Chitral Times

توقعات کی لاج نے کہیں کا نہ چھوڑا ۔ فیض العزیز فیض

امریکہ کے تمام افواج افغانستان سے نکل گئے. کابل میں ایک جشن کا سماں بھی ہے . اور سوشل میڈیا پر مبارکبادیان عروج پر . افغان قوم کو ایک بار پھر ہیرو گردانہ جارہا ہے۔  کہ افغانستان  ایک اور سپر پاور کا قبرستان ثابت ہوا. اور افغانوں کو کوئی فتح نہیں کرسکتا‘ لہٰذا وہ ہماری توقعات پر پورا اترنے کیلئے دنیا بھر سے لڑتے رہے ہیں۔ کتنی تباہی اور بربادی ہوئی. کتنے بچے یتیم ہوگئے اور کتنا عوام در در کی ٹھوکریں کھاتے دنیا کے مختلف ممالک میں پناہ گزین ہوگئے. لیکن پھر بھی وہ اس میں خوش رہے کہ انہیں کوئی شکست نہ دے سکا۔ اکثر انسان دوسروں کو متاثر کرنے یا ان کی توقعات پر پورا اترنے کیلئے کسی بھی حد تک اپنا نقصان کرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔

یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ جو لوگ اس قسم کے نظریات کے حامل ہوتے ہیں. انہیں بڑی قربانیاں دینی پڑتی ہیں. پوری پوری نسلیں تباہ ہوجاتی ہیں.۔کیا ایسا نہیں لگتا کہ ہمارے افغان بھائی اسی متھ کا شکار ہیں کہ ان کا امیج بنا دیا گیا ۔کہ افغان قوم نہایت دلیر اور بہادر ہیں. ان کے اوپر دنیا کی کوئی طاقت تسلط حاصل نہ کرسکا. وہ اپنے ہر رنگ و نسل کے دشمن کو زیر کیا. کوئی بڑی سے بڑی قوت کو ان کے سامنے کھڑے ہونے کی ہمت نہیں ہوئی.اصل میں کسی بھی کوشش اور جدوجہد کے حاصل کو دیکھ کر نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے. کہ کیا کھویا اور کیا پایا.

اگر افغانوں نے افغان سرزمین کو روسیوں کے لئے قبرستان بنا بھی دیا تھا . تو روس کو کیا فرق پڑا؟ آج وہی روس  اقوام عالم کے صف اول میں کھڑے ہیں. اور ان کاصدر پیوٹن دنیا کے بااثر ترین صدر ہیں۔ اگر افغانیوں کے قربانیوں سے وسطی ایشیا کے ممالک آزاد بھی ہوئے. تو ان یتیم بچوں اور تباہ حال عوام الناس کو کیا فائدہ ہوا؟جن کی نسلیں ماری گئیں۔اب ذرا ملاحظہ کریں کہ امریکہ کا بیس سالہ جنگ کے دوران ان کے تقریباً پچیس سو فوجی مارے گئے ۔اتنے فوجی تو بیس سال کے دوران ایک عام جنگی مشقوں کے دوران مارے جاتے ہیں ۔ ٹریلین ڈالرز کا اگر نقصان ہوا ہے جو کہ ہم کہتے ہیں. حالانکہ دنیا کے نایاب معدنی وسائل اگر افغانستان سے امریکہ نہیں گئے تو.

