The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 3 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بونی بزند روڈ پر اسفالٹ کا کام شروع نہ کیا گیا تو اپرچترال کے ہیڈ کوارٹر بونی میں دھرنا ہوگا۔ ٹی ٹی آر ایف  کی اجلاس کے بعد فیصلہ 

Posted on

بونی بزند روڈ پر اسفالٹ کا کام شروع نہ کیا گیا تو اپرچترال کے ہیڈ کوارٹر بونی میں دھرنا ہوگا۔ ٹی ٹی آر ایف  کی اجلاس کے بعد فیصلہ

اپرچترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) تورکھو تریچ روڈ فورم نے خبر دار کیا ہے کہ سی اینڈ ڈبلیو اور متعلقہ ٹھیکیدار نے اگر بونی بزند روڈ پر اسفالٹ کا کام فوری شروع نہیں کیا تو علاقے کے عمائدین بونی میں سی اینڈ ڈبلیو کے دفتر کے باہر دھرنا دیں گے۔

ہغتے کو ٹی ٹی أر ایف شاگرام یونٹ کا اجلاس شاگرام میں ٹی ٹی أر ایف کے صدر سیف اللہ کی زیر صدارت قاضی احسان کے گھر منعقد ہوا۔ اسے سے قبل ورکوپ، واشچ اور رائین میں بھی ٹی ٹی أر ایف کے اجلاس منعقد ہوئے تھے جس میں بونی بزند روڈ پر اسفالٹ کا کام شروع نہ کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔

شاگرام کے اجلاس میں بڑی تعداد میں ٹی ٹی أر ایف کے ارکان، علاقے کے عمائدین، اور منتحب مقامی۔نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں ٹھیکیدار کو 30 کروڑ سے زائد کی کاسٹ ایسکیلیشن کی مد میں بڑی ادائیگی اور محکمے سی اینڈ ڈبلیو کو 50 کروڑ جاری ہونے کے باوجود اسفالٹ ک کام شروع کرنے میں متعلقہ ٹھیکیدار اور سی اینڈ ڈبلیو کی جانب سے پس و پش پر نہ صرف تحفظات کا اظہار کیا گیا بلکہ اس کی شدید مذمت کی گئی۔

اجلاس میں سی اینڈ ڈبلیو اور متعلقہ ٹھیکیدار کو تین دن کی ڈیڈ لائن دی گئی کہ اس کے دوران اسفالٹ کا کام شروع کیا جائے بصورت دیگر تورکھو تریچ کے عوام ٹی ٹی أر ایف کے حکم پر بونی میں سی اینڈ ڈبلیو کے دفتر کے باہر دھرنا شروع کر دیں گے۔
اجلاس میں درجہ ذیل قراردار متفقہ طور پر منظور کی گئی۔

آج مورخہ 18 اکتوبر بروز ہفتہ کو تورکھو تریچ روڈ فورم (TTRF) کے مقامی یونٹ شاگرام کااجلاس قاضی احسان صاحب کے گھر منعقد ہوا، جس میں ٹی ٹی آر ایف اور علاقے کے لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اجلاس کی صدارت ٹی ٹی أر ایف کے صدر سابق یو سی ناظم سیف اللہ نے کی۔۔

یہ اجلاس صوبائی حکومت، محکمہ سی اینڈ ڈبلیو اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ 16 سال سے زیرِ تعمیر بونی-بزند روڈ پر فوری طور پر اسفالٹ کی مشینری لا کر اسفالٹ کا کام شروع کیا جائے۔

اجلاس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ حالیہ دنوں میں روڈ کے ٹھیکیدار کو کاسٹ اسکیلیشن اور ویریشن کے نام پر 28 کروڑ روپے کی خطیر رقم ادا کی گئی، لیکن اس بڑی ادائیگی کے باوجود تقریباً مہینے سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور ٹھیکیدار نے تاحال اسفالٹ کا کام شروع نہیں کیا۔

