The Voice of Chitral since 2004
Monday, 22 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

دھڑکنوں کی زبان آہ فہیم – محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان – آہ فہیم – محمد جاوید حیات

میری معلمی کی زندگی عجیب اونچ نیچ کا شکار رہا ہے میرے شاگرد میری زندگی ہیں بعض میری یادوں کے کینوس میں ایسے انمٹ ہیں کہ ان کی یادیں سانسوں کے ساتھ چلتی ہیں ان شاگردوں میں ایک فہیم تھے فہیم بمبوریت میں میری کلاس میں ہوتے تھے یہ میرے بھاٸی اور عظیم ساتھی ہدایت اللہ کے بڑے فرزند تھے ۔اللہ نے فہیم کو نمایان صلاحیتوں سے نوازا تھا ۔فہیم خوبصورت تھے اتنےوجیہ کہ ان کی پیاری صورت بھلاٸی نہیں بھولتی شریف تھے سنجیدہ اور متین تھے چھوٹی سی قد تھی مختصر داڑھی ۔۔۔بہت خوش لباس تھے بال بہت خوبصورت بناتے ۔چہرے پر ہمیشہ چمک رہتی کم گو اور خوش گفتار تھے خوبصورت آنکھوں میں چمک رہتی ۔بڑے تابعدار واقع ہوۓ تھے۔

fahim bumburate late file foto

ماں سے خصوصی عقیدت تھی باورچی خانے ساتھ ہوتے ان کو برتن صاف کرنے اور مانجھنے نہیں دیتے جب مہمان آتے تو برابران کے ساتھ کھانا پکاتے مہمانوں کی خدمت ساتھ ساتھ ہوتی ۔کبھی ان کے ہاتھ چومتے تو ماں جھڑکتی فہیم بچے ہو کیا ۔۔فہیم ان کی گود میں سر رکھتے اور کہتے ماں مجھے مامتا کی خوشبو سونگھنے دو ۔فہیم کی محبت عقیدت بن جاتی اور ماں ان کے سر سہلاتے اس کی پیشانی پہ بوسہ دیتیں ۔فہیم کلاس میں خاموش بیٹھےرہتے اپنے اساتذہ سے عقیدت رکھتے اگر کبھی خدمت کا موقع آتا تو اساتذہ ان کی محبت دیکھ کر دنگ رہ جاتے ۔۔

فہیم مجھ سے ہاتھ نہیں ملاتے سر سیدھا میرے دل پہ رکھتے اس کی آنکھوں میں عقیدت کا ایک پیغام ہوتا ۔فہیم اپنےگاٶں کے بچوں سے اپنی شاٸستہ عادات کی وجہ سے نرالےتھے سب ان سے محبت کرتے سب ان کو چاہتے انکے دوست احباب جب اکھٹے ہوتے تو چیخ چاخ میں آسمان سر پہ اٹھاتے مگر وہ خاموش طبع تھے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی رہتی ۔فہیم جوان مرگ ہوۓ ابھی انکی تعلیم بھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ داغ مفارقت دے گۓ بظاہر بڑے صحت مند تھے لیکن چند دن بیمار رہے اور رب کے حضور پہنچ گۓ ۔فہیم کی جداٸی کاصدمہ قابل برداشت نہیں لیکن ان کے ابو اور امی اس عظیم آزماش اور امتحان سے نکلیں گے میں فہیم کو بھول نہیں سکتا اس کی محبت میری سوغات ہے اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم ہے اللہ فہیم کو اپنی خوبصورت جنت میں مقام عطا کرے ۔۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
69357

دھڑکنوں کی زبان ۔۔۔۔ ”کارکردگی۔۔۔حسن کارکردگی“۔۔۔۔محمد جاوید حیات


کام کو کارکردگی نہیں کہتے کام کے اعلیٰ معیار کو کارکردگی کہا جاتا ہے۔بحیثیت قوم ہم کارکردگی ماننے کو کبھی تیار نہیں ہوتے۔ہاں جس کا بس چلے فضول اوربرائے نام کریڈٹ لینے کی کوشش کرتا ہے۔۔فوج لڑتی ہے لوگ کہتے ہیں کہ یہ کوئی کارنامہ نہیں ان کا فرض منصبی ہے۔مزدور خون پسینہ ایک کرکے محنت کرتا ہے اس کی محنت کو مجبوری کا نام دیا جاتا ہے۔کتنے اپنے ہنر کے گرو اپنے کام کے شاہکار اور اپنے فن کے معیار معاشرے میں موجود ہیں مگر ان کا کوئی تعارف نہیں ہوتا وہ اس ہجوم میں کہیں گم ہوجاتے ہیں اس لیے کسی منچلے شاعر (ساحر) نے درد بھرے لہجے میں کہا تھا


آیک شاہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق


محکمہ تعلیم اس سلسلے میں بہت یتیم رہا ہے۔اس کے مہا کام کو کوئی کارکردگی سے تعبیر نہیں کرتا۔البتہ استاد محکمہ ادارہ تنقید کا نشانہ ضرور رہے ہیں۔استاد نام کا یہ مسیحا قوم کی تربیت میں عمر گنواتا ہے لیکن اس کو”استاد محترم“ کہہ کر لولی پاپ دیا جاتا ہے حقیقت میں اس کوکوئی کریڈٹ نہیں دیا جاتا اس کی محنت اور سروس کو render نہیں کیا جاتا۔پی ٹی آئی کی حکومت نے اس محکمے میں کریڈٹ اور”کارکردگی“ کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے جو بہت خوش آیند ہے اس سلسلے میں استاد محکمہ اور اداروں کی کارکردگی کو گیچ کیا جاتا یے انعام و اکرام سے نواز کر حوصلہ افزاء کی جاتی ہے۔اس سلسلے میں indicatersکا تعین کیا جاتا ہے مختلف انداز سے moniteringکرکے کارکردگی تولا جاتا ہے صوبائی سطح پر میٹنگ ہوتی ہے۔

