چترال میں خودکشی کے بڑھتے واقعات: ایک خاموش المیہ، ایک بڑا سوال – تحریر: نورالہدیٰ یفتالی
.
چترال، جسے دنیا اپنی قدرتی خوبصورتی، امن، مہمان نوازی اور مضبوط ثقافتی روایات کے باعث جانتی ہے، آج ایک ایسے خاموش المیے کا سامنا کر رہا ہے جس پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے اس پُرامن معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ خصوصاً نوجوانوں میں ایسے واقعات اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ ذہنی دباؤ، جذباتی الجھنوں اور نفسیاتی مسائل کو نظر انداز کرنا مستقبل کے لیے ایک سنگین چیلنج بن سکتا ہے۔
سال 2026 میں اپر چترال کے مختلف تھانوں سے موصولہ اعداد و شمار کے مطابق خودکشی کے 10 واقعات رونما ہوئے، جن میں ایک مرد اور نو خواتین شامل تھیں۔ تھانہ تورکہو میں 3، موڑکہو میں 4، اویر میں 2 جبکہ مستوج میں ایک واقعہ پیش آیا۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان واقعات میں نوجوان افراد کی تعداد نمایاں تھی، جن کی عمریں 15 سے 35 سال کے درمیان تھیں۔
سال 2026 کے دوران لوئر چترال میں رپورٹ ہونے والے خودکشی کے 7 واقعات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف عمر، جنس اور سماجی پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد اس مسئلے سے متاثر ہوئے۔ ان واقعات میں گھریلو پابندیاں، تعلیمی دباؤ، بیماری، ذہنی پریشانی، معذوری اور صحت کے مسائل نمایاں وجوہات کے طور پر سامنے آئے۔ زیادہ تر متاثرین نوجوان اور غیر شادی شدہ تھے، جبکہ بعض واقعات میں ذہنی دباؤ اور طویل بیماری نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ معاشرے میں ذہنی صحت، بروقت کونسلنگ، خاندانی تعاون اور آگاہی کے نظام کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پریشانی کا شکار افراد کو بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔
ان واقعات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ خودکشی کسی ایک وجہ کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ کئی سماجی، نفسیاتی اور ذاتی عوامل مل کر ایک فرد کو یہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ بعض نوجوان تعلیمی ناکامی، بیماری، تنہائی یا گھریلو دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے اپنی مشکلات کا اظہار نہیں کر پاتے۔
سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ان واقعات میں بڑی تعداد نوجوانوں اور خواتین کی ہے۔ کم عمری میں زندگی سے مایوسی اختیار کرنا صرف ایک خاندان کا نقصان نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک سنجیدہ سوال بھی ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو کس حد تک سن رہے ہیں اور ان کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
چترال میں ذہنی صحت کے مسائل کو اب بھی اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ خودکشی کو صرف ایک خبر یا حادثہ سمجھنے کے بجائے صحتِ عامہ اور ایک اہم سماجی مسئلے کے طور پر لیا جائے۔ اسکولوں، کالجوں اور کمیونٹی کی سطح پر ذہنی صحت سے متعلق آگاہی، کونسلنگ کی سہولیات اور نوجوانوں کے لیے معاون ماحول پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
والدین، اساتذہ اور معاشرے کے تمام طبقات کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کے مسائل کو سمجھیں، ان کے جذبات کو اہمیت دیں اور انہیں تنقید کے بجائے اعتماد، حوصلہ اور تعاون فراہم کریں۔ ایک ہمدرد اور مضبوط معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں پریشان حال افراد کو تنہا نہیں چھوڑا جاتا بلکہ انہیں سہارا دیا جاتا ہے۔
خودکشی کے یہ واقعات ہماری اجتماعی ذمہ داری کا امتحان ہیں۔ اگر ہم نے ذہنی صحت، خاندانی روابط اور نوجوانوں کے مسائل پر بروقت توجہ نہ دی تو یہ خاموش بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم زندگی کو بچانے، امید پیدا کرنے اور ایک دوسرے کا سہارا بننے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
اس رپورٹ کی تیاری میں ڈسٹرکٹ پولیس اپر چترال اور ڈی پی او لوئر چترال کی انتظامیہ کے تعاون اور اعداد و شمار کی فراہمی پر ہم ان کے مشکور ہیں۔ ان کی معاونت سے یہ رپورٹ مرتب کی گئی۔