رائین میں منعقدہ ٹی ٹی أر ایف کے جنرل ورکر اجلاس میں ٹھیکیدار کو افالٹ کی مشینیں لانے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا گیا تھا جو کہ پیر کو ختم ہورہا ہے۔۔ مگر ٹھیکیدار اور سی اینڈ ڈبلیو مشینیں لانے میں سنجیدہ نہیں۔

یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ علاقے میں سردیوں کی آمد ہے اور اسفالٹ کے معیاری کام کے لیے ایک ماہ سے زیادہ کا وقت باقی نہیں رہا۔

ہم یہ بات بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ٹھیکیدار اور محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کا یہ غفلت آمیز اور لاپرواہی پر مبنی رویہ ہائی کورٹ کے واضح احکامات اور عدالت میں دی گئی یقین دہانی— کہ سڑک کو 31 اکتوبر تک مکمل کیا جائے گا— کے باوجود برقرار ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر اسفالٹ کا کام شروع کیا جائے ورنہ پیر کے بعد علاقے کے عمائدین بونی میں سی اینڈ ڈبلیو کے دفتر کے باہر دھرنا دیں گے۔

ہم یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ رائین سے آگے کمپیکشن کے جاری کام کی رفتار تیز کی جائے اور اس کا معیار بہتر بنایا جائے۔
مزید یہ کہ سووچ، استارو، دیغیڑی، ورکوپ نالہ اور موڑیوم رائین کے مقامات پر ریوائزڈ پی سی ون کے مطابق جن حصوں پر پی سی سی کا کام ہونا ہے، وہاں فوری طور پر کام شروع کیا جائے۔

اسی طرح کاغلشٹ سے رائین تک جن مقامات پر تارکول یا پی سی سی کا کام کسی بھی وجہ سے چھوڑا گیا ہے، وہاں یہ کام فوری مکمل کیا جائے۔
پراجیکٹ کے پی سی ون لے آؤٹ کے مطابق کاغلشٹ سے ورکوپ تک اسفالٹ شدہ حصے کے دونوں اطراف سیمنٹ کے شولڈر کا کام فوری شروع کیا جائے، اور جہاں بریسٹ وال اور ریٹیننگ وال کی ضرورت ہے وہاں ان کی تعمیر فوری کی جائے۔

اجلاس ٹی ٹی آر ایف کے عمائدین اور علاقے کے معززین کے خلاف اپنے حقوق مانگنے پر درج تین ایف آئی آرز کی شدید مذمت کرتا ہے۔ ان ایف آئی آرز میں سے ایک میں علاقے کے معززین، اساتذہ، ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں اور بزرگوں کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔

ہم یہ بات بھی انتظامیہ اور پولیس کے افسران کے گوش گزار کرنا چاہتے ہیں کہ تورکھو اور تریچ یونین کونسلز کے عوام کا انتظامیہ یا پولیس سے کوئی تنازع نہیں، اور نہ ہی وہ ایسا چاہتے ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ عوام کے خوشگوار تعلقات برقرار رہیں اور تصادم کے بجائے تعاون کا ماحول پیدا ہو۔
اسی لیے انتظامیہ اور پولیس کے افسران پر لازم ہے کہ جو عناصر عوام اور اداروں کے درمیان فاصلے بڑھانا چاہتے ہیں، انہیں فوری طور پر علاقے سے تبدیل کیا جائے۔’

chitraltimes ttrf meeting on booni buzund torkhow road 4 chitraltimes ttrf meeting on booni buzund torkhow road 2 chitraltimes ttrf meeting on booni buzund torkhow road 1

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , ,
114951

بونی بوزند روڈ 15 سال کا گند،1 سال کی جدوجہد، اور آج کی حقیقت – جوابی تحریر۔ عبد اللہ 

بونی بوزند روڈ 15 سال کا گند،1 سال کی جدوجہد، اور آج کی حقیقت – جوابی تحریر۔ عبد اللہ