ہر ضلعے کے اعلیٰ ذمہ دار میٹنگ میں بیٹھتے ہیں سامنے ڈیش بورڈ پر ہر ضلعے کی کارکردگی کی تفصیل آتی ہے۔۔چترال جغرافیائی لحاظ سے ایک پسماندہ ضلع ہے لیکن شکر ہے کہ تعلیمی لحاظ سے پسماندہ نہیں۔جب سے کارکردگی ایوارڈ کا تعارف ہوا ہے چترال نام کما رہا ہے۔۔چترال کے تعلیمی ادارے دھڑا دھڑ انعام حاصل کر رہے ہیں۔اس شاندار کار کردگی کا سہرا بہترین لیڈرشب مانیٹرنگ اساتذہ طلباء اور والدین کے سر سجتا ہے اس بار مذکورہ میٹنگ میں پھر چترال کی کارکردگی نمایان رہی ڈی سی چترال اور ڈی ای او چترال کے سر فخر سے بلند ہوئے تو ڈی سی چترال نے فیصلہ کیا کہIDPS (intra District performance score) کا جو پراسس ہے اس کے حوالے سے بہترین کارکردگی کے حامل ASDEOsکو انعامات سے نوازا جائے۔۔مختصر محفل جمی ڈی سی صاحب نے دو بے مثال ASDEOsکو انعامات سے نوازا۔۔

آفیسروں میں جناب سمیع صاحب ASDEO پرائیمری چترال لویر اور رابعہ عیسی ASDEO فیمل چترال لویر ہیں۔ سمیع صاحب نے یونیورسٹی سے اعلی تعلیم پائی اور چترال کے معروف تعلیمی اداروں میں لکچرر رہے پھر انہوں نے کمیشن پاس کرکے SST ٹیچر بن گئے۔انہوں نے آغا خان یو نیورسٹی کراچی میں Skill Development کے معروف لکچرر رہے آپ کوpaper setting designing and marking mechanism کا وسیع تجربہ ہے تعلیمی بورڈ پشاور آ پ کی خدمات حاصل کرتے رہے۔سمیع ایک انتھک اور با صلاحیت آفیسر ہیں آپ اپنے سرکل میں اداروں کو بے مثال بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں مسلسل اداروں میں جاتے ہیں مسائل حل کرتے ہیں اساتذہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور تعلیمی عمل کو کار آمد بنانے میں مثالی محنت کرتے ہیں ان کی شاندار خدمات کا صلہ ان کی حوصلہ افزائی جو ان کو مل گئی اس کاحوالہ دیا جائے گا۔


دوسری آفیسر Asdeo رابعہ عیسی ہیں جو اعزاز سے نوازا گیا۔ رابعہ عیسی نے سیاسیات پڑھی پھر ایم ایڈ کیا اور کمیشن میں SSTٹیچر بن گئی۔وہ ایک تعلیمی اور سیاسی خانوادے سے تعلق رکھتی ہیں اس لیے تعلیم و تعلم کی قدر رگوں میں موجود ہے وہ جب اکیڈیمی میں تھیں تو ایک مثالی معلمہ تھیں جب منیجمنٹ میں آگئیں تو وہی خواب لے کے آگئیں۔ان کو ہمہ وقت اپنے اداروں اور ان کے اندر موجود تعلیمی عمل کی فکر میں رہتی ہے وہ ہر سکول کو”اپنے سپنوں کا سکول“ بنانا چاہتی ہیں۔وہ پیشہ ور ہیں باہنر ہیں اور محنتی ہیں۔کسی کام میں خلوص ہو تو وہ مقصد بن جاتا ہے اور عظیم مقاصد کے حصول میں جتنی بھی روکاوٹیں ہوں ان کو عزم و استقلال سے دور کیا جا سکتا ہے رابعہ ایک محنتی آفیسر ہی نہیں ایک بانکی بچی ہیں ان کو زندگی کی رنگینیوں کا ہوش نہیں وہ اپنے خوابوں کی تعبیر چاہتی ہیں جو تعلیم و تعلم سے وابستہ ہیں۔خواب کبھی واہمے نہیں ہوتے ان شا اللہ ان اول لعزموں کے ہاتھوں بہت جلد چترال ایک خواب نگر بن جائے گا۔ رابعہ اپنے سرکل میں کار کردگی کے لحاظ ہمیشہ اول رہی ہیں اور اس معیار کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔اپنے سرکلز میں ان کا جو کام ہے وہ quality اور Access ہے ان کے مسلسل دوروں اور follow up نے یہ سب کچھ ممکن بنایا ہے۔۔ہم محکمہ تعلیم والے ڈی سی چترال کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ ان کو ہماری کار کردگی اچھی لگی۔۔پھر ڈی ای او از میل اینڈ فیمل ور محکمے کا۔۔۔۔کہتے ہیں عظیم اذہان خاموشی سے کام کرتے ہیں۔لیکن اس پروٹوکول کے دور میں خاموشی کی کوئی قیمت نہیں۔اس لیے چلو بانگ دے کے دیکھتے ہیں۔


شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
آپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے۔۔ میرے دو آفیسرز مجھے تم پہ فخر ہے

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
49765