہیں ہیں۔ وفاق کی طرف سے امتیازی سلوک کے باوجود صوبائی حکومت بندوبستی اور ضم اضلاع دونوں میں نظر آنے والے اقدامات کر رہی ہے، اگر وفاق کی طرف سے صوبے کے حقوق بروقت مل جائیں تو فلاح و ترقی کا جاری سفر مزید تیزرفتاری اور بہتری کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر وفاق کے ذمہ صوبے کے بقایاجات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں وفاق کے ذمے خیبرپختونخوا کے 2200 ارب روپے سے زائد بقایا ہیں جبکہ این ایف سی کے تحت ضم اضلاع کے 1375 ارب روپے بھی ابھی تک واجب الادا ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ضم اضلاع کے لیے سالانہ 100 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن سات سال میں صرف 168 ارب روپے فراہم کیے گئے اور اب بھی 532 ارب روپے بقایا ہیں۔

اس کے علاوہ واٹر چارجز کی مد میں بھی وفاق کے ذمہ اربوں روپے کی رقم واجب الادا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے کے آئینی اور جائز حقوق کے حصول کے لیے کوشاں ہیں تاہم اس مقصد کے لیے عوام خصوصاً نوجوانوں کو بھی آواز بلند کرنا ہو گی۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے صوبے کی تمام جامعات میں صوبائی حقوق کے حوالے سے ڈیبیٹس منعقد کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ نوجوانوں کو اس صورتحال سے آگاہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اس ناانصافی کے خلاف بھرپور آواز اٹھائے گی اور نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ صوبے کے حقوق کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہوں۔سہیل آفریدی نے امن و امان کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بند کمروں کے فیصلوں نے صوبے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا، تاہم موجودہ حکومت امن، استحکام اور ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں جی ڈی پی گروتھ 6.2 فیصد تھی لیکن موجودہ دور میں یہ 2.6 فیصد تک گر چکی ہے، جو موجودہ حکمرانوں کی ناکام معاشی پالیسوں کا ثبوت ہے۔

وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے اس موقع پر یونیورسٹی ہاسٹلز میں مقیم طلبہ کو رعایتی نرخوں پر کھانا فراہم کرنے کے لیے جامع تجاویز طلب کیں۔ انہوں نے اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کی کمپیوٹر لیب اپ گریڈ کرنے کا اعلان کیا اور بتایا کہ اکنامکس ڈیپارٹمنٹ، پولیٹیکل سائنس اور آئی ایم اسٹڈیز کی 5 کروڑ 30 لاکھ روپے کی لاگت سے سولرائزیشن بھی کی جائے گی، جس سے تعلیمی ماحول بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ بجٹ میں طلبہ کے لیے اسکالرشپس اور خصوصی مالی پیکجز شامل کیے جائیں گے جبکہ صوبائی حکومت انٹرن شپ پالیسی پر تیزی سے کام کر رہی ہے تاکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ وزیراعلیٰ نے طلبہ سے کہا کہ وہ محنت، آگاہی اور عزم کو اپنا شعار بنائیں کیونکہ صوبے کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے اور حکومت ہر سطح پر ان کی معاونت کے لیے پرعزم ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
116420

چھبیس ویں آئینی ترمیم کے زریعے عدلیہ کو غیر موثر کر دیا گیا ہے اور عدالتی وقار و سینیارٹی کی روایات کو مجروح کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی

چھبیس ویں آئینی ترمیم کے زریعے عدلیہ کو غیر موثر کر دیا گیا ہے اور عدالتی وقار و سینیارٹی کی روایات کو مجروح کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی

پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ سیاسی اختلافات کو کبھی بھی آئینی نظام اور عدلیہ کی آزادی کے تقدس پر غالب نہیں آنے دینا چاہیے۔وہ بدھ کے روز پشاور ہائی کورٹ میں منعقدہ بار ایسوسی ایشنز میں گرانٹ تقسیم کرنے کی تقریب سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کو 5 کروڑ روپے جبکہ پشاور بار ایسوسی ایشن کو ایک کروڑ روپے کا چیک دیا گیا۔ خیبرپختونخوا بار کونسل کے ممبر ایڈوکیٹ علی زمان کی درخواست پر وزیرِ اعلیٰ نے پشاور بار ایسوسی ایشن کے لیے مزید 2 کروڑ روپے دینے کا اعلان بھی کیا۔