محتر م حواجہ خلیل صاحب نے اپنی تحریر میں زیا دہ تر حقائق کو چھپا کر صرف تصویر کا ایک رخ چھیڑا ہے جو کہ قابل تصحیح ہے اورسادہ لوح عوام کو حقائق سے آ گاہ کرنے کے ساتھ ساتھ ایک مدلل جواب کے طور پر ہم نے یہ تحریر کیا ہے جو کہ حقائق کے عین مطابق ہے اور ہر اس شکوے کا مدلل جواب اس میں موجود ہے جو اپنی طرف سے کیا ہے۔ سب سے پہلے قارئین کو یہ سمجھا نا ضروری ہے کہ بونی بوزند روڈ ایک ایسا پراجیکٹ ہے جس کو وفاقی حکومت فنڈ دیتا ہے اور اس کی ایگزیکوٹنگ باڈی یا نگران محکممہ سی اینڈ دبلیو ہے جو کہ صوبائی حکومت کے زیر نگرانی آتا ہے۔ مطلب وفاقی حکومت کا کام فنڈ مہیا کرنا اور صوبائی حکومت کا کام ٹھیکے پر دینا پھر ٹھیکہ دار سے معیا ر کے مطابق کام کروانا۔ بونی بوزند روڈ 2011 میں شہزادہ محی الدین مرحوم نے اپنے دست مبارک سے اس کا سنگ بنیا د رکھا اور آج تک لگ بھگ ایک ارب انیس کروڑ روپیہ اس پہ خرچ ہوئے ہیں لیکن ایک کلومیٹر سڑک بھی PC-I کے مطابق نہیں بنا ہے ۔ PC-Iسی اینڈ ڈبلیو کا محکمہ بناتا ہے اور اسی کے مطابق سڑک کی چوڑائی لمبائی متعین ہوتی ہے اسی ڈیزائین کے مطابق ٹھیکہ دار سے کام کرایا جاتا ہے۔ یہ محکمہ صوبائی وزیر کے زیر نگرانی ہوتا ہے۔ سبھی مانتے ہیں کہ بونی بوزند روڈ15 سال کا گند ہے، تو یہ پوچھنا لازم ہے کہ ان میں سے 13 سال خیبر پختونخوا میں حکومت کن کی تھی؟ سبھی مانتے ہیں واقعی کرپشن تھی تو اس کو بروقت کیوں نہ روکا گیا؟ یہ سوال عوام کا حق ہے ۔ صاحب تحریر نے اپنی پارٹی جس کی صوبے میں حکومت ہے ڈیزاسٹر کے دوران کئے گئے اقدامات کی تعریف تو کی ہے لیکن یہ نہیں بتایا ہے کہ کیا کارنامہ سرانجام دیا گیا؟”ڈیزاسٹر 2024″ کے دوران نمائندوں نے کیا کردار ادا کیا، یہ ریچ تورکہو جا کر ان لوگوں سے پوچھیں جن کے گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ ان کے دکھوں کا مداوا صرف دعووں سے نہیں ہو سکتا۔

