اویر گاوں سے تریچ کی سیر ۔ تحریر رحمت عزیز خان
(چترال ٹائمز)
گورنمنٹ ہائیر سکینڈری سکول بروم سے اٹھارہ رکنی اساتذہ اور سٹوڈینٹس پر مشتمل ایک ٹیم گرمائی چٹھیوں کے اعاز میں وادی تریچمیر کے مطالعاتی ٹور پر روانہ ہوئی۔ غالباً تین بجے ہم علاقہ شابرونز پہنچے۔ اس علاقے سے آگے وادی تریچمیر شروع ہوتا ہے۔ جو پانچ گھنٹے کی مسافت پر تریچمیر بیس کیمپ شوکھور شال پہنچ جاتا ہے۔ شاہبرونز میں ہم بابر عالم کے گھر میں ٹھرے۔ بابر عالم کا گھر بہت بڑا اور خوبصورت گھر ہے جو6 ٹورسٹ کے ٹہرنے کےلئے بہت بہترین گیسٹ ہاوس ہے۔ بابر عالم کے والد چیرمین صاحب بھی بہت دلکش مہمان نواز اور قدردان شخصیت ہیں ۔
عصر کے وقت اوزیغ غاری کے چکر کو نکلا جو انتہائی دلکش اور خود رو پھولوں سے مزین خوبصورت مقام ہے۔ اوزیغ میں اس تاریخی کوڑوم گاز کی خوبصورتی کا لطف اٹھایا۔ یہ وہ مشہور کوڑوم گاز ہے جہاں چترالی دل آویز گانا تخلیق ہوا ہے۔
مہ ژان کوڑوم گازو کی ہائے اوا گوم سلامو
تہ سوم برابر نو جاشوم ہیہ کھل عالمو۔:
اسی مقام سے بروم، بروم غاری اور ریری کا نظارہ کیا جاتا ہے۔ ٹورسٹ سائٹ گول غاری اور وادی تریچمیر کے درمیان سفر کرنے والے ٹورسٹ کےلئے کوڑوم گاز ایک بہترین کیمپنگ ٹورسٹ سائٹ ہے۔
صبح آٹھ بجے ہم بابر عالم کے گھر سے ناشتہ کیااور چیئرمین کی عنایت کردہ بوٹ اور چھڑی کے ساتھ بسوئے تریچمیر سفر جاری رکھا۔
جونہی ہم شابرونز سے نکلے تو ہمارا سفر ایک لمبی نہر کے کنارے کے ساتھ جاری رہا جو نیچے کافی دور تک سلوپ واقع ہے۔ یہ مقام بجلی گھر بنانے کےلئے بہت آئیڈیل ہے۔ یہاں پر کئی بجلی گھر بن سکتے ہیں۔اس نہر کے آخری حصے کے اوپر ایک خوبصورت غاری بروغ واقع ہے بروغ کے قریب چیتور غاری ہے۔ ادبی دنیا میں اس مقام کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ ایک مشہور چترالی گانا ٫ جو گولان امبیشہ تہ غاری دوردانہ تو اسوس کی تخلیق بھی یہاں سے ہوئی ہے۔ یہاں سے آگے یہ وادی کچھ فاصلے تک تنگ ہے پھر یہ ایک کھلی وادی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ چیتور غاری سے آگے ندی کے کنارے دو مقامات میں گرم چشمے ہیں۔ جہاں پہلے زمانے میں اپر اور لوئر چترال سے بہت ذیادہ لوگ نہانے آتے تھے۔ اب یہ سلسلہ رک گیا ہے۔ اس لئے کہ گاڑی یہاں نہیں پہنچتی ہے۔ اور اس کو کئی امراض کےلئے شفا تصور کیا جاتا ہے۔بعد میں لوگ اس کے متبادل لوٹ کوہ کا گرم چشمہ استعمال کرنے لگے وہاں گاڑی آسانی سے پہنچتی ہے۔
راستے میں ایک مقام پر درختوں کے سائے میں ٹہرے، چائے اور ریفریشمنٹ کے بعد آگے سفر جاری رکھا۔ دوپہر ایک بجے ہم سکول گرمائی اور مطالعاتی کیمپینگ سائٹ شوکھور شال پہنچ گئے۔
یہاں دنبہ ذبح کرکے دوپہر کا کھانا کھایا۔ اس کے بعد شام تک شوکھور شال کے گھنے جنگلات اور گلیشیئر کا ہر ایک نے اپنی مرضی سے سیر کیا۔ رات کو ادبی پروگرام منعقد کیا گیا۔ اگلی صبح ہم تریچمیر کے بلکل دامن میں اوچھانجوع کے قریب پہنچ کر واپس اپنے کیمپ آ گئے۔
وادی تریچمیر کو بران گول اور بروم گول بھی کہتے ہیں۔ یہ مشہور شکار گاہ ہے۔ یہاں ائبیکس اور ہرن بکثرت پائے جاتے ہیں۔ مارخور یہاں نہیں پایا جاتا ہے۔برفانی چیتا بھی یہاں رہتا ہے۔ تیتر اور چکور اس شکارگاہ میں بہت ذیادہ ہیں۔
شوکھور شال تریچمر کا بیس کیمپ ہے۔ناروے کی ٹیم انیس سو پچاس میں شوکھور شال کو بیس کیمپ بنا کر تریچمیر سر کر چکی تھی۔ شوکھور شال ایک مستطیل نما کافی کھلی جگہ ہے۔ اس کے دو حصے ایک دوسرے سے متوازی ہیں۔ جو شمال معرب سے جنوب مشرق کی طرف ایک جینٹل سلوپ پر تریچمیر کے دامن تک پھیلا ہوا ہے۔ شمال مشرقی حصے میں جنگل اور جنوب مغربی حصے میں بروم گلیشیر جو ایک دوسرے کی متوازی شوکھور شال کے شروع سے تریچمیر کے دامن تک پھیلا ہوا ہے۔ جنگل اور گلیشیر کے درمیان کم ابھری ہوئی ایک لائن یا ڈھلان بروم گلیشیر اور جنگل کے درمیان باؤنڈری کا کام دیتی ہے اسی باؤنڈری سے گزرتے ہوئے جنگل اور گلیشیر کے نظارے کا خوب لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔ اور اس لائن کے دونوں طرف پھول ہی پھول ہیں۔ شوکھور شال جنگل کے ارد گرد واقع پہاڑ سولہ ہزار سے تئیس ہزار فٹ بلند ہیں۔ کہیں یہ پہاڑ انتہائی گہرے ڈھلان پر مشتمل ہیں اور کہیں پر کم ڈھلاندار ہیں۔
شوکھور شال ایک پلین ایریا ہے جس کے شروع میں کیمپنگ سبزہ زار ہے۔ قدرتی نہریں شوکھور شال جنگل کے درمیان سے بہتی ہیں۔اسی کیمپنگ ایریا میں مختلف کھیلوں پولو، فٹبال، کرکٹ وغیرہ کےلئے ایک وسیع میدان ہے۔ جو قابل مرمت ہے۔
شوکھور شال میں صنوبر، بید، بوڑی اور اشپین کا گھنا جنگل ایک وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے جس کے اندر اپنے لئے راستہ بنانا مشکل ہوتا ہے۔ جنگل سے آگے ایک غار جس میں شکاری حضرات ٹہرتے ہیں۔ اس کمرہ نما غار میں سات آٹھ بندے بیک وقت رات گزار سکتے ہیں اس غار کو شکار کا کوٹو کہتے ہیں۔ جو بارش اور ہوا لگنے سے محفوظ ہے۔ شوکھور شال کے مقام سے تریچمیر مغرب کی طرف نظر آتا ہے
شوکھور شال کا موسم گرما میں بہت خوشگوار ہے۔ یہاں آ کر یہ محسوس نہیں ہوتا ہے کہ ہم اونچائی پر تریچمیر کے پہاڑوں کے دامن میں ہیں۔ یہاں گاؤن کا سا ماحول محسوس ہوتا ہے۔ شاہ برونز کے بیل شام کے وقت خوب نخرے اور طاقت آزمائی کرکے رات کو جنگل کے بیج غائب ہو جاتے ہیں یہاں رات کو بھی سردی محسوس نہیں ہوتی ہے۔ رات کو صرف بنیان یا واسکٹ پہنے سے سردی نہیں لگتی ہے۔
اوچھانجوع یہ بھی ایک خوبصورت مقام ہے جو کافی کھلا سبزہ زار ہے اس میں بھی بید اور بوڑی کے درختیں اور پھول پائے جاتے ہیں۔ یہاں پانی کی نیلی جھیل پائی جاتی ہے جو دلکش منظر پیش کرتی ہے۔ جولائی کے شروع سے ستمبر تک انواع و اقسام کے پرندوں کے جھنڈ یہاں آتے ہیں اور شوکھور شال تک پھیل جاتے ہیں۔اوچھانجوغ تریچمیر کا دوسرا کیمپ ہے۔ یہاں سے تریچمیر کی بلند چوٹی کی طرف سفر شروع ہوتا ہے ۔
گلیشیر اس وادی میں پسپائی کا شکار ہے۔گلیشیائی لینڈ فارم کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ گلیشیر شوکھور شال سے کئی کلومیٹر نیچے تک موجود تھا۔ جو پسپا ہوکر شوکھور شال تک پہنچ چکا ہے۔بروم گلیشیر شوکھور شال سے تریچمیر کے دامن تک جنوب مشرق سے شمال مغرب کی طرف پھیلا ہوا ہے۔ اس گلیشیر کی چوڑائی پچیس ہزار فٹ اور لمبائی کئی کلومیٹر ہے۔ یہ وادی آگے جاکر مزید تین حصوں میں بٹ جاتی ہے۔ مین بروم گلیشیر تریچمیر کو مل جاتی ہے۔ دونوں اطراف سے برف کے تودے مین بروم گلیشیر کے ساتھ شامل ہوتے ہیں۔
تریچمیر ہندو کش رینج کی سب سے اونچی چوٹی ہے۔ جس کی بلندی سطح سمندر سے سات ہزار سات سو آٹھ میٹر ہے۔ اس کے دامن میں وادی اویر وادی تریچ اور وادی کریم آباد لوٹ کوہ واقع ہیں۔ تریچمیر سے نکلنے والا پانی کے ندی نالے لوٹ کوہ سے تورکھو تک پھیلے ہوئے ہیں جو ایک وسیع علاقے میں پانی اور روشنی کے ذرائع ہیں۔ تریچمیر کی چار بلند چوٹیاں جو ایک دوسرے کے قریب واقع ہیں ان چوٹیوں کی بلندی میں معمولی سا فرق ہے۔ان میں سے ایک چوٹی سامنے دکھائی دے رہی ہے 7ہے۔
وادی تریچمیر میں میڈیسنل پلانٹز پھول اور سبزیاں بھی پائی جاتی ہیں تریچمیر کے دامن میں کئی وادی نما درے ہیں جو وادی تریچ، گول غاری اور اویر آن میں کھلتے ہیں ہر ایک چھوٹی گرج نما وادی کی اپنی الگ خصوصیت ہے۔
معدنی لحاظ سے یہ وادی مختلف معدنیات کا ماخذ ہے۔ یہاں پتھروں پر چلتے ہوئے اہل علم کو پانچ قسم کے قیمتی معدنیات کی موجودگی کی شہادت ملتی ہے۔ یہ علاقہ ہمارے پاکستانی لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہا ہے۔ صرف انگریز ہی یہاں آ کر خوب انجائی کرنے کے ساتھ اپنے دیگر مقاصد حاصل کر چکے ہیں۔ انیس سو پچاس میں ناروے کی ٹیم پروفیسر نائیس کی سربراہی میں ایک ماہ سے ذیادہ عرصہ یہاں ٹھر کر تریچمیر بھی سر کر لیا اور یہاں ریڈیو اسٹیشن قائم کرکے اس مقام کا رابطہ دنیا کے ساتھ جوڑا تھا۔ ہمارے بڑے اب تک اس اہم ٹورسٹ سائٹ سے بے خبر ہیں۔اس علاقے سے صرف شابرونز کے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ حکومت اس علاقے کی طرف کبھی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھی ہے۔
وادی تریچمیر میں کئی اقسام کے جانور رہتے ہیں ان میں ائبیکس، ہرن، برفانی چیتا، تیتر، چکور، خرگوش، چوہے، شاہیں، چیل،چغاڑی میگپئی ابابیل، چپکلی، گرگٹ اور کئی قسم کے چھوٹے پرندے یہاں پائے جاتے ہیں۔خاص کر مڈ جولائی سے اگست کے آخر تک یہاں انواع و اقسام کے پرندے جمع ہو جاتے ہیں۔
گورنمنٹ ہائیر سکینڈری سکول بروم کے سٹیڈی ٹور کے ایجنڈے میں چٹان، معدنیات، گلیشیر، گلیشیائی مورین، زمین کی ساخت، گلیشیر کی پسپائی، موسم، تریچمیر کا نظارہ، جنگل اور جنگلی حیات شامل تھے۔ جغرافیہ کا طالبعلم ہونے کے ناطے یہ سٹیڈی ٹور میرے لئے انتہائی اہم تھا۔ خوب انجائی کیا۔
اس علاقے کی تاریخی اور جغرافیائی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے گورنمنٹ یہاں تریچمیر فیسٹیول یا کوئی ایونٹ منا کر اس اہمیت کو مزید اجا گر کرے۔ یہاں کا ماحول ایونٹ منانے کےلئے خوشگوار ہے۔
اگر حکومت یہاں ٹورزم کو پروموٹ کرے تو اس سے نہ صرف یہ علاقہ ترقی کرے گا بلکہ ملک کی معیشت میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس سلسلے میں صرف اس علاقے تک راستہ بہتر بنانا ہے۔ اور شوکھور شال میں گیسٹ ہاؤس تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی جنگلات اور جنگلی حیات کا بھی تحفظ ضروری ہے۔
یونہی وادی تریچمیر کے دو دنوں کی سیاحت اور اسٹیڈی ٹور ناقابل فراموش یادوں کے ساتھ بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا ۔