اس کے بارے میں آنے والے وقتوں میں انکشافات متوقع ہے. پھر ہلاکتوں کا موازنہ کرکے دیکھ لیں.ایک اندازے کے مطابق لاکھوں افغانی لوگ اس جنگ کے بھینٹ چھڑ چکے ہیں.ہمارے نزدیک شکست خوردہ امریکہ کی معیشت اور وہاں کے لوگوں کی طرز زندگی کو کیا آپ افغانستان کے حالات کے ساتھ کمپیر کرسکتے ہیں؟ ۔ہوسکتا ہے میرے بہت سارے دوست میری اس سوچ کو بزدلانہ اور احمقانہ قرار دیں اور احساسِ کمتری کی بدترین شکل کہیں ۔ اور کہیں کہ بہادر لوگ اسی طرح جیتے اور لڑتے اور مرتے ہیں۔ زندہ قومیں ایسی ہی ہوتی ہیں۔تو کیا ان کو علم ہے کہ ان کی بہادری اور امیج کی قیمت انکے بیوی بچوں نے مہاجر کیمپوں میں کیا دی ؟ نسلیں تباہ ہوگئیں اور جو بچ گئیں وہ امریکہ اور یورپ نکل گئے ۔ خیر ہم اس بات کو پسند کریں یا نہ کریں لیکن اس ہجرت کا ایک دوسرا مثبت پہلو بھی ہے.خواہ وہ حملہ کرنے والے آئے ہوں یا جان بچا کر کہیں پناہ لینے والے گئے ہوں.

انسانی تہذیب جہاں بیرونی حملہ آوروں کے اپنے جیسے انسانوں کی بستیوں پر حملوں کی وجہ سے برباد ہوئیں وہیں ان حملوں سے انسانی تہذیبوں نے ترقی بھی کی۔ اگرچہ انسانی برتری اور معیشت کیلئے لڑی گئی جنگوں نے انسانوں کو تباہ کیا‘ وہیں ان سے مفتوح قوموں کو فائدہ بھی ہوا۔ اگر دنیا میں ہجرت اور حملے نہ ہوتے اور لوگ دنیا کے ایک سے دوسرے کونے نہ جاتے تو دنیا آج اتنی ترقی نہ کرتی۔ دنیا بھر میں حملہ آور جہاں اپنے ساتھ بربادی لائے وہیں کچھ عرصے بعد انہوں نے اپنی ذہانت اور بہتر ٹیکنالوجی کی مدد سے ان مفتوح علاقوں کو ترقی بھی دی‘ چاہے اس میں ان کا اپنا بھلا تھا۔وہ معاشرے جو علم‘ معیشت اور ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ جاتے ہیں ان پر ان سے بہتر قومیں قبضہ کر لیتی ہیں۔

پھر کچھ عرصے بعد بیرونی لوگ ان پس ماندہ معاشروں کو اوپر لے جاتے ہیں۔ حالیہ بیس سالوں میں امریکہ اور ان کے اتحادیوں نے افغانستان کا انفراسٹرکچر کافی بہتر بناچکے تھے. خواہ ان کا مقصد جو بھی تھا. اسی طرح امریکہ کو گریٹ‘ امیگرنٹس نے بنایا جو باہر سے گئے تھے۔ دنیا بھر کا ذہن امریکہ نے اکٹھا کر لیا۔ یہی افغان تاریخ میں ہندوستان پر لگاتار حملے کرتے رہے۔ وسطی ایشیا سے حملہ آور ہندوستان آتے رہے۔ سپین‘ انگلینڈ‘ پرتگال‘ ڈچ‘ فرانسیسی‘ عرب‘ ترک سب کالونیاں بناتے رہے۔ آج سب خاموشی سے گھر بیٹھے ہیں۔ جہاں یہ اپنے ساتھ جنگیں لائے وہیں اپنے ساتھ ہنر مند‘ ذہین اور محنتی لوگ بھی لائے جنہوں نے مقامی معاشروں کی تہذیب اور کلچر کو پھلنے پھولنے میں مدد دی۔ انگریز آئے تو ساتھ جدیدیت بھی لائے اور ہندوستان کو یکسر بدل کر رکھ دیا‘ چاہے اس دوران وسائل بھی لوٹے۔ تصور کریں اپنے دور کی سپر پاور‘ انگریز اس خطے میں نہ آتے تو آج کا بھارت اور پاکستان کہاں کھڑا ہوتا؟ تاریخ کا یہی سبق ہے کہ ہر حملہ آور جہاں اپنے ساتھ تباہی لاتا ہے وہیں وہ بہت سی ایسی چیزیں بھی لاتا ہے جو مقامی لوگوں اور معاشروں کو آگے بھی لے جاتی ہیں۔۔۔

