The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 28 April 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

جمہوریت کا حسن ……..محمد شریف شکیب


الیکشن کمیشن نے انتخابی فہرستوں سے ان 7لاکھ 50ہزار ووٹروں کے نام خذف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جو وفات پاچکے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ 2013ء کے عام انتخابات سے اب تک انتخابی فہرستوں پر مرحلہ وار نظر ثانی کے دوران بلدیاتی اداروں اور نادرا کی جانب سے فراہم کی جانے والی ڈیٹا کی بنیاد پرفوت ہونے والے 40 لاکھ سے زائدافراد کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کیے گئے ہیں۔ 2018کے انتخابات کے بعد الیکشن کمیشن نے 8 لاکھ سے زائد اور2020 میں 7 لاکھ 50ہزار سے زائد فوت شدہ ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے نکالے گئے ہیں الیکشن کمیشن نے لوکل گورنمنٹ کے متعلقہ حکام کوہدایت کی ہے کہ فوت شدہ افراد کے کوائف الیکشن ایکٹ کے سیکشن 43 کے مطابق سہ ماہی بنیاد وں پرضلعی الیکشن کمشنر ز کو مہیا کئے جائیں تاکہ قانون کے مطابق تمام فوت شدہ افراد کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کیے جاسکیں۔ماضی میں بھی میڈیا اور سیاست جماعتوں کی طرف سے الیکشن کمیشن پر انتخابی فہرستوں کی تجدید نہ کرنے اور حتمی فہرست میں لاکھوں کی تعداد میں فوت ہونے والے ووٹروں کے نام شامل کرنے کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔ حالانکہ اس میں الیکشن کمیشن کا کوئی دوش نہیں ہوتا۔ ہمارے سیاست دان خود نہیں چاہتے کہ ان کے ووٹروں کی تعداد کم ہو۔ ان کا خیال ہے کہ مرنے کے بعد بھی ووٹر کی تائید و حمایت انہیں حاصل رہتی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ان کے شناختی کارڈ اپنے پاس محفوظ رکھتے ہیں اور ووٹنگ کے روز ان کے حق میں دعائے معفرت کے ساتھ ان کا ووٹ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ کراچی اور سندھ کے دیگر بڑے شہروں میں میں کچھ عرصہ قبل تک لوگوں کو شناختی کارڈ ووٹنگ کی تاریخ سے دو دن پہلے سیاسی رضاکار گھر گھر جاکر جمع کرتے تھے۔ کچھ لوگوں کو پولنگ بوتھ کے باہر شناختی کارڈ واپس مل جاتے تھے اور کچھ لوگوں کے لئے شناختی کارڈز کی ہوم ڈیلیوری سروس ہوا کرتی تھی۔ اگر بھول چوک سے انتخابی فہرستوں میں وفات پانے والوں کے نام خذف کرنے سے رہ بھی جائیں تو یہ کونسی انوکھی بات ہے ہمارے ملک کے سرکاری اداروں میں فائلیں جس رفتار سے سفر کرتی ہیں اس کے حساب سے کسی کام کے انجام پانے میں دس پندرہ سال کی تاخیر کسی شمار میں ہی نہیں آتی۔جلدبازی کے عادی افراد فائلوں کو نوٹوں کے پہئے لگاکر طاقوں اور درازوں سے نکال کر میزوں پر سفر کراتے ہیں اور چند دنوں میں مطلوبہ نتائج حاصل کرلیتے ہیں ہماری سرکار اور اس کے ماتحت اداروں کو فائلوں سے والہانہ قسم کی محبت ہے اس لئے وہ سسٹم کو ڈیجیٹائز کرنے کو کسی صورت تیار نہیں ہوتے۔ کیونکہ ڈیجیٹائزیشن میں بہت سی قباحتیں ہیں، کسی کی سفارشی پرچی کو فائل میں بطور سند محفوظ رکھا جاسکتا ہے کمپیوٹر میں اس کی گنجائش نہیں ہوتی۔ ضرورت پڑنے پر کسی فائل کو تلف بھی کی جاسکتی ہے کمپیوٹر میں ایک فائل دس مقامات پر محفوظ ہوتی ہے اور ڈیلیٹ ہونے کی صورت میں ریکور کرنے کے امکانات بھی ہوتے ہیں۔ڈیجیٹائزیشن میں پائی پائی کا حساب موجود ہوتا ہے جبکہ فائل سسٹم میں مجموعی رقم سے کمیشن، رشوت، کک بیک اور چائے پانی کا خرچہ نکالنا آسان ہے۔کسی مذموم مقصد کے لئے فائلوں کو ضائع کرنا مقصود ہو تو اس کے لئے ماچس کی ایک تیلی کافی ہوتی ہے اور الزام شارٹ سرکٹ پر لگاکر بندہ آسانی سے چھوٹ سکتا ہے۔ جبکہ کمپیوٹر میں یہ سہولت فراہم کرنے کا سافٹ وئیر کے بانی کو شاید خیال بھی نہیں آیا ہوگا۔بات ووٹر لسٹوں سے شروع ہوئی تھی۔ اس حوالے سے بہت سے لطیفے مشہور ہیں دیہات میں تو لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں اس لئے انہیں وفات پانے والوں کی تاریخ وفات بھی یاد ہوتی ہے شہری علاقوں میں کوئی شخص اپنے پڑوسی کے بارے میں بھی لاعلم ہوتا ہے پولنگ بوتھ پر جب کسی مرحوم یا مرحومہ کا نام پکارا جاتا ہے تو اس علاقے کی بااثر پارٹی کے رضاکار فوری طور پر اس کا شناختی کارڈ لے کر ووٹ کاسٹ کرتے ہیں اور مرنے والے کے فرشتوں کو بھی علم نہیں ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ بعض پولنگ اسٹیشنوں پر پول شدہ ووٹوں کی تعداد علاقے کے رائے دہندگان کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ نکلتی ہے۔ اور یار لوگ اسے جمہوریت کا حسن قرار دیتے ہیں۔قوم جمہوریت کے اس حسن بلاخیز کی تباہ کاریوں کا خمیازہ آج بھگت رہی ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
41222

جمہوریت کا حسن …………..محمد شریف شکیب

ھموجودہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ وزراء اور اراکین اسمبلی اپنے آخری دنوں کو یادگار بنانے میں مصروف ہیں۔ اس کی تفصیل میں جانے کی چنداں ضرورت نہیں۔کچھ اراکین اسمبلی طویل روپوشی کے بعد منظر عام پر آگئے ہیں۔اور نئے عزم کے ساتھ سیاسی سفر شروع کرنے کا قصد کیا ہے۔ ہوا کا رخ دیکھتے ہوئے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے موسم بھی کافی گرم ہے۔ پارٹی میں نئے آنے والوں کی ایسی آو بھگت ہورہی ہے جیسے وہ کشمیر فتح کرکے آئے ہوں۔کئی سالوں تک پارٹی اور اس کے لیڈروں کو روئے زمین پر بدترین مخلوق قرار دینے والے اب ان کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملارہے ہیں اور دیکھنے والے کبھی ان کا اور کبھی اپنا منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔جمہوریت کے عاشقوں کا کہنا ہے کہ یہی تو جمہوریت کا حسن ہے۔اور حسینوں کا شعار ہی دغا دینا، دل توڑنا اور پلکوں کی جنبش کے ساتھ پینترے بدلنا ہے۔ جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر یہی حسن ہے تو وہ حسینوں اور ان کی اداوں سے وہ باز آئے ۔سیاست دانوں کے انفرادی یوٹرن اکثر دیکھنے میں آتے ہیں۔ لیکن حال ہی میں مختلف جماعتوں کا اجتماعی یوٹرن بھی دیکھنے میں آیا۔