The Voice of Chitral since 2004
Friday, 1 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

صوبے میں آوٹ آف سکول بچوں کے مسئلے کا حل علم پیکٹ پروگرام کے ذریعے تلاش ۔ تحریر :زارولی، کاشف ملک

خیبر پختونخوا میں تعلیم کا نیا سورج: “علم پیکٹ” پروگرام کا شاندار آغاز

صوبے میں آوٹ آف سکول بچوں کے مسئلے کا حل علم پیکٹ پروگرام کے ذریعے تلاش ۔ تحریر :زارولی، کاشف ملک

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں تعلیم کے فروغ، تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور آوٹ آف اسکول بچوں کو تعلیمی دھارے میں شامل کرنے کے لیے ایک اور تاریخ ساز قدم اٹھاتے ہوئے “علم پیکٹ” پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ برطانوی حکومت کے ترقیاتی ادارے “فارَن کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس (ایف سی ڈی او) کے تعاون سے شروع ہونے والا یہ پروگرام صوبے کی تعلیمی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔علم پیکٹ پروگرام کا باضابطہ افتتاح وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں کیا۔
صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی، برٹش کونسلپاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر جیمز ہیمپسن، محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام اور شراکت دار اداروں کے نمائندگان بھی تقریب میں شریک ہوئے تھے۔ تقریب میں علم پیکٹ پروگرام پر عملدرآمد کے لیے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم اور برٹش کونسل پاکستان کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کیے گئے اور اس منفرد پروگرام کے کامیاب نفاذ کا عزم دہرایا گیا۔ علم پیکٹ پروگرام کے تحت صوبے کے تعلیم کے لحاظ سے آٹھ پسماندہ اضلاع جن میں بٹگرام، مانسہرہ، صوابی، بونیر، شانگلہ، خیبر، مہمند اور ڈیرہ اسماعیل خان شامل ہیں، میں 80 ہزار آوٹ آف اسکول بچوں کو اسکولوں میں داخل کرایا جائے گا۔
 اس کے علاوہ اسکولوں میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے، اساتذہ کی جدید تربیت، والدین و اساتذہ کمیٹیوں کی تربیت، اور بچوں کو تعلیمی سہولیات فراہم کرنے جیسے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔ علم پیکٹ پروگرام کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ بچیوں، نادار بچوں، خصوصی بچوں اور مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ مرکوز کرتا ہے۔ تعلیم کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے لیے آگاہی مہم بھی پروگرام کا حصہ ہے تاکہ معاشرتی رکاوٹوں کو ختم کیا جا سکے اور ہر بچہ تعلیم کی روشنی حاصل کر سکے۔
پروگرام کے اجراءکی تقریب سے خطاب میں وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ علم پیکٹ پروگرام خیبر پختونخوا میں تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک انقلابی قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کا مشن صرف تعلیم نہیں بلکہ “معیاری تعلیم” کی فراہمی ہے۔موجودہ صوبائی حکومت نے اپنے لیے ہدف مقرر کیا ہے کہ رواں سال کوئی بچہ سرکاری سکولوں میں کرسی اور میز کے بغیر نہ بیٹھےاور اس ہدف کے حصول کے لیے فنڈز پہلے ہی فراہم کردیئے گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ” صرف گذشتہ ایک سال میں 13 لاکھ آوٹ آف اسکول بچوں کو اسکولوں میں داخل کرایا گیا ہے جبکہ رواں تعلیمی سال کے دوران مزید 10 لاکھ بچوں کے اسکولوں میں داخلے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ بچوں کو مفت کتب کے ساتھ اسٹیشنری اور بیگز بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔ علی امین گنڈاپور نے اپنی تقریر میں کہا کہ 18 ہزار نئے اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی بھی جاری ہے جو سکولوں میں درس و تدریس کے عمل کو مزید بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگی”۔ وزیر اعلیٰ نے اپنی تقریر میں صوبائی حکومت کے تعلیم کے شعبے میںدیگر اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے رواں مالی سال کے مجموعی بجٹ میں 21 فیصد حصہ صرف ابتدائی و ثانوی تعلیم کے لیے مختص کرنا اس بات کاواضح ثبوت ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت تعلیم کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔ “تعلیمی ایمرجنسی” کے نفاذ اور تمام تر وسائل تعلیم کے فروغ پر مرکوز کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو آنے والی نسلوں کی قسمت بدل سکتا ہے۔ اگر غیر تعصبانہ نگاہ سے دیکھا جائے تو علم پیکٹ پروگرام خیبر پختونخوا میں تعلیم کے میدان میں روشن مستقبل کی نوید ہے۔
اس پروگرام سے نہ صرف ہزاروں بچے تعلیم حاصل کریں گے بلکہ بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے جو سنجیدہ اقدامات پروگرام میں شامل کئے گئے ہیںوہ قابلِ ستائش ہیں۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں خیبر پختونخوا واقعی ایک تعلیم یافتہ، باشعور اور ترقی یافتہ معاشرے کی جانب گامزن ہے بلاشبہ علم پیکٹ پروگرام موجودہ خیبر پختونخوا حکومت کا ایک سگنیچر منصوبہ ہے تاہم اس کے نتائج کا دارو مدار منصوبے پر عملدرآمد سے جڑا ہے اور اب محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے حکام اور علم پیکٹ ٹیم کے کندھوں پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس پروگرام کو کس حد تک کامیاب بنا سکتے ہیں اور کتنے آوٹ آف سکول بچوں کو سکولوں میں داخل کروا سکتے ہیں کیونکہ علم پیکٹ پروگرام کے نتائج صرف خیبر پختونخوا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے ملک میں اس طرح کے پروگرامزشروع کرنے کے لیے یہ منصوبہ مشعل راہ ہوگا۔
chitraltimes kp govt ilm packet program mou signed 2 chitraltimes kp govt ilm packet program mou signed 3
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
112574

