The Voice of Chitral since 2004
Monday, 22 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے تین سال میں 19,612طبی مراکز کو رجسٹرڈ کیا  

Posted on

خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے تین سال میں 19,612طبی مراکز کو رجسٹرڈ کیا

پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز) خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے صحت کے شعبے میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ دئیے ہیں صرف تین سال میں 19,612طبی مراکز کو رجسٹر کیا گیا

خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے اپریل 2022سے اپریل2025کے اعداد و شمار جاری کردئیے۔ ترجمان ہیلتھ کیئر کمیشن عزم رحمان کے مطابق گزشتہ 3سال میں مجموعی طور پر19ہزار612طبی مراکز کو رجسٹرڈکیاگیا، رجسٹریشن کی تعداد2022میں صرف7ہزار717تھی، ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام 2002میں ہوا تھا،20سال میں ایک طبی مرکز کو بھی لائسنس جاری نہ ہوسکا،جبکہ گُزشتہ3سالوں میں لائسنسگ کا عمل شروع ہوا جس کے لیے ایک طبی مرکز کو کئی مراحل سے گُزرنا پڑتا ہے جس کے بعد اُس طبی مرکز کو لائسنس جاری کیا جاتا ہے، گُزشتہ 3سال میں 82طبی مراکز کو مکمل لائسنس جبکہ 519کو عبوری لائسنسز جاری کیے گئے۔ تین سال میں مختلف خلاف ورزیوں میں ملوث پائے جانے کے نیتجے میں 2ہزار431طبی مراکز کو سیل کیا گیاجبکہ شہریوں کی جانب سے درج کی گئی 3ہزار131شکایات کو کمیشن کے قوانین کے مطابق نمٹایا گیا۔

اسی طرح 38ہزار443طبی مراکز کو جیوٹیگ کیا گیااورمختلف طبی مراکز کے 907عملے کو”خدمات صحت کے معیار”پر تربیت دی گئی۔ ڈائریکٹر رجسٹریشن خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن ڈاکٹر شفائحیدر کے مطابق گزشتہ تین سالوں میں کمیشن کے افسران و عملے نے محدود وسائل کے باوجود انتھک محنت کرتے ہوئے بہت ساری کامیابیاں حاصل کیں، جن میں رجسٹریشن کا طریقہ کار آن لائن کرنا، طبی مراکز کی جیو ٹیگنگ،طبی مراکز میں کوالٹی کی یقین دہانی کروانا،عطائیوں کے خلاف بلاخوف و جھجک کروائیاں شامل ہیں۔ڈائریکٹررجسٹریشن کا مزید کہنا تھا کہ طبی مراکز کو لائسنسنگ کے حصول کے لیے سخت عمل سے گزرنا پڑتا ہے جس میں سب سے پہلے طبی مراکز کے عملے کو”خدمات صحت کے معیار”پر تربیت دینا، اسکے بعد ہر طبی مرکز کو قانون کے مطابق وقت ملتا ہے کہ وہ ”کوالٹی سٹینڈرڈز”کو اپنے مرکز میں لاگو کریں۔ کمیشن کا مقصد پولیسنگ کرنا ہرگز نہیں بلکہ اداروں کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ مریضوں کو معیاری سروسز مہیا کرنے کے قابل بن جائیں۔

اگلا مرحلہ اس طبی مرکز کی جانچ پڑتال کا ہوتا ہے۔ جانچ پڑتال کے لیے صوبے کے نامور ماہرین کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں اور پوری ایک ٹیم معائنہ کرتی ہے۔اگر کوئی مرکز پہلیassessment میں ناکام ہوجائے تو قانون کے مطابق اسکو دوسرا موقع دیا جاتا ہیتاکہ صحت کی سہولیات کے معیار کو بہتر بنایا جاسکے۔ سیلنگ صرف بڑی خلاف ورزیوں کی صورت میں کی جاتی ہے۔ اس لیے رجسٹریشن بنیادی عمل ہے اور لائسنسنگ ایک لمبا عمل ہے اور طبی مراکز کو کئی مرحلوں سے گُزرنا پڑتا ہے۔ پچھلے تین سالوں میں ہیلتھ کیئر کمیشن نے لائسنسنگ کے لیے 258طبی مراکزکی assessments کی ہیں، یہ کمیشن کی بہت بڑی کامیابی ہے۔