پچھلی صدی میں افغان روس جنگ کے نتیجے میں جو لاکھوں لوگ بےگھر ہوکہ مختلف ممالک اور علاقوں میں گئے. ان کی ایک کثیر تعداد چترال میں اکے بسنے لگے. تو ہمیں ان کے دستور میں شامل کئی چیزوں سے استفادہ حاصل کرنے کا موقع ملا . ان سے پہلے شاید ہم اچھے ہوٹلنگ سے واقف نہ تھے. کھانوں میں قابلی پھلاو. منتو. سیخ تکہ وغیرہ جو ہمارے کھانوں کا حصہ بن چکے ہیں. اس کے علاوہ منقال جو کہ سردیوں میں کم قیمت ایک گھریلو ہیٹنگ سسٹم ہے. افغان بھائیوں نے ہمیں متعارف کروا کہ دیا.ان چیزوں سےمختلف تہذیبوں کے قریب آنے پر لوگوں کو آشنائی ہوتی ہے. چاہیں وہ کسی طرح سے بھی ہجرت کر چکے ہوں. جیسا کہ عرب سے نکلنے والے مسلمان تاجروں کے قافلے نامعلوم کہاں کہاں سے ہوتے ہوئے سماٹرا کے جزیروں تک اسلام کے پھلنے پھولنے کے سبب بنے. 

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
52041

سیاسی غربت – تحریر. فیض العزیز فیض

سیاسی غربت – تحریر. فیض العزیز فیض

کشمیر الیکشن مہم کے دوران ایک سیاسی رہنما کی تقریر کا موضوع تقریباً یہ تھا کہ پاکستان میں سیاسی لوگوں کو ہی ہمیشہ کے لئے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے. اور ان کی عزت نہیں کی جاتی جیسے کہ مہذب معاشروں کے اندر ان کا وقار ہوتا ہے. کسی حد تک تو یہ بات درست لگتی ہے. لیکن میرے ناقص علم کے مطابق منظر کچھ الگ ہے. ہوسکتا ہے کہ میں غلط ہوں. لیکن سیاسی لوگوں کو بھی کچھ اپنے اپنے رخوں کی تصحیح کی ضرورت ہے. سیاستدان بہت سیانا ہوتا ہے.

خصوصاً پاکستان میں. لیکن اس کا سیانا پن بہت ہی سطحی قسم کا ہوتا ہے۔بطور کمیونٹی بھی انہیں اس بات کی قطعاً کوئی پروا نہیں کہ ان کی عزت کتنی ہے اور عموماً کتنی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں خصوصاً ان حلقوں میں جن کے اندر ان کی’’اہمیت‘‘ ہونی چاہئے کیونکہ عوام میں ان کی اہمیت تو نہ ہونے کے برابر ہے، خصوصاً ووٹ وصول کرنے کے بعد تو عوام اس گائے کے برابر رہ جاتے ہیں جس کا دودھ سوکھ گیا ہو اور ماس بوٹی بھی برائے نام رہ گئی ہو۔ہمارا سیاستدان کرتا کیا ہے؟اقتدار سے باہر ہو تو بہادری نہیں ڈھٹائی سے مار کھاتا ہے یا مل جل کر ڈنگ ٹپاتا ہے اور کچھ سیانے ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپوزیشن میں بیٹھ کر بھی اقتدار کے ساتھ بنائے نبھائے رکھتے ہیں اور ان کا دال دلیہ چلتا رہتا ہے.

