شمس الدین محمد تبریزی المعروف شمس تبریز وادی اویر میں اسلام کا پہلا چراغ – تحریر: رحمت عزیز خان، چترال ٹائمز
.
شمس تبریز کی چترال آمد اور سوانحِ عمری کا خاکہ
شمس تبریز 1185ء میں تبریز میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ اس کے بعد مدرسے میں اسلامی تعلیم کے حصول کے ساتھ قرآنِ مجید بھی حفظ کیا۔ آپ نے تصوف کا طریقہ خود حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی تعلیمات سے اخذ کیا۔ ایران اور وسطی ایشیائی ممالک سے سیاح تاجر کے بھیس میں بدخشان، افغانستان پہنچے۔ وہاں کچھ مدت قیام کے بعد ہندوکش پہاڑوں کے درمیان کسی درے سے موژین، وادی اویر پہنچے۔ یہاں کچھ مدت رہنے کے بعد یہاں سے ملتان چلے گئے۔ ملتان سے ترکی میں مولانا رومی کے پاس پہنچے۔ اس کے بعد شمس تبریز کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ترکی سے دمشق اور پھر ایران پہنچ کر طبعی موت مرے اور ایران کے خوئے میں دفن ہوئے۔ بعض کہتے ہیں کہ مولانا رومی کے بیٹے نے مولانا رومی کے شاگردوں کی مدد سے شمس تبریز کو قتل کروایا اور وہ ترکی ہی میں دفن ہوئے۔
شمس تبریز جہاں بھی گئے ہیں، وہاں پر آپ کی زیارت، درگاہ یا مقبرہ ضرور بنایا گیا ہے۔ اس سے ایک کنفیوژن پیدا ہوا کہ اصل مقبرہ کہاں ہے۔ ایک اور پریشانی یہ ہے کہ بعد میں کئی شمس اور نکلے، لیکن وہ شمس الدین محمد تبریز کی طرح کرامت والے نہیں تھے۔ کرامت والے صرف مولانا روم کے استاد یہی شمس تبریز ہیں جو اویر آئے۔
وادی اویر، اپر چترال میں اسلام کی اشاعت کا آغاز بارہویں صدی عیسوی کے ایک عظیم صوفی بزرگ شمس الدین محمد تبریزی کے دستِ مبارک سے ہوا۔ آپ شمس تبریز کے نام سے مشہور ہوئے۔ تاریخی روایات کے مطابق آپ نے غالباً 1230ء میں وادی اویر میں ایک خانقاہ کی بنیاد رکھی۔ یہ خانقاہ بعد میں تین کمروں، ایک برآمدے اور کھلے صحن پر مشتمل ایک عظیم الشان درگاہ کی صورت اختیار کر گئی۔ افسوس کہ آج وہ درگاہ صفحۂ ہستی سے مٹ چکی ہے اور صرف کھنڈرات کی صورت میں موجود ہے۔
اسلام کا پہلا مرکز
شمس تبریز نے چترال میں پہلی بار تصوف کی تعلیم اور دینِ اسلام کی اشاعت کا کام اسی خانقاہ سے شروع کیا۔ یوں چترال میں اسلام کا باقاعدہ ظہور شمس الدین محمد تبریزی کی آمد سے ہوا۔ (اگرچہ ناصر خسرو اس سے پہلے گیارہویں صدی میں گرم چشمہ لوٹکوہ میں اسلام کا پیغام پہنچا چکے تھے۔) آپ نے خانقاہ کے ساتھ ایک مسجد بھی تعمیر کی۔ ایک اور مسجد وادی اویر کے گاؤں شونگوش میں بنائی، جو آج بھی جدید شکل میں قائم ہے اور آپ کی یادگار ہے۔ روایات کے مطابق آپ نے اپنی کرامت سے کئی بے آب علاقوں میں پانی کے چشمے بھی جاری کیے۔ اسی طرح بہت سی کرامات دکھائیں۔
گوز کافر کا واقعہ: ایک اور کرامت، جو پتھر بن گیا
جب شمس الدین نے خانقاہ قائم کی تو اس کے قریب ڈھلان پر صنوبر اور بوڑی کے گھنے جنگلات کے درمیان “گوز کافر” کے نام سے ایک طاقتور شخص آباد تھا۔ اس کا گھر تختہ نما چوڑے پتھروں سے بنا ہوا تھا۔ گھر کے نیچے ایک زیرِ زمین کمرہ بھی تھا، جس میں سیڑھی کے ذریعے جایا جاتا تھا۔
گوز کافر نے شمس تبریز کو یہاں سے بھگانے کے لیے آپ کو اور آپ کے مریدوں کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔ شمس تبریز کی دعا سے وہ سارے جنگلات جڑوں سے اکھڑ کر وادی لوٹکوہ کی طرف چلے گئے اور وہاں جا کر لگ گئے۔ اویر کا علاقہ درختوں سے خالی ہو گیا۔ صرف چند صنوبر کے درخت باقی بچے۔ اس کے باوجود گوز کافر باز نہ آیا تو آپ نے اس پر برفانی تودہ گرایا، مگر وہ پھر بھی بچ گیا۔ آخرکار تنگ آ کر شمس تبریز نے اسے بددعا دی، جس کے نتیجے میں گوز کافر اپنے اہل و عیال اور سامان سمیت اسی زیرِ زمین کمرے میں پتھر بن گیا۔
علاقے کے بزرگوں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے اس کمرے تک جاتے تھے اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ گوز، اس کے اہل و عیال اور گھریلو سامان پتھر کے مجسموں کی صورت میں وہاں موجود ہیں۔ روایت ہے کہ یہ کمرہ روایتی چترالی “بئی پش” کی طرز پر پانچ ستونوں پر قائم ہے۔ اس کے ستون، دیواریں اور چھت سب پتھر کی ہیں۔ بعد میں کچھ لوگ وہاں گئے تو آکسیجن کی کمی سے بے ہوش ہو گئے۔ اس کے بعد لوگوں میں مشہور ہو گیا کہ کمرے میں بھوتوں کا اثر ہے اور لوگ وہاں جانے سے ڈرنے لگے۔ درگاہ کے انہدام کے وقت اس کمرے کا دہانہ بھی پتھروں سے بند کر دیا گیا۔
یہ مقام ایک حل طلب معمہ ہے۔ محکمہ آثارِ قدیمہ اور سیاحوں، دونوں کے لیے یہ جگہ انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اسے ایکسپلور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
درسگاہ سے درگاہ تک
شمس تبریز کی یہ خانقاہ وادی اویر میں ایک اسلامی مدرسے کے طور پر اسلام کی بنیادی تعلیمات کا مرکز رہی۔ جب خانقاہ سے تصوف اور دینی تعلیم کا سلسلہ ختم ہوا تو لوگوں نے اسے صرف زیارت گاہ بنا لیا اور اپنی طرف سے کئی بدعات شروع کر دیں۔ اسے درگاہ اور زیارت گاہ کے نام سے پکارا جانے لگا۔
ان بدعات میں سے ایک یہ تھی کہ درگاہ سے بہت دور پختوری کے مقام پر سور خمینی نام کی ایک جگہ ہے۔ زائرین جب وہاں پہنچتے تو سر جھکا کر چلتے ہوئے درگاہ پل عبور کر کے درگاہ تک جاتے تھے۔ کچھ لوگ اولاد اور دوسری مرادیں اللہ کے بجائے شمس تبریز سے مانگتے تھے۔ یہی بدعات علمائے کرام کو ناگوار گزریں اور یہ درگاہ کے مسمار کیے جانے کا سبب بنیں۔ درگاہ کے مسمار ہونے کے ساتھ جو نوادرات موجود تھے، انہیں درگاہ کے اندر موجود سوراخ میں ڈال دیا گیا۔ درگاہ کے قریب موجود متبرک صنوبر کے درخت بھی کاٹ دیے گئے، جن کے نیچے بیٹھ کر شمس تبریز کبھی مریدوں کو درس دیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ اوپر ایک ڈھلان پر برجی ہے، وہ بھی شمس تبریز سے منسوب ہے۔
