The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 16 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بزمِ درویش ۔ کرم کی نظر ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بزمِ درویش ۔ کرم کی نظر ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

روزِ اول سے اِس کرہ ارض پر دو طرح کے لوگ طلوع اور غروب ہوتے رہے ہیں اور حشر تک یہ سلسلہ اِسی طرح جاری و ساری رہے گا۔ اِن میں ایک وہ جو تاجور کہلاتے ہیں اور دوسرے وہ جو دیدہ ور ہوتے ہیں، اِن دونوں میں بنیادی فرق یہ ہوتا ہے کہ تاجور صدیوں کے غبار کی نذر ہوجاتے ہیں جبکہ دیدہ ور پیوند خاک ہوکر بھی تاریخ کے سینے پر ثبت ہوجاتے ہیں چشم فلک نے بار بار ایسا منظر دیکھا کہ کبھی جن کے سروں پر ہیرے موتیوں سے دسجے تاج روشن تھے آج ان کی قبروں کی خاک اڑ رہی ہے، جو دامن چاک نظر آتے تھے ان کے نام کی شہرت زمین و آسمان تک پھیلی ہوئی ہے، جو کبھی چوبداروں کے ہجوم میں چلاکرتے تھے آج ان کا کوئی نام لینے والا نہیں ہے اور جو شہروں بستیوں سے دور جنگلوں، میدانوں اور پہاڑوں میں فرش نشین پڑے رہتے تھے

آج دنیا ان کی نسبت پر فخر محسوس کرتی ہے اور جن کی پیشانی پرنازک سی ایک سلوٹ سے اقتدار کے ایوانوں میں زلزلہ آجاتا تھا وہ گردش زمانہ کی نذر اِس طرح ہوئے کے تاریخ نے ان کے ناموں پر گمنامی کا کفن ڈال دیا اور جن کی جبینِ نیاز میں خالق ارض و سما کی اطاعت و محبت کے سجدے تڑپتے تھے آج ان کی چوکھٹ پر بادشاہ وقت کہنیا رگڑ تے نظر آتے ہیں۔اقتدار کی چند ساعتوں پر قابض لوگ صدیوں کے غبار میں کھو گئے اور بوریا نشین تاریخ کے ماتھے پر جھومر بن کر چمک رہے ہیں، تاریخ کی مراد ایسے عظیم لوگ کہ جس وقت کرہ ارض کے کسی گوشے میں جب بھی طلوع ہوئے ہزاروں گناہ گاروں کو صرف ایک نظر سے ہی نیکوکاروں میں شامل کرتے گئے،

نگاہ مرد مومن سے انسانی تقدیر کا تبدیل ہوجانا کوئی افسانوی بات نہیں بلکہ تاریخ انسانی میں ہزاروں ایسے واقعات سے تاریخ کے اوراق روشن ہیں جب کسی مردمومن کی ایک نظر سے گناہ گاروں کی دنیا ہی بدل گئی، ایسے ہی عظیم ترین مرد مومن حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری بھی ہیں برصغیر پاک و ہند کی پوری تاریخ میں غریبوں نادار و بے بسوں سے محبت کرنے والا شاید ہی کوئی دوسرا انسان گزرا ہو۔برصغیر پاک و ہند کی سب سے زیادہ با اثر اورپر کشش شخصیت، جنہوں نے ہندوستانی تاریخ کا دھارا ہی بدل ڈالا اور خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر اپنے ورثے میں کروڑوں مسلمان چھوڑے، آپ سراپا محبت تھے اپنی اِسی ادا کی وجہ سے ہندو مسلم آپ کو غریب نواز سمجھتے ہیں آپ کی زندگی کرامت مسلسل تھی ایک دفعہ دوران سیاحت آپ سبزوار تشریف لائے ابھی چند دن ہی گزرے ہونگے کہ مقامی باشندوں کی ایک جماعت آپ کی بارگاہ میں حاضرہوئی اور درد ناک لہجے میں اپنی داستان ظلم سنائی۔

سیرا لعارفین میں حامد بن فضل اللہ نے اِس واقع کو اِسطرح بیان کیا ہے، یہاں کا حکمران یادگار محمد ایک ظالم جابر حکمران تھا، اپنے ظلم و ستم سے لوگوں کی زندگی جہنم بنائی ہوئی تھی معمولی باتوں پر سخت سزائیں دینا اس کا شیوہ تھا اپنے ظلم و تکبر میں اِس حد تک بڑھ گیا تھا کہ صحابہ کرام سے بغض و عدات رکھتا تھااِن مقدس ہستیوں کی شان میں مسلسل بے ادبی اور گستاخیاں کرتا جن لوگوں کے نام صحابہ کرام کے ناموں پررکھے گئے تھے انہیں مختلف بہانوں سے سخت سزائیں دیتا، اس نے اپنی عیاشی کے لیے شہر سے باہر ایک باغ بنایا تھا جسے وہ جنت کہتا تھا یہاں شراب کباب اور رقص و سرور کی محفلیں سجاتا خوبصورت عورتیں شراب پلاتیں، ایک دن حضرت خواجہ معین الدین اِس باغ میں داخل ہوئے یادگار کے حوض میں غسل کیا دو رکعت نماز ادا کی اور تلاوت کلام پاک میں مشغول ہوگئے

اِسی دوران یادگار کے ملازم کی نظر آپ پر پڑی تو وہ فوری آپ کے پاس آیا اور منت کی کہ آپ یہاں سے چلے جائیں یادگار بہت ظالم ہے اس نے آپ کو دیکھ لیا تو قیامت ٹوٹ پڑیگی، حضرت غریب نواز نے اس کی باتوں پر دھیان نہ دیا اور اسے کہا تم درخت کے نیچے بیٹھ جا کچھ نہیں ہوتا۔اِسی دوران یاد گار کے کچھ اور ملازم بھی آگئے انہوں نے حضرت خواجہ سے پوچھنا چا ہا کہ آپ اِس باغ میں کیسے آگئے لیکن آپ کے جلال معرفت کی تاب نہ لاسکے کہ ان کی زبانیں گنگ ہو گئیں لہذا چپ چاپ حوض کے کنارے قالین بچھائے اور ان پر شراب کے برتن رکھے گئے اور پھر تھوڑی دیر کے بعدبد کرداریادگار اپنے مصاحبوں کے ہمراہ باغ میں آپہنچا حضرت خواجہ معین الدین کو دیکھ کراپنے ملازموں پر برس پڑا یہ کون ہیں جو ہمارے عشرت کدے میں داخل ہو گئے ہیں، خوف و دہشت سے ملازموں کے جسم تھر تھر کانپ رہے تھے انہیں اپنا بھیانک انجام نظر آرہا تھا

ملازموں کی حالت زار دیکھ کر شہنشاہ اجمیر اٹھے اوریادگار کے سامنے جاکر بولے میں اپنی مرضی سے یہاں آیا ہوں اور مجھے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔تیرے یہ ملازم بے قصور ہیں اِن پر ظلم مت کر، یادگارکی نظریں جیسے ہی آپ کی پرجلال نظروں سے ٹکرائیں تو آپ کے جلالِ معرفت کی تاب نہ لاسکا بولنا چاہا لیکن قوت گویائی کھو بیٹھااس کے ملازم بھی سنگی مجسموں کی طرح بے حس و حرکت کھڑے تھے، اور پھر خواجہ معین الدین نے ایک خاص نگاہ ِ کرم سے یادگار کو دیکھا ایک بجلی چمکی جو یادگار کی روح کے عمیق ترین گوشوں کو منور کر گئی، یادگار تاب نہ لاسکا لڑکھڑایا اور بے جان بت کی طرح زمین پر گر گیا اور بے ہوش ہو گیا یادگار کے بیہوش ہوتے ہی اس کے ملازموں اور مصاحبوں نے بھی عقیدت و احترام سے اپنے سر جھکا دئیے اب حضرت خواجہ نے ملازم سے کہا حوض کا پانی لے کر اِس کے منہ پرچھڑکو آپ کے حکم پر ملازم حرکت میں آیا اور پانی لے کر یادگار کے منہ پر چھڑکنا شروع کیا، حضرت خواجہ کے حکم سے پانی کی چند بوندوں کے پڑھنے سے ہی یادگار ہوش میں آگیا۔

