The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 12 August 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

چترال کے ہمہ گیر اور ممتاز شخصیت امیر اللہ خان یفتالی (مرحوم ) کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

چترال کے ہمہ گیر اور ممتاز شخصیت امیر اللہ خان یفتالی (مرحوم ) کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال کے ہمہ گیر اور ممتاز شخصیت امیر اللہ خان یفتالی کے بارے میں تعزیتی ریفرنس ہفتے کےروز ولی ہاؤس دنین میں منعقد ہوا جس کا اہتمام معروف قانون دان عبدالولی خان عابد ایڈوکیٹ نے کیا تھا جبکہ پروفیسر اسرارالدین صدر مخفل تھے اور یفتالی کے بھائیوں میں سہروردی خان اور ولی محمد یفتالی مہمان خصوصی تھے۔

اس موقع پر مقررین نے یفتالی کی زندگی کی سیاسی، سماجی اورثقافتی شعبوں میں نمایان کارکردگی اور خدمات اور پولو کے کھیل کے فروع میں ان کے کردار پر روشنی ڈالی جبکہ شعراء نے انہیں منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر خطاب کرنے والوں میں عبدالولی خان عابد ایڈوکیٹ کے علاوہ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی، معروف دانشور علی اکبر قاضی، شہزادہ تنویر الملک، صاحب نادر ایڈوکیٹ، الحاج عیدا لحسین، خطیب شاہی مسجد مولانا خلیق الزمان، سابق ایم پی اے سید سردار حسین، ظفراللہ پرواز، لیاقت علی خان، عنایت اللہ اسیر، محمد شفیع شفا، ظہیر الدین اور سہروردی خان شامل تھے۔

یفتالی کو منظوم خراج عقیدت پیش کرنے والوں میں ذاکر محمد زخمی، انصارنعمانی، شفیع شفاء اور افضل اللہ افضل شامل رہے۔ مقررین نے یفتالی کی زندگی کی مختلف شعبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ تین بار مسلسل ضلع کونسل کا ممبر رہنے والا یفتالی بادشاہ گر مانے جاتے تھے جس نے اپنی سیاسی زندگی کا آعاز پاکستان تحریک استقلال سے کیا جو بعد میں مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرکے زندگی بھر اس کے ساتھ وفا نبھائی۔

انہوں نے یفتالی کی ثقافتی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے ان کے قائم کردہ کلچرل میوزیم اور لائبریری سمیت دوسرے کارناموں کا ذکر کیا اور کہاکہ انہیں یہ اوصاف ان کے والد گرامی بابائے لاسپور گل ولی خان یفتالی اور اور دادا لیفٹیننٹ ولائت خان سے ملی ہیں جوکہ اپنے زمانے میں اس علاقے کے ہیر و سمجھے جاتے تھے۔

انہوں نے پولو کے میدان میں یفتالی کو پولو کا ایک با صلاحیت کھلاڑی قرار دیتے ہوئے کہاکہ جشن شندور کا سلسلہ شروع کرنے میں بھی ان کی محنت کا عمل دخل شامل ہے۔ انہوں نے ان کی مہمان نوازی کے قصے بیان کئے جوکہ اپنی مثا ل آپ ہیں جبکہ ان کی خوش لباسی کا ذکر بھی تفصیل سے کیا گیا۔

انہوں نے امیر اللہ خان کے انتقال کو اپر اور لویر چترال کے لئے عظیم نقصان قرار دیا اور ان کے اہل خاندان پر زور دیاکہ وہ امیر اللہ خان یفتالی کے روایات کو برقرار رکھیں جس نے اپنی کردار کے ذریعے اپنے نام کو چترال کی تاریخ میں امر کردیا ہے۔

اس موقع پر مہمان خصوصی پروفیسر اسرار الدین نے امیر اللہ خان یفتالی کے دادا لیفٹیننٹ ولائت خان کے ساتھ ملاقات اور انٹرویو کے بارے میں تفصیلات بیان کی اور ان کی دوراندیشی کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہاکہ تمام مقررین نے بہت ہی باریک بینی سے یفتالی کی زندگی کے مختلف شعبوں پر سیر حاصل بحث کرکے ان کی شخصیت کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ یفتالی کے برادر خو د سہروری خان نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ عبدالولی خان عابد کا ان کے خاندان کے ساتھ بہت ہی قریبی تعلق ہے جس نے یہ پروگرام منعقد کیا ہے۔

انہوں نے شرکاء کو یقین دلاتے ہوئے کہاکہ یفتالی کی legacyکو قائم رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ اجائے گا اور ان سے محبت کرنے والے اس خاندان کے ساتھ اپنے تعلق کو پہلے کی طرح قائم رکھیں۔ تمام مقرریں نے امیر اللہ یفتالی کی یاد میں تعزیتی ریفرنس منعقد کرنے پر عبد الولی خان ایڈوکیٹ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے چترال کی ثقافت اور مہمان نوازی کو زندہ رکھنے میں ہمیشہ کردار ادا کیا ہے۔ اس موقع پر نورالہدیٰ یفتالی نے نظامت کے فرائض سرانجام دئیے جبکہ ارشاد یفتالی ودیگربھی موجود تھے۔

chitraltimes condolance refrence for late Amirullah Khan yaftali wali house Chitral 29

chitraltimes condolance refrence for late Amirullah Khan yaftali wali house Chitral 39 chitraltimes condolance refrence for late Amirullah Khan yaftali wali house Chitral 38 chitraltimes condolance refrence for late Amirullah Khan yaftali wali house Chitral 36 chitraltimes condolance refrence for late Amirullah Khan yaftali wali house Chitral 34 chitraltimes condolance refrence for late Amirullah Khan yaftali wali house Chitral 32 chitraltimes condolance refrence for late Amirullah Khan yaftali wali house Chitral 31 chitraltimes condolance refrence for late Amirullah Khan yaftali wali house Chitral 28

chitraltimes condolance refrence for late Amirullah Khan yaftali wali house Chitral 37

chitraltimes condolance refrence for late Amirullah Khan yaftali wali house Chitral 41 chitraltimes condolance refrence for late Amirullah Khan yaftali wali house Chitral 41 chitraltimes condolance refrence for late Amirullah Khan yaftali wali house Chitral 23

chitraltimes condolance refrence for late Amirullah Khan yaftali wali house Chitral 3 chitraltimes condolance refrence for late Amirullah Khan yaftali wali house Chitral 24

chitraltimes condolance refrence for late Amirullah Khan yaftali wali house Chitral 27

chitraltimes condolance refrence for late Amirullah Khan yaftali wali house Chitral 2

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
112250

محترم امیر اللہ خان یفتالی کی رحلت ۔ از جنبش قلم ; مفتی محمد عثمان

محترم امیر اللہ خان یفتالی کی رحلت ۔ از جنبش قلم ; مفتی محمد عثمان

اپر چترال کے علاقے ہرچین لاسپور سے تعلق رکھنے والے معروف ومشہور شخصیت خانوادہ بابائے لاسپور کے چشم وچراغ محترم امیر اللہ خان یفتالی گزشتہ دنوں طویل علالت کے بعد اس دار فانی کو الوداع کہہ گئے۔

یفتالی کا اپنا خاندان بہرامے امان الملک کے زمانے سے معزز رہاآپ کے دادا لیفٹینٹ ولایت خان یفتالی کے روایت کے مطابق 1895کی جنگ میں آپ نے اپنے علاقے کے ساتھ اعلیحضرت شجاع الملک اور انگریزوں کی طرف داری کی انگریزی فوج کو یہاں سے گزرنے میں آسانی رہی بعد میں چترال پر قبضے کے بعد پچاس سالوں کے لئے اس علاقے کو ہر طرح کے ٹیکسوں سے مبرا رکھا گیا مہتر ناصر الملک کے زمانے میں اس خاندان کے ساتھ مراسم مزید مضبوط ہوتے گئے خیر سگالی کو مزید فروغ دینے کے لیے شہزادہ ناصر الملک نے اپنی دوسری بیٹی کو اس خاندان کی رضاعت میں دیدیا تھا دادا کے بعد یفتالی کے والد جناب گل ولی خان صوبیدار نامور ہوگئے تھے اور ناصر الملک کی تخت نشینی کے بعد دربار کے معززین میں ان کا شمار ہونے لگا تھا اور لاسپور کے متار کے لقب سے مشہور ہوئے انہوں نے لاسپور کے عوام کے حقوق کے لئے کئی کامیاب معرکے سر کئے ۔

محترم امیر اللہ خان یفتالی ایک سیاسی سماجی مشہور پولو کھلاڑی مانے جاتے ہیں انہوں بلدیات کے الیکشن میں3مرتبہ کامیاب ہوکر ڈسٹرکٹ کونسل ممبر منتخب ہوے۔
علاقے کے تاریخی ثقافتی ورثے کی حفاظت اور نسل نو کوان سے روشناس کرنے کے لئے اپنے گھر کے متصل ہی مہمان خانے میں ہیریٹیج میوزیم کی بنیاد رکھی جس میں یار قند بدخشان چینی ترکستان کےمصنوعات ہتھیار تلواریں بندوق بودو باش کے اوزار وغیرہ سجھا کر الماریوں کی زینت بنادی گئی ہے۔

آپ اپنے زمانے کے مشہور پولو پلیئر تھے پولو کھیل کی ترقی کے لئے نیز جوانوں کو پولو پلیئر بنانے کی تربیت ومشقت پر خصوصی توجہ دی ۔

سخاوت و مہمان نوازی، مہمانوں کی تواضع و خدمت آپ کا طرہ امتیاز تھا جو آپ کو بڑوں سے ورثے میں ملا تھا مہمانوں کی ضیافت خاطرومدارت بڑے اہتمام سے کرتے تھے آپ کے ضیافت سے سرکاری و حکومتی عہدیدار کے علاؤہ عام راہگیر مسافر سیاح عام وخاص بھی مستفید ہوتے تھے ہر وقت آپ کے گھر کے پاس گاڑیوں لوگوں کا اتنا ہجوم ہوتا رہتا معلوم ہوتا کہ شاید یہ کسی حکومتی وزیر یا اعلی سرکاری عہدیدار کا گھر یادفتر ہو۔

وہ علماء کرام کا دلی قدردان تھے استاذ محترم قاری فیض اللہ صاحب مدظلہ العالی کے ساتھ دلی وقلبی مراسم تھے حضرت قاری صاحب کو اپنے گھر کا ایک فرد تصور کرتے تھے استاد محترم قاری فیض اللہ صاحب مدظلہ جب بھی لاسپور تشریف لاتے تھے تو یفتالی صاحب کو اسکی خبر ہوجاتی اور انتہائی اہتمام سے استقبال کی تیاری میں مصروف رہتے قاری صاحب اور آپ کے ساتھ جتنے مہمان ہوتے تھے ان کے اعزاز واکرام میں علاقے کے روایتی دیسی ڈش پکوان سے دسترخوان کو سجا لیتے تھے۔

وہ روایتی سیکولر سیاسی پارٹیوں کی کارکردگی سے شدید نالاں تھے اس لئے ان کا ذہنی و فکری رجحان مذہبی سیاسی پارٹیوں کی طرف تھا بلکہ استاذ سہروردی کے بقول آپ پچھلے کئی سالوں سے جمعیت علماء اسلام کے زبردست سپورٹ ووٹر تھے ہرچین پولنگ اسٹیشن میں دینی جماعتوں کے پلڑے میں کچھ تھوڑی بہت ووٹ کاسٹ ہوتی وہ انہی کی مرہون منت ہوتی ۔

آپ کا پورا خانوادہ ایک معتدل شیعہ اسماعیلی مذہب سےتعلق رکھتا ہے یہی وجہ ہے آپ کے فیملی کی اکثر بہنیں بیٹیاں سنی گھرانوں میں بیاہی گئی ہیں ۔اپ کے چچا چارویلو محمد اقبال اسماعیلی مذہب چھوڑ کر سنی ہوگئے تھے اور قریب ھی مسجد علی کے نام سے ایک چھوٹی مسجد کی بنیاد رکھی تھی میں نے اپنے قیام کے دوران مسجد شہید کرکے بڑا کرکے بنایا محترم یفتالی صاحب روزانہ کام کا جائزہ لینے مسجد آیا کرتے انہوں نے تعمیر میں بیلچہ کدال ریڑھا دیا تھا اکثر یہ جملہ کہتے رہتے کہ اگر چہ میں بذات خود کام نہیں کررہا ہوں لیکن میرا ریڑھا یہاں کام میں مصروف ہے ۔

کبھی کبھار جب ہم مسجد میں نماز کی تیاری میں مصروف رہتے تعریضا یہ جملہ کس کے جاتے مسلمانوں کیا حال ہے (مطلب یہ ہوتا آپ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہو ہمیں نہیں ہمارا ذبیحہ نہیں کھاتے ہوتے)ایک دن میں نے اس جملے پہ یہ جواب دیا مومنوں کی دعاؤں کی برکت سے بالکل ٹھیک ہیں (مطلب میرے جملے کا یہ تھا آپ لوگ اپنے کو مومن سمجھتے ہوں ہمیں نہیں )میرا یہ جواب سن کر فرمانے لگے اے دشمنان بڑے چالاک ہو،

رمضان المبارک میں ہم علی مسجد میں ہر سال تراویح میں ختم قرآن کا اہتمام کرتے ایک دفعہ ختم قرآن کے موقع پر ہم نے امیر علی شاہ استاذ محمد علی مجاہد کراچی اور یفتالی مرحوم کو بھی مدعو کیا آدھا سیپارہ باقی تھا جب ختم کرنے کے بعد دعا ہوگئی تو وتر پڑھنے سے پہلے آپ مسجد سے نکل گئے ہم نے صبح میٹھائی گھر پہنچائی ۔

جذبہ ایثار و ہمدردی

ہم نے اپنے قیام ہرچین کے دوران کئی بار بذات خود مشاہدہ کیا ک جہاں کہیں فوتگی ہوتی مرحوم سب سے پہلے وہاں پہنچ کر فاتحہ خوانی کے لئے بیٹھ جاتے اور تین دن تک مسلسل اہتمام کے ساتھ غم بانڈھنے میں شریک رہتے
آخر کار راہ عدم کا یہ راہی اس سفر پہ روانہ ہوا جہاں ایک نہ ایک دن سب کو جانا
افلاک رو رہے ہیں زمین بھی اداس ہے
آنسو بہا رہی ہے فضا تیری موت پر
جیسے گرا ہو کوہ گراں مجھ پر ٹوٹ کر
کوئی گیا ہے آج یوں دنیا سے روٹھ کر
دل دھک سے ہوکے رہ گیا سنتے ہی یہ خبر
تم چل دیئے ہو آج ہمیں تنہا چھوڑ کر

yaftali khaliquzaman matar shabir

chitraltimes dc appreciation certificate to yaftali family of laspur

chitraltimes amirullah khan yaftali 4

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
111785