صاحب نے تسلیم کیا کہ قاقلشٹ کا ایک حصہ جو کہ آج بھی کچا پڑا ہے کاغذوں میں مکمل ہے، فائلوں میں سڑک بلیک ٹاپ، سرٹیفکیٹ جاری، ادائیگیاں مکمل۔ یہ سب کس کے دور حکومت میں ہوا؟ سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کے انجینئرز نے ان پر دستخط کیے، جن کی نگرانی میں یہ سب ہوا، ان کے بارے میں خاموشی کیوں ہے؟جس وقت یہ سب کچھ ہوا تو اس وقت صوبے کے اس محکمے کا وزیر کون تھا۔ آپ نے بجٹ 2024–25 کا ذکر کیا، کہ چترال کے لیے کئی اہم منصوبے رکھے گئے۔ براہ کرم ایک منصوبے کا نام لے لیں جو پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے خود شامل کروایا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ بونی بوزند روڈ کے لیے فنڈ وفاقی حکومت نے مختص کیا۔ پھر آپ نے خود تسلیم کیا کہ “اس سڑک کی تاریخ کرپشن کا آئینہ ہے”۔ اگر ایسا ہے تو اس تمام عرصے میں صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی، تو کرپشن کا ذمہ دار کون ہوا؟ سی اینڈ ڈبلیو محکمہ پی ٹی آئی کے زیر انتظام رہا، وزرا انہی کے تھے۔ پھر کیوں ان سے جواب نہیں مانگا جاتا؟ آپ خود تسلیم کرتے ہیں کہ 2024-25 کے بجٹ میں فنڈ مختص ہونے کے بعدا یڈوانس ادائیگیاں ہوئیں کیوں ہوئیں کس وجہ سے ہوئیں یہ تو وہی بتا سکتے ہیں جن کی صوبے میں حکومت تھی۔ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے وزیر کو ہی اچھی طرح سے پتہ ہو گا، ان سے آپ کیوں نہیں پوچھتے آپ ہی کی پارٹی کے تو ہیں۔ ٓاگے آپ نے تحریر کیا ہے کہ ایک بات طے ہے کام ہوا ہے ۔ کیا آپ کو یہ نہیں پتہ کہ کام کس طرح ہوا ۔ 2024 سے پہلے والے فنڈ اور کام کی تفصیل میں جائے بغیر جس کام کا آپ نے ذکر کرکے کریڈیٹ اپنے پارٹی کو دینے کی کوشش کی ہے اس کی طرف آتے ہیں ۔میں آپ کو بتا تا ہوں کام ہوا نہیں تھا 9 کروڑ روپے ادا کئے گئے تھے اگست 2024 تک صرف آدھا کلومیٹر تارکول بچھا یا گیا تھا استار و سے ٓاگے دیغیڑی کے مقام پر ۔پھر مشینریاں غائب تھیں۔

جب عوام کو ان دھوکوں کا اندازہ ہوا تو وقاص ایڈوکیٹ، عمیر خلیل اور دیگر باشعور نوجوانوں نے وفاقی حکومت سے ملنے والے فنڈز اور ایڈوانس پیمنٹ کو عوام کے سامنے لایا۔ تورکہو تریچ روڈ فورم نے احتجاج شروع کیا۔ اس احتجاج پر عوام کو چپ کرانے کیلئے عوام سے جھوٹے معاہدے کیے گئے، ان کو مسجدوں میں بٹھا کر وعدے کیے گئے اور پھر ان پر عملدرآمد نہ ہوا۔ بالآخر نومبر 2024 میں عوام سڑکوں پر نکلے، بونی چوک میں دھرنا دیا — ایک سرد رات، جس کی شدت اور قربانی شاید آپ کی تحریر سے اوجھل ہے۔

منتخب نمائندے، جو انصاف کے دعوے دار ہیں، اس وقت کہاں تھے؟ عوام کو “سیاسی ٹولہ” جیسے القابات سے نوازا گیا، ان کی تحقیر کی گئی۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ نمائندے، قیادت، سب ایک ہو گئے، تو ذرا بتائیں کہ کس نمائندے نے ایڈوانس پیمنٹ کی وضاحت کی؟ کس نے عوامی جلسوں پر پولیس کو مداخلت سے روکنے کا حکم دیا؟سب کو پتہ تھا ایکسن اور ٹھیکہ دار نے ایڈوانس پیمنٹ کروایا تھا اپنی ملی بھگت سے یاد رکھیں: یہ عوام تھے جنہوں نے بزور بازو مشینری لے جاکر، کام شروع کروایا، ورکوپ تک تارکول بچھایا گیا اور نوجونوں نے خود کام کی نگرانی کیں۔ اس دوران بھی مشینریاں رات کے وقت بھگا کر لے جانے کی کوشش کی گئی ،نوجوانوں نے سرد راتوں میں مشینریوں کی نگرانی کی، بطور گارڈز کام کیا — اور یہ تاریخ میں شاید پہلی بار ہوا ہو کہ عوام خود ترقیاتی کاموں کی نگرانی کر رہے ہوں۔آپ کی پارٹی کے منتخب نمائندے جن کی حمایت میں آپ نے لمبا چوڑا تحریر لکھا ہے اس وقت کدھر تھے؟
آپ کا کہنا ہے کہ “ٹی ٹی آر ایف نے جلسے کیے، ہم نے ان کا ساتھ دیا” — کب؟ کہاں؟ کیسے؟ جب عوام مارچ کر رہے تھے،

