Chitral Times

Sep 18, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

توقعات کی لاج نے کہیں کا نہ چھوڑا ۔ فیض العزیز فیض

شیئر کریں:

امریکہ کے تمام افواج افغانستان سے نکل گئے. کابل میں ایک جشن کا سماں بھی ہے . اور سوشل میڈیا پر مبارکبادیان عروج پر . افغان قوم کو ایک بار پھر ہیرو گردانہ جارہا ہے۔  کہ افغانستان  ایک اور سپر پاور کا قبرستان ثابت ہوا. اور افغانوں کو کوئی فتح نہیں کرسکتا‘ لہٰذا وہ ہماری توقعات پر پورا اترنے کیلئے دنیا بھر سے لڑتے رہے ہیں۔ کتنی تباہی اور بربادی ہوئی. کتنے بچے یتیم ہوگئے اور کتنا عوام در در کی ٹھوکریں کھاتے دنیا کے مختلف ممالک میں پناہ گزین ہوگئے. لیکن پھر بھی وہ اس میں خوش رہے کہ انہیں کوئی شکست نہ دے سکا۔ اکثر انسان دوسروں کو متاثر کرنے یا ان کی توقعات پر پورا اترنے کیلئے کسی بھی حد تک اپنا نقصان کرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔

یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ جو لوگ اس قسم کے نظریات کے حامل ہوتے ہیں. انہیں بڑی قربانیاں دینی پڑتی ہیں. پوری پوری نسلیں تباہ ہوجاتی ہیں.۔کیا ایسا نہیں لگتا کہ ہمارے افغان بھائی اسی متھ کا شکار ہیں کہ ان کا امیج بنا دیا گیا ۔کہ افغان قوم نہایت دلیر اور بہادر ہیں. ان کے اوپر دنیا کی کوئی طاقت تسلط حاصل نہ کرسکا. وہ اپنے ہر رنگ و نسل کے دشمن کو زیر کیا. کوئی بڑی سے بڑی قوت کو ان کے سامنے کھڑے ہونے کی ہمت نہیں ہوئی.اصل میں کسی بھی کوشش اور جدوجہد کے حاصل کو دیکھ کر نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے. کہ کیا کھویا اور کیا پایا.

اگر افغانوں نے افغان سرزمین کو روسیوں کے لئے قبرستان بنا بھی دیا تھا . تو روس کو کیا فرق پڑا؟ آج وہی روس  اقوام عالم کے صف اول میں کھڑے ہیں. اور ان کاصدر پیوٹن دنیا کے بااثر ترین صدر ہیں۔ اگر افغانیوں کے قربانیوں سے وسطی ایشیا کے ممالک آزاد بھی ہوئے. تو ان یتیم بچوں اور تباہ حال عوام الناس کو کیا فائدہ ہوا؟جن کی نسلیں ماری گئیں۔اب ذرا ملاحظہ کریں کہ امریکہ کا بیس سالہ جنگ کے دوران ان کے تقریباً پچیس سو فوجی مارے گئے ۔اتنے فوجی تو بیس سال کے دوران ایک عام جنگی مشقوں کے دوران مارے جاتے ہیں ۔ ٹریلین ڈالرز کا اگر نقصان ہوا ہے جو کہ ہم کہتے ہیں. حالانکہ دنیا کے نایاب معدنی وسائل اگر افغانستان سے امریکہ نہیں گئے تو.

اس کے بارے میں آنے والے وقتوں میں انکشافات متوقع ہے. پھر ہلاکتوں کا موازنہ کرکے دیکھ لیں.ایک اندازے کے مطابق لاکھوں افغانی لوگ اس جنگ کے بھینٹ چھڑ چکے ہیں.ہمارے نزدیک شکست خوردہ امریکہ کی معیشت اور وہاں کے لوگوں کی طرز زندگی کو کیا آپ افغانستان کے حالات کے ساتھ کمپیر کرسکتے ہیں؟ ۔ہوسکتا ہے میرے بہت سارے دوست میری اس سوچ کو بزدلانہ اور احمقانہ قرار دیں اور احساسِ کمتری کی بدترین شکل کہیں ۔ اور کہیں کہ بہادر لوگ اسی طرح جیتے اور لڑتے اور مرتے ہیں۔ زندہ قومیں ایسی ہی ہوتی ہیں۔تو کیا ان کو علم ہے کہ ان کی بہادری اور امیج کی قیمت انکے بیوی بچوں نے مہاجر کیمپوں میں کیا دی ؟ نسلیں تباہ ہوگئیں اور جو بچ گئیں وہ امریکہ اور یورپ نکل گئے ۔ خیر ہم اس بات کو پسند کریں یا نہ کریں لیکن اس ہجرت کا ایک دوسرا مثبت پہلو بھی ہے.خواہ وہ حملہ کرنے والے آئے ہوں یا جان بچا کر کہیں پناہ لینے والے گئے ہوں.

