The Voice of Chitral since 2004
Monday, 22 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن (کے پی ایچ سی سی) نے ماہانہ پیشرفت رپورٹ جاری کر دی

Chitral Times

خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن (کے پی ایچ سی سی) نے ماہانہ پیشرفت رپورٹ جاری کر دی

خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن (کے پی ایچ سی سی) نے ماہانہ پیشرفت رپورٹ جاری کر دی

خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن (کے پی ایچ سی سی) نے ماہانہ پیشرفت رپورٹ جاری کر دی

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ)خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے ماہانہ رپورٹ (اکتوبر 2023) جاری کی، جس میں پورے خیبر پختونخوا میں صحت کی دیکھ بھال کے ضوابط اور معیار میں اضافے میں نمایاں پیش رفت کو اجاگر کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے مہینے کے دوران 2,575 ایچ سی ای رجسٹرڈ ہوئے اور 10,909 کو فیلڈ میں جیو ٹیگ کیا گیا۔کمیشن صحت کی دیکھ بھال کے مراکز کے عملے کو کم سے کم سروس ڈیلیوری کے معیارات پر باقاعدگی سے تربیت فراہم کرتا ہے۔ اکتوبر کے مہینے میں 16 ہسپتالوں کے 49 عملے کو تربیت دی گئی۔رواں ماہ کے دوران 16 ہسپتالوں کو پروویژنل لائسنس جاری کیے گئے۔ ماہر تشخیص کاروں نے صوبے بھر کے 13 ہسپتالوں کا جائزہ لیا۔رپورٹ کے مطابق ایچ سی سی کی ٹیموں نے مجموعی طور پر 297 صحت کی سہولیات کا معائنہ کیا۔ جن میں سے 96 کو نوٹس جاری کیے گئے، اور 31 کو ضابطے کی پابندی نہ کرنے پر سیل کر دیا گیا۔کمیشن کو اس سہ ماہی کے دوران 223 شکایات موصول ہوئیں اور 20 فیصد کو کامیابی سے حل کیا گیا۔ایم ٹی آئی خیبر ٹیچنگ ہسپتال، پشاور کے باہمی تعاون سے بائیو میڈیکل آلات پر پانچ روزہٹریننگ کا انعقاد کیا گیا جس میں انسپکٹرز اور اسسرز نے شرکت کی۔خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر ندیم اختر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ خیبرپختونخوا میں مریضوں کی حفاظت اور صحت کی دیکھ بھال کے معیار کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ شفافیت، جوابدہی اور صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی میں اعلیٰ ترین معیار کے لیے کمیشن کے عزم کی عکاسی کرتی ہے

حماس کے رہنماؤں سے اہم ملاقاتوں کیلیے مولانا فضل الرحمان قطر پہنچ گئے

اسلام آباد(سی ایم لنکس)جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان حماس کے رہنماؤں سے اہم ملاقاتوں کے لیے قطر پہنچ گئے۔ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ اور سابق سربراہ خالد مشعل سمیت دیگر حماس قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔جمعیت علمائے اسلام کے امیر قطر کے بعد ترکیہ کا دورہ کریں گے۔ مولانا فضل الرحمان ترکیہ اور قطر کی حکومتی شخصیات سے بھی ملاقاتیں کریں گے تاکہ جنگ بندی کرائی جاسکے۔مولانا فضل الرحمان غزہ میں پھنسے مظلوم فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان کی ترسیل سمیت دیگر امور پر بھی عرب ممالک کی قیادت سے بات چیت کریں گے۔

صدر مملکت کی سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کو فوت ہونے والے پالیسی ہولڈر کے لواحقین کو تین لاکھ روپے مالیت کا ڈیتھ انشورنس کلیم ادا کر نے کی ہدایت