آپ کے لوگوں نے انہیں روکنے اور گمراہ کرنے کی کوششیں کیں۔ پورے چترال میں آپ کی پارٹی کے منتخب نمائندے تھے صوبے میں آپ کے پارٹی کی حکومت تھی ، تو پولیس کو قاقلشٹ جاکر مظاہرین کو روکنے کی کوشش کیوں کی گئی ،لاٹھی چارج کا حکم کس نے دیا؟ عمیر خلیل کو دھمکیاں کس کے کہنے پر دی گئیں؟وہاں پر جب ان پر حملہ ہوا تو جان بچا کر وہ بونی کی طرف نکلے۔ہاں ایک بات سچ ہے کہ پی ٹی آئی کے صرف وہی نوجوان اس جلسے میں شامل تھے جو حق کی بات کہتے ہوئے لڑ کھاتے نہیں جو با ضمیر ہیں جن میں سے نمایاں شعیب میر، ہارون ، ظہیر وغیرہ جنہوں نے جلسےمیں بعض نے شرکت کی اور بعض نے سپورٹ کیا۔

آپ کہتے ہیں کہ عمران خان نے سکھایا ہے”اپنا حق مانگو، نہ ملے تو چھین لو” — تو پھر عوام نے جب چھینا، آپ کی پارٹی کیوں برہم ہوئی؟صوبے میں آپ کی حکومت ، چترال میں سارے منتخب نمائندے آپ ہی کی پارٹی کے ، ڈپٹی سپیکر آپ ہی کے پارٹی کا سی اینڈ ڈبلیو کا محکمہ آپ ہی کی حکومت کے زیر نگرانی ، پھر بھی ایک پروجیکٹ میں واضح نظر آنے والے بدعنوانی ، ایڈوانس ادئیگی پر چپ کیوں تھے نمائندے۔ ؟ کیا یہی وہ گڈ گورنس ہے جس کا تذکرہ آپ لوگ سوشیل میڈیا پہ کرتے نہیں تھکتے۔ اگر یہ عمران خان کا نظریہ ہے تو پھر اس پر عمل کیوں نہیں ہونے دیا گیا؟کام کا معیار، نگرانی، معاہدے کی پاسداری — یہ سب حکومت کی ذمہ داری ہے عوام کی نہیں۔ظاہری بات ہے اس کے بعد دسمبر2024 میں کام نہیں ہوا عوام نے بھی کہا چلو سردیاں ختم ہوتے ہی کام دوبار شروع ہو گا چپ ہوگئے۔ معاہدہ ہو ا کہ اپریل کے مہینے میں کام دوبارہ شروع ہوگا۔

