چترال کے گلیشئرز اور کلائمیٹ چینج – تحریر: سیف الرحمن عزیز
.
دنیا اس وقت اپنی تاریخ کے ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی صرف ایک سائنسی اصطلاح نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت بن چکی ہے۔ دنیا کے تقریباً تمام ممالک کسی نہ کسی شکل میں اس کے اثرات بھگت رہے ہیں۔ کہیں شدید گرمی کی لہریں جانیں لے رہی ہیں، کہیں غیر معمولی بارشیں تباہی مچا رہی ہیں، کہیں جنگلات آگ کی لپیٹ میں ہیں اور کہیں ہزاروں سال پرانے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں۔
انٹرگورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج (IPCC) کی متعدد رپورٹس خبردار کر چکی ہیں کہ اگر عالمی درجہ حرارت میں اضافہ اسی رفتار سے جاری رہا تو آئندہ چند دہائیوں میں دنیا کے بڑے گلیشیئرز کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر ان علاقوں پر پڑے گا جہاں سے دریاؤں کا آغاز ہوتا ہے، اور انہی علاقوں میں پاکستان کا ضلع چترال بھی شامل ہے۔
اگر پاکستان کے جغرافیے کو انسانی جسم سے تشبیہ دی جائے تو چترال، گلگت بلتستان اور شمالی پہاڑی سلسلے اس ملک کا “سر” ہیں۔ جس طرح سر میں معمولی چوٹ بھی پورے جسم کو متاثر کرتی ہے، اسی طرح اگر شمالی علاقوں کے گلیشیئر، پہاڑ اور آبی ذخائر متاثر ہوں تو اس کے اثرات صرف چترال تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے پاکستان کی زراعت، معیشت، ماحول اور آبی وسائل خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔
چترال کے بالائی اور سرحدی علاقے، خصوصاً بروغل، سور لاسپور، کھوت، ریچ، تریچ بالا، گوبور، مدک لشٹ اور کالاش ویلی کے آخری حصے، نہایت اہم ماحولیاتی خطے ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں برفانی ذخائر موجود ہیں اور جہاں سے نکلنے والا پانی دریائے چترال میں شامل ہو کر آگے دریائے کابل کے ذریعے پاکستان کے وسیع زرعی علاقوں کو سیراب کرتا ہے۔ لاکھوں ایکڑ زرعی زمین کی زرخیزی کا انحصار انہی برفانی ذخائر پر ہے۔
بدقسمتی سے کلائمیٹ چینج کے عالمی اثرات کے ساتھ ساتھ ہم خود بھی ان نازک علاقوں پر اضافی دباؤ ڈال رہے ہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
بروغل کے آخری حصوں میں، جہاں حساس گلیشیئرز موجود ہیں، گزشتہ چند برسوں سے مختلف فیسٹیولز کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ ہر سال ان تقریبات میں شرکت کے لیے درجنوں گاڑیاں ان انتہائی حساس علاقوں تک پہنچتی ہیں۔ گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں، شور، گرد و غبار اور انسانی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ ماحول پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ صرف یہی فیسٹیول گلیشیئرز کے پگھلنے کی واحد وجہ ہیں، کیونکہ اس کی بنیادی وجہ عالمی حدت ہے، تاہم ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ حساس برفانی علاقوں میں مقامی آلودگی، بلیک کاربن ، دھول اور انسانی مداخلت گلیشیئرز کے پگھلنے کے عمل کو مزید تیز کر سکتی ہے۔
چترال میں اس وقت ایک اور بڑا مسئلہ زیر تعمیر چترال۔بونی۔مستوج۔شندور روڈ بھی ہے۔ کئی برسوں سے جاری تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث سڑک پر مسلسل گرد و غبار اڑ رہا ہے۔ یہ دھول ہوا کے ذریعے دور دراز علاقوں تک پہنچتی ہے اور برفانی سطح پر بیٹھ کر سورج کی حرارت کو زیادہ جذب کرنے کا سبب بنتی ہے، جس سے برف نسبتاً تیزی سے پگھلتی ہے۔
اسی طرح چترال کی بیشتر دیہی سڑکیں آج بھی کچی ہیں۔ روزانہ سینکڑوں گاڑیوں کی آمدورفت سے اٹھنے والی دھول نہ صرف انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ فضائی آلودگی میں بھی اضافہ کرتی ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران چترال میں غیر معمولی بارشوں، اچانک آنے والے سیلاب، گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے (GLOF)، لینڈ سلائیڈنگ، دریائی کٹاؤ اور فصلوں کی تباہی کے واقعات میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ درجنوں دیہات متاثر ہوئے، پل بہہ گئے، سڑکیں بند ہوئیں، آبپاشی کے نظام تباہ ہوئے اور لاکھوں روپے مالیت کی املاک کو نقصان پہنچا۔ یہ سب موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کی واضح مثالیں ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اکثر ترقی کے نام پر ایسے فیصلے کرتے ہیں جن کے طویل المدتی ماحولیاتی نتائج پر بہت کم غور کیا جاتا ہے۔ سیاحت یقیناً چترال کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، مگر پائیدار سیاحت ہی وقت کی ضرورت ہے۔ اگر ماحول ہی محفوظ نہ رہا تو نہ گلیشیئرز بچیں گے، نہ دریا، نہ سرسبز وادیاں اور نہ ہی سیاحت۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حساس برفانی علاقوں میں بڑے اجتماعات اور غیر ضروری گاڑیوں کی آمدورفت محدود کی جائے، تعمیراتی منصوبوں میں ماحولیاتی اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے، سڑکوں پر گرد و غبار کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، شجرکاری کو قومی مہم بنایا جائے اور ہر ترقیاتی منصوبے سے قبل ماحولیاتی اثرات کو محض ایک رسمی کارروائی کے بجائے عملی بنیادوں پر نافذ کیا جائے۔
یہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری، ہر ادارے، ہر سیاح اور ہر مقامی فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس قدرتی ورثے کی حفاظت کرے۔
چترال صرف چترال کے لوگوں کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا آبی مستقبل ہے۔ اگر آج ہم نے اپنے گلیشیئرز، دریاؤں اور پہاڑوں کی حفاظت نہ کی تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ ترقی ضرور ہونی چاہیے، مگر ایسی ترقی جو قدرت کے ساتھ جنگ نہیں بلکہ ہم آہنگی کا راستہ اختیار کرے۔
کیونکہ اگر “پاکستان کا سر” محفوظ رہے گا تو ہی پورا جسم صحت مند اور مضبوط رہے گا۔