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان کو فوت ہونے والے پالیسی ہولڈر کے لواحقین کو تین لاکھ روپے مالیت کے ڈیتھ انشورنس کلیم ادا کر نے کی ہدایت کی ہے جنہیں تقریبا ًتین سال سے کلیم کی ادائیگی نہیں کی جا رہی تھی۔ صدر نے سٹیٹ لائف کو مجوزہ پالیسی ہولڈرز کے پری انشورنس ٹیسٹ کے بارے میں پالیسی وضع کرنے کے لیے ڈاکٹروں کا پینل تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی ہے۔ایوان صدرپریس ونگ کی طرف سے اتوار کویہاں جاری بیان کے مطابق صدرمملکت نے یہ ہدایات وفاق محتسب کے ایک حکم کے خلاف سٹیٹ لائف کی طرف سے دائر کی گئی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے جاری کیں۔ شکایت کنندہ سعد طاہر کا موقف تھا کہ ان کے والد نے 2013 میں سٹیٹ لائف سے 18,406 روپے سالانہ پریمیم کے ساتھ تین لاکھ کی انشورنس پالیسی خریدی تھی۔ 2020 میں ان کے والد کا انتقال ہوا، والدکی وفات کے بعد انہوں نے موت کے بیمہ کا دعوی دائر کیا جسے سٹیٹ لائف نے نے اس بنیاد پر مسترد کر دیا کہ متوفی کو بیمہ حاصل کرنے سے قبل ہیپاٹائٹس سی کی بیماری تھی، جسے اس نے جان بوجھ کر چھپایا تھا۔ شکایت کنندہ نے اس صورتحال میں وفاق محتسب سے رابطہ کیا،

وفاقی محتسب نے سٹیٹ لائف سے معاملے پر دوبارہ غورکرنے اور متوفی پالیسی ہولڈر کی طرد سے اپنی زندگی میں نامزد افراد کو مناسب ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت کی،سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن نے محتسب کے حکم کے خلاف صدر کے پاس نمائندگی دائر کی۔صدر نے اس معاملے پر سماعت کی اور فریقین کو سننے کے بعد اپنا فیصلہ سنایا۔ صدر نے نشاندہی کی کہ متوفی نے پالیسی 2013 میں خریدی تھی، جبکہ سٹیٹ لائف نے سال 2015 کی میڈیکل رپورٹس کی کاپیاں پیش کیں،تمام رپورٹس انشورنس کے بعد کی مدت سے متعلق تھیں جوقابل غور نہیں تھیں۔ صدرنے مزیدبتایا کہ سٹیٹ لائف کی فیلڈ آفیسر کی خفیہ رپورٹ نے بھی پالیسی کے اجرا کے وقت بیمہ شدہ شخص کو صحت مند قرار دیا تھا اور واضح طور پر کہا تھا کہ وہ گزشتہ دو سالوں سے بیمہ کنندہ کو جانتی ہیں۔صدر نے انشورنس آرڈیننس 2000 کے سیکشن 80 کا حوالہ بھی دیا ہے جس کے تحت لائف انشورنس کی کوئی پالیسی، جس تاریخ سے اس پرعمل درآمد کا آغاز ہواہو، کے دو سال کی میعاد ختم ہونے کے بعد بیمہ کنندہ سے اس بنیاد پر سوال نہیں کیا جاسکتا کہ انشورنس کی تجویز یا میڈیکل آفیسر کی کسی رپورٹ میں کوئی غلط بیانی ہوئی ہے۔ صدر مملکت نے اسٹیٹ لائف کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے متوفی کے لواحقین کو انشورنس کلیم کے ساتھ جمع شدہ منافع 30 دن کے اندر اداکرنے کی ہدایت کی۔صدرمملکت نے سٹیٹ لائف کو ڈاکٹروں کا ایک پینل تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی ہے جو قبل از انشورنس میڈیکل ٹیسٹ سے متعلق پالیسی پر مشورہ دے سکے۔ صدرنے کہاکہ ڈاکٹروں کا یہ پینل تجویز کرے گا کہ پاکستان میں زیادہ عام یماریاں کون سی ہیں اور پالیسی کے اجرا سے پہلے کن ٹیسٹوں کو شامل کیا جانا چاہیے۔ صدر نے مشورہ دیا کہ سٹیٹ لائف اگر ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، ہیپاٹائٹس وغیرہ جیسی زیادہ عام بیماریوں کے مریضوں کے لیے پالیسیاں جاری کرنا چاہتی ہے تو وہ مختلف بیماریوں کے بارے میں ایک رسک اسیسمنٹ وضع کر سکتی ہے اور اس کے مطابق پریمیم میں ترمیم کر سکتی ہے۔