محترم امیر اللہ خان یفتالی کی رحلت ۔ از جنبش قلم ; مفتی محمد عثمان
اپر چترال کے علاقے ہرچین لاسپور سے تعلق رکھنے والے معروف ومشہور شخصیت خانوادہ بابائے لاسپور کے چشم وچراغ محترم امیر اللہ خان یفتالی گزشتہ دنوں طویل علالت کے بعد اس دار فانی کو الوداع کہہ گئے۔
یفتالی کا اپنا خاندان بہرامے امان الملک کے زمانے سے معزز رہاآپ کے دادا لیفٹینٹ ولایت خان یفتالی کے روایت کے مطابق 1895کی جنگ میں آپ نے اپنے علاقے کے ساتھ اعلیحضرت شجاع الملک اور انگریزوں کی طرف داری کی انگریزی فوج کو یہاں سے گزرنے میں آسانی رہی بعد میں چترال پر قبضے کے بعد پچاس سالوں کے لئے اس علاقے کو ہر طرح کے ٹیکسوں سے مبرا رکھا گیا مہتر ناصر الملک کے زمانے میں اس خاندان کے ساتھ مراسم مزید مضبوط ہوتے گئے خیر سگالی کو مزید فروغ دینے کے لیے شہزادہ ناصر الملک نے اپنی دوسری بیٹی کو اس خاندان کی رضاعت میں دیدیا تھا دادا کے بعد یفتالی کے والد جناب گل ولی خان صوبیدار نامور ہوگئے تھے اور ناصر الملک کی تخت نشینی کے بعد دربار کے معززین میں ان کا شمار ہونے لگا تھا اور لاسپور کے متار کے لقب سے مشہور ہوئے انہوں نے لاسپور کے عوام کے حقوق کے لئے کئی کامیاب معرکے سر کئے ۔
محترم امیر اللہ خان یفتالی ایک سیاسی سماجی مشہور پولو کھلاڑی مانے جاتے ہیں انہوں بلدیات کے الیکشن میں3مرتبہ کامیاب ہوکر ڈسٹرکٹ کونسل ممبر منتخب ہوے۔
علاقے کے تاریخی ثقافتی ورثے کی حفاظت اور نسل نو کوان سے روشناس کرنے کے لئے اپنے گھر کے متصل ہی مہمان خانے میں ہیریٹیج میوزیم کی بنیاد رکھی جس میں یار قند بدخشان چینی ترکستان کےمصنوعات ہتھیار تلواریں بندوق بودو باش کے اوزار وغیرہ سجھا کر الماریوں کی زینت بنادی گئی ہے۔
آپ اپنے زمانے کے مشہور پولو پلیئر تھے پولو کھیل کی ترقی کے لئے نیز جوانوں کو پولو پلیئر بنانے کی تربیت ومشقت پر خصوصی توجہ دی ۔
سخاوت و مہمان نوازی، مہمانوں کی تواضع و خدمت آپ کا طرہ امتیاز تھا جو آپ کو بڑوں سے ورثے میں ملا تھا مہمانوں کی ضیافت خاطرومدارت بڑے اہتمام سے کرتے تھے آپ کے ضیافت سے سرکاری و حکومتی عہدیدار کے علاؤہ عام راہگیر مسافر سیاح عام وخاص بھی مستفید ہوتے تھے ہر وقت آپ کے گھر کے پاس گاڑیوں لوگوں کا اتنا ہجوم ہوتا رہتا معلوم ہوتا کہ شاید یہ کسی حکومتی وزیر یا اعلی سرکاری عہدیدار کا گھر یادفتر ہو۔
وہ علماء کرام کا دلی قدردان تھے استاذ محترم قاری فیض اللہ صاحب مدظلہ العالی کے ساتھ دلی وقلبی مراسم تھے حضرت قاری صاحب کو اپنے گھر کا ایک فرد تصور کرتے تھے استاد محترم قاری فیض اللہ صاحب مدظلہ جب بھی لاسپور تشریف لاتے تھے تو یفتالی صاحب کو اسکی خبر ہوجاتی اور انتہائی اہتمام سے استقبال کی تیاری میں مصروف رہتے قاری صاحب اور آپ کے ساتھ جتنے مہمان ہوتے تھے ان کے اعزاز واکرام میں علاقے کے روایتی دیسی ڈش پکوان سے دسترخوان کو سجا لیتے تھے۔
