چترال پر گلوبل وارمنگ اور خاکی ذرات کا دوہرا وار ۔ تحریر رحمت عزیز خان
برونزک، اپر چترال 30 جون 2026، دوپہر 12:15 بجے
تحریر رحمت عزیز خان چترال ٹائمز
۔
آج برونزک پرپیش اپر چترال میں دن کا درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ محض ایک عدد نہیں، بلکہ ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔
یہ درجہ حرارت اس سال اب تک کا سب سے زیادہ ہے۔ جون کے مہینے میں ہم نے اپنی یادداشت میں کبھی اتنی گرمی ریکارڈ نہیں کی۔ پچھلے سال یہی 39°C ہمیں جولائی کے تیسرے عشرے میں ملا تھا۔ آج وہ جولائی کی گرمی جون میں آ گئی ہے۔
انتالیس ڈگری سینٹی گریڈ میں پنتالیس ڈگری سینٹی گریڈ کی تپش محسوس ہو رہی ہے۔سوال یہ ہے کہ آخر چترال میں یہ بے پناہ گرمی کیوں بڑھ رہی ہے؟
پہلی وجہ: گلوبل وارمنگ کا سب سے زیادہ شکار چترال ہے
میرا ماننا ہے کہ گلوبل وارمنگ کے اثرات دنیا کے دوسرے علاقوں کی نسبت چترال پر سب سے زیادہ شدید ہیں۔ پہاڑی علاقے میدانی علاقوں کے مقابلے میں بہت تیزی سے گرم ہو رہے ہیں۔ چترال اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔
دوسری وجہ: فضاء میں زہر کی طرح پھیلتے خاکی ذرا ہیں
درجہ حرارت کے ساتھ چترال کی فضاء ایک اور خطرے سے بھری ہوئی ہے، اور وہ خاکی ذرا کی فضاء میں کثرت ہے
اس گرد کے چار بڑے ذرائع ہیں
چترال-مستوج شاہراہ ؛ جس سے چھ سال قبل ترکول اکھاڑ دیا گیا تھا اور آج تک مکمل نہ ہو سکا۔
مقامی کچے روڈز: جن کی طرف حکومت کی کوئی توجہ نہیں. تھریشینگ: گندم کی تھریشینگ کے دوران اٹھنے والا باریک گرد
روڈ کنسٹرکشن کے دوران اٹھنے والی خاکی ذرات۔
جب فضاء میں خاکی ذرات کی مقدار بڑھ جاتی ہے تو اس کے مضر اثرات شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ خاکی ذرات جس چیز پر بھی گر جاتی ہیں۔ اس کو برباد کرتی ہے
خاکی ذرات کے چار ہولناک نقصانات درجہ حرارت میں اضافہ کے باعث ہیں
خاکی ذرات سورج کی روشنی اور زمین سے خارج ہونے والی حرارت کو جذب کر لیتی ہیں۔ اس طرح یہ خود گرم ہو کر فضاء کے درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں چترال میں انتالیس ڈگری سنٹی گریڈ پینتالیس ڈگری سنٹی گریڈ لگ رہا ہے۔
. بیماریوں کا پھیلاؤ: طبی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہی خاکی ذرات جراثیم کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ اگر جراثیم شامل نہ بھی ہوں تو یہ ذرات سانس کی نالی میں جا کر گلے کی خراش، دمہ اور دیگر پھیپھڑوں کی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔
. زراعت کو نقصان: جغرافیائی طور پر، فضاء کے گرد سے فصلوں، سبزیوں اور پھلوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ سبز پتوں پر گرد کی تہ جم جانے سے ضیائی تالیف کا عمل رک جاتا ہے، جس سے پیداوار میں نمایاں کمی آ جاتی ہے۔
. گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلاؤ اور سیلاب: سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ جب یہ خاکی ذرات فضاء میں بلند ہو کر گلیشیر کی سطح پر بیٹھ جاتے ہیں تو وہاں
گرد کی ایک تہ بنا دیتے ہیں۔ جب سورج کی کرنیں اس کالی سی تہ پر پڑتی ہیں تو وہ سفید برف کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ حرارت جذب کرتی ہے۔ نتیجہ: گلیشیر غیر معمولی تیزی سے پگھلتا ہے اسی وجہ سے گزشتہ چند سالوں سے چترال کے ندی نالوں اور دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے، زمین کٹ رہی ہے اور سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
حکومت کی بے حسی: مسئلے کا اصل زمہ دار کون؟
گزشتہ چند سالوں سے چترال انہی خاکی ذرات کی وجہ سے بیماریوں، فصلوں کی تباہی اور سیلاب جیسے مسائل کا شکار ہے۔
لیکن حکومت آج تک اس سنگین مسئلے سے بے خبر ہے۔ اس مسئلے پر ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھایا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ چترال کو خاک آلود کرنے اور نقصان پہنچانے کا اصل ذمہ دار خود حکومت ہے۔
مانا کہ حکومت گلوبل وارمنگ کے اثرات کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتی، لیکن کم از کم اس میں کمی تو لا سکتی ہے۔
چھ سال گزر گئے، مستوج روڈ سے ترکول اکھاڑ کر اسے کچا کر دیا گیا، لیکن آج تک پکا نہ ہو سکا۔ لوکل روڈز تو حکومت کو نظر ہی نہیں آتے۔ اسی ستم ظریفی میں ہم چترال والے جی رہے ہیں۔ ہمارا دم گھٹ رہا ہے، لیکن کسی کو پرواہ نہیں۔
آخر میں ایک مطالبہ
چترال کو ان تکالیف سے بچانے کے لیے میرا حکومت سے پُرزور مطالبہ ہے کہ:
. مستوج روڈ کو اکتوبر 2026 تک ہر صورت مکمل کیا جائے۔ کب تک ہم دم چک ہوتے رہیں گے
تمام لوکل روڈز کو پختہ کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
تاکہ خاکی ذرات کی فضاء میں کثرت سے موجودگی کے باعث پیدا ہونے والے نقصانات سے چترال کو نجات مل سکے

