The Voice of Chitral since 2004
Monday, 4 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

وزیراعظم انسپکشن ٹیم کا چترال سے جانے کے بعد چترال شندور روڈ پر اسفالٹ بچھانے کا کام بند، سی ڈی ایم کے زمہ داروں کا تشویش کا اظہار، ذمہ داروں سے نوٹس لینے کا مطالبہ 

وزیراعظم انسپکشن ٹیم کا چترال سے جانے کے بعد چترال شندور روڈ پر اسفالٹ بچھانے کا کام بند، سی ڈی ایم کے زمہ داروں کا تشویش کا اظہار، ذمہ داروں سے نوٹس لینے کا مطالبہ

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وہی ہوا جس کا چترال کے عوام کو ڈر تھا۔ پرائم منسٹرز انسپکشن ٹیم کا چترال سے جانے کے فوری بعد ہی گزشتہ تین دنوں سے چترال شندور روڈ پر اسفالٹ بچھانے کا کام بند کردیا گیا اور موری لشٹ کے قریب واقع اسفالٹ پلانٹ بھی گزشتہ دو دنوں سے بند پڑی ہے۔ پیر کے روز چترال ڈیویلپمنٹ مومنٹ (سی ڈی ایم) کے صدر شبیر احمد خان نے تنظیم کے دو سینئر ممبران سید برہان شاہ ایڈوکیٹ اور ویلج چیرمین عبدالغفار لال اور میڈیا ٹیم کے ہمراہ پراجیکٹ سائٹ کا وزٹ کرتے ہوئے نہایت مایوسی کا اظہار کیا اور کہاکہ انسپکشن ٹیم کے چترال سے جانے کے فوری بعد کام کو بند کرنا چترالی عوام کے آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے اسفالٹ پلانٹ کے قریب میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ چترال شندور روڈ کی تکمیل غیر معمولی تاخیر کا شکار ہونے پر وفاقی حکومت نے پرائم منسٹرز انسپکشن ٹیم کو گزشتہ سات ماہ کے دوران تین مرتبہ چترال بھیجا لیکن کام کی رفتار اور معیار میں کوئی فرق نہیں آیا جبکہ ٹیم کے ممبران ہر بار اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ شندور روڈ کی تعمیر میں کوئی تاخیر اور سستی برداشت نہیں کی جائے گی اور یہ سب دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر شدید مایوسی کا اظہار کیاکہ گزشتہ تین دنوں سے اسفالٹ پلانٹ کا بند ہونا چترال ایک سنگین مذاق ہے جبکہ انسپکشن ٹیم کے چیرمین نے گزشتہ دورہ چترال کے دوران اعلان کیا تھاکہ اکتوبر کے آخر میں بونی تک اسفالٹ بچھانے کا کام مکمل کیاجائے گا لیکن کام کی موجود ہ رفتار کو دیکھنے سے یہ ناممکن ہے۔ اس موقع پر ویلج کونسل مروئے کے چیرمین عبدالغفار لال نے مروئے ڑونجی کی پہاڑی کی کٹائی کے لئے کمپریسر مشین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ انسپکشن ٹیم کے دورے کے دوران اس مشین کو یہاں لایاگیا تھا لیکن اس کے جانے کے بعداس پر کپڑا ڈال دیا گیا۔

انہوں نے کام کی بندش کی مذمت کی۔ سی ڈی ایم کے سینئر رکن سید برہان شاہ ایڈوکیٹ نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ چترال سے بونی تک روڈ اسفالٹ کو اکھاڑ کر پہلے ہی عوام مصیبت میں ڈال دیاگیا ہے جوکہ چترال سے بونی تک دو گھنٹے کے سفرکو اب پانچ گھنٹو ں میں طے کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ این اے ایچ اور کنسٹرکشن کمپنی میں گٹھ جوڑ کا خاتمہ ہونا چاہئے جوکہ مل کر چترالی عوام کے ساتھ مذاق کررہے ہیں۔ انہوں نے حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہاکہ چترال کے عوام اس روڈ پراجیکٹ احتجاج پر آسکتے ہیں اور ایسی صورت میں انہیں روکنا حکومت کے لئے مشکل ہوگا۔ چترال میں این ایچ اے کے پراجیکٹ ڈائرکٹر اسد راحت سے ان کے موقف جاننے کے لئے بار بار کوشش کے باوجود رابطہ نہ ہوسکا۔

chitraltimes chitral booni mastuj shandur road work stop 4 chitraltimes chitral booni mastuj shandur road work stop 3 chitraltimes chitral booni mastuj shandur road work stop 5

chitraltimes chitral booni mastuj shandur road work stop 6

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
113902

وزیراعظم انسپکشن ٹیم کا چترال بونی مستوج، شندور روڈ کامعائنہ، کام کی رفتاراور معیار کا جائزہ، عمائدین علاقہ سے ملاقات، دسمبرتک چترال بونی روڈ مکمل کرنیکی یقین دہانی