وہ روایتی سیکولر سیاسی پارٹیوں کی کارکردگی سے شدید نالاں تھے اس لئے ان کا ذہنی و فکری رجحان مذہبی سیاسی پارٹیوں کی طرف تھا بلکہ استاذ سہروردی کے بقول آپ پچھلے کئی سالوں سے جمعیت علماء اسلام کے زبردست سپورٹ ووٹر تھے ہرچین پولنگ اسٹیشن میں دینی جماعتوں کے پلڑے میں کچھ تھوڑی بہت ووٹ کاسٹ ہوتی وہ انہی کی مرہون منت ہوتی ۔
آپ کا پورا خانوادہ ایک معتدل شیعہ اسماعیلی مذہب سےتعلق رکھتا ہے یہی وجہ ہے آپ کے فیملی کی اکثر بہنیں بیٹیاں سنی گھرانوں میں بیاہی گئی ہیں ۔اپ کے چچا چارویلو محمد اقبال اسماعیلی مذہب چھوڑ کر سنی ہوگئے تھے اور قریب ھی مسجد علی کے نام سے ایک چھوٹی مسجد کی بنیاد رکھی تھی میں نے اپنے قیام کے دوران مسجد شہید کرکے بڑا کرکے بنایا محترم یفتالی صاحب روزانہ کام کا جائزہ لینے مسجد آیا کرتے انہوں نے تعمیر میں بیلچہ کدال ریڑھا دیا تھا اکثر یہ جملہ کہتے رہتے کہ اگر چہ میں بذات خود کام نہیں کررہا ہوں لیکن میرا ریڑھا یہاں کام میں مصروف ہے ۔
کبھی کبھار جب ہم مسجد میں نماز کی تیاری میں مصروف رہتے تعریضا یہ جملہ کس کے جاتے مسلمانوں کیا حال ہے (مطلب یہ ہوتا آپ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہو ہمیں نہیں ہمارا ذبیحہ نہیں کھاتے ہوتے)ایک دن میں نے اس جملے پہ یہ جواب دیا مومنوں کی دعاؤں کی برکت سے بالکل ٹھیک ہیں (مطلب میرے جملے کا یہ تھا آپ لوگ اپنے کو مومن سمجھتے ہوں ہمیں نہیں )میرا یہ جواب سن کر فرمانے لگے اے دشمنان بڑے چالاک ہو،
رمضان المبارک میں ہم علی مسجد میں ہر سال تراویح میں ختم قرآن کا اہتمام کرتے ایک دفعہ ختم قرآن کے موقع پر ہم نے امیر علی شاہ استاذ محمد علی مجاہد کراچی اور یفتالی مرحوم کو بھی مدعو کیا آدھا سیپارہ باقی تھا جب ختم کرنے کے بعد دعا ہوگئی تو وتر پڑھنے سے پہلے آپ مسجد سے نکل گئے ہم نے صبح میٹھائی گھر پہنچائی ۔
جذبہ ایثار و ہمدردی
ہم نے اپنے قیام ہرچین کے دوران کئی بار بذات خود مشاہدہ کیا ک جہاں کہیں فوتگی ہوتی مرحوم سب سے پہلے وہاں پہنچ کر فاتحہ خوانی کے لئے بیٹھ جاتے اور تین دن تک مسلسل اہتمام کے ساتھ غم بانڈھنے میں شریک رہتے
آخر کار راہ عدم کا یہ راہی اس سفر پہ روانہ ہوا جہاں ایک نہ ایک دن سب کو جانا
افلاک رو رہے ہیں زمین بھی اداس ہے
آنسو بہا رہی ہے فضا تیری موت پر
جیسے گرا ہو کوہ گراں مجھ پر ٹوٹ کر
کوئی گیا ہے آج یوں دنیا سے روٹھ کر
دل دھک سے ہوکے رہ گیا سنتے ہی یہ خبر
تم چل دیئے ہو آج ہمیں تنہا چھوڑ کر