نہروں کے معاملے پر سیاست سے گریز کرتے ہوئے ملک کے چھوٹے صوبوں کے مفادات کا خاص خیال رکھنا چاہئے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ نہروں کے معاملے پر سیاست سے گریز کرتے ہوئے ملک کے چھوٹے صوبوں کے مفادات کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ شکر ہے کہ نہروں کے معاملے پر دو سیاسی ڈرامہ باز پارٹیوں کی نورا کشتی فی الحال ختم ہوئی۔انہوں نے مزید کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل میں خیبر پختونخوا کے چشمہ رائٹ بینک لفٹ کینال منصوبے کو نئے نہری منصوبوں سے نتھی کرنے سے بھی گریز کیا جائے۔ چشمہ رائٹ بینک کینال (لفٹ کم گریویٹی منصوبہ کی منظوری 1991 میں مشترکہ مفادات کونسل نے دی تھی اور مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کی روشنی میں تینوں صوبوں میں نہریں نکالی گئیں تاہم خیبر پختونخوا میں تاحال اس منصوبے پر عملدرآمد نہیں ہو سکا، خیبر پختونخوا نے 35 فیصد فنڈنگ کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے مزید کہا کہ نہروں کے نئے تنازعے میں چشمہ رائٹ بینک کینال منصوبے کو متنازعہ بنانے کی بھرپور مخالفت کی جائے گی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے ہمیشہ خیبر پختونخوا کو محرومی کا شکار بنایا ہے۔ یہ منصوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع کی لاکھوں ایکڑ بنجر زمین کو آباد کرنے کا ذریعہ بنے گا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
101643

خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن (کے پی ایچ سی سی) نے ماہانہ پیشرفت رپورٹ جاری کر دی

Posted on

خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن (کے پی ایچ سی سی) نے ماہانہ پیشرفت رپورٹ جاری کر دی

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ)خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے ماہانہ رپورٹ (اکتوبر 2023) جاری کی، جس میں پورے خیبر پختونخوا میں صحت کی دیکھ بھال کے ضوابط اور معیار میں اضافے میں نمایاں پیش رفت کو اجاگر کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے مہینے کے دوران 2,575 ایچ سی ای رجسٹرڈ ہوئے اور 10,909 کو فیلڈ میں جیو ٹیگ کیا گیا۔کمیشن صحت کی دیکھ بھال کے مراکز کے عملے کو کم سے کم سروس ڈیلیوری کے معیارات پر باقاعدگی سے تربیت فراہم کرتا ہے۔ اکتوبر کے مہینے میں 16 ہسپتالوں کے 49 عملے کو تربیت دی گئی۔رواں ماہ کے دوران 16 ہسپتالوں کو پروویژنل لائسنس جاری کیے گئے۔ ماہر تشخیص کاروں نے صوبے بھر کے 13 ہسپتالوں کا جائزہ لیا۔رپورٹ کے مطابق ایچ سی سی کی ٹیموں نے مجموعی طور پر 297 صحت کی سہولیات کا معائنہ کیا۔ جن میں سے 96 کو نوٹس جاری کیے گئے، اور 31 کو ضابطے کی پابندی نہ کرنے پر سیل کر دیا گیا۔کمیشن کو اس سہ ماہی کے دوران 223 شکایات موصول ہوئیں اور 20 فیصد کو کامیابی سے حل کیا گیا۔ایم ٹی آئی خیبر ٹیچنگ ہسپتال، پشاور کے باہمی تعاون سے بائیو میڈیکل آلات پر پانچ روزہٹریننگ کا انعقاد کیا گیا جس میں انسپکٹرز اور اسسرز نے شرکت کی۔خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر ندیم اختر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ خیبرپختونخوا میں مریضوں کی حفاظت اور صحت کی دیکھ بھال کے معیار کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ شفافیت، جوابدہی اور صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی میں اعلیٰ ترین معیار کے لیے کمیشن کے عزم کی عکاسی کرتی ہے

حماس کے رہنماؤں سے اہم ملاقاتوں کیلیے مولانا فضل الرحمان قطر پہنچ گئے

اسلام آباد(سی ایم لنکس)جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان حماس کے رہنماؤں سے اہم ملاقاتوں کے لیے قطر پہنچ گئے۔ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ اور سابق سربراہ خالد مشعل سمیت دیگر حماس قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔جمعیت علمائے اسلام کے امیر قطر کے بعد ترکیہ کا دورہ کریں گے۔ مولانا فضل الرحمان ترکیہ اور قطر کی حکومتی شخصیات سے بھی ملاقاتیں کریں گے تاکہ جنگ بندی کرائی جاسکے۔مولانا فضل الرحمان غزہ میں پھنسے مظلوم فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان کی ترسیل سمیت دیگر امور پر بھی عرب ممالک کی قیادت سے بات چیت کریں گے۔

