Chitral Times

Sep 18, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سیاسی غربت – تحریر. فیض العزیز فیض

شیئر کریں:

سیاسی غربت – تحریر. فیض العزیز فیض

کشمیر الیکشن مہم کے دوران ایک سیاسی رہنما کی تقریر کا موضوع تقریباً یہ تھا کہ پاکستان میں سیاسی لوگوں کو ہی ہمیشہ کے لئے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے. اور ان کی عزت نہیں کی جاتی جیسے کہ مہذب معاشروں کے اندر ان کا وقار ہوتا ہے. کسی حد تک تو یہ بات درست لگتی ہے. لیکن میرے ناقص علم کے مطابق منظر کچھ الگ ہے. ہوسکتا ہے کہ میں غلط ہوں. لیکن سیاسی لوگوں کو بھی کچھ اپنے اپنے رخوں کی تصحیح کی ضرورت ہے. سیاستدان بہت سیانا ہوتا ہے.

خصوصاً پاکستان میں. لیکن اس کا سیانا پن بہت ہی سطحی قسم کا ہوتا ہے۔بطور کمیونٹی بھی انہیں اس بات کی قطعاً کوئی پروا نہیں کہ ان کی عزت کتنی ہے اور عموماً کتنی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں خصوصاً ان حلقوں میں جن کے اندر ان کی’’اہمیت‘‘ ہونی چاہئے کیونکہ عوام میں ان کی اہمیت تو نہ ہونے کے برابر ہے، خصوصاً ووٹ وصول کرنے کے بعد تو عوام اس گائے کے برابر رہ جاتے ہیں جس کا دودھ سوکھ گیا ہو اور ماس بوٹی بھی برائے نام رہ گئی ہو۔ہمارا سیاستدان کرتا کیا ہے؟اقتدار سے باہر ہو تو بہادری نہیں ڈھٹائی سے مار کھاتا ہے یا مل جل کر ڈنگ ٹپاتا ہے اور کچھ سیانے ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپوزیشن میں بیٹھ کر بھی اقتدار کے ساتھ بنائے نبھائے رکھتے ہیں اور ان کا دال دلیہ چلتا رہتا ہے.

جانوروں کی قسمیں ہوتی ہیں مثلاً کتے آپس میں لڑتے رہنے کے لئے مشہور ہیں جبکہ بھینسوں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بہنوں کی طرح ہوتی ہیں اور مل جل کر کھاتی ہیں۔ سیاستدان اقتدار میں ہو تو اس کا مرکزی خیال مال کے گرد گھومتا ہے یا حسب توفیق پروٹوکول۔کسی کو ریلیف کسی کو تکلیف، اور کسی سے انتقام، میرٹ سے ماوراء ان کی عوام دوستی بھی دراصل دشمنی ہوتی ہے۔ذرا اندازہ لگائیں وہ عوامی نمائندے کتنے عوام دوست ہوں گے جنہوں نے مختلف سرکاری کارپوریشنوں اور دیگر اداروں مثلاً ریلوے، پی آئی ا ے، اسٹیل مل وغیرہ میں’’فیس‘‘ یا اس کے بغیر لوگوں کو اندھا دھند بھرتی کراکے اس ملک دشمن کلچر کی بنیاد رکھی کہ’’کام کرو نہ کرو ماہ بماہ تنخواہ مل جایا کرے گی‘‘ اسکولوں سے لے کر سرکاری ڈسپینسریوں تک’’گھوسٹ ملازمین‘‘ متعارف کرانے والے یہ نمائندے، درندے تھے جنہوں نے معاشرہ کی جڑوں میں زہر انجیکٹ کردیا اور آج بھی اس پر نادم نہیں، فخر کرتے ہیں۔

گلیاں، پلیاں، نالیاں بنا کر ان میں بھی کمیشن کھانے والی کمیونٹی کی عزت کون کرے ؟ ان کا ٹوٹل ’’قصہ قصہ بقدر جثہ‘‘ ہے، جن کے جبڑے ہیں وہ جبڑوں سے بوٹیاں نہیں پڑچھےاتاررہے ہیں، جن کی چونچیں’’یوسی‘‘ سائز کی ہیں وہ اپنی اوقات کے مطابق ماس نوچ رہے ہیں تو اس کمیونٹی کو عزت کیسے ملے؟اس تمہید کے بعد چلتے ہیں اس سوال کی طرف کہ آئندہ کشمیر الیکشن کا نتیجہ کیا ہوگا؟ تو بھائی ! آئندہ کیا ہم تو اس سے اگلے تین چار الیکشن کے نتائج سے بھی بخوبی آگاہ ہیں. یعنی وہی ڈھاک کے تین پات ۔۔۔۔سیاستدانوں کی یہ برادری اگر اپنے اندر بنیادی تبدیلیاں نہیں لاتی تو قصر صدارت میں’’صدر‘‘ بھی ہوگا، وزیر اعظم ہائوس میں کوئی نہ کوئی چمپو بطور وزیر اعظم بھی جلوہ افروز ہوگا، وزیر اعلیٰ ہائوسز بھی آباد ہوں گے لیکن عملاً وہی حال کہ ہونے کے باوجود کچھ بھی نہیں ہوگا اوریہ چمن یونہی رہے گا اور ہزاروں جانور اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں گے.