جسے دیکھ کر سیاست کا تھوڑا بہت ادراک رکھنے والے حیران بھی ہیں اور کسی حد تک پریشان بھی۔قصہ اس اجمال کا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے چترال کی ایک صوبائی نشست ختم کرنے کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں نے ایکا کیا تھا۔ انہوں نے الیکشن کمیشن میں اپیل دائر کی اور اعلان کیا کہ اگر چترال کی دوسری نشست بحال نہ کی گئی تو اعلیٰ عدالتوں میں فیصلے کو چیلنج کرنے کے علاوہ آئندہ عام انتخابات کا بائی کاٹ کیا جائے گا۔پیپلز پارٹی کے دونوں ایم پی ایز سلیم خان اور سردار حسین کے علاوہ تحریک انصاف کی خاتون ایم پی اے فوزیہ بی بی،آل پاکستان مسلم لیگ کے رکن قومی اسمبلی شہزادہ افتخار الدین، جماعت اسلامی کے ضلع ناظم حاجی معفرت شاہ ، اے این پی ، قومی وطن پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنماوں نے بھی بائی کاٹ کے فیصلے کی تائیدو توثیق کی تھی۔ الیکشن کمیشن نے دوسری سیٹ بحال کرنے سے صاف انکار کردیا۔ تو تمام سیاسی جماعتوں نے فوری طور پر انتخابی سرگرمیاں شروع کردیں۔ پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے دوڑ دھوپ جاری ہے۔ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لئے بھی کوششیں ہورہی ہیں۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سیاست دان انتخابات کا بائی کاٹ کرنے کے متحمل ہوہی نہیں سکتے۔ کیونکہ ان کی روزی روٹی اسی سے وابستہ ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ سیاسی گہما گہمی کی وجہ سے سیاسی رہنماوں کے ذہنوں سے الیکشن کے بائی کاٹ کی بات نکل گئی ہو۔ رکن قومی اسمبلی نے قوم کو مژدہ سنایا ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بارہ مئی کو شاہراہوں کی تعمیر اور گیس منصوبے کا افتتاح کرنے چترال آرہے ہیں جس کے دو دن بعدچودہ مئی کوسابق وزیراعظم میاں نواز شریف اپنی صاحبزادی مریم کے ہمراہ چترال آنے کا پروگرام بناچکے ہیں۔ سابق وزیراعظم کا ’’ مجھے کیوں نکالا‘‘ والا نعرہ کافی مشہور ہوا ہے۔ ان کے جلسے کے منتظمین سپاسنامہ میں ’’ ایک صوبائی نشست سے ہمیں کیوں نکالا‘‘ کا شکوہ کرتے ہوئے اس کی بحالی کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ اور عوام بھی یہی نعرہ لگائیں تو میاں صاحب بھی خوش ہوں گے کہ چلو۔چترال والے اردو بولنا سیکھ گئے ہیں۔اور ان کے نعرہ مستانہ کی صدائے بازگشت ہندوکش کے دامن میں پھیلی وادی چترال میں سنائی دینے لگی ہے۔ ممکن ہے کہ میاں صاحب خوش ہوکر ہماری کھوئی ہوئی نشست واپس دلادیں۔اس کا سیاسی فائدہ بھی شہزادہ افتخارالدین کو ملے گا۔بشرطیکہ وہ بھری محفل میں ن لیگ میں شمولیت کا اعلان کریں ۔ممکن ہے کہ رائے دہندگان کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا ہو۔ اور وہ انتخابات کے روز پولنگ اسٹیشن آنے سے صاف انکار کردیں۔ لیکن اس کا امکان کم ہی ہے۔ کیونکہ ہمارا قومی مزاج یہی ہے کہ تنخواہ بڑھائیں۔۔ ورنہ۔۔ پرانی تنخواہ پر ہی کام کریں گے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , , , , , , ,
9507