وزیراعظم انسپکشن ٹیم کا چترال بونی مستوج، شندور روڈ کامعائنہ، کام کی رفتاراور معیار کا جائزہ، عمائدین علاقہ سے ملاقات، دسمبرتک چترال بونی روڈ مکمل کرنیکی یقین دہانی

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعظم کی خصوصی انسپکشن ٹیم نے جمعرات کے دن اپرچترال کا دورہ کیا، اور چترال مستوج شندور روڈ پر تعمیراتی کام کا جائزہ لیا، جس کے بعد ٹی ایم اے آفس مستوج (بونی ) میں عمائدین علاقہ سے ملاقات کی، انسپکشن ٹیم کی قیادت ظاہر شاہ کررہے ہیں، جس کے ہمراہ سینٹر محمد طلحہ محمود ، این ایچ اے حکام، روڈ کانسلٹنٹ ، ڈی سی و ڈی پی او اپرچترال کے علاوہ مختلف پارٹیوں کے نمائندگان موجود تھے، سینٹر محمدطلحہ محمود، تحصیل چیئرمین مستوج سردار حکیم ،پی ایم ایل این رہنما محمد کوثر ایڈوکیٹ، پرنس سلطان الملک سابق ایم پی اے حاجی غلام محمد ودیگر نے بھی خطاب کیا، اور زیر تعمیر چترال بونی مستوج شندور روڈ کے مسائل تفصیل سے کمیشن کے سامنے رکھا،

اجلاس میں سڑکوں کی تعمیر میں سست روی، زمینات پر ملبہ پھینکنے، فصلوں، درختوں اور ایریگشن نہروں کو نقصان، اور گردوغبار کے باعث صحت و زراعت پر منفی اثرات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ عوام نے ان مسائل پر کھل کر آواز بلند کی۔

چیئرمین انسپکشن ٹیم نے شرکاء کو یقین دلایا کہ کام کی رفتار اور معیار کی ماہانہ بنیاد پر نگرانی کی جائے گی۔ متعلقہ محکموں اور ٹھیکہ داروں کو ہدایت دی گئی کہ عوامی املاک و زراعت کو نقصان سے بچایا جائے اور گردوغبار کم کرنے کے لیے روزانہ دو مرتبہ پانی کا چھڑکاؤ یقینی بنایا جائے۔ظاہر شاہ نے کہاکہ ہم فروری ۲۰۲۵ سے اسی روڈ سے منسلک ہوئے ہیں جس کے بعد کام کی معیار اور رفتار کا خود ہی جائزہ لے سکتے ہیں، انھوں نے کہا کہ دسمبر ۲۰۲۵ تک چترال بونی روڈ پر کام مکمل کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں،

انہوں نے اعلان کیا کہ چترال-بونی-مستوج-شندور روڈ پر اسفالٹ بچھانے کا کام 30 اکتوبر 2025 تک مکمل کیا جائے گا۔

ڈپٹی کمشنر اپر چترال حسیب الرحمن خان خلیل نے اس موقع پر کہا کہ علاقے کی ترقی کا دار و مدار ان سڑکوں کی معیاری تعمیر پر ہے جس سے اپر چترال کی معیشت، ثقافت اور طرزِ زندگی میں بہتری آئے گی۔

اس سے قبل وزیراعظم کی خصوصی انسپیکشن ٹیم نے لوئیر چترال کا دورہ کیا، وزیراعظم پاکستان کی خصوصی انسپیکشن ٹیم نے چترال میں روڈ کے تعمیراتی کام میں اب تک پیشرفت, حائل رکاوٹوں اور مسائل کا جائزہ لیا۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر آفس میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں انسپیکشن ٹیم کے سربراہ ظاہر شاہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل عبدالسلام، انتظامی افسران، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کے متعلقہ افسران ، لائن ڈپارٹمنٹس کے سربراہان اور آل پارٹیز کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس میں چترال کی رابطہ سڑکوں پر جاری کام، کام میں پیش آنے والی رکاوٹوں اور دیگر امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ انسپیکشن ٹیم کو تمام مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

انسپیکشن ٹیم نے یقین دہانی کرائی کہ وہ تمام مقامات کا دورہ کرکے حتمی رپورٹ تیار کرے گی اور اسے وفاقی حکومت کو پیش کرے گی۔ اس اقدام کا مقصد روڈز میں کام کی رفتار کو مزید تیز کرنا ہے تاکہ یہ منصوبہ بروقت پایہ تکمیل تک پہنچ جاۓ۔انسپکشن ٹیم لواری ٹنل سے چترال کی طرف زیر تعمیر ٹنل اپروچ کا بھی معائنہ کیا، اور کام کو معیار، مقدار اور مقررہ وقت کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت دی۔

chitraltimes pm commission visit upper chitral 4

chitraltimes pm commission visit upper chitral 1 chitraltimes pm commission visit upper chitral 5 chitraltimes pm commission visit upper chitral 8

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
113822