بونی بزند روڈ پر اسفالٹ کا کام شروع نہ کیا گیا تو اپرچترال کے ہیڈ کوارٹر بونی میں دھرنا ہوگا۔ ٹی ٹی آر ایف کی اجلاس کے بعد فیصلہ
اپرچترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) تورکھو تریچ روڈ فورم نے خبر دار کیا ہے کہ سی اینڈ ڈبلیو اور متعلقہ ٹھیکیدار نے اگر بونی بزند روڈ پر اسفالٹ کا کام فوری شروع نہیں کیا تو علاقے کے عمائدین بونی میں سی اینڈ ڈبلیو کے دفتر کے باہر دھرنا دیں گے۔
ہغتے کو ٹی ٹی أر ایف شاگرام یونٹ کا اجلاس شاگرام میں ٹی ٹی أر ایف کے صدر سیف اللہ کی زیر صدارت قاضی احسان کے گھر منعقد ہوا۔ اسے سے قبل ورکوپ، واشچ اور رائین میں بھی ٹی ٹی أر ایف کے اجلاس منعقد ہوئے تھے جس میں بونی بزند روڈ پر اسفالٹ کا کام شروع نہ کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔
شاگرام کے اجلاس میں بڑی تعداد میں ٹی ٹی أر ایف کے ارکان، علاقے کے عمائدین، اور منتحب مقامی۔نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں ٹھیکیدار کو 30 کروڑ سے زائد کی کاسٹ ایسکیلیشن کی مد میں بڑی ادائیگی اور محکمے سی اینڈ ڈبلیو کو 50 کروڑ جاری ہونے کے باوجود اسفالٹ ک کام شروع کرنے میں متعلقہ ٹھیکیدار اور سی اینڈ ڈبلیو کی جانب سے پس و پش پر نہ صرف تحفظات کا اظہار کیا گیا بلکہ اس کی شدید مذمت کی گئی۔
اجلاس میں سی اینڈ ڈبلیو اور متعلقہ ٹھیکیدار کو تین دن کی ڈیڈ لائن دی گئی کہ اس کے دوران اسفالٹ کا کام شروع کیا جائے بصورت دیگر تورکھو تریچ کے عوام ٹی ٹی أر ایف کے حکم پر بونی میں سی اینڈ ڈبلیو کے دفتر کے باہر دھرنا شروع کر دیں گے۔
اجلاس میں درجہ ذیل قراردار متفقہ طور پر منظور کی گئی۔
آج مورخہ 18 اکتوبر بروز ہفتہ کو تورکھو تریچ روڈ فورم (TTRF) کے مقامی یونٹ شاگرام کااجلاس قاضی احسان صاحب کے گھر منعقد ہوا، جس میں ٹی ٹی آر ایف اور علاقے کے لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اجلاس کی صدارت ٹی ٹی أر ایف کے صدر سابق یو سی ناظم سیف اللہ نے کی۔۔
یہ اجلاس صوبائی حکومت، محکمہ سی اینڈ ڈبلیو اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ 16 سال سے زیرِ تعمیر بونی-بزند روڈ پر فوری طور پر اسفالٹ کی مشینری لا کر اسفالٹ کا کام شروع کیا جائے۔
اجلاس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ حالیہ دنوں میں روڈ کے ٹھیکیدار کو کاسٹ اسکیلیشن اور ویریشن کے نام پر 28 کروڑ روپے کی خطیر رقم ادا کی گئی، لیکن اس بڑی ادائیگی کے باوجود تقریباً مہینے سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور ٹھیکیدار نے تاحال اسفالٹ کا کام شروع نہیں کیا۔
رائین میں منعقدہ ٹی ٹی أر ایف کے جنرل ورکر اجلاس میں ٹھیکیدار کو افالٹ کی مشینیں لانے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا گیا تھا جو کہ پیر کو ختم ہورہا ہے۔۔ مگر ٹھیکیدار اور سی اینڈ ڈبلیو مشینیں لانے میں سنجیدہ نہیں۔
یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ علاقے میں سردیوں کی آمد ہے اور اسفالٹ کے معیاری کام کے لیے ایک ماہ سے زیادہ کا وقت باقی نہیں رہا۔
ہم یہ بات بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ٹھیکیدار اور محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کا یہ غفلت آمیز اور لاپرواہی پر مبنی رویہ ہائی کورٹ کے واضح احکامات اور عدالت میں دی گئی یقین دہانی— کہ سڑک کو 31 اکتوبر تک مکمل کیا جائے گا— کے باوجود برقرار ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر اسفالٹ کا کام شروع کیا جائے ورنہ پیر کے بعد علاقے کے عمائدین بونی میں سی اینڈ ڈبلیو کے دفتر کے باہر دھرنا دیں گے۔
ہم یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ رائین سے آگے کمپیکشن کے جاری کام کی رفتار تیز کی جائے اور اس کا معیار بہتر بنایا جائے۔
مزید یہ کہ سووچ، استارو، دیغیڑی، ورکوپ نالہ اور موڑیوم رائین کے مقامات پر ریوائزڈ پی سی ون کے مطابق جن حصوں پر پی سی سی کا کام ہونا ہے، وہاں فوری طور پر کام شروع کیا جائے۔
اسی طرح کاغلشٹ سے رائین تک جن مقامات پر تارکول یا پی سی سی کا کام کسی بھی وجہ سے چھوڑا گیا ہے، وہاں یہ کام فوری مکمل کیا جائے۔
پراجیکٹ کے پی سی ون لے آؤٹ کے مطابق کاغلشٹ سے ورکوپ تک اسفالٹ شدہ حصے کے دونوں اطراف سیمنٹ کے شولڈر کا کام فوری شروع کیا جائے، اور جہاں بریسٹ وال اور ریٹیننگ وال کی ضرورت ہے وہاں ان کی تعمیر فوری کی جائے۔
اجلاس ٹی ٹی آر ایف کے عمائدین اور علاقے کے معززین کے خلاف اپنے حقوق مانگنے پر درج تین ایف آئی آرز کی شدید مذمت کرتا ہے۔ ان ایف آئی آرز میں سے ایک میں علاقے کے معززین، اساتذہ، ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں اور بزرگوں کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔
ہم یہ بات بھی انتظامیہ اور پولیس کے افسران کے گوش گزار کرنا چاہتے ہیں کہ تورکھو اور تریچ یونین کونسلز کے عوام کا انتظامیہ یا پولیس سے کوئی تنازع نہیں، اور نہ ہی وہ ایسا چاہتے ہیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ عوام کے خوشگوار تعلقات برقرار رہیں اور تصادم کے بجائے تعاون کا ماحول پیدا ہو۔
اسی لیے انتظامیہ اور پولیس کے افسران پر لازم ہے کہ جو عناصر عوام اور اداروں کے درمیان فاصلے بڑھانا چاہتے ہیں، انہیں فوری طور پر علاقے سے تبدیل کیا جائے۔’