جانوروں کی قسمیں ہوتی ہیں مثلاً کتے آپس میں لڑتے رہنے کے لئے مشہور ہیں جبکہ بھینسوں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بہنوں کی طرح ہوتی ہیں اور مل جل کر کھاتی ہیں۔ سیاستدان اقتدار میں ہو تو اس کا مرکزی خیال مال کے گرد گھومتا ہے یا حسب توفیق پروٹوکول۔کسی کو ریلیف کسی کو تکلیف، اور کسی سے انتقام، میرٹ سے ماوراء ان کی عوام دوستی بھی دراصل دشمنی ہوتی ہے۔ذرا اندازہ لگائیں وہ عوامی نمائندے کتنے عوام دوست ہوں گے جنہوں نے مختلف سرکاری کارپوریشنوں اور دیگر اداروں مثلاً ریلوے، پی آئی ا ے، اسٹیل مل وغیرہ میں’’فیس‘‘ یا اس کے بغیر لوگوں کو اندھا دھند بھرتی کراکے اس ملک دشمن کلچر کی بنیاد رکھی کہ’’کام کرو نہ کرو ماہ بماہ تنخواہ مل جایا کرے گی‘‘ اسکولوں سے لے کر سرکاری ڈسپینسریوں تک’’گھوسٹ ملازمین‘‘ متعارف کرانے والے یہ نمائندے، درندے تھے جنہوں نے معاشرہ کی جڑوں میں زہر انجیکٹ کردیا اور آج بھی اس پر نادم نہیں، فخر کرتے ہیں۔

گلیاں، پلیاں، نالیاں بنا کر ان میں بھی کمیشن کھانے والی کمیونٹی کی عزت کون کرے ؟ ان کا ٹوٹل ’’قصہ قصہ بقدر جثہ‘‘ ہے، جن کے جبڑے ہیں وہ جبڑوں سے بوٹیاں نہیں پڑچھےاتاررہے ہیں، جن کی چونچیں’’یوسی‘‘ سائز کی ہیں وہ اپنی اوقات کے مطابق ماس نوچ رہے ہیں تو اس کمیونٹی کو عزت کیسے ملے؟اس تمہید کے بعد چلتے ہیں اس سوال کی طرف کہ آئندہ کشمیر الیکشن کا نتیجہ کیا ہوگا؟ تو بھائی ! آئندہ کیا ہم تو اس سے اگلے تین چار الیکشن کے نتائج سے بھی بخوبی آگاہ ہیں. یعنی وہی ڈھاک کے تین پات ۔۔۔۔سیاستدانوں کی یہ برادری اگر اپنے اندر بنیادی تبدیلیاں نہیں لاتی تو قصر صدارت میں’’صدر‘‘ بھی ہوگا، وزیر اعظم ہائوس میں کوئی نہ کوئی چمپو بطور وزیر اعظم بھی جلوہ افروز ہوگا، وزیر اعلیٰ ہائوسز بھی آباد ہوں گے لیکن عملاً وہی حال کہ ہونے کے باوجود کچھ بھی نہیں ہوگا اوریہ چمن یونہی رہے گا اور ہزاروں جانور اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں گے.

سیاسی کلچر میں تبدیلی کے لئے کوئی خاص اسکول تو کھولے نہیں جاسکتے سو ٹاپ لیڈر شپ کو سر جوڑ کر، دلوں پہ پتھر رکھ کر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم نے لوٹ مار میں اسی فیصد کمی کرنی ہے اور اپنی کارکردگی کو اسی فیصد تک بڑھانا ہے اور کسی قیمت پر میرٹ سے انحراف نہیں کرنا، ہر شعبہ کو ڈی پولیٹسایز کرنا ہے۔نمائشی آرائشی پراجیکٹس کے بجائے یا ان کے ساتھ ساتھ پبلک ہیلتھ اور کوالٹی ایجوکیشن پر فوکس کرنا ہے ورنہ یہ’’برادری‘‘ لاکھ’’اسٹیبلشمنٹ اسٹیبلشمنٹ‘‘ چیختی رہے، یہ دن رات خلائی مخلوق جیسی لغو اصطلاحیں گھڑتے اور عوام کے سر مڈھتے رہیں ……..