اس کا جسم نیم جان ہو چکا تھا اس نے پوری قوت سے اٹھنے کی کوشش کی لیکن اٹھ نہ سکا آخر خود کو گھسیٹ کر اپنا سر حضرت خواجہ کے قدموں پر رکھ دیا، شہنشاہ ہند کی پر جلال آواز گونجی کیا تو اپنے گناہوں، ظلم اورعقائد سے تائب ہوا؟ یادگار کی لرزتی آواز ابھری ہاں سرکار میں اپنی حماقتوں اور عقائد سے تائب ہوا حضرت آپ کی نظر سے میرا سینہ اور روح روشن ہوگئی، خدا کی قسم تمام اصحاب رسول ﷺ میرے لیے بہت قابل احترام ہیں ان کے قدموں سے لپٹی خاک میری آنکھوں کا سرمہ ہے یادگار عقیدت بھرے انداز سے صحابہ کرام کی شان اور عظمت کا اعتراف کر رہا تھا، خواجہ غریب نواز آگے بڑھے اس کی پشت پر اپنا دست شفقت رکھا ظالم یادگار اب لرزتے قدموں سے کھڑا ہوگیاعقیدت سے اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں، خواجہ غریب نواز نے اسے حکم دیا وضو کرے دو رکعت نماز ادا کرے یادگار کی دنیا بدل چکی تھی،

پھر جب شہنشاہ اجمیر باغ سے رخصت ہونے لگے تو یادگار نے دامن پکڑ کر التجا کی کہ اسے ہمیشہ کے لیے غلامی کا شرف بخشا جائے حضرت خواجہ سرکارنے اسے بیت کیا، یادگار کا ہاتھ جیسے ہی خواجہ کے ہاتھ میں آیا دنیا ہی بدل گئی ساری دولت آپ کے قدموں میں ڈھیر کردی تو شہنشاہ اجمیر نے حکم دیا یہ ساری دولت ان لوگوں میں تقسیم کردو جو تیرے ظلم و ستم کا شکار ہوئے یادگار نے کھڑے کھڑے ساری دولت تقسیم کردی، غلاموں،نوکروں اور کنیزوں کو آزاد کردیا، یادگار ساری زندگی آپ کے قدموں میں گزارنا چاہتا تھا مگر حضرت خواجہ نے اسی مقام پر لوگوں کی رشد و ہدایت کے لیے اسے مقرر کیا اور پھر چشم آسماں نے یہ منظر دیکھا کل تک جو خود گمراہ تھا آج وہی لوگوں کو ہدایت کے لیے بلارہا تھا۔شہنشاہ اجمیر کی ایک نظر نے یادگار کی زندگی بدل ڈالی۔
کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
116847

بزمِ درویش ۔ انصاف ۔ تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بزمِ درویش ۔ انصاف ۔ تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

صبح کے وقت چند ملاقاتی مجھ سے ملنے کے لیے آئے ہو ئے تھے میں ایک ملاقاتی کی باتیں سن رہا تھا جب مجھے ملاقاتی کا مسئلہ سمجھ آگیا تو اب میں نے اس کو بولنے کا موقع دیا تاکہ وہ خوب بول کر اپنا دل ہلکا کر لے کیونکہ اگر میں اسے ٹوک دیتا تو اس نے ہر ملا قاتی کی طرح پر زور احتجاج کر نا تھا کہ میں نے اس کی بات نہیں سنی اب وہ بول رہا تھا میں ہوں ہاں کر رہا تھا کیونکہ اس کا مسئلہ مجھے پتہ چل گیا تھا اب میں اسے مو قع دے رہا تھا میری تو جہ اب اس کی گفتگو سے ہٹ چکی تھی میں اب اِدھر ادھر دیکھ رہا تھا وہ بو لے جا رہا تھا اِسی دوران پندرہ بیس میٹر دور ایک دیہاتی شخص نو عمر بچے کے ساتھ مجھے نظر آیا جو بغور میری طرف دیکھ رہا تھا دھوتی اور پگڑی کے ساتھ وہ بیٹھا آرام سے میری طرف دیکھ رہا تھا کیونکہ میری زندگی کا زیا دہ حصہ بھی گا ں میں ہی گزرا ہے میں دیہی کلچر کے لوگوں میں پلا بڑھا ہوں اِس لیے اس کلچر سے میری انسیت بھی فطری ہے

بوڑھا دیہاتی جس کی عمر ستر سال سے زیادہ تھی مجھ سے ملنے کے انتظار میں بیٹھا تھا میں اسے مزید انتظار نہیں کرانا چاہتا تھا سامنے بیٹھے شخص نے جب کافی باتیں کر لیں تو اسے تسلی حوصلہ دیا خدا جلدی کرم کر ے گا وظیفہ بتا یا تو وہ اٹھ کر جانے لگا تو میں اس دیہاتی کی طرف بڑھا جو آرام سے انتظار کر رہا تھا مجھے اپنی طرف آتا دیکھ کر وہ بھی تیزی سے اٹھ کر میری طرف بڑھا۔ جب ہم قریب آئے تو میں نرم شفیق لہجے میں بولا جناب آپ مجھ سے ملنے آئے ہیں اس نے ہاں میں سر ہلایا تو میں اسے پکڑ کر بینچ پر آکر بیٹھ گیا اس کے ساتھ آیا بچہ بھی بیٹھ گیا جس کی عمر بارہ تیرہ سال ہو گی بوڑھا دیہاتی ممنون نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھاگاں کے سادہ لوح لوگ جب شہروں کا رخ کر تے ہیں تو سہمے سہمے خوفزدہ سے ہو تے ہیں یہ بیچارہ بھی اسی کیفیت کا شکار لگ رہا تھا سادگی شرافت انگ انگ سے ٹپک رہی تھی اب میں نے اجنبیت کی چادر چاک کر تے ہوئے کہا چاچا جی آپ کہاں سے آئے ہیں اور میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں تو وہ ممنون لہجے میں بو لا جناب یہ میرا پو تا ہے

پڑھائی نہیں کر تا آوارہ لڑکوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے میں اس کے لیے آپ کے پاس آیا ہوں کہ یہ سیدھے راستے پر آجائے ہم تو اِس کو سمجھا کر مار کر ڈرا کر سب کچھ کر چکے ہیں لیکن اِس کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی بچپن میں تو یہ میری ساری باتیں مانتا تھا لیکن اب یہ ڈھیٹ بن گیا ہے اِس کی دادی اور ماں نے خاص تاکید کی ہے کہ اِس کو سیدھا کر دیں یہی تو ہمارے بڑھاپے کا سہارا ہے اگر یہ بھی خراب ہو گیا تو کون ہمارا سہارا بنے گا بزرگ اپنے پو تے کی شکایتیں لگا رہا تھا اور میں ایک اچھے سا مع کی طرح اس کی باتیں سن رہا تھا میں بزرگ کو اچھی طرح بو لنے کا موقع دے رہا تھا بات سن رہا تھا جب وہ خوب بو ل چکا تو میں بولا اِس کا باپ اِ س کو نہیں سمجھا تا وہ کدھر ہے تو بزرگ بو لا وہ جیل میں ہے وہ جیل نہ ہو تا تو خود اِس کو سنبھالتا اب اس کے نہ ہو نے سے اِس کو سنبھالنا پرورش کر نا بھی اب میری ذمہ داری ہے اب میں بوڑھا شخص ہوں یہ نوجوان یہ میری قابو نہیں آتا اِس کا باپ جیل کیوں گیا اس نے کیا جرم کیا تو بزرگ بو لا اس نے چار بندوں کو قتل کر دیا تھا اس جرم میں جیل گیا ہے چار بندے قتل کر دئیے

بزرگ نے یہ بات کتنے آرام سے بتا رہا تھا بندے نا ہوئے چار درخت کاٹ دئیے ہوں کیوں قتل کیے تو بوڑھا دیہاتی بولا میرے کہنے پر میں نے اپنے بیٹے سے کہا تھا جا سارے خاندان کو قتل کرکے میرے پاس آنا وہ گیااور چاربندے قتل کر دئیے میں نے خود تھانے میں پیش کیا اب وہ جیل میں ہے دیہاتی بزرگ کتنے پر سکون لہجے میں چار بندوں کے قتل کی بات کر رہا تھا میں نے بزرگ کو سر سے پاں تک بغور دیکھاہو شرافت اور سادگی کا پیکر لگ رہا تھا اس کے چہرے کے تاثرات جسمانی ڈیل ڈول یا آنکھوں اور آوازسے کسی بھی طرح یہ احساس نہیں ہو رہا تھا کہ اس نے چار بندوں کے قتل کا حکم جاری کیا ہو اس کی وضع قطع بو ل چال سے تو یہ لگ رہا تھا کہ یہ کسی مچھر یا مکھی کو بھی قتل نہیں کر سکتا تو کس طرح چار جیتے جاگتے بندے مار دئیے میں حیران پریشان نظروں سے دیہاتی شخص کی آنکھوں میں جھانک رہا تھا لیکن اس کے کسی بھی تاثر یا حرکات سکنات سے یہ نہیں لگ رہا تھا کہ اس نے چار بندے مروادئیے۔ بزرگ دیہاتی میری حیرانی پریشانی کو بھانپ گیا بولا جناب آپ ٹھیک سوچ رہے ہو کہ کس طرح میں نے چار بندے مروادئیے اِن چار بندوں کے علاوہ ساری زندگی میں نے تو کبھی کسی سانپ بچھو کو نہیں مارا میں تو مرغی ہلال نہیں کر سکتا میں تو کسی کو گالی تک نہیں دے سکتا۔ لیکن میرے جیسا سیدھا سادھا دیہاتی شریف انسان کیوں اِس موڑ پر آگیا کہ اسے چار بندوں کے قتل کا حکم دینا پڑا کیونکہ ان چار بندوں کے ساتھ میرا اکلوتا بیٹا بھی تو مارا ہی گیا

اب یا تو وہ پھانسی پائے گا یا عمر قید نقصان تو میرا بھی ہو الیکن میں نے اِس بے درد بے رحم ظالم معاشرے پر احسان کیا۔ جناب میرا تعلق فیصل آباد کے قریبی گاں سے ہے میں چھوٹا سا زمیندار ہوں میری ایک بیٹی اور ایک بیٹا تھا یہی میری کل کائنات تھی بیٹا جوان ہوا تو اس کی شادی کر دی بیٹی جوان ہوئی تو اکیڈمی میں اپنے ٹیچر سے محبت کر بیٹھی پہلے تو میں نے ذات برادری کا رونا رویا لیکن جب بیٹی نے بہت ضد کی کہ میں نے اپنے ٹیچر سے ہی شادی کر نی ہے تو پڑھا لکھا انسان سمجھ کر میں بھی مان گیا اور بیٹی کی پسند کی شادی اس کے ٹیچر سے کر دی شادی سے پہلے میں نے اس کے خاندان کا پتہ کرنے کی کو شش کی لیکن داماد نے یہی بتایا کہ اس کا تعلق کراچی ہے ماں باپ مر گئے تو یتیم خانے میں جوان ہوا وہیں پر پڑھا ئی پھر مختلف نو کریا ں کر تا کر تا فیصل آباد آگیایہاں پر نوکری کے ساتھ ساتھ شام کو اکیڈمی میں پڑھاتا یہاں بیٹی کی محبت میں ہم مان گئے شادی کے بعد تین ماہ بعد تک تو داماد فیصل آباد میں رہا تین ماہ بعد کہا کہ اسے کراچی میں نوکری مل گئی ہے

اِس لیے ا ب وہ میری بیٹی کو لے کر کراچی چلا گیا چند دن تو فون آتے رہے پھر فون آنے بند ہو گئے ہمار ا بیٹی اور داماد سے ہر قسم کا رابطہ ٹوٹ گیا ہم نے بہت کو شش کی لیکن ہمارا رابطہ نہیں ہوا اِس طرح ایک سال کا وقت گزر گیا ہم بیٹی کی جدائی میں نیم پاگل ہو گئے پھر ایک دن ایک لڑکی کا فون آیا کہ آپ کی بیٹی کو قتل کر دیا گیا ہے اب وہ اِس دنیا میں نہیں رہی آپ نے راز داری سے آکر مجھ سے ملنا ہے میرا بیٹا حیدر آباد اس لڑکی کے پتے پر گیا تو اس لڑکی نے بتا یاوہ سید زادی ہے آپ کا داماد ایک عادی مجرم ہے مختلف شہروں میں جا کر نوجوان خوبصورت لڑکیوں کو اپنی محبت کے جال میں پھنسا کر شادی کر کے لاتا ہے پھر سندھ کے وڈیروں کو بیچ دیتا ہے یا پھر گھر میں جسم فروشی کا دھندہ کر تا ہے وہاں پر اپنی بیویوں سے جسم فروشی کر اتا ہے

اسی طرح ملتان میں مجھے بھی اپنی محبت میں پھنسا کر لایا تو آپ کی بیٹی نے مجھے ساری حقیقت سنا دی آپ کی بیٹی مجھے اس اڈے سے لے کر بھاگی تو ہم دونوں کو پکڑ لیا گیا آپ کی بیٹی کو مار مار کر اتنا زخمی کیا کہ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہو ئے مر گئی لیکن اِس دوران میرے گھر والے میری مدد کو آگئے وڈیرے اِن کے ساتھ تھے چند دنوں میں خود کشی کا کیس سنا دیا گیا اب وہ خاندان پھر اسی طرح معصوم لڑکیوں سے جسم فروشی کا دھندہ کر ا رہا ہے۔ اس کیس کے بعد دوسال تک میں عدالتوں پو لیس تھانوں وڈیروں کے اڈوں پر انصاف مانگتا رہا لیکن مذاق اڑایا گیا تو آخر کار تنگ آکر میں نے بیٹے سے کہا جا اس درندے کو اس کی ماں باپ اور بہن کو قتل کر دو جو یہ دھندہ سر عام وڈیروں کی مدد سے کر رہے ہیں پھر میرے بیٹے نے ان خون خوار درندوں کو موت کے گھاٹ اتا ر دیا۔ بوڑھا دیہاتی چٹانی لہجے میں بول رہا تھا کہ میں نے جو بھی کیا ٹھیک کیا اور میں اپنے فیصلے پر آج بھی خوش ہوں وہ چلا گیا لیکن میں سلگ رہا کہ ریاست مدینہ کے دعوے داروں کو نہیں پتہ کہ ہر شہر میں کہاں کہاں جسم فروشی کے اڈے ہیں تھانے داروں کو سب کا پتہ ہے اگر اب بھی یہ ایسے اڈوں کو بند نہیں کر تے تو پھرہر باپ خود اپنے بیٹے کو پستول دے کر کہے گا جا انصاف کر کے آ۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
115241

بزمِ درویش ۔ خوش اخلاقی ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بزمِ درویش ۔ خوش اخلاقی ۔ تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

وہ پچھلے بیس دن سے لگا تار میرے پاس آرہا تھا وہ ہر روز آتا آرام سکونت تحمل اور مستقل مزاجی سے بیٹھا رہتا چار پانچ گھنٹوں کے بعد ایک ہی درخواست نما بات کر تا میں اس کو ٹال دیتا۔اور وہ واپس چلا جاتا لیکن اگلے دن وہ پھر نئے ولولے جوش اور مستقل مزاجی سے آجاتا اسے کسی بھی قسم کی جلد بازی نہ ہوتی نہ وہ بے قرار ہو تا نہ جلدی ملنے کی کوشش کر تا آنے جانے والے لوگوں کو دیکھتا رہتا میری نظر جب اس کی نظر سے ٹکراتی اس کی آنکھوں میں آشنائی کی چمک تیز ہو جا تی اور چہرے پر دلنواز تبسم پھیل جاتا وہ ہر بار آکر ایک ہی بات کی التجا کر تا اور میں ہر بار انکار یا ٹال دیتا لیکن مجھے روزانہ حیرت ہو تی کہ میرے انکار یا ٹالنے سے اس کے ہونٹوں پر حرف شکایت تو دور کی بات ہے اس کے چہرے پر ناگواری کا ہلکا سا عکس بھی نہ ہو تا کسی کو اتنی بار انکار کیا جائے اور وہ بار بار آئے اسی خو ش اخلاقی اور شفیق تبسم میری آنکھیں آج سے پہلے ایسے کسی بھی انسان یا منظر سے نا آشنا تھیں۔ اس کی آنکھوں میں مریم کی سی پوترتا اور ہونٹوں کا دلنواز تبسم میں آہستہ آہستہ اس سے متاثر ہو تا جا رہا تھا کیونکہ شفیق تبسم اور خوش اخلاقی ایسا وصف خاص ہے جو کسی کی بھی شخصیت کو بہت جا ندار، پر اثر اور سورج سے بھی زیادہ روشن بنا دیتا ہے اور اگر ایسے نایا ب انسانوں کے پاس کردار کی پختگی کا زیور بھی دستیاب ہو تو پھر سیم و زر کے انبار بھی ایسے لوگوں کو صراطِ مستقیم سے نہیں ہٹا سکتے

مشکل سے مشکل وقت میں بھی نہ تو اِن کی آنکھوں کی پتلیاں کا نپتی ہیں اور نہ ہی اِن کے پا ئے استقلال میں لغرش آتی ہے اِن خوبیوں کے ساتھ اگر اعلی ظرفی کی بھی آمیزش ہو جا ئے تو کیا بات ہے کیونکہ اعلی ظرفی ایک ایسا جو ہر ہے کہ جس سے کئی مزید جو ہر بھی پھوٹتے ہیں اور پھر اِن کی وجہ سے ہی انسانی کر دار ایک تنا آور درخت بن جا تا ہے۔ اور پھر دولت کی چکا چوند اور دولت کے ذخائر بھی ایسے لوگوں کو بدل نہیں سکتے اور ما دیت کے اِس دور اور آسائشوں کے ہجوم میں بھی ایسے لوگ تقوی کے ہما لیہ پر جلوہ افروز نظر آتے ہیں آپ کی زندگی میں بے شمار ایسے لوگ ہو تے ہیں کہ سالوں سے آپ اکٹھے رہ رہے ہو تے ایک ہی گھر محلہ یا دفتر آپ روزانہ ملتے ہیں گھنٹوں باتیں بھی کر تے ہیں لیکن اجنبیت کی دیوار قائم رہتی ہیں آپ جب بھی ایسے لوگوں سے ملتے ہیں تو ایک ڈرِل سے گزرتے ہیں وقت گزاری سالوں ملنے والے اگر آپ کی زندگی سے چلے جا ئیں تو آپ کو ان کی کمی کا احساس تک نہیں ہو تا کہ کو ئی آپ کی زندگی میں پچھلے کئی سالوں سے اتنے بھر پور طریقے سے تھا برسوں کے ساتھ کے بعد بھی آپ کا رشتہ استوار نہیں ہو تا آپ اس کے جا نے کے بعد اس کی کمی feelنہیں کر تے یعنی یہ ایسے لوگ ہو تے ہیں کہ ان کا ہو نا یا نہ ہو نا ایک ہی بات ہے نہ تو ان کے ہو نے سے آپ کی زندگی بھر پور اور خوشگوار ہو تی ہے اور نہ ہی ان کے جا نے سے آپ کسی اداسی یا کمی کا شکار ہو تے ہیں اور بعض اوقات کو ئی آپ کی زندگی میں چند لمحوں کے لیے آتا ہے چند گھڑیاں گزارنے اور چند با توں کے بعد ہی آپ اس کی شخصیت اور قرب کے سحر میں جکڑے جا تے ہیں آپ کو لگتا ہے کہ آپ سالوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں یا آپ کو سالوں سے اِسی کی تلاش تھی اور اکثر بے ساختہ آپ کے لبوں سے نکل جا تا ہے۔
قسمت سے بس ایک ہی گلا ہے
تو اتنی دیر سے کیوں ملا ہے

ایسے ہی شفیق لوگ ہو تے ہیں جن کی کیمسٹری اور دماغ کی فریکوئنسی آپ سے اتنی زیادہ ملتی ہے کہ آپ بار بار ایسے لوگوں کے پاس جا نے،ان سے باتیں کر نا اور خوشگوار لمحات ان کے ساتھ گزارنا چاہتے ہیں آپ کو جیسے ہی پتہ چلتا ہے کہ اس کا فون آیا ہے یا وہ آپ کے دروازے پر کھڑا ہے یا وہ آپ سے ملنے آیا ہے تو اس کے تصور سے ہی آپ کے چہرے پر خوشی اور مسکراہٹ کا نور پھیل جا تا ہے۔آپ کسی مشکل یا تکلیف میں ہوں تو آپ کا دل کر تا ہے کہ کسی طرح آپ اس کے پاس چلے جائیں یا وہ آپ کے پاس آجا ئے۔ آپ اپنے ملنے والوں پر نظر دوڑائیں تو آپ کو بھی اپنی زندگی میں ایسے مثبت لوگ نظر آئیں گے ایسے با کردار لوگ ہی کسی بھی معاشرے کا اصل حسن ہو تے ہیں۔ اِن کے کردار اخلاق اور شخصیت سے ایسی مقناطیسی لہریں یا کشش چاروں طرف پھیلی ہے کہ جو بھی اِن کے قریب آیا پھر انہی کا ہو کر رہ گیا ایسے لوگوں کی قربت کا ایک لمحہ ساری عمر کے ساتھ میں بدل جا تا ہے کسی کی ایک نظر ساری عمر کے لیے آپ کو اپنا اسیر کر لیتی ہے پھر آپ کسی اور کی طرف دیکھتے بھی نہیں اور اگر آپ ایسے خوبصورت خوش گفتار اور خوش اخلاق لوگوں سے دور بھی ہوں تو کچھ چہرے ایسے ہو تے ہیں کہ ان کا تصور اور ان کی باتیں یا د کر کے ہی آپ کے چہرے سے مسکراہٹوں کے پھول جھڑنے لگتے ہیں آپ گو شہ تنہا ئی میں اس کی باتیں یاد کر کے خو دبخود ہی مسکراتے رہتے ہیں موجودہ ما دیت پرستی میں غرق اِس دور میں ایسے نایاب انسان اب بہت کم ہو گئے ہیں یا مادیت پرستی کے عفریت نے ایسے لوگوں کو نگل لیا ہے اور اگر کبھی بھولا بسرا ایسا نایاب انسان آپ کی زندگی میں آجا ئے تو یقین جانئیے آپ کااس کے پاس ہی زندگی گزارنے کا دل کر تا ہے ایسے لوگوں کی قربت کا ایک ایک لمحہ خوب enjoyکر تا ہے دل کر تا ہے وقت کا بے راس گھوڑا تھم جا ئے وقت ساکت ہو جا ئے اور ہم اس کی قربت کو ہی انجوائے کر تے رہیں خو ش قسمت ہو تے ہیں

وہ لوگ جن کو ایسے لوگوں کا قرب اور ساتھ نصیب ہو تا ہے ایسے باکردار خوب سیرت لوگ کسی بھی معاشرے کا حقیقی حسن ہو تے ہیں جن کی وجہ سے ہی معاشرے میں زندگی کی چنگاریاں اب تک با قی ہیں ورنہ ما دیت پرستی کی عالمگیر تحریک کب کا انسانوں کو نگل چکی ہے اب تو جا نور ہی با قی بچے ہیں جو دن رات دولت کے پیچھے دوڑتے ہیں کھایا پیا افزائش نسل کا حصہ بنے اور مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئے با کردار لوگوں کے وجود سے نرم اور ٹھنڈی اخلاق کی جو روشنیاں اور خوشبوئیں پھوٹتی ہیں ان کی وجہ سے ہی معاشرے کے خدوخال ابھی تک قائم ہیں۔ ایسا ہی ایک شفیق بردبار کمپلیکس فری شخص کئی دنوں سے میرے پاس آرہا تھا اس کی ذات کے عجز نے مجھے متاثر کر دیا تھا۔ میں نے اِس قدر سادہ آدمی نہ دیکھا تھا کہ وہ جب بھی مجھ سے بات کر تا اس کے چہرے پر ادب اور پا کیزگی کا رنگ گہرا ہو جا تا اس کی گفتگو جذبہ محبت اور عقیدت سے سرشار ہو تی اس کی گفتگو میں التجا اور خلوص کی ایسی آمیزش ہو تی کہ مجھے انکار کر نے میں مشکل پیش آتی۔

وہ ہر روز آکر ایک بات کر تا کہ میں نے آپ کو تقریبا دو سو کلو میٹر دور ایک چھوٹے شہر میں لے کر جا نا ہے کیونکہ میں آپ کو جودکھا نا چاہتا ہوں وہ میں یہاں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا اور اِس کے لیے آپ کو ہی میرے ساتھ جانا ہو گا کسی دوسرے شہر وہ بھی اتنی دور میرے لیے ہمیشہ سے ہی مشکل رہا ہے اور میں اکثر دوستوں کو انکار ہی کر تا ہوں لیکن اِس بندے کی مستقل مزاجی اور خوش اخلاقی سے آخر کار میں زیر ہو گیا اور کہا کب جانا ہے تو اس نے کہا جب آپ جانا پسند کریں تو میں نے ایک ہفتے بعد کا اس کو وقت دیا میرے ہاں کہنے پر اس کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا وہ بار بار میرا شکریہ ادا کر رہا تھا اس کے چہرے پر وہ ممنونیت اورتشکر کی مسکراہٹ پھیلی ہو ئی تھی اس کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے اب ہم نے طے کیا کہ کس طرح فلاں دن آئے گا اور کتنے بجے ہم لاہور سے نکلیں گے تا کہ رات تک واپس آجائیں اس نے سارا کچھ طے کیا اور مجھے سمجھا بھی دیا لیکن جس کام کے لیے ہم جا رہے تھے وہ اس نے ابھی تک نہیں بتا یا تھا اور پھر مقررہ دن ہم دونوں اس شہر کی طر ف جا رہے تھے جہاں میری زندگی کا بہت بڑا سبق اور حیران کن منظر ہمارا انتظار کر رہا تھا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
97240

بزمِ درویش ۔ صحبت مرشد ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بزمِ درویش ۔ صحبت مرشد ۔ تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

روحانی دنیا کے وقت کے عظیم ترین کامل مجذوب درویش بابا یوسف ؒ کی بارگاہ میں ان کے قدموں میں بیٹھا میں اِن کے قدم دبا رہا تھا اور مالش کر رہا تھا بابا جی کے روحانی اورا کی ہلکی ہلکی روحانی آنچ نے ماحول کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا میں چند مریدوں کے ہمراہ ان کی صحبت سے لطف لے رہا تھا میں جب بھی باباجی کی صحبت اور قربت میں وقت گزارتا تو دنیا بھر کے اندیشے خوف پریشانیاں ہوا میں تحلیل ہو جاتیں دنیا و مافیا سے بے خبر اللہ اُس کے رسول ؐ اور باباجی کی صحبت ہی رہ جاتی مادی دنیا میں رہتے ہوئے بے شمار پریشانیاں اور انجانے خوف انسان کو اپنی گرفت میں لیے رکھتے ہیں بڑے سے بڑے دولت مند با اثر طاقتور انسان کی صحبت میں انسان ان اندیشوں سے آزاد نہیں ہو تا لیکن یہ کیسے روحانی ٹرانسفارمر ہیں کہ اِن کے پاس آتے ہیں قلب و روح خاص وجد انگیز سرور مستی روحانی کیف سے دو چار ہو جاتے ہیں باطن کے عمیق ترین بعید ترین گوشے نشے سرور میں جھومنے لگتے ہیں

انسان دنیا اور دنیاوی معاملات سے کٹ جاتا ہے پھر ایسے مسیحا مرشد کا چہرہ اور موجودگی ہی باقی رہ جاتی ہے کیونکہ میں چند الفاظ پڑھا لکھا تھا اِس لیے جب بھی کسی نیک درویش کی صحبت میں موقع ملتا تو سوالات کی پٹاری کھول کر بیٹھ جاتا آج جو سوال میں لے کر باباجی کے حضور پیش ہوا تھا وہ یہ تھا کہ مرید طالب محنت تو خود کرتا ہے تزکیہ نفس کہ کڑے سخت مراحل سے خود گزرتا ہے بھوک پیاس سے خود گزرتا ہے ترک جمالی جلالی کی بھٹی سے خود کندن بن کر نکلتا ہے ساری رات ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر وظیفہ چلا کرتا ہے حبس دم ارتکاز کی مشکل ترین مشقیں خو دکر تا ہے لمبی لمبی پڑھائیاں خود کر تا ہے دنیا سے منہ موڑ کر جنگلوں پہاڑوں غاروں میں پناہ خود لیتا ہے دنیا کی رنگی برنگی سر گرمیاں جلوے چھوڑ کر تارک دنیا ہو کر زھد اختیار کر کے دنیا سے منہ موڑ کر اندھیروں فاقوں سے دوستی لگا لیتا ہے ساری محنت کو ششیں تو مرید خود کرتا ہے تصور شیخ مرشد کے عشق میں فنا تو مرید ہو تا ہے تو اپنی دولت وقت وسائل سب کچھ مرشد پر قربان تو مرید کر تا ہے لیکن یعنی ساری محنت کو شش تو مرید کر تا ہے لیکن پھر بھی کہا جاتا ہے کہ جب تک مرشد نظر نہ کرے توجہ نہ کرے دھیان نہ دے دودھ میں دہی کی طرح جاگ نہ لگائے اُس وقت تک مرید خالی رہتا ہے کوئلہ رہتا ہے کوئلے ہیرے کی طرح روشن کب ہو تا ہے جب مرشد نگا ہ کر کے اُس کو روشن نہ کر دے

میں جب روحانی دنیا میں داخل ہوا تو ذکر اذکار مراقبہ جات شروع کردئیے پھر دنیا جہاں کی تصوف کی کتابیں شروع کردیں اولیاء اللہ کے حالات زندگی کا مطالعہ شروع کر دیا کہ بزرگ درویش صوفی کیا کرتے تھے جو بارگاہ الہی میں محبوب ہو ئے ایک کامیاب درویش صوفی فقیر کیا کرتا ہے جو وہ الہی رنگ میں رنگا جاتا ہے یا کامیاب کامل درویش صوفی کا راز کیا ہے تاکہ میں بھی اُس پر عمل کر کے روحانیت قرب الہی عشق الہی کی سیڑھیاں چڑھ سکوں تو روحانیت تزکیہ نفس کے بہت سارے اشغالوں کے ساتھ بار بارایک ہی تزکرہ ملا کر جب تک کامل درویش نہیں ملتا روحانی سفر کامیاب نہیں ہو تا جب تک کامل مرشد آپ پر توجہ دھیان نہیں دیتا مرید کامیابی کے آسمان پر ستارہ بن کر نہیں چمک سکتا جب مجھے یہ سمجھ آگئی کہ مرشد روحانی سفر میں کلیدی مقام رکھتا ہے تو اِدھر اُدھر نظر دوڑای اور مرشد کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا جہاں پتہ چلتا کوئی نیک درویش صوفی موجود ہے اِس کے پاس جا کر میں ان سے روحانیت عشق الہی کی بھیک مانگنی تو بابے بہت بڑے دعوے کر نے شروع کر دیتے کہانیاں افسانے اپنی جھوٹی کرامات کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیتا میں نے بھی دیوانے پروانے کی طرح اُس بابے کا طواف کر نا شروع کردیتا اپنے وسائل وقت دولت اُس پر نچھاور کر نی شروع کر دینی لیکن حق تعالی کا احسان خاص کے چند دنوں بعد ہی اُس بابے کی کمزوریاں ڈرامے جھوٹی کرامات اور شعبدے بازیاں نظر آنی شروع ہو جاتی لیکن لہذا میں نے دل برداشتہ ہو ڈھونگی بابے سے منہ موڑ کر اگلے بابے کی طرف بڑھ جانا پھر نئے بابے کے پاس جا کر نئے جوش و لولے ترنگ کے ساتھ اُس کی خدمت میں دن رات اور وسائل قربان کر نا شروع کر دیے لیکن ایک بات شروع سے میرے دل میں تھی کہ میں نے کسی بابے پر اندھا یقین نہیں کر نا بلکہ چند مہینے بابے کو اچھی طرح دیکھوں گا وقت گزاروں گا

اُس کو بہت قریب سے دیکھوں گا مریدوں سے امیروں غریبوں جوان لڑکیوں سے اُس کا سلوک کا مشاہدہ کر وں گا اگر بابا پاس ہوا تو پھر اُس کا اصلی پکا مرید بن کر ساری زندگی غلام بن کر گزار دوں گا لیکن حق تعالی کو مُجھ گناہ گار پر ترس آنا مجھے بابے کے ڈرامے جھوٹ دکھا دینے لہذا اُس بابے سے پیچھے ہٹ جانا پھر اُس بابے نے بہت سارے فون کر نے پیغامات بھی بھیجنے کہ واپس آجاؤ لیکن میں نے پھر مُڑ کر اُس ڈھونگی بابے کے پاس نہ جانا بابوں کی اِس تلاش میں ایک کام میں مسلسل کرتا رہا وہ تھا بہت زیادہ ذکر مراقبہ تزکیہ نفس درود شریف مجھے کوئی مرشد تو نہیں مل رہا تھا لیکن میں اپنی کوشش پورے جوش و لولے کے ساتھ لگا ہو اتھا یعنی مسلسل حق تعالی کے حضور دستک دیتا رہا پھر ایک خاص عرصے کے بعد جب اللہ تعالی کو مجھ فقیر حقیر پر ترس آنا شروع ہوا تو بابے یوسف ؒ جیسے بزرگوں سے ملانا شروع کر دیایہاں پر میں روحانی طالب علموں سے بھی یہی کہوں گا کہ اگر آپ کو بھی کامل مرشد نہیں مل رہا تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ درود شریف یاحیی یاقیوم یا للہ اور قرآن پاک کثرت سے پڑھنا شروع کر دیں خدا مہربان ہو جائے گا اور مرشد مل جائے گا اب میں بابایوسف کی طرف آتا ہوں میں باباجی کے پاؤں دبا رہا تھا گزارش کی باباجی روحانی سفر میں مرشد ہی کیوں ضروری ہے تو جذب کے عالم میں بولے پُتر روڑی (گند) کے درمیان قریب رہوگے تو تمہارے جسم روح سے گند کی بو آئے گی جبکہ خوشبو کی دوکان کے اندر یا پھولوں کے باغ میں کام کرو گے تو تم سے پھولوں کی خوشبو آئے گی گلاب کے پودے کی جڑ سے بھی مٹی سے بھی گلاب کی خوشبو آنا شروع ہو جاتی ہے ہیوی ٹرانسفارمر کے پاس بیٹھوں گے تم تمہاری بے جان بیٹری میں بھی کرنٹ آجائے گا میں نے باباجی کے ہاتھ چومے آنکھوں سے لگائے اور عرض کی باباجی سمجھ آگئی صحبت مرشد کیا چیز ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
96788

بزمِ درویش ۔ جھوٹ ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بزمِ درویش ۔ جھوٹ ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

ارب پتی سیٹھ میں دولت مندوں والا غرور تکبر کروفر نام کو نہیں تھا اگر کوئی سیٹھ صاحب کے بارے میں اور ان کی لمبی چوڑی دولت جائیداد کے بارے میں نہ بتائے تو کوئی اندازہ بھی نہیں کر سکتا کہ سیٹھ صاحب کے پاس دولت کے ذخائر اور ان گنت پراپرٹی ہے سیٹھ صاحب ہر وقت شرافت عاجزی شائستگی کی چادر میں لپٹے رہتے انداز حرکات و سکنات گفتگو کہیں سے بھی پتہ نہ چلتا کہ ان پر کئی عشروں سے دولت کی بارش ہو رہی ہے سیٹھ صاحب اب بڑھاپے کی دہلیز کراس کر چلے تھے جہاں پر جسم مختلف بیماریوں کی آماجگا ہ بن جاتا ہے جسم پر پڑھاپا قبضہ کر کے کمزور کر دیتا ہے۔ سیٹھ صاحب بڑھاپے اور بیماریوں کی آمدسے بلکل بھی پریشان نہیں تھے بلکہ اس کو بھی رب کی عطا سمجھ کر آخرت کی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے لیکن سیٹھ صاحب کی بیماریوں اور بڑھاپے سے ان کے فیض یا فتگان اور چاہنے والے پریشان تھے ایسا ہی ایک نوجوان سرکاری آفسر جو کبھی کبھار میرے پاس آتا تھا

ان کے لیے میرے پاس آیا کہ سیٹھ صاحب سینکڑوں یتیم بچوں کی کفالت اور پڑھائی پر توجہ اور خرچہ اٹھاتے ہیں ان بچوں میں سے ایک میں بھی ہوں میرے والدین کون تھے کس قوم شہرسے تعلق رکھتے تھے زندہ ہیں یا مر گئے میں نہیں جانتا بچپن سے جوانی تک سیٹھ صاحب کے یتیم خانے میں سارے مراحل طے کئے پھر سرکاری نوکری تعلیم مکمل کر نے کے بعد میں اب سیٹھ صاحب کو ہی ماں باپ سب کچھ سمجھتا ہوں ان کی صحت کی دعا کے لیے آپ کے پاس آیا ہوں وہ دیر تک سیٹھ صاحب کی شخصیت کے مثبت پہلوؤں پر سے پردہ اٹھا تا رہا یہاں تک کہ میں سیٹھ صاحب کی انسان دوستی سے مکمل طور پر متاثر ہو گیا میں نے کہاکہ میں ان سے ملنا چاہتا ہوں تو آفیسر بہت خوش ہوا کہ میں آپ کو سیٹھ صاحب کے پاس لے کر جاؤں گا لہذا ایک د ن میں سیٹھ صاحب کے پاس گیا دیرتک مختلف موضوعات اور انسان دوستی پر بات چیت کے بعد سیٹھ صاحب سے دوستی کا رستہ استوار ہو گیا اِس کے بعد ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا

میں جس بات پر سب سے زیادہ متاثر ہوا وہ یہ کہ سیٹھ صاحب کی اولاد نہیں تھی صاحب اولاد نہ ہو نے کے باوجو د سیٹھ صاحب بہت زیادہ مطمئن اور شاکر تھے کہنے لگے میں اللہ کی رضا پر راضی رہا ہوں اور آج موت کے قریب بھی راضی ہوں کیونکہ اگر خدا نے مجھے اولاد کی نعمت سے محروم رکھا ہے تو سینکڑوں ملازمین اور یتیم بچے بھی تو میری اولاد ہی ہیں حیران کن بات یہ تھی کہ سیٹھ صاحب میں کوئی میڈیکل نقص خرابی نہیں تھی کوئی اور ہو تا تو شادیوں کی لائن لگا دیتا لیکن سیٹھ صاحب خدا پر شاکر کہ کوئی بات نہیں ہرو قت استغفار اور شکر میں ڈوبے رہتے دوسرا حیران کن پہلو ملازموں کے ساتھ حسن سلوک تھا جس طرح وہ ذاتی ملازمین کے ساتھ برتاؤ کر تے دیکھنے والے کو حیران کر دیتا جس طرح ادب پیار احترام سے ملازمو ں سے مخاطب ہو تے پھرمیں نے چند ملازموں سے بھی ان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے سب نے یہی کہا کہ سیٹھ صاحب تو فرشتے ہیں انسان نہیں غصہ تکبر غرور ناراضگی کا ان کو پتی تک نہیں نہ ہی ان سے ایسی سختی کی بوُ آتی ہے۔ میں حیران ہو تا تھا کہ دولت اقتدار جب کسی پر مہربان ہو تا تو مشت خاک غرور میں مبتلا ہو کر انسانوں کو غلام اور کیڑے مکوڑے سمجھنا شروع کر دیتا ہے خو د کو بہت اعلی نسل دوسروں کو حقیر سمجھنا شروع کر دیتا دولت کے بل بوتے پر دوسروں پر حکمرانی کر نا شروع کر دیتا ہے

لیکن سیٹھ صاحب کس مٹی سے بنے تھے کہ ان پر دولت اقتدار کا خمار چڑھا ہی نہیں تھا سیٹھ صاحب کی انہی خوبیوں کی وجہ سے دیوانوں کی ایک فوج تھی جو ہر وقت ان کے لیے دعا گو تھی سیٹھ صاحب کو جب مجھ گناہ گار کے بارے میں پتہ چلا کہ میں بھی ٹوٹا پھوٹا خدمت خدمت کا سلسلہ خدا کے کرم خاص سے چلانے کی کو شش کر تا ہوں تو بہت خوش ہوئے۔ میں اور سیٹھ صاحب دونوں ایک طرح سے انسان دوستی کا کام کر نے کی کو شش کر رہے تھے یہ قدرمشترک ہم دونوں کو ایک دوسرے کے قریب لے آئی کسی بھی دولت مندیا صاحب اقتدار کو اگر جانچنا ہو تو سب سے آسان فارمولا یہ ہے کہ وہ اپنے ذاتی ملازموں کے ساتھ کیسا ہے کیاملازم اُس کے ساتھ اس کے خوف کروفر سے تھر تھر کانپتے ہیں یا نہیں زیادہ تر یہی دیکھا گیا ہے کہ دولت مند اور اقتدار کے کوچوں پر قابض یہ فرعون نما انسان دن رات نوکروں کو ڈانٹتے بدلتے نظر آتے ہیں جب کہ سیٹھ صاحب کے پاس زیادہ تر ملازمین بوڑھے تھے جو لڑکپن میں آئے ساری زندگی نوکری کے بعد اب سیٹھ صاحب کی طرح بڑھاپے کی وادی میں داخل ہو چکے تھے یہ بوڑھے ملازمین اب جوانوں کی سی پھرتی چستی سے کام نہیں کرتے تھے لیکن سیٹھ صاحب اِن کے بڑھاپے سے خوش بلکہ کسی کمزوری پر مسکرا کر ٹال جاتے یہی انسان دوستی سیٹھ صاحب جو بڑا آدمی بنا دیتی تھی دوسری بات سیٹھ صاحب کے بارے میں مشہور تھی کہ انہوں نے ساری زندگی میں ایک بھی جھوٹ نہیں بو لا ہمیشہ سچ بولتے ہیں اور سچ بولنے کی تلقین کر تے ہیں

انسا ن ساری زندگی جھوٹ نہ بولے یہ نا ممکن سا کام تھا کیونکہ ہمارے معاشرے طرز زندگی اور گفتگو میں جھوٹ رچ بس سا گیا ہے آپ اپنے اطراف میں غور فرما ئیں تو ہر جگہ آپ کو جھوٹ ہی جھوٹ نظر آئے گا میں ساری زندگی اچھے نیک لوگوں کی تلاش میں رہا سیٹھ صاحب میں تمام خوبیاں موجود تھیں اِس لیے کبھی کبھار سیٹھ صاحب کی صحبت سے لطف اٹھانے کے لیے ان کے پاس آجاتا آج بھی آیا تو باتوں باتون میں ایک سوال کیا سیٹھ صاحب آپ نے واقعی کبھی جھوٹ نہیں بولا تو بولے نہیں جوانی کے ایام میں پہلی اور آخری بار جھوٹ بولا تھا وہ بھی صرف اتنا کسی دوست کا فون آیا تو میں نے نوکر سے کہا میں گھر پر نہیں فلاں جگہ پر ہوں جھوٹ بولنے کے بعد بہت شرمندگی ہوئی یہاں تک کہ میں نوکر کے ساتھ اُس جگہ گیا اور دوست کو فون کیاکہ میں یہاں پر ہوں اُس کے بعد کبھی جھوٹ نہیں بولا میں نے دوسرا سوال کیا آپ بہت مہربان شفیق مالک ہیں کبھی ملازموں کو ڈانٹا یا بد تمیزی کی ہو تو بولے یہ گناہ بھی جوانی میں ایک بار کیا تھا شروع میں میرا ایک ملازم تھا میں نے غصے میں اُس کو ڈانٹا وہ پریشان گھر چلا گیا تو میں ندامت میں بہت پریشان ساری رات جاگتا رہا صبح اٹھتے ہی اُس کے گھر بہت سارے پھل وغیرہ لے کر گیا ہا تھ جوڑ کر اُس سے معافی مانگی نوکر بہت کہتا رہا کہ میں ناراض نہیں لیکن میں معافی مانگ کر آیا اُس دن کے بعد پھر کسی کو نہیں ڈانٹا جب سے فیصلہ کیا جھوٹ نہیں بولنا دولت کے نشے میں کسی کو ڈانٹنا نہیں اس دن سے اللہ تعالی نے اِس طرح میرا بازہ پکڑ کر مُجھ پر دولت کی موسلا دھار بارش مسلسل جاری ہے میں حیرت سے سیٹھ صاحب کی باتیں سن رہا تھا خود پر نازاں کی ایسے نیک انسان کو دیکھ رہا ہوں جس نے دوبا رہ کبھی جھوٹ نہیں بولا کسی کو تنگ نہیں کیامیں اٹھا سیٹھ صاحب سے گرم جوشی سے ملا اور کہا آپ جیسے لوگوں کی وجہ سے ملک زندہ قائم ہے نہیں تو کب سے موہنجو دڑو ہڑپہ کے کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہو تا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
78452

بزمِ درویش۔۔۔۔۔کیسے کیسے لوگ۔۔۔تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

رات بھر موبائل فون آف رکھنے کے بعد صبح جب آفس جاتے ہوئے میں نے اپنا موبائل آن کیا تو موبائل فون پر فارن کال نظر آئی میں نے فون اٹھایا تو ایک پر جوش زند گی سے بھر پور مترنم نسوانی آواز میری سماعت سے ٹکرائی کہ یہ بھٹی صاحب کا نمبر ہے میرے ہاں کرنے پر وہ مزید خوشی سے بولی سر میں پاکستان آئی ہوئی تھی واپسی پر ائر پورٹ بک شاپ پر آپ کی بُک نظر آئی جو میں نے خرید لی اور آپ کو پہچان بھی لیا اُسی کتاب سے آپ کا موبائل نمبر بھی لیا میں پچھلے دو دن سے آپ کو کال کر رہی ہوں سر آپ یقینا مجھے بھول چکے ہونگے کیو نکہ میں پچھلے کئی سالوں سے پاکستان سے باہر ہوں لیکن سر آپ کے لیے ہر سانس سے دعا نکلتی ہے آپ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ میرے گھر آتے تھے آپ کی دعا ؤں اور رہنمائی سے میں آج نیک پاکباز زندگی گزار رہی ہوں.

سر میرے دو بچے ہیں جو اچھے سکول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں میں اپنے خاوند اور بچوں کے ساتھ نہایت کامیاب خوشگوار زندگی گزار رہی ہوں اِس کے ساتھ ہی وہ مجھ عاجز کی بہت ساری تعریفیں اور دعائیں دینے لگی مجھے وہ یا د آگئی تھی جو مجھے ایک طوائف زادی کے گھر ملی تھی ماضی کے بادلوں سے ساری کہانی واقعات میرے سامنے تازہ ہوگئے اور میں خدا ئے عظیم کے سامنے شکر گزار کہ اُس کے خاص کرم سے یہ بیٹی گناہوں کی دلدل سے نکل کر نارمل شریف زندگی گزار رہی ہے اُس نے بہت ساری باتیں کیں اپنے پاس آنے کی دعوت اور یہ درخواست بھی کہ جب میں دوبارہ پاکستان آؤں گی تو ضرور ملنے آؤں گی اُس کا فون بند ہوا تو میں خدائے لازوال کی قدرت اور مہربانی پر رشک کرنے لگا کہ وہ کس طرح انسان کو شر برائی سے نکال کر نیکی کے رستے پر ڈالتا ہے

میری اِس نیک لڑکی سے ملاقات بارہ سال پہلے اِس کی ماں کے گھر ہوئی تھی جو اپنی جوان بیٹیوں کے ساتھ جسم فروشی کا دھندہ ڈھٹائی سے کر ررہی تھی ان دنوں ڈاکٹر صاحب جو صرف نام کے ڈاکٹر تھے میرے پاس آیا کر تے تھے امیر جاگیر دار خاندان سے تعلق تھا روپے پیسے کی بے پناہ فراوانی زمینوں کی کمائی اِس قدر زیادہ کہ خوب عیاشی میں اُس کو خرچ کرتے تھے باپ وفات پا چکا تھا ماں کا اکلوتا بیٹاہونے کے ناطے زمینوں کی کمائی دونوں ہاتھوں سے لٹا رہے تھے عیاشی کے چکر میں اِس طوائف زادی کے گھر گئے جس کی پانچ بیٹیاں تھیں تین کو جسم فروشی کے دھندے پر لگا رکھا تھا آخری دو جوانی کی دہلیز کراس کر چکی تھی لیکن پڑھائی کی وجہ سے ابھی اُن کو اِس گھناؤنے دھندے پر نہیں لگا یا یا کسی قدر دان کے انتظار میں تھی تاکہ بڑی رقم حاصل کرسکے ڈاکٹر صاحب جب اِس گھر میں آنا جانا شروع ہوئے تو دولت لٹانے کے ساتھ ان کے روٹین کے کام بھی کرنے لگے ڈاکٹر صاحب بڑی بیٹیوں میں سے ایک کے ساتھ وقت گزارتے تھے ماں اور بیٹیوں کی خشنودی کے لیے دولت لٹانے کے ساتھ ان کے نخرے بھی اٹھاتے تھے ماں اور بیٹیوں کے منہ سے کوئی لفظ ڈیمانڈ جیسے ہی نکلتی ڈاکٹر صاحب اُس مطالبے کو پورا کرنے پر اُتر آتے.

اب کسی بنگالی عامل نے ماں کو یہ کہا کہ تمہارے گھر تم اور تمہاری بیٹیوں پر کسی نے جادو کر دیا ہے لہذا کسی بابے بزرگ سے اس جادو کا علاج کراؤ اب ماں نے ڈاکٹر صاحب کو حکم دیا کہ کسی اچھے بابے کا انتظام کرو میری ڈاکٹر صاحب سے اِس کی ماں کے ساتھ دو تین سر سری ملاقاتیں ہوچکی تھیں اب جب محبوبہ اور ماں کا مطالبہ آیا تو ڈاکٹر صاحب کو میری یاد آئی بہت سارا فروٹ اٹھا یا اور میرے دفتر آدھمکے آخر خوب میٹھی میٹھی باتیں کہ آپ کے روحانی علاج سے اماں اورمیں بلکل ٹھیک ہو گئے ہیں میں آپ کی روحانی طاقت کا قائل ہو گیا ہوں اب آپ کا باقاعدہ مرید ہونا چاہتا ہوں مجھے مستقل آپ کے ساتھ اٹیچ ہونا ہے بہت ساری تعریفیں کرنے کے بعد چلے گئے.

اگلے دن پھر آگئے اور خوشامد کر نے لگے آخر کار میں نے ڈاکٹر صاحب کی آنکھوں میں جھانکا اور پوچھا ڈاکٹر صاحب آپ دو دن سے مُجھ فقیر کے پاس آرہے ہیں جبکہ آنے کی اصل بات ابھی تک نہیں بتائی سچ بتائیں مُجھ عاجز کے پاس کس لیے آرہے ہیں تو ڈاکٹر صاحب نے سر گوشی میں کہا میں علیحدگی میں آپ سے بات کر نا چاہتا ہوں تو میں اُٹھ کر ڈاکٹر صاحب کی گاڑی میں آکر بیٹھ گیا اور پوچھا جی جناب اب آپ پورے اعتماد اور تسلی سے بات کر سکتے ہیں بتائیں میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں تو ڈاکٹر صاحب بولے جناب میری ایک آنٹی ہیں جو جادو ٹونے بد اثرات سے بہت بیمار اور پریشان ہیں ان کو روحانی علاج کی اشد ضرورت ہے میں تو ساری زندگی مداری جادوگروں کو ہی دیکھا ہے جو لوٹ مار کے اڈے بنا کر بیٹھے ہیں میری نظر میں تو آپ سے بڑھ کر کوئی بھی نہیں ہے اِس لیے آپ سے درخواست کر تاہوں کہ آپ میری آنٹی کا روحانی علاج کریں تو میں خوشدلی سے بولا ڈاکٹر صاحب میں حاضر ہوں آپ اُن کو لے آئیں میں ہر طرح سے کوشش کرو ں گا تو ڈاکٹر صاحب مشکور لہجے میں بولے آپ کا شکریہ لیکن اگر آپ ان کے گھر جاسکیں تو اچھا ہوگا کیونکہ آنٹی بیمار ہیں یہاں آ نہیں سکتیں

اِس لیے میں آپ کو اُن کے گھر لے چلتا ہوں تاکہ آپ اُن کا علاج کر سکیں گھر جانے والی بات پر میں تھوڑا پریشان ہو اکیونکہ میں گھر کم ہی جاتا ہوں پھر کسی کے گھر جانے سے باقی آنے والے متاثر ہوتے ہیں میں جب دبے لفظوں میں کہا کہ آپ اُن کو لے آئیں تو ڈاکٹر صاحب بضد ہو ئے کہ آپ وقت نکالیں ہم ان کے گھر جاتے ہیں اب ڈاکٹر صاحب نے مجھے مختلف قسم کی ترغیبات دینی شروع کردیں جب بہت زیادہ منتیں ترلے کئے تو میں ان کے ساتھ آنٹی کے گھر جانے پر تیار ہو گیا

اگلے دن میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ آنٹی کے گھر آیا تو صحت مند تندرست پچاس سال سے زیادہ عورت نے ہمارا استقبال کیا میں حیران تھا کہ ڈاکٹر صاحب تو اِن کو بہت بیمار قرار دے رہے تھے اب آنٹی اور اُس کی پانچ بیٹیاں سامنے آکر بیٹھ گئیں تو میں بولا جناب میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں تو آنٹی بولی جناب کسی نے ہم پر جادو کر دیا ہے اب ہمارے گھر کی دہلیز تو لوگ پار ہی نہیں کرتے کوئی گاہک نہیں آتا رزق روٹی بند ہے اِس طرح تو ہم بھوکے مر جائیں گے مجھے آنٹی کی بات بلکل بھی سمجھ نہ آئی کہ کس قسم کے گاہک یہاں آتے ہیں اب میں ڈاکٹر صاحب کی طرف دیکھا تو وہ میرے کان میں بولے آنٹی کے پاس لوگ ناچ گانے کے لیے آتے ہیں باتوں کا سلسلہ دراز ہوا تو آنٹی نے کھل کر بتا دیا کہ کونسے لوگ آتے ہیں ساتھ ہی اپنی چھوٹی بیٹی کی طرف اشارہ کر کے بولی یہ ہمارے گھر میں مولوی پیدا ہو گئی ہے اِس کو بھی درست کریں میں سمجھ گیا کہ طوائف زادی کے گھر ہوں جو جسم فروشی کا دھندہ کرتی ہے۔ (جاری ہے)

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
49658