The Voice of Chitral since 2004
Friday, 1 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا کے تحت نئے بھرتی کیے گئے 16,000 اساتذہ میں تقرریوں کے آرڈرز تقسیم کرنے کی تقریب، وزیراعلیٰ کی بطور مہمان خصوصی شرکت

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا کے تحت نئے بھرتی کیے گئے 16,000 اساتذہ میں تقرریوں کے آرڈرز تقسیم کرنے کی تقریب، وزیراعلیٰ کی بطور مہمان خصوصی شرکت

پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ نے نئے بھرتی ہونے والے اساتذہ کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج یہاں موجود ہر استاد میرٹ، قابلیت اور اپنی محنت کے بل بوتے پر اس مقام تک پہنچا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صوبے میں سفارش کلچر کا خاتمہ ہوچکا ہے اور شفافیت کو عملی طور پر یقینی بنایا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر مزید کہا کہ تقریب میں تقرریوں کے حکمنامے وصول کرنے والوں میں مختلف سیاسی وابستیگیاں والے افراد کی موجودگی سے ثابت ہوتا ہے کہ بھرتیوں میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہوئی بلکہ صرف اور صرف میرٹ کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق صوبائی حکومت نے سفارش کلچر ختم کر کے میرٹ، انصاف اور شفافیت کے اصولوں کو مضبوطی سے نافذ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ اگر میرٹ اور شفافیت کے خلاف کسی قسم کی شکایت سامنے آئی تو متعلقہ ذمہ دار کے خلاف سخت اور بھرپور کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اپنی گفتگو میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اساتذہ کے معاشرتی کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے لاکھوں بچوں کا مستقبل اساتذہ کرام کے ہاتھوں میں امانت ہے۔ انہی بچوں نے آگے چل کر ملک و صوبے کی باگ ڈور سنبھالنی ہے، مختلف مناصب پر فائز ہونا ہے اور پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط قوم کی بنیاد معیاری تعلیم اور باصلاحیت اساتذہ پر ہوتی ہے، اور حکومت اس مشن کی تکمیل کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت تعلیم کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت، جدید نصاب، اسکولوں کی بہتری اور سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مشترکہ ہدف اس صوبے اور ملک کو عظیم بنانا ہے، اور یہ سفر باصلاحیت، دیانت دار اور محنتی اساتذہ کے بغیر ممکن نہیں۔

قبل ازیں وزیر اعلیٰ نے ضلع پشاور اور خیبر سے مختلف مضامین میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اساتذہ کرام میں تقرریوں کے آرڈرز تقسیم کیے۔ تقریب کے دوران محکمہ تعلیم کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے میں اساتذہ کی 16 ہزار خالی آسامیوں پر بھرتی کا عمل تیزی سے جاری ہے، جن میں 10 ہزار 417 مردانہ اور 5 ہزار 753 فیمیل اساتذہ کی آسامیاں شامل ہیں۔ بھرتیوں کے جاری عمل کے پہلے مرحلے کی تکمیل پر آج صوبہ بھر میں تقرریوں کے حکمنامے تقسیم کیے جا رہے ہیں جبکہ باقی ماندہ آسامیوں پر بھی بھرتی کا عمل جلد مکمل کر لیا جائے گا۔

chitraltimes cm kp sohail afridi distributes appointment letter among teachers 2

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged ,
115982

سکولوں کی جبری بندش اور تالہ بندی کی کسی صورت کوئی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس کے مرتکب عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا”

Posted on

سکولوں کی جبری بندش اور تالہ بندی کی کسی صورت کوئی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس کے مرتکب عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا”

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) محکمہ تعلیم کے بعض سرکاری ملازمین جو پرائمری سکولوں میں ٹیچرز کے طور پر تعینات ہیں نے قواعد و ضوابط سے ہٹ کر درس و تدریس کے عمل میں رخنہ ڈالتے ہوئے کچھ مطالبات کی آڑ میں احتجاج کی کال دی ہوئی ہے۔ محکمہ ابتدائی وثانوی تعلیم اس فعل کو ایک مناسب رویہ تصور نہیں کرتا۔ محکمہ ہذا کی نظر میں ایسا رویہ اساتذہ کرام کے اعلی منصب کے بھی منافی ہے۔ بحیثیت سرکاری ملازمین اپنے مسائل کو ذمہ دار حکام کے ذریعے حکومت کے سامنے لانے کے لیے باضابطہ دفاتر موجود ہیں جن سے قانونی طریقہ کار کے مطابق ہر وقت رجوع کیا جا سکتا ہے۔
محکمہ کو کچھ اطلاعات ایسی بھی موصول ہوئی ہیں کہ جس میں اساتذہ کے لبادے میں کچھ شر پسند عناصر نے زبردستی سکول بند کروانے اور سکولوں کو تالے لگانے کی کوشش کی ہے۔ حکومت اس قسم کے کسی بھی اقدام کی قطعا اجازت نہیں دے سکتی اور سکولوں کی بندش یا تالہ بندی کو ایک جرم تصور کیا جائے گا، ایسے شر پسند عناصر کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

محکمہ تعلیم اپنے اساتذہ کرام کو کسی بھی قسم کی غیر قانونی اور تعلیم دشمن سرگرمی سے باز رہنے کی تلقین کرتا ہے اور توقع کرتا ہے کہ اساتذہ کرام اپنے منصب کے احترام کے تقاضوں کے برعکس ایسا کوئی اقدام نہیں کریں گے جس کی وجہ سے حکومت کو سخت اقدامات اٹھانے پڑیں۔
سکولوں کی جبری بندش اور تالہ بندی کی کسی صورت کوئی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس کے مرتکب عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
95210