The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 16 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بزمِ درویش ۔ انصاف ۔ تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بزمِ درویش ۔ انصاف ۔ تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

صبح کے وقت چند ملاقاتی مجھ سے ملنے کے لیے آئے ہو ئے تھے میں ایک ملاقاتی کی باتیں سن رہا تھا جب مجھے ملاقاتی کا مسئلہ سمجھ آگیا تو اب میں نے اس کو بولنے کا موقع دیا تاکہ وہ خوب بول کر اپنا دل ہلکا کر لے کیونکہ اگر میں اسے ٹوک دیتا تو اس نے ہر ملا قاتی کی طرح پر زور احتجاج کر نا تھا کہ میں نے اس کی بات نہیں سنی اب وہ بول رہا تھا میں ہوں ہاں کر رہا تھا کیونکہ اس کا مسئلہ مجھے پتہ چل گیا تھا اب میں اسے مو قع دے رہا تھا میری تو جہ اب اس کی گفتگو سے ہٹ چکی تھی میں اب اِدھر ادھر دیکھ رہا تھا وہ بو لے جا رہا تھا اِسی دوران پندرہ بیس میٹر دور ایک دیہاتی شخص نو عمر بچے کے ساتھ مجھے نظر آیا جو بغور میری طرف دیکھ رہا تھا دھوتی اور پگڑی کے ساتھ وہ بیٹھا آرام سے میری طرف دیکھ رہا تھا کیونکہ میری زندگی کا زیا دہ حصہ بھی گا ں میں ہی گزرا ہے میں دیہی کلچر کے لوگوں میں پلا بڑھا ہوں اِس لیے اس کلچر سے میری انسیت بھی فطری ہے

بوڑھا دیہاتی جس کی عمر ستر سال سے زیادہ تھی مجھ سے ملنے کے انتظار میں بیٹھا تھا میں اسے مزید انتظار نہیں کرانا چاہتا تھا سامنے بیٹھے شخص نے جب کافی باتیں کر لیں تو اسے تسلی حوصلہ دیا خدا جلدی کرم کر ے گا وظیفہ بتا یا تو وہ اٹھ کر جانے لگا تو میں اس دیہاتی کی طرف بڑھا جو آرام سے انتظار کر رہا تھا مجھے اپنی طرف آتا دیکھ کر وہ بھی تیزی سے اٹھ کر میری طرف بڑھا۔ جب ہم قریب آئے تو میں نرم شفیق لہجے میں بولا جناب آپ مجھ سے ملنے آئے ہیں اس نے ہاں میں سر ہلایا تو میں اسے پکڑ کر بینچ پر آکر بیٹھ گیا اس کے ساتھ آیا بچہ بھی بیٹھ گیا جس کی عمر بارہ تیرہ سال ہو گی بوڑھا دیہاتی ممنون نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھاگاں کے سادہ لوح لوگ جب شہروں کا رخ کر تے ہیں تو سہمے سہمے خوفزدہ سے ہو تے ہیں یہ بیچارہ بھی اسی کیفیت کا شکار لگ رہا تھا سادگی شرافت انگ انگ سے ٹپک رہی تھی اب میں نے اجنبیت کی چادر چاک کر تے ہوئے کہا چاچا جی آپ کہاں سے آئے ہیں اور میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں تو وہ ممنون لہجے میں بو لا جناب یہ میرا پو تا ہے

پڑھائی نہیں کر تا آوارہ لڑکوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے میں اس کے لیے آپ کے پاس آیا ہوں کہ یہ سیدھے راستے پر آجائے ہم تو اِس کو سمجھا کر مار کر ڈرا کر سب کچھ کر چکے ہیں لیکن اِس کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی بچپن میں تو یہ میری ساری باتیں مانتا تھا لیکن اب یہ ڈھیٹ بن گیا ہے اِس کی دادی اور ماں نے خاص تاکید کی ہے کہ اِس کو سیدھا کر دیں یہی تو ہمارے بڑھاپے کا سہارا ہے اگر یہ بھی خراب ہو گیا تو کون ہمارا سہارا بنے گا بزرگ اپنے پو تے کی شکایتیں لگا رہا تھا اور میں ایک اچھے سا مع کی طرح اس کی باتیں سن رہا تھا میں بزرگ کو اچھی طرح بو لنے کا موقع دے رہا تھا بات سن رہا تھا جب وہ خوب بو ل چکا تو میں بولا اِس کا باپ اِ س کو نہیں سمجھا تا وہ کدھر ہے تو بزرگ بو لا وہ جیل میں ہے وہ جیل نہ ہو تا تو خود اِس کو سنبھالتا اب اس کے نہ ہو نے سے اِس کو سنبھالنا پرورش کر نا بھی اب میری ذمہ داری ہے اب میں بوڑھا شخص ہوں یہ نوجوان یہ میری قابو نہیں آتا اِس کا باپ جیل کیوں گیا اس نے کیا جرم کیا تو بزرگ بو لا اس نے چار بندوں کو قتل کر دیا تھا اس جرم میں جیل گیا ہے چار بندے قتل کر دئیے

بزرگ نے یہ بات کتنے آرام سے بتا رہا تھا بندے نا ہوئے چار درخت کاٹ دئیے ہوں کیوں قتل کیے تو بوڑھا دیہاتی بولا میرے کہنے پر میں نے اپنے بیٹے سے کہا تھا جا سارے خاندان کو قتل کرکے میرے پاس آنا وہ گیااور چاربندے قتل کر دئیے میں نے خود تھانے میں پیش کیا اب وہ جیل میں ہے دیہاتی بزرگ کتنے پر سکون لہجے میں چار بندوں کے قتل کی بات کر رہا تھا میں نے بزرگ کو سر سے پاں تک بغور دیکھاہو شرافت اور سادگی کا پیکر لگ رہا تھا اس کے چہرے کے تاثرات جسمانی ڈیل ڈول یا آنکھوں اور آوازسے کسی بھی طرح یہ احساس نہیں ہو رہا تھا کہ اس نے چار بندوں کے قتل کا حکم جاری کیا ہو اس کی وضع قطع بو ل چال سے تو یہ لگ رہا تھا کہ یہ کسی مچھر یا مکھی کو بھی قتل نہیں کر سکتا تو کس طرح چار جیتے جاگتے بندے مار دئیے میں حیران پریشان نظروں سے دیہاتی شخص کی آنکھوں میں جھانک رہا تھا لیکن اس کے کسی بھی تاثر یا حرکات سکنات سے یہ نہیں لگ رہا تھا کہ اس نے چار بندے مروادئیے۔ بزرگ دیہاتی میری حیرانی پریشانی کو بھانپ گیا بولا جناب آپ ٹھیک سوچ رہے ہو کہ کس طرح میں نے چار بندے مروادئیے اِن چار بندوں کے علاوہ ساری زندگی میں نے تو کبھی کسی سانپ بچھو کو نہیں مارا میں تو مرغی ہلال نہیں کر سکتا میں تو کسی کو گالی تک نہیں دے سکتا۔ لیکن میرے جیسا سیدھا سادھا دیہاتی شریف انسان کیوں اِس موڑ پر آگیا کہ اسے چار بندوں کے قتل کا حکم دینا پڑا کیونکہ ان چار بندوں کے ساتھ میرا اکلوتا بیٹا بھی تو مارا ہی گیا

اب یا تو وہ پھانسی پائے گا یا عمر قید نقصان تو میرا بھی ہو الیکن میں نے اِس بے درد بے رحم ظالم معاشرے پر احسان کیا۔ جناب میرا تعلق فیصل آباد کے قریبی گاں سے ہے میں چھوٹا سا زمیندار ہوں میری ایک بیٹی اور ایک بیٹا تھا یہی میری کل کائنات تھی بیٹا جوان ہوا تو اس کی شادی کر دی بیٹی جوان ہوئی تو اکیڈمی میں اپنے ٹیچر سے محبت کر بیٹھی پہلے تو میں نے ذات برادری کا رونا رویا لیکن جب بیٹی نے بہت ضد کی کہ میں نے اپنے ٹیچر سے ہی شادی کر نی ہے تو پڑھا لکھا انسان سمجھ کر میں بھی مان گیا اور بیٹی کی پسند کی شادی اس کے ٹیچر سے کر دی شادی سے پہلے میں نے اس کے خاندان کا پتہ کرنے کی کو شش کی لیکن داماد نے یہی بتایا کہ اس کا تعلق کراچی ہے ماں باپ مر گئے تو یتیم خانے میں جوان ہوا وہیں پر پڑھا ئی پھر مختلف نو کریا ں کر تا کر تا فیصل آباد آگیایہاں پر نوکری کے ساتھ ساتھ شام کو اکیڈمی میں پڑھاتا یہاں بیٹی کی محبت میں ہم مان گئے شادی کے بعد تین ماہ بعد تک تو داماد فیصل آباد میں رہا تین ماہ بعد کہا کہ اسے کراچی میں نوکری مل گئی ہے