سیاسی کلچر میں تبدیلی کے لئے کوئی خاص اسکول تو کھولے نہیں جاسکتے سو ٹاپ لیڈر شپ کو سر جوڑ کر، دلوں پہ پتھر رکھ کر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم نے لوٹ مار میں اسی فیصد کمی کرنی ہے اور اپنی کارکردگی کو اسی فیصد تک بڑھانا ہے اور کسی قیمت پر میرٹ سے انحراف نہیں کرنا، ہر شعبہ کو ڈی پولیٹسایز کرنا ہے۔نمائشی آرائشی پراجیکٹس کے بجائے یا ان کے ساتھ ساتھ پبلک ہیلتھ اور کوالٹی ایجوکیشن پر فوکس کرنا ہے ورنہ یہ’’برادری‘‘ لاکھ’’اسٹیبلشمنٹ اسٹیبلشمنٹ‘‘ چیختی رہے، یہ دن رات خلائی مخلوق جیسی لغو اصطلاحیں گھڑتے اور عوام کے سر مڈھتے رہیں ……..

رسوائی اور پسپائی ان کا مقدر تھی، ہے اور رہے گی۔یہ کیسے گھامڑ ہیں جنہیں اپنی نام نہاد’’ترقی‘‘ ا ور ’’اصلاحات‘‘ کے لئے اربوں روپے کے اشتہارات شائع کرنا پڑتے ہیں. ایک دوست ان دنوں فیملی کے ساتھ کشمیر یاترا پر ہیں. تو وہی بتا رہے تھے. کہ ہر طرف بینرز اور جعلی نعروں سے بھرے اشتہارات کا یہ عالم ہے. کہ شاید کوئی دیوار خالی ہو. تو جناب والا حالانکہ جب کوئی عطر جنیوئن ہو تو عطار کو اس کا ڈھنڈورا نہیں پیٹنا پڑتا۔ یہ کیسے وزیر ہیں جو پانچ پانچ سال اپنے قلمدان اگالدان کی طرح استعمال کرکے رخصت ہوجاتے ہیں اور وہ منحوس وزارت اسی فرسودہ حالت میں پڑی رہتی ہے جس بیہودہ حالت میں انہیں ملی ہوتی ہے۔ مجال ہے جو انہیں کبھی یہ خیال بھی آتا ہو کہ یہ اپنے پیچھے کوئی لگیسی چھوڑ جائیں، کوئی ایسا کام کر جائیں جو صدیوں انہیں زندہ رکھے۔

ایک مثال لیجیے کہ 15سال سے زیادہ ہوگئے ڈبل ون ڈبل ٹو (1122)کو متعارف ہوئے لیکن لوگ آج بھی اس کام کے لئے چودھری پرویز الٰہی صاحب کو یاد کرتے اور دعائیں دیتے ہیں۔عرض کرنے کا مقصد یہ کہ جسے عوام تا اسٹیبلشمنٹ عزت و اہمیت درکار ہے وہ کام کرے، ڈلیور کرے، عوام کے ساتھ زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی پیدا کرے، اپنے اور ان کے درمیان فاصلے کم کرے ورنہ مالی اور انتظامی زور پر کئے گئے جلسوں میں مسخرانہ طور پر” I love  ”کہنے سے کچھ نہیں ہوگا۔الیکشن کی ٹیکنالوجی خود فریبی ہے جو مزید کام نہیں آئے گی۔ حکومت پی ٹی آئی کی ہو، ن لیگ کی یا پیپلز پارٹی کی۔۔۔۔

’’ٹھوکریں‘‘ تب تک ان کا مقدر رہیں گی اور رہنی چاہئیں جب تک ان کے بنیادی رویے اور ترجیحات تبدیل نہیں ہوتیں ورنہ اسی ’’تنخواہ‘‘ پر جینا مرنا ہوگا۔۔۔۔’’اثاثے‘‘بنتے رہیں گے’’عزت‘‘ بگڑتی رہے گی یہ ہونے کے باوجود نہ ہونے کا المیہ تمہاری داستان کا مستقل عنوان بنا رہے گا۔تقریباً ایک عشرہ ترقی یافتہ اقوام کے سیاسی رہنماؤں کی طرزِ حکمرانی کے یہ گناہگار آنکھیں شاہد ہیں. کہ ان کے سیاسی کیریئر کا آغاز سے لیکر اختتام تک مقصد سیاست اس عزم کے لئے قربان نظر آتی ہے کہ ہم کونسا ایسا کام کرگزریں. کہ تاریخ میں ہمیں یاد رکھا جائے. ان کے سیاسی دوستیوں اور دشمنیوں کی بنیاد اس فکر پہ منحصر ہوتے ہیں. نہ کہ زاتی مفادات و اغراض و مقاصد. 


شیئر کریں: