شندور پولو کی تاریخ: چترال 17 جبکہ گلگت 14 ٹائٹلز کے ساتھ میدان میں سبقت لیے ہوئے
.
چترال ٹائمز خصوصی رپورٹ
دنیا کے بلند ترین پولو گراؤنڈ شندور میں کھیلا جانے والا روایتی شندور پولو فیسٹیول صرف ایک کھیل نہیں بلکہ چترال اور گلگت بلتستان کی ثقافت، تاریخ اور روایتی حریفانہ جذبے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اس تاریخی مقابلے میں دونوں خطوں کی ٹیمیں اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے میدان میں اترتی رہی ہیں۔
1982 سے 2026 تک شندور میں کھیلے گئے فائنلز کے ریکارڈ کے مطابق چترال نے مجموعی طور پر 17 جبکہ گلگت نے 14 مرتبہ ٹائٹل اپنے نام کیا ہے، جس کے باعث مجموعی برتری اب بھی چترال کے پاس ہے۔
ریکارڈ کے مطابق گلگت نے 1982 میں پہلا ٹائٹل جیتا، جبکہ چترال نے 1986 میں پہلی مرتبہ شندور کا تاج اپنے سر سجایا۔ اس کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان کئی یادگار اور سنسنی خیز مقابلے ہوئے جنہوں نے شندور پولو کو عالمی شہرت دلائی۔
چترال نے 1993، 1995، 1997، 2000، 2004، 2006، 2007، 2008، 2009، 2012، 2016، 2017، 2018، 2022، 2023 اور 2025 میں کامیابی حاصل کی، جبکہ گلگت نے 1982، 1989، 1990، 1991، 1992، 1994، 1996، 1998، 2001، 2002، 2003، 2005، 2011 اور 2026 میں ٹائٹل اپنے نام کیے۔
حالیہ ریکارڈ کے مطابق 2026 کے فائنل میں گلگت نے چترال کو ایک سخت اور دلچسپ مقابلے کے بعد 5 کے مقابلے میں 6 گول سے شکست دے کر شندور کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔ اس کامیابی کے باوجود مجموعی ٹائٹلز کی تعداد میں چترال کو اب بھی برتری حاصل ہے۔ان فتوحات میں لمبے عرصے تک کپتانی سرانجام دینے کا ریکارڈ بھی شہزادہ سکندرالملک کے پاس ہے۔
شندور پولو کی تاریخ میں بعض برسوں میں مقابلے مختلف وجوہات کی بنا پر منعقد نہیں ہو سکے۔ 1999 میں کارگل جنگ کے باعث میچ نہیں کھیلا گیا، جبکہ 2010 اور 2013 سے 2015 تک بائیکاٹ کی وجہ سے فیسٹیول متاثر رہا۔ اسی طرح 2020 اور 2021 میں کورونا وبا کے باعث مقابلے منسوخ کیے گئے جبکہ 2024 میں بھی شندور پولو فیسٹیول منعقد نہ ہو سکا۔
شندور پولو فیسٹیول کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہاں ’’فری اسٹائل پولو‘‘ کھیلا جاتا ہے جس میں رفتار، مہارت اور جارحانہ کھیل کا منفرد امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔ ہر سال ہزاروں ملکی و غیر ملکی سیاح، کھیلوں کے شائقین اور ثقافتی سرگرمیوں سے دلچسپی رکھنے والے افراد شندور کا رخ کرتے ہیں۔
پولو کو بادشاہوں کا کھیل اور کھیلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے، جبکہ چترال اور گلگت بلتستان میں اسے قومی کھیل کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ خطے کے عوام ہی ہیں جنہوں نے اس قدیم اور روایتی کھیل کو آج تک زندہ رکھا ہوا ہے۔ پولو ایک مہنگا کھیل ہے اور کھلاڑی سالانہ لاکھوں روپے اپنے گھوڑوں کی دیکھ بھال، تربیت اور دیگر اخراجات پر خرچ کرتے ہیں، تاہم اس کے باوجود اس کھیل سے ان کی وابستگی اور شوق میں کوئی کمی نہیں آئی۔
ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب چترال میں پولو کا مستقبل خطرے سے دوچار نظر آ رہا تھا اور ضلعی سطح کے ٹورنامنٹ میں صرف 13 ٹیمیں حصہ لے رہی تھیں، لیکن مقامی کھلاڑیوں، شائقین اور انتظامیہ کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں اس کھیل کو نئی زندگی ملی۔ اس سال پری شندور پولو ٹورنامنٹ میں ریکارڈ 63 ٹیموں نے شرکت کی، جو چترال میں پولو کے فروغ، مقبولیت اور عوامی دلچسپی کا واضح ثبوت ہے۔
کھیل کے ماہرین کے مطابق پولو صرف ایک کھیل نہیں بلکہ چترال اور گلگت بلتستان کے عوام کے درمیان ثقافتی رشتوں، روایات اور تاریخی تعلقات کا مظہر ہے، جو ہر سال نئی یادیں اور نئے ریکارڈ رقم کرتا ہے۔



