The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 23 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

وفاق میں بیٹھے ٹولے نے 5300 ارب روپے کی تاریخی کرپشن کی، جس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی

Chitral Times

وفاق میں بیٹھے ٹولے نے 5300 ارب روپے کی تاریخی کرپشن کی، جس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی

وفاق میں بیٹھے ٹولے نے 5300 ارب روپے کی تاریخی کرپشن کی، جس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی

وفاق میں بیٹھے ٹولے نے 5300 ارب روپے کی تاریخی کرپشن کی، جس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی

پشاور ( نمائندہ چترا ل ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے یونیورسٹی آف پشاور کے اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کا اچانک اور غیر رسمی دورہ کیا، جہاں انہوں نے طلبہ سے براہِ راست گفتگو کی اور جامعہ کے مجموعی تعلیمی ماحول اور دیگرمتعلقہ اُمور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر جامعہ پشاور کی مالی خودکفالت کے لیے وائس چانسلر کو قابلِ عمل تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی۔ صوبائی حکومت کے تعلیم و تحقیق کے فروغ کے لیے عزائم، نوجوانوں کے لیے شروع کیے گئے فلاحی اقدامات اور صوبے کی مجموعی مالی صورتحال پر خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وریراعلیٰ نے کہا کہ ملک پر قابض کرپٹ ٹولے نے پاکستان کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ وفاق میں بیٹھے کرپٹ ٹولے نے 5300 ارب روپے کی تاریخی کرپشن کی، جس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کے اس کے برعکس، صوبائی حکومت عوام کا پیسہ عوام کی فلاح و ترقی پر خرچ کرنے پر یقین رکھتی ہے اور اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات کیے جا رہیں ہیں۔ وفاق کی طرف سے امتیازی سلوک کے باوجود صوبائی حکومت بندوبستی اور ضم اضلاع دونوں میں نظر آنے والے اقدامات کر رہی ہے، اگر وفاق کی طرف سے صوبے کے حقوق بروقت مل جائیں تو فلاح و ترقی کا جاری سفر مزید تیزرفتاری اور بہتری کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر وفاق کے ذمہ صوبے کے بقایاجات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں وفاق کے ذمے خیبرپختونخوا کے 2200 ارب روپے سے زائد بقایا ہیں جبکہ این ایف سی کے تحت ضم اضلاع کے 1375 ارب روپے بھی ابھی تک واجب الادا ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ضم اضلاع کے لیے سالانہ 100 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن سات سال میں صرف 168 ارب روپے فراہم کیے گئے اور اب بھی 532 ارب روپے بقایا ہیں۔

اس کے علاوہ واٹر چارجز کی مد میں بھی وفاق کے ذمہ اربوں روپے کی رقم واجب الادا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے کے آئینی اور جائز حقوق کے حصول کے لیے کوشاں ہیں تاہم اس مقصد کے لیے عوام خصوصاً نوجوانوں کو بھی آواز بلند کرنا ہو گی۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے صوبے کی تمام جامعات میں صوبائی حقوق کے حوالے سے ڈیبیٹس منعقد کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ نوجوانوں کو اس صورتحال سے آگاہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اس ناانصافی کے خلاف بھرپور آواز اٹھائے گی اور نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ صوبے کے حقوق کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہوں۔سہیل آفریدی نے امن و امان کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بند کمروں کے فیصلوں نے صوبے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا، تاہم موجودہ حکومت امن، استحکام اور ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں جی ڈی پی گروتھ 6.2 فیصد تھی لیکن موجودہ دور میں یہ 2.6 فیصد تک گر چکی ہے، جو موجودہ حکمرانوں کی ناکام معاشی پالیسوں کا ثبوت ہے۔

وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے اس موقع پر یونیورسٹی ہاسٹلز میں مقیم طلبہ کو رعایتی نرخوں پر کھانا فراہم کرنے کے لیے جامع تجاویز طلب کیں۔ انہوں نے اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کی کمپیوٹر لیب اپ گریڈ کرنے کا اعلان کیا اور بتایا کہ اکنامکس ڈیپارٹمنٹ، پولیٹیکل سائنس اور آئی ایم اسٹڈیز کی 5 کروڑ 30 لاکھ روپے کی لاگت سے سولرائزیشن بھی کی جائے گی، جس سے تعلیمی ماحول بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ بجٹ میں طلبہ کے لیے اسکالرشپس اور خصوصی مالی پیکجز شامل کیے جائیں گے جبکہ صوبائی حکومت انٹرن شپ پالیسی پر تیزی سے کام کر رہی ہے تاکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ وزیراعلیٰ نے طلبہ سے کہا کہ وہ محنت، آگاہی اور عزم کو اپنا شعار بنائیں کیونکہ صوبے کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے اور حکومت ہر سطح پر ان کی معاونت کے لیے پرعزم ہے۔