کرامات اور متبرکات
یہ بات متفقہ تھی کہ شمس تبریز کی درگاہ میں مانگی گئی ہر دعا قبول ہوتی تھی۔ درگاہ میں جھنڈا نما “طوغ” رکھے جاتے تھے۔ مریدین ان طوغوں کو لے کر مختلف مقاصد کے لیے گاؤں گاؤں جاتے، لوگوں کو دعائیں دیتے اور نذر وصول کرتے۔ ان طوغوں کو فصلوں کی بہتری، بیماریوں سے نجات اور برکت کے لیے گھمایا جاتا تھا۔
درگاہ کے تین کمرے تھے۔ پہلا کمرہ زائرین کے لیے، درمیانی کمرہ مریدوں کے لیے اور اندرونی کمرہ شمس تبریز کے متبرکات رکھنے کے لیے مخصوص تھا۔ اندرونی کمرے کے ایک کونے میں ایک ایسا سوراخ تھا جس سے ایک آدمی گزر سکتا تھا۔ اس سوراخ کے دہانے پر دائیں جانب شمس تبریز کے دائیں ہاتھ اور پاؤں کے نشانات اور بائیں جانب بائیں ہاتھ اور پاؤں کے نشانات پتھر میں گہرائی تک نقش تھے۔ خوش محمد سمیت کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سوراخ میں بڑے بڑے پتھر گرانے پر وہ کسی چیز سے ٹکرائے بغیر خاموشی سے غائب ہو جاتے تھے۔ مشہور ہے کہ شمس تبریز یہاں سے غوطہ لگا کر ملتان میں نکلے تھے۔
شمس تبریز کی خانقاہ اور تاریخی پیش گوئی
مرورِ زمانہ کے ساتھ یہ عظیم درگاہ غالباً 1990ء کی دہائی میں علمائے کرام کے ہاتھوں مسمار کر دی گئی۔ اب صرف اس کے کھنڈرات باقی ہیں اور شمس تبریز کی خالی زمین وہاں پڑی ہے۔
اس درگاہ کے علاوہ شمس تبریز کی ایک چھوٹی خانقاہ بریشگرام، کریم آباد لوٹکوہ میں بھی موجود تھی، جو آج بھی محفوظ ہے۔ روایت ہے کہ آپ نے وہاں چلہ بھی کاٹا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ آپ چترال کے دیگر علاقوں میں بھی گئے ہوں، مگر اس کے شواہد موجود نہیں۔
کہا جاتا ہے کہ شمس الدین کے مریدوں میں چترالی شاہی خاندان کے جدِ امجد درویش مرزا محمد ایوب بھی شامل تھے، جو بابا ایوب کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ شمس تبریز نے بابا ایوب کے بارے میں پیش گوئی کی تھی کہ تمہاری اولاد سات پشت تک حکمران رہے گی، جو حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ “عاشقے” قبیلے کے جدِ امجد شیخ ایوب، جو بابا ایوب کے بڑے بھائی تھے، بھی شمس تبریز کے ساتھ آئے تھے۔
ایک واقعہ مشہور ہے کہ شمس تبریز بریشگرام جاتے ہوئے مریدوں سے فرما گئے کہ میری واپسی تک خانقاہ میں رہنا، کہیں نہ جانا۔ جب کئی دن تک آپ واپس نہ آئے تو شیخ ایوب بے صبری میں اویر آن کے راستے آپ کی تلاش میں بریشگرام کی طرف چل پڑے۔ راستے میں شمس تبریز سامنے آ گئے اور فرمایا: “بے صبر! میرے پیچھے کیوں آئے؟” پھر شیخ ایوب کے بارے میں فرمایا کہ تیری اولاد بابا ایوب کی اولاد کے مقابلے میں کم پھیلے گی، نہ بہت دولت مند ہوگی اور نہ بہت غریب۔ اور بابا ایوب سے فرمایا کہ تیری اولاد سات پشت تک چترال پر حکمران رہے گی، اور ایسا ہی ہوا۔


