مصنف آغا خان یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ، کراچی میں ریسرچ اسپیشلسٹ ہیں۔ -تحریر: عائشہ ناز انصاری
مصنف آغا خان یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ، کراچی میں ریسرچ اسپیشلسٹ ہیں۔
یہ تحریر روزنامہ ڈان میں 5 ستمبر 2025 کو شائع ہوئی
قارئین کے لئے اس تحریر کو اردو میں ترجمعہ کیا گیا ہے
تحریر: عائشہ ناز انصاری
ترجمعہ :نورالہدیٰ یفتالی
بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ہمیں ان کے گرد دیواریں نہیں کھڑی کرنی چاہئیں بلکہ ایسا ماحول دینا چاہیے جو انہیں اعتماد، طاقت اور خوشی دے
ایک اسکول کی پرنسپل نے حال ہی میں بڑے دکھ کے ساتھ کہا کہ آج کے والدین کی سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ ان کے بچے صرف کتابوں اور پڑھائی تک محدود رہیں تاکہ وہ باہر کی دنیا کے خطرات سے محفوظ رہ سکیں۔ اُنہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اب اسکول کے گیٹ کے باہر کی دنیا پہلے جیسی نہیں رہی۔ سڑکیں بدنظمی اور شور و غل کا منظر پیش کرتی ہیں، پارک جو کبھی ہنسی خوشی اور کھیل کے مراکز تھے اب غیر محفوظ لگتے ہیں، اور محلے جو کبھی سکون و تحفظ کی علامت سمجھے جاتے تھے، اب بے چینی اور خوف سے بھرے دکھائی دیتے ہیں ۔
یہ سوچ بظاہر قابلِ فہم ہے۔ والدین کو اس وقت اطمینان ہوتا ہے جب ان کا بچہ ہوم ورک میں مصروف ہو یا ٹیوشن پڑھ رہا ہو۔ پڑھائی ایک واضح مقصد بھی دیتی ہے اور ساتھ ہی ایک قسم کا تحفظ بھی فراہم کرتی ہے۔ مگر یہ تحفظ اکثر محض ایک وہم ثابت ہوتا ہے، کیونکہ اس کے اپنے نقصانات بھی ہیں۔
آج کل زیادہ تر پڑھائی آن لائن ہو رہی ہے۔ بچے اپنے اسائنمنٹ تیار کرتے ہیں، پروجیکٹس پر کام کرتے ہیں یا آن لائن کلاسز لیتے ہیں۔ والدین سمجھتے ہیں کہ ان کا بچہ صرف پڑھائی کر رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی موبائل یا کمپیوٹر انٹرنیٹ کی ایک وسیع اور غیر محفوظ دنیا کے دروازے بھی کھول دیتا ہے۔ وہاں نہ صرف وقت ضائع ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں بلکہ بچے ذہنی دباؤ، غیر مناسب مواد اور سماجی تنہائی جیسے نئے خطرات سے بھی دوچار ہو سکتے ہیں۔
فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب اور ٹک ٹاک خطرناک سڑک یا اندھیری گلی جیسے تو نہیں لگتے، لیکن ان کے اپنے نقصان ہیں سائبر بُلنگ، نامناسب مواد، حد سے زیادہ اسکرولنگ اور دوسروں سے آن لائن واہ واہ لینے کا دباؤ۔ پڑھائی سے تفریح میں بدلنے میں صرف چند لمحے لگتے ہیں۔ باہر کھیلنے سے اگر زخم آ جائے تو وہ نظر آ جاتا ہے، لیکن آن لائن نقصان جیسے ڈپریشن، خود اعتمادی میں کمی یا تنہائی چھپے رہتے ہیں۔
ڈیجیٹل دنیا بذاتِ خود بُری نہیں، لیکن یہ بہت پُرکشش اور نشہ آور ہے۔ بچے، جو ابھی اپنی عادات اور جذبات پر قابو پانا سیکھ رہے ہیں، اس کے زیادہ شکار ہو جاتے ہیں۔ اصل مسئلہ صرف اسکرین ٹائم نہیں بلکہ اسکرین کے استعمال کی نوعیت ہے۔ کیا بچے اس سے کچھ نیا سیکھ رہے ہیں یا صرف وقت ضائع کر رہے ہیں؟
زیادہ پڑھائی اور دباؤ کی ایک وجہ والدین کی فکر بھی ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ مقابلے والے تعلیمی نظام میں صرف زیادہ پڑھائی ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ باہر کے خطرات کا خوف بھی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ بچے بہت زیادہ مصروف اور نگرانی میں رہتے ہیں، لیکن کھیل، دوستوں کے ساتھ وقت اور کھلی فضا سے دور ہو جاتے ہیں۔
تحقیق بار بار بتاتی ہے کہ باہر کھیلنا، دوسروں سے میل جول اور آزادانہ کھیل بچوں کی ذہنی، جذباتی اور جسمانی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔ لیکن آج کل یہ سب اسکرین نے چھین لیا ہے۔ امریکی تحقیق کے مطابق جو بچے روزانہ چار گھنٹے سے زیادہ اسکرین استعمال کرتے ہیں ان میں ڈپریشن 65 فیصد اور بے چینی 45 فیصد زیادہ پائی گئی۔ وہ کم حرکت کرتے ہیں، نیند بھی پوری نہیں ہوتی اور رویے کے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔
چھوٹے بچوں میں زیادہ اسکرین کے استعمال سے بولنے اور سیکھنے میں مشکل بڑھ جاتی ہے۔ بھارت میں بھی ایسے بچوں میں ڈپریشن اور پڑھائی میں کمزوری دیکھی گئی، لیکن جو بچے باہر کھیلتے رہے ان پر یہ اثرات کم تھے۔ اسکرین کے زیادہ استعمال سے موٹاپا بھی بڑھتا ہے۔ ایک بڑی حقیقت یہ ہے کہ ہم بچوں کو باہر کے خطرات سے بچانے کے چکر میں انہیں وہی تجربات نہیں دے رہے جو انہیں مضبوط اور خود مختار بناتے ہیں۔ زیادہ پڑھائی اور اسکرین کے پیچھے چھپی زندگی محفوظ لگتی ہے، مگر اصل میں یہ بچوں کو کمزور اور تنہا کر رہی ہے۔
اب ضرورت ہے توازن کی۔
حفاظت کا مطلب صرف جسمانی سلامتی نہیں بلکہ جذباتی اور ذہنی صحت بھی ہونا چاہیے۔
گھروں میں ایسا ماحول ہونا چاہیے جہاں بچے کھل کر بات کر سکیں۔
اسکول اور کمیونٹیز کو بچوں کے لیے پارکس اور کھیلنے کی جگہیں واپس لانی چاہئیں۔
پڑھائی صرف کتابوں اور اسکرین پر نہیں ہوتی، بلکہ کھیل، بات چیت اور تجربے سے بھی سیکھا جاتا ہے۔
بچوں کو شروع سے ڈیجیٹل فہم دی جائے تاکہ وہ اچھے اور برے مواد میں فرق کر سکیں۔
بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ہمیں ان کے گرد دیواریں نہیں کھڑی کرنی چاہئیں بلکہ ایسا ماحول دینا چاہیے جو انہیں اعتماد، طاقت اور خوشی دے۔ کتاب اور اسکرین کے بیچ، اسکول اور گلی کے درمیان وہ جگہ ہے جہاں توازن ہے اور یہی توازن بچوں کے محفوظ اور خوشحال مستقبل کی ضمانت ہے۔
