The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 7 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں گھروں کی تعمیر اور بحالی کے لئے 16 ارب 30 کروڑ ڈالر کی ضرورت ہے جس میں سے 11 ارب ڈالر سندھ میں خرچ ہوں گے، وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار

Posted on

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں گھروں کی تعمیر اور بحالی کے لئے 16 ارب 30 کروڑ ڈالر کی ضرورت ہے جس میں سے 11 ارب ڈالر سندھ میں خرچ ہوں گے، وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار

اسلام آباد(چترال ٹایمزرپورٹ)وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں گھروں کی تعمیر اور بحالی کے لئے 16 ارب 30 کروڑ ڈالر کی ضرورت ہے جس میں سے 11 ارب ڈالر سندھ میں خرچ ہوں گے، ہم نے میثاق جمہوریت کی طرح میثاق معیشت کی بھی کوشش کی تا کہ ایک روڈ میپ بن جائے جس پر عمل پیرا ہو کر ہم معاشی بہتری کے سفر پر گامزن ہوں۔پیر کو قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی کی خاتون رکن ڈاکٹر نفیسہ شاہ کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے اسحق ڈار نے کہا کہ سندھ سمیت سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف کے مرحلے میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے 80 ارب روپے تقسیم کئے گئے جبکہ این ڈی ایم اے کے پاس ریلیف کا موجود سامان بھی تقسیم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف متاثرہ علاقوں میں گھروں اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے 16 ارب 30 کروڑ ڈالر درکار ہوں گے، ڈونر کانفرنس میں مختلف ممالک اور اداروں کی جانب سے امداد کے اعلانات کئے گئے ہیں۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ جمعے کو اس حوالے سے طویل اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیر اعلیٰ سندھ اور پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سینئر وزرا نے شرکت کی، وزیراعظم کی ہدایت پر میں بھی اس اجلاس میں موجود تھا جس میں کافی حد تک روڈ میپ تشکیل دے دیا گیا ہے، یہ چار سالہ وسط مدتی پروگرام ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں گھروں کی تعمیر کے لئے منصوبہ بندی زیر غور ہے، اس پر گھبرانے کی ضرورت نہیں، اس حوالے سے آج پھر اجلاس بلایا ہے، اس میں اس کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں میثاق جمہوریت میں بھی انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا، اس کے دو نکات کے علاوہ تمام نکات پر عملدرآمد بھی کیا گیا ہے، ہم نے 2013 سے 2018 کے دوران ملک میں معاشی بہتری کیلئے میثاق معیشت کے لئے بھی کوششیں کیں تاکہ معاشی ترقی کے لئے ایک روڈ میپ بن جائے اور اس میں بغیر کسی تبدیلی کے ہر حکومت عمل کرے اور اس کی گواہ قوم ہو۔انہوں نے کہا کہ اس وقت جو معاشی مسائل ہیں ایسے 1998 میں ایٹمی دھماکوں کے بعد بھی نہیں تھے جب آئی ایم ایف نے اپنا پروگرام بند کر دیا، پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی گئیں، اس وقت آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی میں 8 ماہ لگے، ہماری کوششوں سے اب ٹھہراؤ آیا ہے، ہم نے ملک کو ترقی کی جانب لے کر جانا ہے۔

چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور اراکین سینیٹ کی تنخواہوں اور مراعات سے متعلق بل کی منظوری سے قومی خزانے پر ایک پیسے کا بوجھ نہیں پڑا، محمد صادق سنجرانی

اسلام آباد(سی ایم لنکس)چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور اراکین سینیٹ کی تنخواہوں اور مراعات سے متعلق بل کی منظوری سے قومی خزانے پر ایک پیسے کا بوجھ نہیں پڑا، صرف قومی اسمبلی اور سینیٹ کے 1975 کے ایکٹ کو الگ الگ کیا گیا ہے، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی تنخواہ میں اضافے کے لئے کوئی سمری نہیں بھجوائی گئی۔پیر کو ایوان بالا کے اجلاس میں چیئرمین سینیٹ، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور اراکین سینیٹ کی تنخواہوں اور مراعات سے متعلق بلوں کی منظوری کے حوالے سے میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں پر وضاحت کرتے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے تین بل منظور کئے گئے تھے، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے لئے 1975 کا ایک ایکٹ تھا، اب ان ترامیم سے اس کو الگ الگ کر دیا گیا ہے، اسے میڈیا میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا، ان بلوں کی منظوری سے بجٹ میں ایک پیسے کا بھی اضافہ نہیں ہو گا، یہ تنخواہیں اور مراعات سینیٹ کو پہلے سے مل رہی ہیں، میں نے اپنے دفتر میں قومی خزانے سے ایک پیسہ بھی نہیں لگایا۔انہوں نے کہا کہ ان بلوں میں چیئرمین سینیٹ کے دفتر کا خرچہ 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کیا گیا ہے،