پھر اپریل 2025 بھی گزر گیا، کوئی نمائندہ حرکت میں نہیں آیا۔ دوبارہ عوام سڑکوں پر آئے، بونی چوک میں دھرنا دیا، بونی چترال روڈ بند کیا۔ جب زبردستی آواز بلند کی گئی تو معاہدہ ہوا کہ عید کے فوراً بعد کام ہوگا۔ یہ تو سیاسی شرمندگی کا مقام ہے۔آپ نے آخر میں ایک نوجوان کی بات کی، جس نے احتجاج میں غصہ دکھایا — اس نوجوان کو کرپٹ نہیں کہا جا سکتا، وہ نہ بے ضمیر ہے نہ مافیا کا حمایتی۔ اگر غصے میں الفاظ سخت ہو گئے تو یہ اس بے بسی کی انتہا تھی۔ کم از کم وہ خاموش تماشائی نہیں۔ کیا کیا جاتا ۔ ظلم سہہ سہہ کر تھک گئے تھے ۔جن لوگوں کے دل میں واقعی کرپشن اور ناانصافی کے خلاف جنگ کا جذبہ ہو، وہ میدان میں ہوتے ہیں، نہ کہ صرف فیس بک پوسٹوں اور “گڈ گورننس” کے جھوٹے نعروں میں۔ٓا خر میں ایک بار پھر واضح کرتا چلوں کہ جس ٹھیکہ دار کو بونی بوزند روڈ ٹھیکے پر دیا گیاہے اس کا تعلق کس پارٹی کے ساتھ ہے ۔اور اس کو کیوں اتنا سپورٹ کیا جارہا ہے کس سیاسی جماعت کا ہاتھ اس کے اوپر ہے۔ اس بارے میں بھی پتہ لگایا جائے تو سوشل میڈیا میں آکر عملی میدان میں بے لوث خدمت کرنے والے عمیر خلیل اورایڈوکیٹ وقاص احمد ، عبدالوہاب ، شعیب میر ، ہارون، اور دوسرے نوجوانوں پر شکوہ کرنے سے پہلے بندہ اپنے ٓاپ شرم سے ڈوب مرے گا۔

عبداللہ یوتھ ونگ پی ایم ایل این اپر چترال

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
111313

پندرہ برسوں سےزیرتعمیر بونی بوزند روڈ کی تکمیل کو اس کی مطلوبہ معیار کے مطابق یقینی بنائی جائے۔عمائدین

پندرہ سال پہلے شروع کی جانے والی بونی بوزند روڈ کی تکمیل کو اس کی مطلوبہ معیار کے ساتھ یقینی بنائی جائے۔عمائدین تورکہو

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) وادی تورکھو اور تریچ کے عوام نے وفاقی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ 15سال پہلے شروع کی جانے والی بونی بزند روڈ کی تکمیل کو اس کی مطلوبہ معیار کے ساتھ یقینی بنائی جائے اور وفاقی حکومت اس پی ایس ڈی پی پراجیکٹ کے لئے فنڈز ریلیز میں مزید تاخیر نہ کرے۔ تورکھو شاگرام کے موقع پر پریس فورم سے خطاب کرتے ہوئے علاقے کے عمائیدیں وقاص احمد ایڈوکیٹ، محمد سید خان لال، عبدالقیوم بیگ، محمد ہاشم، شیر عزیز بیگ، حسین زرین، پنچشنبہ خان، قدر خان، سیف اللہ، احمد اللہ بیگ، مولانا عبدالغنی چمن، جلال الدین، منہاج الدین، شیرا فضل، بلبل دیان، اسرارالدین، اعظم خان، شاکر، ذاکر زخمی، اقبال مراد، شریف خان، عبدالوہاب اور دوسروں نے اس روڈ کو علاقے کے موت وحیات کا درجہ دیتے ہوئے کہاکہ تورکھو اور رتریچ کے وادیوں میں رہنے والے ڈیڑھ لاکھ انسان سڑک نہ ہونے کی وجہ سے ذہنی کرب میں بھی مبتلا ہوگئے ہیں جن کا موسم سرما میں ملک کے دیگر حصوں سے تعلق کٹ جاتا ہے۔

chitraltimes torkhow press forum booni bozund road 7

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیاکہ گزشتہ عام انتخابات میں حکمران جماعت پی ٹی آئی نے اس علاقے میں سب سے ذیادہ مینڈیٹ حاصل کرنے کے باوجود اس حکومت کی ترجیح میں یہ پراجیکٹ شامل نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس روڈ پراجیکٹ کو وفاقی حکومت کی طرف سے فنڈز کی فراہمی میں غیر معمولی تاخیر کے علاوہ سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کی نااہلی اور غفلت کا بھی سامنا ہے کیونکہ اس روڈ کے پہاڑی مقام شوچ میں پی سی ون میں سڑک کی چوڑائی کیلئے دی گئی 28فٹ کے بجائے صرف 15فٹ کی کھدائی کی گئی ہے جوکہ موسم سرما میں موت کا کنواں بن جائے گا۔

