خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے تین سال میں 19,612طبی مراکز کو رجسٹرڈ کیا
خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے تین سال میں 19,612طبی مراکز کو رجسٹرڈ کیا
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز) خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے صحت کے شعبے میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ دئیے ہیں صرف تین سال میں 19,612طبی مراکز کو رجسٹر کیا گیا
خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے اپریل 2022سے اپریل2025کے اعداد و شمار جاری کردئیے۔ ترجمان ہیلتھ کیئر کمیشن عزم رحمان کے مطابق گزشتہ 3سال میں مجموعی طور پر19ہزار612طبی مراکز کو رجسٹرڈکیاگیا، رجسٹریشن کی تعداد2022میں صرف7ہزار717تھی، ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام 2002میں ہوا تھا،20سال میں ایک طبی مرکز کو بھی لائسنس جاری نہ ہوسکا،جبکہ گُزشتہ3سالوں میں لائسنسگ کا عمل شروع ہوا جس کے لیے ایک طبی مرکز کو کئی مراحل سے گُزرنا پڑتا ہے جس کے بعد اُس طبی مرکز کو لائسنس جاری کیا جاتا ہے، گُزشتہ 3سال میں 82طبی مراکز کو مکمل لائسنس جبکہ 519کو عبوری لائسنسز جاری کیے گئے۔ تین سال میں مختلف خلاف ورزیوں میں ملوث پائے جانے کے نیتجے میں 2ہزار431طبی مراکز کو سیل کیا گیاجبکہ شہریوں کی جانب سے درج کی گئی 3ہزار131شکایات کو کمیشن کے قوانین کے مطابق نمٹایا گیا۔
اسی طرح 38ہزار443طبی مراکز کو جیوٹیگ کیا گیااورمختلف طبی مراکز کے 907عملے کو”خدمات صحت کے معیار”پر تربیت دی گئی۔ ڈائریکٹر رجسٹریشن خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن ڈاکٹر شفائحیدر کے مطابق گزشتہ تین سالوں میں کمیشن کے افسران و عملے نے محدود وسائل کے باوجود انتھک محنت کرتے ہوئے بہت ساری کامیابیاں حاصل کیں، جن میں رجسٹریشن کا طریقہ کار آن لائن کرنا، طبی مراکز کی جیو ٹیگنگ،طبی مراکز میں کوالٹی کی یقین دہانی کروانا،عطائیوں کے خلاف بلاخوف و جھجک کروائیاں شامل ہیں۔ڈائریکٹررجسٹریشن کا مزید کہنا تھا کہ طبی مراکز کو لائسنسنگ کے حصول کے لیے سخت عمل سے گزرنا پڑتا ہے جس میں سب سے پہلے طبی مراکز کے عملے کو”خدمات صحت کے معیار”پر تربیت دینا، اسکے بعد ہر طبی مرکز کو قانون کے مطابق وقت ملتا ہے کہ وہ ”کوالٹی سٹینڈرڈز”کو اپنے مرکز میں لاگو کریں۔ کمیشن کا مقصد پولیسنگ کرنا ہرگز نہیں بلکہ اداروں کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ مریضوں کو معیاری سروسز مہیا کرنے کے قابل بن جائیں۔
اگلا مرحلہ اس طبی مرکز کی جانچ پڑتال کا ہوتا ہے۔ جانچ پڑتال کے لیے صوبے کے نامور ماہرین کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں اور پوری ایک ٹیم معائنہ کرتی ہے۔اگر کوئی مرکز پہلیassessment میں ناکام ہوجائے تو قانون کے مطابق اسکو دوسرا موقع دیا جاتا ہیتاکہ صحت کی سہولیات کے معیار کو بہتر بنایا جاسکے۔ سیلنگ صرف بڑی خلاف ورزیوں کی صورت میں کی جاتی ہے۔ اس لیے رجسٹریشن بنیادی عمل ہے اور لائسنسنگ ایک لمبا عمل ہے اور طبی مراکز کو کئی مرحلوں سے گُزرنا پڑتا ہے۔ پچھلے تین سالوں میں ہیلتھ کیئر کمیشن نے لائسنسنگ کے لیے 258طبی مراکزکی assessments کی ہیں، یہ کمیشن کی بہت بڑی کامیابی ہے۔
نہروں کے معاملے پر سیاست سے گریز کرتے ہوئے ملک کے چھوٹے صوبوں کے مفادات کا خاص خیال رکھنا چاہئے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ نہروں کے معاملے پر سیاست سے گریز کرتے ہوئے ملک کے چھوٹے صوبوں کے مفادات کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ شکر ہے کہ نہروں کے معاملے پر دو سیاسی ڈرامہ باز پارٹیوں کی نورا کشتی فی الحال ختم ہوئی۔انہوں نے مزید کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل میں خیبر پختونخوا کے چشمہ رائٹ بینک لفٹ کینال منصوبے کو نئے نہری منصوبوں سے نتھی کرنے سے بھی گریز کیا جائے۔ چشمہ رائٹ بینک کینال (لفٹ کم گریویٹی منصوبہ کی منظوری 1991 میں مشترکہ مفادات کونسل نے دی تھی اور مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کی روشنی میں تینوں صوبوں میں نہریں نکالی گئیں تاہم خیبر پختونخوا میں تاحال اس منصوبے پر عملدرآمد نہیں ہو سکا، خیبر پختونخوا نے 35 فیصد فنڈنگ کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے مزید کہا کہ نہروں کے نئے تنازعے میں چشمہ رائٹ بینک کینال منصوبے کو متنازعہ بنانے کی بھرپور مخالفت کی جائے گی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے ہمیشہ خیبر پختونخوا کو محرومی کا شکار بنایا ہے۔ یہ منصوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع کی لاکھوں ایکڑ بنجر زمین کو آباد کرنے کا ذریعہ بنے گا۔