چیئرمین سینیٹ کے گھر کا کرایہ اڑھائی لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے، چیئرمین سینیٹ کے گھر کی تزئین و آرائش کے لئے 50 ہزار روپے رکھے گئے تھے، ان کو بڑھایا گیا ہے، میڈیا اس حوالے سے سینیٹ سیکرٹریٹ سے معلومات حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے سفری اخراجات 75 روپے روزانہ سے بڑھا کر پانچ ہزار روپے کر دیئے ہیں، میں نے آج تک ٹی اے ڈی اے کا ایک روپیہ بھی نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیلی 1750 سے بڑھا کر 10 ہزار روپے کر دیا ہے تاہم یہ بھی آج تک نہیں لیا، 1975 کے ایکٹ کے تحت چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی پی آئی اے سے جہاز کرائے پر حاصل کر سکتے تھے، اب یہ پی آئی اے کسی بھی نجی ادارے سے حاصل کیا جا سکتا ہے، ہم نے کوئی نیا جہاز نہیں خریدا اور نہ ہی کسی نے چیئرمین نے کبھی جہاز کرائے پر لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ اور دیگر اراکین کو میڈیکل بلوں کی اصل رقم ملے گی، کسی حادثہ کی صورت میں سینیٹرز کے لئے تین لاکھ روپے معاوضہ مقرر کیا گیا تھا اس کو بڑھا کر ایک کروڑ روپے کر دیا گیا ہے، یہ تبدیلیاں قائمہ کمیٹی خزانہ کے ذریعے کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے کسی کو صوابدیدی گرانٹ نہیں دی اور نہ ہی وزارت صوابدیدی گرانٹس جاری کر رہا ہے، 1975 کے ایکٹ میں چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لئے سکیورٹی مقرر تھی، اب یہ واضح کیا گیا ہے کہ کسی ادارے نے سکیورٹی دینی ہے، سابق چیئرمین اور ڈپٹی چئیرمن سینیٹ اور اراکین کے ساتھ عملہ کی تعیناتی کے حوالے سے معلومات درست نہیں، عملہ کی تعداد کو نہیں بڑھایا گیا۔انہوں نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ کو 10 روپے فی کلومیٹر سفری الاؤنس دیا جا رہا تھا، اس کو دیگر صوبوں کے مساوی کر دیا گیا ہے، پہلے اراکین سینیٹ کو صرف پی آئی اے کے ذریعے سفر پر سفری الاؤنس ملتا تھا، اب وہ پی آئی اے سمیت دیگر نجی کمپنیوں پر لاگو ہو گا۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کو پانچ پانچ لاکھ روپے تنخواہ ملتی ہے، سینیٹر کو ایک لاکھ 60 ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے، سینیٹ ملازمین کی تنخواہ سینیٹرز سے زیادہ ہے، ضروری نہیں کہ ہر سینیٹر لکھ پتی ہو، تنخواہوں میں بھی اضافہ ہونا چاہیے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے خزانہ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ اس ایکٹ میں سینیٹرز کے لئے کچھ نہیں ہے، سب کچھ چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو دیا گیا ہے، ارکان کا بھی خیال رکھنا چاہیے، سینیٹ سیکرٹریٹ سے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کی تنخواہیں بڑھانے کے لئے کوئی سمری وزیراعظم کو نہیں بھجوائی گئی، پہلے سینیٹرز کو تنخواہیں اور مراعات ملیں گی پھر ہم لیں گے، صرف ایکٹ کو الگ الگ کیا ہے کیونکہ اس سے کچھ ابہام پیدا ہو رہے تھے، اب معاملات بالکل واضح ہو گئے ہیں، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ایکٹ الگ الگ ہونے سے کسی قسم کا آئندہ کوئی مسئلہ نہیں رہے گا اور دونوں ایوان اپنے اپنے ارکان کے حوالے سے آزادانہ طور پر فیصلہ کر سکیں گے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
75831

سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی سروے ٹیموں میں تمام ممبران بشمول پاک آرمی کے نمائندوں کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر شہزاد خان بنگشُ

Posted on

سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی سروے ٹیموں میں تمام ممبران بشمول پاک آرمی کے نمائندوں کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر شہزاد خان بنگشُ