chitraltimes torkhow bozond road press forum

انہوں نے کہاکہ اس پہاڑی میں مطلوبہ مقدار میں کھدائی سے پہلے ہی بلیک ٹاپنگ کرکے محکمہ نے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے جبکہ پہاڑی مقام دغیڑی میں تو کشادگی کا کوئی کام بھی نہیں ہوا۔ عمائیدیں نے کہاکہ اس روڈ پر چار مقامات پر آر سی سی پل بھی شامل ہیں جن پر کام فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے رکے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیاکہ وہ پراجیکٹ کے پی سی ون سے ایک فیصد بھی کم مقدار اور کوالٹی میں کام تسلیم نہیں کریں گے اور سراپا احتجاج ہوں گے۔ تورکھو کے عمائیدین نے موڑکھو تورکھو کی ہیڈ کوارٹرز اور ٹی ایم اے آفس کو موڑکھو کے وریجون میں شفٹ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ تورکھو اورتریچ کے تین یونین کونسلوں کے عوام کو یہ فیصلہ ہرگز قابل قبول نہیں ہے جن کو وریجون جانے آنے جانے کے لئے کم از کم پانچ ہزار روپے کرائے میں لگانے ہوں گے کیونکہ پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کی صورت میں انہیں حصوصی ٹیکسی لے کر جانا اور آنا پڑتا ہے۔

chitraltimes torkhow press forum booni bozund road 10

انہوں نے مطالبہ کیاکہ تورکھو اور تریچ کو الگ تحصیل کا درجہ دیا جائے اور اُس وقت تک ٹی ایم اے سمیت تمام تحصیل دفاتر کو تین دن تک بونی میں اور بقیہ تین دنوں کے لئے وریجون چلائے جائیں۔ انہوں نے قومی شناختی کارڈ اور رجسٹریشن کے حصول میں بونی کا سفر کرنے کے مسائل کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے کہاکہ ڈیڑھ لاکھ آبادی کے لئے شاگرام کے مقام پر نادرا سنٹر کا ہونا لازمی ہے کیونکہ مڑپ، ریچ، کھوت، تریچ کے دور دراز علاقوں سے بونی جاتے ہوئے تین سے چار ہزار روپے خرچ اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور خواتین کے لئے یہ اور بھی تکلیف اور اذیت ناک بن جاتی ہے۔ انہوں نے وزیر داخلہ شیخ رشید سے پرزور مطالبہ کیاکہ شاگرام کے مقام پر مستقل نادرا آفس کے قیام تک اس علاقے میں ہر ماہ ایک ہفتے کے لئے موبائل ٹیم بھیج دیا جائے۔

chitraltimes torkhow press forum booni bozund road 6

بجلی کی ترسیل کے سلسلے میں انہوں نے صوبائی محکمہ توانائی (پیڈو) کی بے حسی اور عدم توجہی کا ذکر کرتے ہوئے شکوہ کیا کہ اس علاقے میں ایستادہ بجلی کے کھمبوں کا 65فیصد حصہ لکڑی کے بنے ہوئے ہیں جوکہ صارفین نے خود لگائے تھے۔ انہوں نے کہاکہ 2015ء میں ریشن بجلی گھر کی سیلاب بردگی کے بعد موڑکھو سے تورکھو تک بجلی کے ٹرانسمیشن لائن کے کیبل اکھڑ گئے تھے جنہیں تورکھو اور تریچ کے صارفین نے معمولی تار استعمال کرکے خود بحال کیا تھا لیکن تین سال گزرنے کے باوجود پیڈو نے اصل کیبل نہیں لگائی جس سے کوئی بھی حادثہ رونما ہوسکتا ہے۔ تورکھو کے عمائیدین نے علاقے میں کھیلوں کا میدان نہ ہونے کی شکایت بھی پیش کردی اور کہاکہ کھیلوں کو فروع دینے کے حوالے سے اس حکومت کی بلند دعوے محض دعوے ثابت ہوئے کیونکہ شاگرام میں مفت زمین کی دستیابی کے باوجود اسپورٹس اسٹیڈیم کی طرف توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی مختلف دیہات میں پلے گراونڈ فراہم کرکے نوجوان نسل کو خرافات میں مبتلا ہونے سے بچانے کی کوشش کی گئی۔