انسانی تہذیب جہاں بیرونی حملہ آوروں کے اپنے جیسے انسانوں کی بستیوں پر حملوں کی وجہ سے برباد ہوئیں وہیں ان حملوں سے انسانی تہذیبوں نے ترقی بھی کی۔ اگرچہ انسانی برتری اور معیشت کیلئے لڑی گئی جنگوں نے انسانوں کو تباہ کیا‘ وہیں ان سے مفتوح قوموں کو فائدہ بھی ہوا۔ اگر دنیا میں ہجرت اور حملے نہ ہوتے اور لوگ دنیا کے ایک سے دوسرے کونے نہ جاتے تو دنیا آج اتنی ترقی نہ کرتی۔ دنیا بھر میں حملہ آور جہاں اپنے ساتھ بربادی لائے وہیں کچھ عرصے بعد انہوں نے اپنی ذہانت اور بہتر ٹیکنالوجی کی مدد سے ان مفتوح علاقوں کو ترقی بھی دی‘ چاہے اس میں ان کا اپنا بھلا تھا۔وہ معاشرے جو علم‘ معیشت اور ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ جاتے ہیں ان پر ان سے بہتر قومیں قبضہ کر لیتی ہیں۔

پھر کچھ عرصے بعد بیرونی لوگ ان پس ماندہ معاشروں کو اوپر لے جاتے ہیں۔ حالیہ بیس سالوں میں امریکہ اور ان کے اتحادیوں نے افغانستان کا انفراسٹرکچر کافی بہتر بناچکے تھے. خواہ ان کا مقصد جو بھی تھا. اسی طرح امریکہ کو گریٹ‘ امیگرنٹس نے بنایا جو باہر سے گئے تھے۔ دنیا بھر کا ذہن امریکہ نے اکٹھا کر لیا۔ یہی افغان تاریخ میں ہندوستان پر لگاتار حملے کرتے رہے۔ وسطی ایشیا سے حملہ آور ہندوستان آتے رہے۔ سپین‘ انگلینڈ‘ پرتگال‘ ڈچ‘ فرانسیسی‘ عرب‘ ترک سب کالونیاں بناتے رہے۔ آج سب خاموشی سے گھر بیٹھے ہیں۔ جہاں یہ اپنے ساتھ جنگیں لائے وہیں اپنے ساتھ ہنر مند‘ ذہین اور محنتی لوگ بھی لائے جنہوں نے مقامی معاشروں کی تہذیب اور کلچر کو پھلنے پھولنے میں مدد دی۔ انگریز آئے تو ساتھ جدیدیت بھی لائے اور ہندوستان کو یکسر بدل کر رکھ دیا‘ چاہے اس دوران وسائل بھی لوٹے۔ تصور کریں اپنے دور کی سپر پاور‘ انگریز اس خطے میں نہ آتے تو آج کا بھارت اور پاکستان کہاں کھڑا ہوتا؟ تاریخ کا یہی سبق ہے کہ ہر حملہ آور جہاں اپنے ساتھ تباہی لاتا ہے وہیں وہ بہت سی ایسی چیزیں بھی لاتا ہے جو مقامی لوگوں اور معاشروں کو آگے بھی لے جاتی ہیں۔۔۔

پچھلی صدی میں افغان روس جنگ کے نتیجے میں جو لاکھوں لوگ بےگھر ہوکہ مختلف ممالک اور علاقوں میں گئے. ان کی ایک کثیر تعداد چترال میں اکے بسنے لگے. تو ہمیں ان کے دستور میں شامل کئی چیزوں سے استفادہ حاصل کرنے کا موقع ملا . ان سے پہلے شاید ہم اچھے ہوٹلنگ سے واقف نہ تھے. کھانوں میں قابلی پھلاو. منتو. سیخ تکہ وغیرہ جو ہمارے کھانوں کا حصہ بن چکے ہیں. اس کے علاوہ منقال جو کہ سردیوں میں کم قیمت ایک گھریلو ہیٹنگ سسٹم ہے. افغان بھائیوں نے ہمیں متعارف کروا کہ دیا.ان چیزوں سےمختلف تہذیبوں کے قریب آنے پر لوگوں کو آشنائی ہوتی ہے. چاہیں وہ کسی طرح سے بھی ہجرت کر چکے ہوں. جیسا کہ عرب سے نکلنے والے مسلمان تاجروں کے قافلے نامعلوم کہاں کہاں سے ہوتے ہوئے سماٹرا کے جزیروں تک اسلام کے پھلنے پھولنے کے سبب بنے. 


شیئر کریں: