قومی مفاد : ایک گمشدہ افسانہ – از قلم: نجیم شاہ
قومی مفاد : ایک گمشدہ افسانہ – از قلم: نجیم شاہ
قومی مفاد؟ یہ وہ اصطلاح ہے جو ہمارے ہاں ہر وہ شخص استعمال کرتا ہے جسے اپنی ذات، اپنی جیب، اپنی کرسی یا اپنے خاندان کا مفاد عزیز ہو۔ یہ ایک ایسا نعرۂ ہے جو ہر موقع پر نیا چہرہ لگا کر آتا ہے۔ کبھی یہ سیاستدانوں کے بیانات میں چھپتا ہے، کبھی جرنیلوں کے فیصلوں میں، کبھی مولویوں کے فتوؤں میں، اور کبھی میڈیا کے شور میں۔ لیکن اصل میں یہ ایک ایسا لاپتہ کردار ہے جسے آج تک کسی نے دیکھا نہیں، پہچانا نہیں، سمجھا نہیں۔ یہ وہ لفظ ہے جو جتنا بلند آواز میں بولا جاتا ہے، اتنا ہی کھوکھلا محسوس ہوتا ہے۔
یہاں قومی مفاد کا مطلب ہے: ’’میرا مفاد، باقی سب جائیں بھاڑ میں!‘‘۔ یہاں قومی مفاد کا مطلب ہے: ’’میری پارٹی کی حکومت، چاہے ملک دیوالیہ ہو جائے!‘‘۔ یہاں قومی مفاد کا مطلب ہے:’’میرا فرقہ، میری زبان، میری ذات، باقی سب کافر، غدار یا دشمن!‘‘۔ ہم نے قومی مفاد کو اتنا ذاتی، اتنا محدود اور اتنا خودغرض بنا دیا ہے کہ اب یہ قوم کے اجتماعی مفاد سے کوئی تعلق ہی نہیں رکھتا۔ ہر ادارہ، ہر طبقہ، ہر فرد اپنے مفاد کو قومی مفاد کا نام دے کر باقیوں کو دھوکہ دے رہا ہے، اور سب مطمئن ہیں کہ وہی اصل محب وطن ہیں۔
قومی مفاد کے نام پر پاکستان میں وہ وہ فیصلے کیے گئے ہیں جنہیں سُن کر عقل بھی شرمندہ ہو جائے۔ کبھی آئین توڑا گیا، کبھی عدلیہ کو یرغمال بنایا گیا، کبھی میڈیا کو خریدا گیا، اور کبھی عوام کو بیوقوف بنایا گیا۔ جب بھی کوئی بحران آتا ہے، جب بھی کوئی ناکامی ہوتی ہے، جب بھی کوئی اسکینڈل سامنے آتا ہے، تو فوراً قومی مفاد کا نعرۂ لگا کر عوام کو خاموش کر دیا جاتا ہے۔ ’’ابھی قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ آپ صبر کریں!‘‘، ’’ابھی قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ آپ قربانی دیں!‘‘، ’’ابھی قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ آپ بجلی کا بل دوگنا دیں!‘‘۔
اور عوام؟ وہ تو قومی مفاد کے نام پر قربانی کا بکرا ہیں۔ وہی عوام جنہیں ہر پانچ سال بعد ووٹ ڈالنے کا حق دے کر باقی وقت غلام بنا دیا جاتا ہے۔ وہی عوام جنہیں بجلی، پانی، تعلیم، صحت، انصاف سب کچھ خواب بنا دیا گیا ہے۔ اور جب وہ سوال کرتے ہیں تو جواب ملتا ہے: ’’قومی مفاد میں خاموشی بہتر ہے!‘‘۔ قومی مفاد کے نام پر یہاں ہر وہ کام کیا گیا ہے جو کسی بھی قوم کو تباہ کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ تعلیم کو برباد کیا گیا، صحت کو نظر انداز کیا گیا، انصاف کو مذاق بنایا گیا، اور میرٹ کو دفن کر دیا گیا۔
سیاستدانوں کے لیے قومی مفاد وہی ہے جو اُن کی پارٹی کے اقتدار کو دوام دے۔ جرنیلوں کے لیے قومی مفاد وہی ہے جو اُن کے ادارے کی بالادستی قائم رکھے۔ بیوروکریٹس کے لیے قومی مفاد وہی ہے جو اُن کی مراعات میں اضافہ کرے۔ مولویوں کے لیے قومی مفاد وہی ہے جو اُن کے فرقے کو برتر ثابت کرے۔ میڈیا کے لیے قومی مفاد وہی ہے جو اشتہارات کی بارش کرے۔ اور تاجر کے لیے قومی مفاد وہی ہے جو اُس کے منافع کو دوگنا کرے، چاہے اس کے لیے ذخیرہ اندوزی کرنی پڑے یا جعلی ادویات بیچنی پڑیں۔
قومی مفاد ہمارے ہاں ایک ایسا لطیفہ ہے جس پر ہنسا بھی نہیں جا سکتا، رویا بھی نہیں جا سکتا۔ یہ ایک ایسا افسانہ ہے جسے ہر کوئی سُناتا ہے، مگر کوئی مانتا نہیں۔ جب کوئی قومی مفاد کی بات کرتا ہے تو فوراً شک ہوتا ہے کہ اب کوئی نیا دھوکہ ہونے والا ہے، کوئی نیا اسکینڈل چھپایا جا رہا ہے، کوئی نیا ظلم ہونے والا ہے۔ قومی مفاد کا مطلب ہونا چاہیے: قوم کی فلاح، قوم کی ترقی، قوم کی عزت۔ لیکن ہمارے ہاں قومی مفاد کا مطلب ہے: ’’میری کرسی بچ جائے، چاہے قوم مر جائے!‘‘۔
قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ ہر بچے کو تعلیم دی جائے، ہر مریض کو علاج ملے، ہر شہری کو انصاف میسر ہو، ہر نوجوان کو روزگار ملے، ہر ماں کو تحفظ حاصل ہو، اور ہر بزرگ کو عزت دی جائے۔ لیکن یہاں قومی مفاد کا مطلب ہے: ’’میرا بچہ باہر پڑھ لے، باقی سب سرکاری اسکولوں میں سڑتے رہیں!‘‘۔ قومی مفاد کا مطلب ہے: ’’میری فیکٹری کو سبسڈی ملے، باقی سب ٹیکس دیں!‘‘۔ قومی مفاد کا مطلب ہے:’’”میری مسجد آباد رہے، باقی سب کو کافر قرار دیا جائے!‘‘۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس اصطلاح کو دوبارہ زندہ کریں۔ قومی مفاد کو دوبارہ اُس کی اصل شکل میں پہچانیں۔ اگر ہم واقعی قومی مفاد کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی ذات سے باہر نکلنا ہوگا۔ ہمیں اپنی پارٹی، اپنے فرقے، اپنی زبان، اپنی ذات سے آگے دیکھنا ہوگا۔ ہمیں قوم کو ایک جسم سمجھنا ہوگا، جس کا ہر عضو اہم ہے، ہر فرد قیمتی ہے۔ ورنہ یہ قوم یونہی قومی مفاد کے نام پر برباد ہوتی رہے گی، اور ہم یونہی کالم لکھتے رہیں گے، چیختے رہیں گے، اور آخرکار خاموش ہو جائیں گے۔