رسوائی اور پسپائی ان کا مقدر تھی، ہے اور رہے گی۔یہ کیسے گھامڑ ہیں جنہیں اپنی نام نہاد’’ترقی‘‘ ا ور ’’اصلاحات‘‘ کے لئے اربوں روپے کے اشتہارات شائع کرنا پڑتے ہیں. ایک دوست ان دنوں فیملی کے ساتھ کشمیر یاترا پر ہیں. تو وہی بتا رہے تھے. کہ ہر طرف بینرز اور جعلی نعروں سے بھرے اشتہارات کا یہ عالم ہے. کہ شاید کوئی دیوار خالی ہو. تو جناب والا حالانکہ جب کوئی عطر جنیوئن ہو تو عطار کو اس کا ڈھنڈورا نہیں پیٹنا پڑتا۔ یہ کیسے وزیر ہیں جو پانچ پانچ سال اپنے قلمدان اگالدان کی طرح استعمال کرکے رخصت ہوجاتے ہیں اور وہ منحوس وزارت اسی فرسودہ حالت میں پڑی رہتی ہے جس بیہودہ حالت میں انہیں ملی ہوتی ہے۔ مجال ہے جو انہیں کبھی یہ خیال بھی آتا ہو کہ یہ اپنے پیچھے کوئی لگیسی چھوڑ جائیں، کوئی ایسا کام کر جائیں جو صدیوں انہیں زندہ رکھے۔

ایک مثال لیجیے کہ 15سال سے زیادہ ہوگئے ڈبل ون ڈبل ٹو (1122)کو متعارف ہوئے لیکن لوگ آج بھی اس کام کے لئے چودھری پرویز الٰہی صاحب کو یاد کرتے اور دعائیں دیتے ہیں۔عرض کرنے کا مقصد یہ کہ جسے عوام تا اسٹیبلشمنٹ عزت و اہمیت درکار ہے وہ کام کرے، ڈلیور کرے، عوام کے ساتھ زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی پیدا کرے، اپنے اور ان کے درمیان فاصلے کم کرے ورنہ مالی اور انتظامی زور پر کئے گئے جلسوں میں مسخرانہ طور پر” I love  ”کہنے سے کچھ نہیں ہوگا۔الیکشن کی ٹیکنالوجی خود فریبی ہے جو مزید کام نہیں آئے گی۔ حکومت پی ٹی آئی کی ہو، ن لیگ کی یا پیپلز پارٹی کی۔۔۔۔

’’ٹھوکریں‘‘ تب تک ان کا مقدر رہیں گی اور رہنی چاہئیں جب تک ان کے بنیادی رویے اور ترجیحات تبدیل نہیں ہوتیں ورنہ اسی ’’تنخواہ‘‘ پر جینا مرنا ہوگا۔۔۔۔’’اثاثے‘‘بنتے رہیں گے’’عزت‘‘ بگڑتی رہے گی یہ ہونے کے باوجود نہ ہونے کا المیہ تمہاری داستان کا مستقل عنوان بنا رہے گا۔تقریباً ایک عشرہ ترقی یافتہ اقوام کے سیاسی رہنماؤں کی طرزِ حکمرانی کے یہ گناہگار آنکھیں شاہد ہیں. کہ ان کے سیاسی کیریئر کا آغاز سے لیکر اختتام تک مقصد سیاست اس عزم کے لئے قربان نظر آتی ہے کہ ہم کونسا ایسا کام کرگزریں. کہ تاریخ میں ہمیں یاد رکھا جائے. ان کے سیاسی دوستیوں اور دشمنیوں کی بنیاد اس فکر پہ منحصر ہوتے ہیں. نہ کہ زاتی مفادات و اغراض و مقاصد. 

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
50703