صدر مملکت کی سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کو فوت ہونے والے پالیسی ہولڈر کے لواحقین کو تین لاکھ روپے مالیت کا ڈیتھ انشورنس کلیم ادا کر نے کی ہدایت

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان کو فوت ہونے والے پالیسی ہولڈر کے لواحقین کو تین لاکھ روپے مالیت کے ڈیتھ انشورنس کلیم ادا کر نے کی ہدایت کی ہے جنہیں تقریبا ًتین سال سے کلیم کی ادائیگی نہیں کی جا رہی تھی۔ صدر نے سٹیٹ لائف کو مجوزہ پالیسی ہولڈرز کے پری انشورنس ٹیسٹ کے بارے میں پالیسی وضع کرنے کے لیے ڈاکٹروں کا پینل تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی ہے۔ایوان صدرپریس ونگ کی طرف سے اتوار کویہاں جاری بیان کے مطابق صدرمملکت نے یہ ہدایات وفاق محتسب کے ایک حکم کے خلاف سٹیٹ لائف کی طرف سے دائر کی گئی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے جاری کیں۔ شکایت کنندہ سعد طاہر کا موقف تھا کہ ان کے والد نے 2013 میں سٹیٹ لائف سے 18,406 روپے سالانہ پریمیم کے ساتھ تین لاکھ کی انشورنس پالیسی خریدی تھی۔ 2020 میں ان کے والد کا انتقال ہوا، والدکی وفات کے بعد انہوں نے موت کے بیمہ کا دعوی دائر کیا جسے سٹیٹ لائف نے نے اس بنیاد پر مسترد کر دیا کہ متوفی کو بیمہ حاصل کرنے سے قبل ہیپاٹائٹس سی کی بیماری تھی، جسے اس نے جان بوجھ کر چھپایا تھا۔ شکایت کنندہ نے اس صورتحال میں وفاق محتسب سے رابطہ کیا،

وفاقی محتسب نے سٹیٹ لائف سے معاملے پر دوبارہ غورکرنے اور متوفی پالیسی ہولڈر کی طرد سے اپنی زندگی میں نامزد افراد کو مناسب ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت کی،سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن نے محتسب کے حکم کے خلاف صدر کے پاس نمائندگی دائر کی۔صدر نے اس معاملے پر سماعت کی اور فریقین کو سننے کے بعد اپنا فیصلہ سنایا۔ صدر نے نشاندہی کی کہ متوفی نے پالیسی 2013 میں خریدی تھی، جبکہ سٹیٹ لائف نے سال 2015 کی میڈیکل رپورٹس کی کاپیاں پیش کیں،تمام رپورٹس انشورنس کے بعد کی مدت سے متعلق تھیں جوقابل غور نہیں تھیں۔ صدرنے مزیدبتایا کہ سٹیٹ لائف کی فیلڈ آفیسر کی خفیہ رپورٹ نے بھی پالیسی کے اجرا کے وقت بیمہ شدہ شخص کو صحت مند قرار دیا تھا اور واضح طور پر کہا تھا کہ وہ گزشتہ دو سالوں سے بیمہ کنندہ کو جانتی ہیں۔صدر نے انشورنس آرڈیننس 2000 کے سیکشن 80 کا حوالہ بھی دیا ہے جس کے تحت لائف انشورنس کی کوئی پالیسی، جس تاریخ سے اس پرعمل درآمد کا آغاز ہواہو، کے دو سال کی میعاد ختم ہونے کے بعد بیمہ کنندہ سے اس بنیاد پر سوال نہیں کیا جاسکتا کہ انشورنس کی تجویز یا میڈیکل آفیسر کی کسی رپورٹ میں کوئی غلط بیانی ہوئی ہے۔ صدر مملکت نے اسٹیٹ لائف کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے متوفی کے لواحقین کو انشورنس کلیم کے ساتھ جمع شدہ منافع 30 دن کے اندر اداکرنے کی ہدایت کی۔صدرمملکت نے سٹیٹ لائف کو ڈاکٹروں کا ایک پینل تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی ہے جو قبل از انشورنس میڈیکل ٹیسٹ سے متعلق پالیسی پر مشورہ دے سکے۔ صدرنے کہاکہ ڈاکٹروں کا یہ پینل تجویز کرے گا کہ پاکستان میں زیادہ عام یماریاں کون سی ہیں اور پالیسی کے اجرا سے پہلے کن ٹیسٹوں کو شامل کیا جانا چاہیے۔ صدر نے مشورہ دیا کہ سٹیٹ لائف اگر ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، ہیپاٹائٹس وغیرہ جیسی زیادہ عام بیماریوں کے مریضوں کے لیے پالیسیاں جاری کرنا چاہتی ہے تو وہ مختلف بیماریوں کے بارے میں ایک رسک اسیسمنٹ وضع کر سکتی ہے اور اس کے مطابق پریمیم میں ترمیم کر سکتی ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
81319

خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے صوبہ بھر میں بیوٹی پارلرز میں غیر قانونی میڈیکل سروسز کی فراہمی پر پابندی عائد کردیا گیا

خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے صوبہ بھر میں بیوٹی پارلرز میں غیر قانونی میڈیکل سروسز کی فراہمی پر پابندی عائد کردیا گیا

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے صوبہ بھر میں بیوٹی پارلرز میں غیر قانونی میڈیکل سروسز کی فراہمی پر پابندی عائد کر دی،خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن کے مطابق بعض بیوٹی پارلرز میں ایسی سروسز دی جارہی ہیں جو صرف میڈیکل شعبہ کے تحت ہی دی جاسکتی ہیں۔ بلکہ ان سروسز کے لئے سپشلسٹ ڈاکٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہذا ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے بیوٹی پارلرز پر ایسی کسی بھی قسم کی سروسز فراہم کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔اس ضمن میں کمیشن نے کسی بھی شکایت سامنے آنے پر ایسے بیوٹی پارلرز کیخلاف قانونی کارروائی کا بھی فیصلہ کیا ہے۔دریں اثناء خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے گزشتہ ہفتے ضلع پشاور میں بیوٹی پارلرز، بیوٹی سیلونز، ہیئر سیلونز، ہیئر ٹرانسپلانٹ سینٹرز اور کاسمیٹک کلینکس وغیرہ کے خلاف گرینڈ آپریشن کیا۔ گرینڈ آپریشن میں صوبے کے تمام زونل دفاتر کے فیلڈ افسران پر مشتمل 06 انسپکشن ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔اس سلسلے میں ضلع پشاور میں کل 200 بیوٹی سینٹرزکا معائنہ کیا گیا۔معائنے کے دوران 03 بیوٹی سنٹرز کو مختلف غیر قانونی سروسز، سپشلسٹ عملے کی عدم موجودگی اور کے پی ایچ سی سی کے ساتھ رجسٹریشن نہ ہو نیکی وجہ سے سیل کیا گیا جبکہ 17 مختلف بیوٹی سنٹرز کو شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے۔سی ای او ہیلتھ کیئر کمیشن نے اس عزم کا اظہارکیا کہ عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی میں کوئی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور بہت جلدصوبے کے دیگر اضلاع میں بھی اس طرح کے گرینڈ آپریشن کا انعقاد کیا جائے گا۔

پشاور ہائی کورٹ کے تین ایڈیشنل جج صاحبان نے اپنے عہدوں کا حلف لے لیا
پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قیصر رشید خان نے عدالت عالیہ کے معزز ایڈیشنل جج صاحبان جسٹس کامران حیات میاں خیل، جسٹس اعجاز خان اور جسٹس محمد فہیم ولی سے مذکورہ عدالت کے ججز کے عہدوں کا حلف لیا۔ تقریب میں پشاور ہائی کورٹ کے تمام معزز جج صاحبان سمیت ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پشاور، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، ایڈیشنل اٹارنی جنرل آف پاکستان، خیبرپختونخوا، وائس چیئرمین خیبرپختونخوا بار کونسل، پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، ایبٹ آباد، ڈی آئی خان، مینگورہ اور بنوں بنچ کے صدور اور جنرل سیکرٹریز، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن پشاور کی کابینہ، پشاور ہائی کورٹ کے پرنسپل افسران اور خصوصی عدالتوں کے ججز اور سینئر وکلاء کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
71362