خیبر پختونخوا حکومت نے آوٹ آف سکول بچوں کے سکولوں میں داخلے اور تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایف سی ڈی او کے تعاون سے ” علم پیکٹ” کے نام سے ایک خصوصی پروگرام کا اجراءکر دیا

Posted on

خیبر پختونخوا حکومت نے آوٹ آف سکول بچوں کے سکولوں میں داخلے اور تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایف سی ڈی او کے تعاون سے ” علم پیکٹ” کے نام سے ایک خصوصی پروگرام کا اجراءکر دیا

پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) خیبر پختونخوا حکومت نے آوٹ آف سکول بچوں کے سکولوں میں داخلے اور تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم اقدام کے طور پر برطانوی حکومت کے ترقیاتی ادارے فارن کامن ویلتھ ڈویلپمنٹ آفس ( ایف سی ڈی او )کے تعاون سے ” علم پیکٹ” کے نام سے ایک خصوصی پروگرام کا اجراءکر دیا ہے۔ پروگرام کا باضابطہ اجراءوزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے گذشتہ روز وزیر اعلیٰ ہاوس میں منعقدہ ایک تقریب میں کیا۔

صوبائی وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم فیصل خان ترکئی، کنٹری ڈائریکٹر برٹش کونسل جیمز ہیمپسن، محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے حکام اور شراکت دار اداروں کے نمائندوں نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ تفصیلات کے مطابق ، علم پیکٹ پروگرام پر ایف سی ڈی او کے تعاون سے برٹس کونسل کے ذریعے عملدرآمد کیا جا رہا ہے جس سے صوبے کے آٹھ اضلاع کے آوٹ آف سکول 80 ہزار بچے مستفید ہونگے۔ ان اضلاع میں بٹگرام ، مانسہرہ، صوابی، بونیر ، شانگلہ ، خیبر ، مہمند اور ڈی آئی خان شامل ہیں۔ علم پیکٹ پروگرام کے تحت ان اضلاع میں آوٹ آف سکول بچوں کو سکولوں میں داخل کرنے اور تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔

منتخب اضلاع کے سکولوں میں اساتذہ کو جدید ٹریننگ کی فراہمی کیلئے ماسٹر ٹرینرز کی تیاری بھی سرگرمیوں میںشامل ہے۔ پروگرام کے تحت سکولوں میں پیرنٹس ٹیچرز کمیٹیوں اور سکول مینجمنٹ کمیٹیوں کی کیپسٹی بلڈنگ بھی کی جائے گی۔ مزید برآں ، علم پیکٹ پروگرام میں بچیوں ،نادار بچوں، خصوصی بچوں اور اقلیتی کمیونٹی کے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے گی جبکہ پروگرام کے تحت تعلیم خصوصاًبچیوں کی تعلیم کے حوالے سے خصوصی آگہی مہم بھی چلائی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور نے تقریب سے اپنے خطاب میںعلم پیکٹ پروگرام کا اجراءممکن بنانے پر تمام شراکت دار اداروں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ” ہماری حکومت کا مشن بچوں کو صرف تعلیم نہیں بلکہ معیاری تعلیم دینا ہے ، ہم نے حکومت قائم کرتے ہی سکولوں میں ناپید سہولیات کی فراہمی پر کام شروع کیا اور رواں سال کے لیے ہدف مقرر کیا ہے کہ کوئی بچہ سرکاری سکولوں میں کرسی اور میز کے بغیر نہ رہے اور اس مقصد کے لیے درکار فنڈز بھی فراہم کر دیئے گئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہم نے تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے جو اقدامات شروع کیے ہیں علم پیکٹ پروگرام ان اقدامات کے سلسلے میں ایک اہم قدم ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ باشعور قومیں ہی اپنے پاوں پر کھڑی ہوتی ہیں اور شعور تعلیم سے آتا ہے۔ ” ہماری حکومت بچیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دے رہی ہے کیونکہ ایک پڑھی لکھی ماں ہی پڑھی لکھی قوم تیار کر سکتی ہے۔رواں سال کے بجٹ میں ہم نے تعلیمی ایمرجنسی لگائی ہے، ابتدائی و ثانوی تعلیم کا بجٹ خاطر خواہ حد تک بڑھایا ہے، رواں مالی سال کے دوران کل بجٹ کا 21 فیصد ابتدائی و ثانوی تعلیم کے لیے رکھا گیا ہے”۔

وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ گذشتہ ایک سال میں 13 لاکھ آوٹ آف سکول بچوں کو سکولوں میں داخل کروایا گیا ہے جبکہ رواں تعلیمی سال کے دوران مزید 10 لاکھ بچوں کو سکولوں میں داخل کرانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ سرکاری سکولوں میں بچوں کو مفت کتابوں کے ساتھ ساتھ مفت اسٹیشنری اور سکول بیگز کی فراہمی کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔ صوبے میں ایجوکیشن کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ٹیچرز ٹریننگ پر بھی توجہ دی جا رہی ہے جبکہ میرٹ کی بنیاد پر 18 ہزارنئے اساتذہ کی بھرتی کا عمل بھی جاری ہے۔

chitraltimes kp govt ilm packet program mou signed 3

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
112467