The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 7 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

پارلیمنٹ کیوں گئے؟ جسٹس فائز عیسیٰ کی برطرفی کیلیے درخواست دائر، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترامیم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

Posted on

پارلیمنٹ کیوں گئے؟ جسٹس فائز عیسیٰ کی برطرفی کیلیے درخواست دائر

گوجرانوالہ(سی ایم لنکس)گوجرانوالہ ڈسٹرکٹ بار نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت درج کرائی ہے جس میں انہیں عہدے سے ہٹانے کی استدعا کی گئی ہے۔ گوجرانوالہ ڈسٹرکٹ بار نے موقف اپنایا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس قاضی فائز عیسی کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دے، جسٹس قاضی فائز عیسی پارلیمنٹ جاکر مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے، کرپٹ سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھ کر ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی گئی، آئین پاکستان عدلیہ اور ایگزیکٹو کے درمیان فرق رکھنے کا کہتا ہے۔بار کی شکیات کی کاپی سپریم جوڈیشل کونسل کے تمام ممبران کو ارسال کی گئی ہے۔

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترامیم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ)سپریم کورٹ کی پریکٹس اینڈ پروسیجر ترامیم اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دی گئیں۔وکیل سعید آفتاب نے درخواست دائر کی جس میں انہوں نے مجوزہ ایکٹ کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔درخواست میں مو قف اپنایا گیا کہ بنیادی مطالبہ صرف آرٹیکل 184 کے تحت فیصلوں کے خلاف حق اپیل کا تھا، اپیل کا حق چیف جسٹس کے اختیارات میں کمی لائے بغیر دیا جا سکتا تھا۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کی طرز پر انٹرا کورٹ اپیل کا حق دیا جا سکتا تھا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کے پیش کردہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کثرت رائے سے منظور کیا گیا تھا۔دوران اجلاس اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے ارکان سے رائے شماری کے بعد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کی شق وار منظوری دی تھی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
73443

جسٹس فائز عیسیٰ  کیخلاف کیوریٹو ریویو واپس لینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

جسٹس فائز عیسیٰ  کیخلاف کیوریٹو ریویو واپس لینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ)جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو واپس لینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے وفاقی حکومت کی کیوریٹو ریویو پٹیشن کو واپس لینے کی درخواست پر ان چیمبر سماعت کی۔اٹارنی جنرل منصور اعوان چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے چیمبر میں پیش ہوئے۔اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مؤقف تھا کہ آئین و قانون میں دوسری نظرثانی کی گنجائش نہیں۔واضح رہے کہ جسٹس فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس پر نظرثانی کی درخواستیں 26 اپریل2021ء کو خارج ہوئیں، پی ٹی آئی نے نظرثانی کی درخواستیں خارج ہونے کے خلاف کیوریٹو ریویو دائر کر رکھا تھا۔حکومت نے وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد کیوریٹو ریویو واپس لینے کی درخواست دائر کی۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے حال ہی میں متعلقہ حکام کو کیوریٹو نظرثانی کی درخواست کی پیروی نہ کرنے اور درخواست واپس لینے کو کہا تھا۔

میری موجودگی میں جو سیاسی باتیں ہوئیں ان سے متفق نہیں ہوں،جسٹس فائز

اسلام آباد(سی ایم لنکس)سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا ہے کہ میری موجودگی میں جو سیاسی باتیں ہوئیں ان سے متفق نہیں ہوں۔جسٹس قاضی فائز عیسی نے قومی آئینی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے ادارے کی طرف سے کہنا چاہتا ہوں ہم اس کتاب کیساتھ کھڑے ہیں، اللہ کے بعد اس کتاب کا سایہ ہے، میں قانون کے طریقے سے دیکھتا ہوں اور سیاسی تناظر میں دیکھتا ہوں، سیاست آپ کا کام ہیمیرا نہیں میں چیزوں کو قانون کی نظر سے دیکھتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہم آئین پاکستان کیساتھ کھڑے ہیں، ہمارا کام قانون کے مطابق بروقت فیصلہ کرنا آپ کا کام عوام کے مفاد میں قانون سازی کرنا ہے، ہمیں آئین پاکستان کی اہمیت پہچان کر اس پر عمل کرنا چاہیے، ہمارا کام ہے آئین اور قانون کے مطابق جلد فیصلے کریں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم کبھی کبھی دشمنوں سے اتنی نفرت نہیں کرتے جتنی آپس میں کرتے ہیں، اپنی غلطیوں اور نادانیوں کو سمجھ کر آگے بڑھنا چاہیے۔جسٹس فائز نے کہا کہ آئین کی گولڈن جوبلی میں شرکت کیلئے حاضر ہوا، دوسرے جج صاحبان اس لیے نہیں آ سکے شاید وہ مصروف تھے، میں نے پوچھا تھا کیا باتیں ہونگی بتایا گیا آئین کی باتیں ہونگی، میری موجودگی میں جو سیاسی باتیں ہوئیں ان سے میرا کوئی تعلق نہیں۔جسٹس فائز نے مزید کہا کہ ہوسکتا ہے کل اگر یہاں بیٹھے افراد کیخلاف فیصلہ آجائے تو آپ کہیں ہم نے تو آپ کو بلایا تھا پھر ہمارے خلاف فیصلہ دیا، شاید میرے خلاف تنقید ہو، ہم دستور کیساتھ کھڑے رہیں گے اور اسی کے مطابق کام کریں گے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پیش

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ)پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پیش کر دیا، بل منظوری کے بعد دوبارہ صدر مملکت کو دستخط کے لیے بھیجا جائے گا۔عدالتی اصلاحات سے متعلق عدالت عظمی پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا۔اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کی دونوں ایوانوں نے منظوری دی تھی، دونوں معزز ایوان میں بل پر ڈیبیٹ کی گئی، بل صدر مملکت کو بھیجا گیا تھا، صدر مملکت نے بل میسج کے ساتھ واپس بھیجا ہے۔وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ آج اپوزیشن اراکین کم علمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، صدر مملکت نے پارلیمان کی لا میکنگ پر منفی کمنٹ کیا، صدر مملکت کو ایسی زبان استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے، صدر مملکت تعصب کی عینک پہن کر اپنی جماعت کی پاسداری شروع کر دیتے ہیں اعظم نذیرتارڑ نے کہا کہ معززایوان نیقانون سازی کی، ون مین شو کی باتوں کا اثر زائل کرنے کے لییقانون بنایا گیا، تمام تراختیارات سپریم کورٹ کے دو سینئر ججز کو دیئے گئے ہیں، دونوں ایوانوں نے سوچ بچار کے ساتھ قانون پاس کیا۔اعظم نذیر تارڑ نے سپیکر اسمبلی کو کہا کہ اگر کوئی ترامیم آئی ہے تو ان کو دیکھ لیا جائے، انہوں نے کہا کہ قانون سازی پارلیمنٹ کا حق ہے، عدالتی نظام میں مزید شفافیت چاہتے ہیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
73423