chitraltimes torkhow press forum booni bozund road 2

محکمہ ایریگیشن پر شدید تنقیدکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس ڈیپارٹمنٹ کی نظر میں شائد تورکھو چترال کا حصہ ہی نہیں ہے کیونکہ اس نے اب تک ایک پائی بھی تورکھو میں خرچ نہیں کی ہے حالانکہ یہاں کی زرخیز زمینوں کو دریا کی کٹاؤ سے بچانے کے لئے متعدد مقامات پر حفاظتی پشتے تعمیر کرنے کی ضرورت ہے اور سینکڑوں ایکڑ ز بنجر زمین نہر کی تعمیر کے ذریعے زیر آب لائے جاسکتے ہیں۔ اس موقع پر مختلف دیہات کے مسائل بھی سامنے آئے جن میں شاگرام اور رائین میں گرلز ہائی سکول کے نہ ہونے کی وجہ سے مڈل کے بعد طالبات کا تعلیم کاسلسلہ منقطع کرنا پڑتا ہے۔ مڑپ گاؤں کے سابق کونسلر قدر خان اور اسرار الدین نے1997ء میں بننے والی موبائل ڈسپنسری کی بندش کی شکایت کرتے ہوئے کہاکہ علاقے کے لوگوں کو ایک انجیکشن لگانے کے لئے بھی چار گھنٹہ پید ل چل کر شاگرام آنا پڑتا ہے۔

chitraltimes torkhow press forum booni bozund road 5

انہوں نے اودیر کے سو گھرانوں کیلئے سڑک کی سہولت کی فراہمی اور مڑپ کے مضافاتی گاؤں غوردا میں بجلی کی ترسیل کے لئے چار عدد کھمبے کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس موقع پر وادی کے مختلف دیہات ریچ،کھوت اور زوندرانگم کے بیسک ہیلتھ یونٹس میں ڈاکٹر کی عدم موجود گی کی طرف بھی نشاندہی کی۔ تریچ وادی کے مسائل بیان کرتے ہوئے وادی کی سڑک کو زوندرانگم سے آگے شاگروم تک پراونشلائز کرکے سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کے تحویل دینے، بجلی کے پول فراہم کرنے اور احساس پروگرام سمیت دوسرے ریلیف کے سامان کو حقدار وں تک پہنچانے کا مطالبہ کیاجنہیں فی الحال سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کئے جارہے ہیں۔ ورکوپ کے اوپر پہاڑوں میں گھری ہوئی نیوک گاؤں کے لئے سڑک کی تعمیر کا مطالبہ محمد سید خان لال نے پیش کیا جوکہ اب تک اس سہولت سے محروم ہیں۔

chitraltimes torkhow press forum booni bozund road 1

کھوت کے مسائل بیان کرتے ہوئے شیر عزیز بیگ نے مقامی بی ایچ یو کیلئے رابطہ سڑک کے نہ ہونے، مقامی گودام میں گندم کی عدم دستیابی اور 2009ء میں پایہ تکمیل کو پہنچنے والی محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئیرنگ ڈیپارٹمنٹ کی واٹر سپلائی اسکیم کی مکمل طور پر ناکامی کا بھی ذکر کیا جس سے ایک قطرہ پانی بھی اب تک حاصل نہیں ہوا ہے۔ اس موقع پر عمائیدین نے تورکھو روڈ میں کام پر خصوصی دلچسپی لینے اور کئی مرتبہ سائٹ کا دورہ کرنے پر ڈی سی اپر چترال محمد علی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ اداکیا۔

chitraltimes torkhow press forum booni bozund road 9
Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged ,
52737