اسی طرح نوشہرہ، مہمند اور چارسدہ کی ضلعی بار ایسوسی ایشنز کو 50، 50 لاکھ روپے جبکہ پبی، شبقدر اور تنگی کی تحصیل بار ایسوسی ایشنز کو 25، 25 لاکھ روپے کے چیک دیئے گئے۔وزیرِ اعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیاست، انتخابات اور نظریات جمہوری زندگی کا حصہ ہیں، مگر آج یہاں آمد کا مقصد سیاست نہیں بلکہ آئین اور قانون کی بالادستی کے دفاع کے لیے آواز بلند کرنا ہے، جو اس وقت منظم طور پر کمزور کی جا رہی ہے۔26ویں آئینی ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ عدلیہ کو غیر موثر کر دیا گیا ہے اور عدالتی وقار و سینیارٹی کی روایات کو مجروح کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں تین رکنی بینچ کے احکامات کو بھی ایک نچلے درجے کا اہلکار رد کر دیتا ہے، جو صرف عدلیہ پرہی نہیں بلکہ پورے آئینی ڈھانچے پر حملہ ہے۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی و سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات کے لیے انہوں نے باضابطہ طور پر پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور وفاقی حکومت کو درخواست دی تھی ، مگر اجازت نہ ملنے پر انہوں نے آئینی حق استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جس نے ملاقات کی اجازت دی۔ تاہم عدالت کے واضح حکم کے باوجود ایک کانسٹیبل نے انہیں اڈیالہ جیل کے باہر روک دیا۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ اگر ایک صوبے کا موجودہ وزیرِ اعلیٰ اس صورتحال کا سامنا کر سکتا ہے تو عام شہریوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہوگا۔سہیل آفریدی نے کہا کہ ناانصافی کے مقابلے میں خاموشی خطرناک ہے، کیونکہ یہ بالآخر سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ انہوں نے وکلا برادری سے اپیل کی کہ وہ عدلیہ اور آئین کے تحفظ کے لیے ایک نئے عزم کے ساتھ میدان میں آئیں۔

وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ہمارے ججز نے تحریری طور پر مداخلت کی شکایت کی ہے، اگر وہ اپنے فیصلے نافذ نہیں کروا سکتے تو انہیں عوام کے سامنے آنا چاہیے اور وکلا کو ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، جیسا کہ وہ ماضی میں کر چکے ہیں۔وزیرِ اعلیٰ نے قانون سازی کے عمل میں بار ایسوسی ایشنز کے ساتھ قریبی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اگر کسی قانون میں بہتری کی گنجائش ہے تو تجاویز پیش کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مفاد پر مبنی قانون سازی کابینہ اور اسمبلی سے منظور کروانا ان کی ذمہ داری ہے، جسے وہ ہر صورت پورا کریں گے۔تعلیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت نے آٹھویں جماعت تک یکساں نصاب نافذ کر دیا ہے اور 2026ءتک اسے بارہویں جماعت تک وسعت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم امیر و غریب کے لیے یکساں تعلیمی مواقع یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کیونکہ معیاری تعلیم تک مساوی رسائی ہی معاشرتی انصاف کی بنیاد ہے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر وزیرِ اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کی حکومت آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے آئین و قانون کی بالادستی کے لیے اپنی جدوجہد بھرپور انداز میں جاری رکھے گی۔

دریں اثنا وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ کو باضابطہ طور پر ایک خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات کی اجازت سے متعلق عدالت کے حکم نامے کی تصدیق شدہ نقل فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ اپنے خط میں وزیرِ اعلیٰ نے موقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ پہلے ہی جیل حکام کو ملاقات کی اجازت دینے کی ہدایت جاری کر چکی ہے، تاہم عدالت کے واضح حکم کے باوجود جیل انتظامیہ نے انہیں پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کی اجازت نہیں دی۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالت کے حکم نامے کی تصدیق شدہ نقل حاصل کرنے کے لیے باضابطہ درخواست پہلے ہی جمع کرائی جا چکی ہے، مگر تاحال نقل فراہم نہیں کی گئی، عدالت کے حکم کی تصدیق شدہ کاپی حاصل کرنا ان کے لیے نہایت ضروری ہے تاکہ عدالت عالیہ کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی جا سکے۔ خط میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ صوبائی حکومت قانون کی حکمرانی پر مکمل یقین رکھتی ہے اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ خط کے مطابق، “قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھانے کے لیے عدالت کے حکم نامے کی تصدیق شدہ کاپی فوری طور پر درکار ہے۔”

chitraltimes cm kp sohail afridi addressing bar association cheque distribution ceremony

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
115309