اِس لیے ا ب وہ میری بیٹی کو لے کر کراچی چلا گیا چند دن تو فون آتے رہے پھر فون آنے بند ہو گئے ہمار ا بیٹی اور داماد سے ہر قسم کا رابطہ ٹوٹ گیا ہم نے بہت کو شش کی لیکن ہمارا رابطہ نہیں ہوا اِس طرح ایک سال کا وقت گزر گیا ہم بیٹی کی جدائی میں نیم پاگل ہو گئے پھر ایک دن ایک لڑکی کا فون آیا کہ آپ کی بیٹی کو قتل کر دیا گیا ہے اب وہ اِس دنیا میں نہیں رہی آپ نے راز داری سے آکر مجھ سے ملنا ہے میرا بیٹا حیدر آباد اس لڑکی کے پتے پر گیا تو اس لڑکی نے بتا یاوہ سید زادی ہے آپ کا داماد ایک عادی مجرم ہے مختلف شہروں میں جا کر نوجوان خوبصورت لڑکیوں کو اپنی محبت کے جال میں پھنسا کر شادی کر کے لاتا ہے پھر سندھ کے وڈیروں کو بیچ دیتا ہے یا پھر گھر میں جسم فروشی کا دھندہ کر تا ہے وہاں پر اپنی بیویوں سے جسم فروشی کر اتا ہے

اسی طرح ملتان میں مجھے بھی اپنی محبت میں پھنسا کر لایا تو آپ کی بیٹی نے مجھے ساری حقیقت سنا دی آپ کی بیٹی مجھے اس اڈے سے لے کر بھاگی تو ہم دونوں کو پکڑ لیا گیا آپ کی بیٹی کو مار مار کر اتنا زخمی کیا کہ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہو ئے مر گئی لیکن اِس دوران میرے گھر والے میری مدد کو آگئے وڈیرے اِن کے ساتھ تھے چند دنوں میں خود کشی کا کیس سنا دیا گیا اب وہ خاندان پھر اسی طرح معصوم لڑکیوں سے جسم فروشی کا دھندہ کر ا رہا ہے۔ اس کیس کے بعد دوسال تک میں عدالتوں پو لیس تھانوں وڈیروں کے اڈوں پر انصاف مانگتا رہا لیکن مذاق اڑایا گیا تو آخر کار تنگ آکر میں نے بیٹے سے کہا جا اس درندے کو اس کی ماں باپ اور بہن کو قتل کر دو جو یہ دھندہ سر عام وڈیروں کی مدد سے کر رہے ہیں پھر میرے بیٹے نے ان خون خوار درندوں کو موت کے گھاٹ اتا ر دیا۔ بوڑھا دیہاتی چٹانی لہجے میں بول رہا تھا کہ میں نے جو بھی کیا ٹھیک کیا اور میں اپنے فیصلے پر آج بھی خوش ہوں وہ چلا گیا لیکن میں سلگ رہا کہ ریاست مدینہ کے دعوے داروں کو نہیں پتہ کہ ہر شہر میں کہاں کہاں جسم فروشی کے اڈے ہیں تھانے داروں کو سب کا پتہ ہے اگر اب بھی یہ ایسے اڈوں کو بند نہیں کر تے تو پھرہر باپ خود اپنے بیٹے کو پستول دے کر کہے گا جا انصاف کر کے آ۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
115241

بزمِ درویش ۔ انصاف ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بزمِ درویش ۔ انصاف ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

اس کے منہ سے نکلا ہوا فقرہ آتش فشاں کی طرح پھٹا اور میرے اندر دھواں بھر گیا مجھے لگا جیسے کسی نے میرے سانس کی نا لی پر ہا تھ رکھ دیا ہو میرے دیدے حیرت سے پھیل گئے میں نے بے یقینی کے عالم میں اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا اور پو چھا بی بی آپ کیا کہہ رہی ہو مجھے اپنی سما عت پر بلکل بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ ایک ماں اپنی جوان بیٹی کے ساتھ میرے پاس آکر یہ با ت کر یگی وہ اپنی بیٹی کے لیے دعا نہیں بد دعا مانگنے آئی تھی اس کی بد دعا سے اس کی بیٹی کی جان بھی جا سکتی تھی لیکن اس نے دوبا رہ بھی وہی بات کی جسے سن کر میرے ہو ش و حواس اڑ گئے تھے میں پچھلے دو عشروں سے ہزاروں لو گوں سے مل چکا ہوں ایساکیس میرے پاس آجتک نہیں آیا تھاپہلی با رکسی نے ایسا سوال کیا تھا پہلی بار کسی نے کسی کی مو ت کی دعا کا کہا تھا انسانی جان قدرت کا انمو ل تحفہ ہے جس کی بقا کے لیے انسان ہر حد سے گزر جاتا ہے لیکن یہاں تومعاملہ یکسر مختلف نظر آرہا تھا یہاں کسی کے جینے کی بجا ئے مو ت کی خو اہش کی جا رہی تھی اور وہ عورت اپنی اس بات یا ضد پر چٹان کی طرح کھڑی تھی۔

میں اپنے گا ں آیا ہوا تھا اور حسب معمول لوگوں سے مل رہا تھا کہ یہ ماں بیٹی ملا قاتیوں میں بیٹھی نظر آئیں جب یہ میرے پا س آئیں تو ماں نے کہا ہم علیحدگی میں با ت کر نا چاہتی ہیں میں نے کمرہ خا لی کرا یا تو ادھیڑ عمر عورت اِدھر ادھر دیکھ کر اچھی طرح تسلی کر کے کہ کو ئی اس کی با ت سن تو نہیں رہا میرے پاس آکر سر گو شی کے انداز میں بو لی میری بیٹی حاملہ ہے آپ دعا کریں اِس کا بچہ مر جا ئے یہ دنیا میں آنے سے پہلے ہی مو ت کا ذائقہ چھک لے مجھے کو ئی ایسا تعویز یا ورد بتا دیں جس کے کر نے سے اِس کا بچہ پیٹ کے اند ر ہی مر جا ئے میں نے اسے سمجھا یا کہ اِس طرح تو تمہا ری بیٹی کی جان بھی جا سکتی ہے تو وہ بو لی کو ئی با ت نہیں اگر یہ بھی مر تی ہے تو خیر ہے اِس بچے کو مر نا چاہیے میں نے اس اللہ رسول ﷺ کے فرمان بتا ئے کہ یہ قتل ہے لیکن وہ بضد تھی کہ بچہ مر نا ہی چاہیے میں جب خوب اس کو مذہبی طو ر پر ڈرا اور سمجھا چکا تو وہ بو لی یہ نا جا ئز بچہ ہے یہ بن بیا ہی ماں ہے یہ حرام کا بچہ ہے کیونکہ میں کسی بھی طو ر پر اس کی با ت نہیں مان رہا تھا ِ

اس لیے اس نے مجھے قائل کر نے کے لیے اپنی داستان غم اسطرح سنا ئی کہ گا ں کے قریب ہم ایک اینٹوں کے بھٹے پر کئی سالوں سے مزدوری کر تے ہیں ہم صدیوں سے جانوروں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں بھٹہ مالکان ہمیں جانوروں کی طرح ہانک کر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر تے رہتے ہیں ہما رے مرد ان پڑھ جاہل ہیں جو ایڈوانس قرضہ لے کر خو د کو اِن کے غلام بنا لیتے ہیں علم تہذیب پڑھا ئی لکھا ئی ہم سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہیں مذہب اللہ رسول کا بھی ہم نے صرف نام ہی سن رکھا ہے ہم بھٹہ ما لکان کے زر خرید غلام ہیں اِن کو ہما ری زندگیوں اور جسموں پر مکمل اختیار حاصل ہے ہم جس بھٹے پر کا م کر تے ہیں اس کا مالک شروع سے شرابی زانی ہے اِس کی نظر جس پر پڑ جا ئے وہ اِس کا غلام جس عورت کی شکل و صورت اچھی ہو تی ہے اس کے بھاگ جا گ جا تے ہیں اس کو مزدوری کے بغیر اچھے پیسے دے دئیے جا تے ہیں پہلے تو یہ میرا عاشق تھا میرے جسم سے کھیلتا رہا پھر جب میری بیٹی جوان ہو ئی تو یہ اِس کی نظر اِس معصوم پر پڑ گئی

میں نے کئی با ر سمجھا یا کہ یہ تو تمہا ری بیٹیوں جیسی ہے اور کیا پتہ یہ تمہا ری ہی بیٹی ہو لیکن یہ شراب کے نشے میں دھت مذہب اخلا قیات کی دھجیاں اڑاتا میری بیٹی کی عزت سے کھیلتا رہا اِسکا طریقہ واردات یہ ہے کہ جو اِس کو پسند ہو اس کے مرد کو کام کے لیے با ہر بھیج دیتا ہے اور یہ خو د اس گھر کا مالک بن کر عزت و آبرو سے سرِ عام کھیلتا ہے ہما رے مردوں کو بھی اِس کا پتہ ہو تا ہے لیکن ان میں بھی غیرت نام کی نہیں ہے ایسے بھٹہ مالکان نے اپنی سلطنت بنا رکھی ہو تی ہے سینکڑوں عورتیں مرد اِن کے غلاموں میں شامل ہو تے ہیں اگر کبھی ہم بھا گنے کی کو شش کریں تو ہمیں بھٹوں کی چمنیوں میں زند ہ جلا دیا جاتا ہے یا جانوروں کی طرح با ندھ کو جوتوں سے ما را جا تا ہے تا کہ دوسروں کو عبرت حاصل ہو اگر کبھی ہم بھاگ جانے میں کا میا ب ہو بھی جائیں تو یہ اپنے اثر رسوخ کے بل بو تے پر ہمیں پکڑلا تے ہیں اور پھر ہمیں زنجیروں سے باندھ دیا جا تا ہے ہمیں ایسی در د ناک سزائیں دی جاتی ہیں کہ دوبار ہ کسی کو بھا گنے کی جرات نہ ہو اس عورت کی داستان میری سما عتوں میں شگا ف ڈال رہی تھی میرے جسم کا انگ انگ آنکھ بن کر اشکبار ہو رہا تھا طا قتور ظالم اور کمزور اِس فرق کی ہولناکی میرے جسم کو ادھیڑ رہی تھی میرے جسم پر انگارے چل رہے تھے میں نے اس عورت کو حو صلہ دلا سا دے کر بھیج دیا بعد میں مجھے پتہ چلا کہ وہ ادھر ادھر دکھے کھا تی رہی

پھر آخر وہ بچہ دنیا میں آکر بھٹہ ما لک کے غلاموں میں اضا فہ کر گیا ا ِ س عورت کی داستان غم خنجر بن کر میرے دل میں پیو ست ہو چکی تھی اگلے دن میں نے اپنے ایک دوست کو پکڑ ااور اس بھٹہ مالک کے پا س ہم چلے گئے وہی بو سکی کا سوٹ راڈو گھڑی اور پیجا رو وہ اپنی مسند شاہی پر فرعون بن بیٹھاتھا ہمارے جانے پر بھی وہ کسی گھر سے ہی بر آمد ہوا اس کے چہرے کے تا ثرات بتا رہے تھے کہ وہ رنگ رلیاں منا رہا تھا وہ مجھے تھو ڑا بہت جانتا بھی تھا بہت خو ش ہوا اور آنے کی وجہ پو چھی تو میں نے زنا اور ظلم پر لمبا چوڑا لیکچر دے ڈالا میری لمبی چوڑی تقریر کے بعد وہ بو لا بھٹی صاحب آپ کب سے مولوی بن گئے ہیں تو میں نے آخری تیر چلا یا اور یہ کہہ کر واپس آگیا کہ قدرت کا اصول ہے جیسا کر و گے ویسا بھرو گے اِس لیے اس دن سے ڈرو جب تمہار ی با ری آئے گی تو وہ نا گوار لہجے میں بو لا ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ میں واپس تو آگیا لیکن وہ بن بیا ہی بیٹی پھانس بن کر میرے دل میں اتر چکی تھی میں جب بھی کسی بھٹے کے پاس سے گزرتا مجھے کئی مائیں بیٹیا ں بے یا رومددگار مدد مدد پکارتی نظر آتیں

قافلہ شب و روز چلتا رہااور کئی سال بیت گئے اور پھر خدا ئے بز رگ و بر تر کو ہمیشہ کی طرح مجھ پر رحم آیا اور بھٹہ مالک کا انجام میری زندگی میں لا یا ایک رات میں سو رہا تھا تقریبا رات 1 بجے زور سے دروازے پر دستک ہو ئی میں نے دروازہ کھولا تو میرے سامنے میرا وہی دوست اسی بھٹہ مالک کے ساتھ کھڑا تھا میں دونوں کو اندر لایا تو حیران رہ گیا بھٹہ مالک برسوں کا بیما ر اور بو ڑھا لگ رہا تھا بالوں میں کلر نہ لگا نے سے بڑھا پا جگہ جگہ سے چھلک رہا تھا بو سکی کا چمکیلا سوٹ میلا اور سلوٹوں سے بھرا ہوا تھا چہرے پر زندگی کی بجا ئے قبر ستان کی ویرانی نظر آرہی تھی ایک ایسا شخص جو سینکڑوں میل سلگتے صحرا پر چل کر آیا ہو بھٹہ مالک نے میرے سامنے ہا تھ جو ڑ دئیے پرو فیسر صاحب مجھے اللہ سے معافی لے دیں میرے پو چھنے پر دوست نے بتا یا کہ ایک مہینہ پہلے اس کی جوان بیٹی کسی کے ساتھ بھا گ گئی ہے اس کمی نے اِس کی بیٹی اور اپنی قابل اعتراض سینکڑوں تصویریں بنا کر گا ں کی گلیوں میں پھینک دی ہیں یہ منہ چھپا تا پھر رہا ہے تو بہ کے طو ر پر بھٹہ بیچ دیا گا ں چھوڑ کر کسی دوست کے ڈیرے پر رہتا ہے بھٹہ مالک زارو و قطار رہ رہا تھا کہ کسی طرح میری بیٹی مجھے واپس مل جا ئے

کمر ہ اس کی آہوں سسکیوں چیخوں سے گو نج رہا تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ خدا کا ئنات بنا کر بیٹھ نہیں گیا اس کی لا ٹھی حر کت میں آتی ہے اور پھر بھٹہ مالک روتا چلا تا چلا گیا چند دن بعد ہی اس نے ذلت اور شرم کی زندگی سے تنگ آکر خود کشی کر لی اور ہمیشہ کے لیے زانیوں کے لیے نشان عبرت بن گیا تو مجھے وہ واقعہ یا د آگیا حسین بن قاسم خلیفہ وقت عبا سی کا وزیر تھا خلیفہ نے نا راض ہو کر اس کو معزول کر دیا اور ابن مقلہ کو اس کی جگہ لگا دیا ابن مقلہ نے حسین بن قاسم کو قتل کرا دیا اور اس کا سر عجائب گھر میں رکھوا دیا بعد میں جب راضی خلیفہ بناتو اس نے کسی وجہ سے نا راض ہو کر پہلے ابن مقلہ کو قیدی بنایا پھر اس کا ہا تھ کا ٹ دیا جب متقی کا زما نہ آیا تو وہ ایک دن عجا ئب گھر میں گیا تو وہا ں ایک طبق دیکھا جس میں ایک سر اور ایک ہا تھ رکھا ہوا تھا اور پا س کی ایک کا غذ پر لکھا تھا یہ حسین بن قاسم کا سرہے دوسرے کاغذ پر لکھا تھا یہ وہ ہا تھ ہے جس نے یہ سر کاٹا تھا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
102197

بزمِ درویش ۔ انصاف ۔ تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بزمِ درویش ۔ انصاف ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

صبح کے وقت چند ملاقاتی مجھ سے ملنے کے لیے آئے ہو ئے تھے میں ایک ملاقاتی کی باتیں سن رہا تھا جب مجھے ملاقاتی کا مسئلہ سمجھ آگیا تو اب میں نے اس کو بولنے کا موقع دیا تاکہ وہ خوب بول کر اپنا دل ہلکا کر لے کیونکہ اگر میں اسے ٹوک دیتا تو اس نے ہر ملا قاتی کی طرح پر زور احتجاج کر نا تھا کہ میں نے اس کی بات نہیں سنی اب وہ بول رہا تھا میں ہوں ہاں کر رہا تھا کیونکہ اس کا مسئلہ مجھے پتہ چل گیا تھا اب میں اسے مو قع دے رہا تھا میری تو جہ اب اس کی گفتگو سے ہٹ چکی تھی میں اب اِدھر ادھر دیکھ رہا تھا وہ بو لے جا رہا تھا اِسی دوران پندرہ بیس میٹر دور ایک دیہاتی شخص نو عمر بچے کے ساتھ مجھے نظر آیا جو بغور میری طرف دیکھ رہا تھا دھوتی اور پگڑی کے ساتھ وہ بیٹھا آرام سے میری طرف دیکھ رہا تھا کیونکہ میری زندگی کا زیا دہ حصہ بھی گا ں میں ہی گزرا ہے میں دیہی کلچر کے لوگوں میں پلا بڑھا ہوں اِس لیے اس کلچر سے میری انسیت بھی فطری ہے بوڑھا دیہاتی جس کی عمر ستر سال سے زیادہ تھی مجھ سے ملنے کے انتظار میں بیٹھا تھا میں اسے مزید انتظار نہیں کرانا چاہتا تھا سامنے بیٹھے شخص نے جب کافی باتیں کر لیں تو اسے تسلی حوصلہ دیا خدا جلدی کرم کر ے گا وظیفہ بتا یا تو وہ اٹھ کر جانے لگا تو میں اس دیہاتی کی طرف بڑھا جو آرام سے انتظار کر رہا تھا مجھے اپنی طرف آتا دیکھ کر وہ بھی تیزی سے اٹھ کر میری طرف بڑھا۔

جب ہم قریب آئے تو میں نرم شفیق لہجے میں بولا جناب آپ مجھ سے ملنے آئے ہیں اس نے ہاں میں سر ہلایا تو میں اسے پکڑ کر بینچ پر آکر بیٹھ گیا اس کے ساتھ آیا بچہ بھی بیٹھ گیا جس کی عمر بارہ تیرہ سال ہو گی بوڑھا دیہاتی ممنون نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھاگاں کے سادہ لوح لوگ جب شہروں کا رخ کر تے ہیں تو سہمے سہمے خوفزدہ سے ہو تے ہیں یہ بیچارہ بھی اسی کیفیت کا شکار لگ رہا تھا سادگی شرافت انگ انگ سے ٹپک رہی تھی اب میں نے اجنبیت کی چادر چاک کر تے ہوئے کہا چاچا جی آپ کہاں سے آئے ہیں اور میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں تو وہ ممنون لہجے میں بو لا جناب یہ میرا پو تا ہے پڑھائی نہیں کر تا آوارہ لڑکوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے میں اس کے لیے آپ کے پاس آیا ہوں کہ یہ سیدھے راستے پر آجائے ہم تو اِس کو سمجھا کر مار کر ڈرا کر سب کچھ کر چکے ہیں لیکن اِس کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی بچپن میں تو یہ میری ساری باتیں مانتا تھا لیکن اب یہ ڈھیٹ بن گیا ہے اِس کی دادی اور ماں نے خاص تاکید کی ہے کہ اِس کو سیدھا کر دیں یہی تو ہمارے بڑھاپے کا سہارا ہے

اگر یہ بھی خراب ہو گیا تو کون ہمارا سہارا بنے گا بزرگ اپنے پو تے کی شکایتیں لگا رہا تھا اور میں ایک اچھے سا مع کی طرح اس کی باتیں سن رہا تھا میں بزرگ کو اچھی طرح بو لنے کا موقع دے رہا تھا بات سن رہا تھا جب وہ خوب بو ل چکا تو میں بولا اِس کا باپ اِ س کو نہیں سمجھا تا وہ کدھر ہے تو بزرگ بو لا وہ جیل میں ہے وہ جیل نہ ہو تا تو خود اِس کو سنبھالتا اب اس کے نہ ہو نے سے اِس کو سنبھالنا پرورش کر نا بھی اب میری ذمہ داری ہے اب میں بوڑھا شخص ہوں یہ نوجوان یہ میری قابو نہیں آتا اِس کا باپ جیل کیوں گیا اس نے کیا جرم کیا تو بزرگ بو لا اس نے چار بندوں کو قتل کر دیا تھا اس جرم میں جیل گیا ہے چار بندے قتل کر دئیے بزرگ نے یہ بات کتنے آرام سے بتا رہا تھا بندے نا ہوئے چار درخت کاٹ دئیے ہوں کیوں قتل کیے تو بوڑھا دیہاتی بولا میرے کہنے پر میں نے اپنے بیٹے سے کہا تھا جا سارے خاندان کو قتل کرکے میرے پاس آنا وہ گیااور چاربندے قتل کر دئیے میں نے خود تھانے میں پیش کیا اب وہ جیل میں ہے دیہاتی بزرگ کتنے پر سکون لہجے میں چار بندوں کے قتل کی بات کر رہا تھا

میں نے بزرگ کو سر سے پاں تک بغور دیکھاہو شرافت اور سادگی کا پیکر لگ رہا تھا اس کے چہرے کے تاثرات جسمانی ڈیل ڈول یا آنکھوں اور آوازسے کسی بھی طرح یہ احساس نہیں ہو رہا تھا کہ اس نے چار بندوں کے قتل کا حکم جاری کیا ہو اس کی وضع قطع بو ل چال سے تو یہ لگ رہا تھا کہ یہ کسی مچھر یا مکھی کو بھی قتل نہیں کر سکتا تو کس طرح چار جیتے جاگتے بندے مار دئیے میں حیران پریشان نظروں سے دیہاتی شخص کی آنکھوں میں جھانک رہا تھا لیکن اس کے کسی بھی تاثر یا حرکات سکنات سے یہ نہیں لگ رہا تھا کہ اس نے چار بندے مروادئیے۔ بزرگ دیہاتی میری حیرانی پریشانی کو بھانپ گیا بولا جناب آپ ٹھیک سوچ رہے ہو کہ کس طرح میں نے چار بندے مروادئیے اِن چار بندوں کے علاوہ ساری زندگی میں نے تو کبھی کسی سانپ بچھو کو نہیں مارا میں تو مرغی ہلال نہیں کر سکتا میں تو کسی کو گالی تک نہیں دے سکتا۔ لیکن میرے جیسا سیدھا سادھا دیہاتی شریف انسان کیوں اِس موڑ پر آگیا کہ اسے چار بندوں کے قتل کا حکم دینا پڑا کیونکہ ان چار بندوں کے ساتھ میرا اکلوتا بیٹا بھی تو مارا ہی گیا

اب یا تو وہ پھانسی پائے گا یا عمر قید نقصان تو میرا بھی ہو الیکن میں نے اِس بے درد بے رحم ظالم معاشرے پر احسان کیا۔ جناب میرا تعلق فیصل آباد کے قریبی گاں سے ہے میں چھوٹا سا زمیندار ہوں میری ایک بیٹی اور ایک بیٹا تھا یہی میری کل کائنات تھی بیٹا جوان ہوا تو اس کی شادی کر دی بیٹی جوان ہوئی تو اکیڈمی میں اپنے ٹیچر سے محبت کر بیٹھی پہلے تو میں نے ذات برادری کا رونا رویا لیکن جب بیٹی نے بہت ضد کی کہ میں نے اپنے ٹیچر سے ہی شادی کر نی ہے تو پڑھا لکھا انسان سمجھ کر میں بھی مان گیا اور بیٹی کی پسند کی شادی اس کے ٹیچر سے کر دی شادی سے پہلے میں نے اس کے خاندان کا پتہ کرنے کی کو شش کی لیکن داماد نے یہی بتایا کہ اس کا تعلق کراچی ہے ماں باپ مر گئے تو یتیم خانے میں جوان ہوا وہیں پر پڑھا ئی پھر مختلف نو کریا ں کر تا کر تا فیصل آباد آگیایہاں پر نوکری کے ساتھ ساتھ شام کو اکیڈمی میں پڑھاتا یہاں بیٹی کی محبت میں ہم مان گئے شادی کے بعد تین ماہ بعد تک تو داماد فیصل آباد میں رہا تین ماہ بعد کہا کہ اسے کراچی میں نوکری مل گئی ہے اِس لیے ا ب وہ میری بیٹی کو لے کر کراچی چلا گیا چند دن تو فون آتے رہے پھر فون آنے بند ہو گئے ہمار ا بیٹی اور داماد سے ہر قسم کا رابطہ ٹوٹ گیا ہم نے بہت کو شش کی لیکن ہمارا رابطہ نہیں ہوا اِس طرح ایک سال کا وقت گزر گیا ہم بیٹی کی جدائی میں نیم پاگل ہو گئے پھر ایک دن ایک لڑکی کا فون آیا کہ آپ کی بیٹی کو قتل کر دیا گیا ہے اب وہ اِس دنیا میں نہیں رہی.

آپ نے راز داری سے آکر مجھ سے ملنا ہے میرا بیٹا حیدر آباد اس لڑکی کے پتے پر گیا تو اس لڑکی نے بتا یاوہ سید زادی ہے آپ کا داماد ایک عادی مجرم ہے مختلف شہروں میں جا کر نوجوان خوبصورت لڑکیوں کو اپنی محبت کے جال میں پھنسا کر شادی کر کے لاتا ہے پھر سندھ کے وڈیروں کو بیچ دیتا ہے یا پھر گھر میں جسم فروشی کا دھندہ کر تا ہے وہاں پر اپنی بیویوں سے جسم فروشی کر اتا ہے اسی طرح ملتان میں مجھے بھی اپنی محبت میں پھنسا کر لایا تو آپ کی بیٹی نے مجھے ساری حقیقت سنا دی آپ کی بیٹی مجھے اس اڈے سے لے کر بھاگی تو ہم دونوں کو پکڑ لیا گیا آپ کی بیٹی کو مار مار کر اتنا زخمی کیا کہ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہو ئے مر گئی لیکن اِس دوران میرے گھر والے میری مدد کو آگئے وڈیرے اِن کے ساتھ تھے چند دنوں میں خود کشی کا کیس سنا دیا گیا اب وہ خاندان پھر اسی طرح معصوم لڑکیوں سے جسم فروشی کا دھندہ کر ا رہا ہے۔ اس کیس کے بعد دوسال تک میں عدالتوں پو لیس تھانوں وڈیروں کے اڈوں پر انصاف مانگتا رہا لیکن مذاق اڑایا گیا تو آخر کار تنگ آکر میں نے بیٹے سے کہا جا اس درندے کو اس کی ماں باپ اور بہن کو قتل کر دو جو یہ دھندہ سر عام وڈیروں کی مدد سے کر رہے ہیں پھر میرے بیٹے نے ان خون خوار درندوں کو موت کے گھاٹ اتا ر دیا۔ بوڑھا دیہاتی چٹانی لہجے میں بول رہا تھا کہ میں نے جو بھی کیا ٹھیک کیا اور میں اپنے فیصلے پر آج بھی خوش ہوں وہ چلا گیا لیکن میں سلگ رہا کہ ریاست مدینہ کے دعوے داروں کو نہیں پتہ کہ ہر شہر میں کہاں کہاں جسم فروشی کے اڈے ہیں تھانے داروں کو سب کا پتہ ہے اگر اب بھی یہ ایسے اڈوں کو بند نہیں کر تے تو پھرہر باپ خود اپنے بیٹے کو پستول دے کر کہے گا جا انصاف کر کے آ۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
70062