سینیٹرڈاکٹر ثانیہ نشتر کی حکومت خیبرپختونخوا کی طرف سے گھروں کے معاوضے کے طریقہ کار کی تعریف

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) وزیر اعلی خیبرپختونخوا کے سیلاب ریلیف فنڈ کی ٹیکنیکل کمیٹی کا اجلاس جمعہ کے روز سول سکرٹریٹ پشاور میں ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر، چیف سیکرٹری ڈاکٹر شہزاد خان بنگش کے ساتھ ساتھ ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، سیکرٹری ریلیف، چیف ایگزیکٹو آفیسر بینک آف خیبر، ڈی جی پی ڈی ایم اے، ڈائریکٹر پی ایم آر یو اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں ریلیف فنڈ کی موثر اور شفاف استعمال اور گھروں کے سروے کے طریقہ کار کوزیر بحث لایا گیا۔ اس موقع پرسینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے ہدایت کی کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں گھروں کے نقصانات کے ازالے کے لئے رقوم کی ادائیگی کے طریقہ کار کو سہل بنایا جائے تاکہ متاثرین کو بار بار بینک کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب زدگان کے گھروں کے معاوضے کے لئے اہلیت معلوم کرنے کے لئے احساس پروگرام کی طرز پر ویب پورٹل تیار کی جائے۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے خیبرپختونخوا حکومت کے گھروں کے معاوضے کے طریقہ کار کو سراہتے ہوئے کہا کہ محکمہ اطلاعات کے ذریعے اس حوالے سے آگاہی پھیلانے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔دریں اثناء چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر شہزاد خان بنگش کی زیرصدارت سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں گھروں کے معاوضوں کے لئے جاری سروے بارے میں جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اے سی ایس، سیکرٹری ریلیف، پاک آرمی، ڈی جی پی ڈی ایم اے، ڈائریکٹر پی ایم آر یو، اور ڈپٹی کمشنرز سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پرڈائریکٹر پی ایم آر یو نے سیلاب سے متاثرہ گھروں کے لئے سروے کے پہلے دن کی پیش رفت بارے میں اجلاس کو آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ فیلڈ ٹیموں کو کچھ مشکلات کا سامنا رہا اور موبائل اپلیکیشن میں پیچیدگیوں کی نشاندہی کی گئی تھی جن کو خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ نے بروقت دور کر دیا ہے۔ چیف سیکرٹری نے اب تک کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سروے ٹیموں میں تمام ممبران بشمول پاک آرمی کے نمائندوں کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔

chief secretary kp meeting on relief

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
65944

وزیراعلیِ کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں رابطہ سڑکوں اور پلوں کی بحالی کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی  ہدایت

Posted on

وزیراعلیِ کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں رابطہ سڑکوں اور پلوں کی بحالی کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی  ہدایت

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے چترال سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں مختلف حادثات کی وجہ سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور مال و املاک کو پہنچنے والے نقصانات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جان بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔ یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں وزیر اعلی نے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کی معفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔ وزیر اعلی نے ان حادثات میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحت یابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ درایں اثناء وزیر اعلی نے محکمہ ریلیف اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور ریسکیو سرگرمیوں کو مزید تیز کرنے، متاثرہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرکے انہیں امداد کی فراہمی کے لئے مناسب اقدامات یقینی بنانے اور اس مقصد کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔

علاوہ ازیں انہوں نے متعلقہ حکام کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں رابطہ سڑکوں اور پلوں کی بحالی کے لئے بھی ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کا ہدایت کی ہے، وزیر اعلی نے محکمہ صحت کے حکام کو بھی متاثرہ علاقوں میں ممکنہ طور وبائی امراض کے پھیلاو کو روکنے اور متاثرہ لوگوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے ٹھوس اور فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ محمود خان نے یقین دلایا ہے کہ دکھ اور مصیبت کی اس گھڑی میں صوبائی حکومت متاثرین کے ساتھ ساتھ ہے، انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور ان کی ہر ممکن معاونت کی جائے گی۔ وزیر اعلی نے آنے والے دنوں میں صوبے میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کے پیش نظر صوبہ بھر کے ضلعی انتظامیہ، محکمہ ریلیف اور دیگر تمام متعلقہ اداروں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہر لحاظ سے الرٹ رہنے، ذیادہ خطروں والی مقامات میں سیلاب کی صورتحال پر کڑی نظر رکھنے، حادثات کی صورت میں انسانی جانوں اور مال و املاک کے نقصانات کو کم سے کم کرنے کے لئے ضروری انتظامات کرنے اور اس مقصد کے لئے تمام دستیاب انسانی کو ہمہ وقت تیار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
64887