بونی تورکہو روڈ کے احتجاجی مظاہرین کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کرنے پر عوام سراپا احتجاج، رائین جنالی میں احتجاجی مظاہرہ
اپرچترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) بونی بزند روڈ پر کام کی بندش کے خلاف پرامن احتجاج پر پولیس کی شیلنگ،لاٹھی چار چ اور دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنے کے خلاف آج رائین جنالی میں احتجاجی جلسہ ہوا جس میں پہلی مرتبہ خواتین بھی شریک ہوئیں۔
ٹی ٹی آر ایف کے مطابق بونی بزند روڈ پر کام کی بندش کے خلاف پرامن اور نہتے مظاہرین پر شیلنگ فائرنگ، لاٹھی چارج کیا گیا، اور بعد میں تقریباً 200 افراد کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا۔
دھشت گردی کا مقدمہ 80 80 سال کے سفید ریش بزرگون اور یونیورسٹی کے طالب علموں کے خلاف درج کی گئی ہے
جلسے سے خطاب میں مقررین نے کہا کہ حکومت اور پولیس کی جانب سے 16 سال سے زیر تعمیر اس سڑک پر کام کی بندش کے خلاف احتجاج کرنے والے تورکھو تریچ یوسی کے 200 سے زائد بزرگوں اور نوجوانوں کو دہشت گرد قرار دینا انتہائی افسوسناک ہے۔
انہوں نے اس عزم کو دہرایا کہ وہ اپنے جائز مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور علاقے کے بزرگوں اور نوجوانوں کے خلاف مقدمہ واپس ہونے تک احتجاج جاری رہے گا۔دریں اثنا سینٹر محمد طلحہ محمود موقع پر پہنچ گئے اور احتجاجی مظاہرین کو یقین دہانی کرائی ، کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ بات کریں گے اور اس مسئلے کا کوئی حل نکال لیں گے، انھوں نے کاغلشٹ کے مقام پر 2 کلو میٹرز پرمحیط بونی بوزند روڈ کے کمپکشن کو زاتی فنڈ سے پورا کرنے کا بھی اعلان کیا۔
دریں اثنا سابق ایم این اے شہزادہ افتخارالدین نے کہا ہے کہ بو نی بوزند تورکہو روڈ پر مبینہ کرپشن کے خلاف احتجاج کرنے پر پرامن عوام کے خلاف دہشت گردی کے دفعات لگانا انتہائی زیادتی ہے، اسکی بھرپور مذمت کرتے ہیں، دہشت گردی ایکٹ کو کوختم کیاجائے، چترال ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے اس بات پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ انتظامیہ بدعنوانی میں ملوث اہلکاروں کےخلاف کاروائی کے بجائے نہتے شہریوں پر دہ شت گردی کے دفعات لگاکر ایف آئی ار کاٹی ہے، جو سراسر ظلم ہے ، جس کیلئے ہم ہر فورم پر آواز اُٹھائیں گے، انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان دفعات کو فوری ختم کیا جائے، اور تورکہوروڈ پر کام بلا تعطل جاری رکھا جائے۔


