ہراسانی: ایک معاشرتی مسئلہ اور اس کی مختلف جہتیں ۔ احتشام الرحمن
حالیہ دنوں کھوار زبان میں ایک ڈرامہ, پھیک سمندر، منظر عام پر آیا ہے جسے ایک غیرسرکاری ادارے نے اسپانسر کیا ہے۔ اس ڈرامے میں دیہی معاشرے کی ایک تلخ حقیقت کو اجاگر کیا گیا ہے کہ کس طرح اسکول جانے والی بچیاں گاؤں کے اوباش نوجوانوں کی طرف سے ہراسانی کا شکار ہوتی ہیں۔ کہانی میں والدین کی بے حسی، سماجی دباؤ اور خاموش تماشائی رویہ نمایاں دکھایا گیا ہے، لیکن ساتھ ہی بچی کی جرات اور خود اعتمادی کو بھی مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ ڈرامے کا نقطۂ عروج وہ لمحہ ہے جب بچی ہراساں کرنے والے لڑکے کو تھپڑ مار کر اپنی مزاحمت کا اظہار کرتی ہے۔
یہ ڈرامہ ویمن ایمپاورمنٹ کا پیغام دیتا ہے لیکن ناقدین کے نزدیک کہانی کے کچھ پہلو دیہی معاشرت کے لحاظ سے غیر حقیقی ہیں۔ بڑے شہروں کی طرح دیہات میں اوباشوں کا روزانہ کھلے عام گلی کے نکڑ پر بیٹھ کر سیٹیاں بجانا نسبتاً کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ تاہم اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ ہراسانی دیہی و شہری ہر معاشرے میں مختلف شکلوں میں موجود ہے۔
ہراسانی کا مسئلہ صرف گلی کوچوں یا عوامی مقامات تک محدود نہیں بلکہ تعلیمی اداروں کے اندر بھی نمایاں طور پر موجود ہے۔ سکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر طالبات بالخصوص اساتذہ اور ساتھی طلبہ کے غیر مناسب رویوں کا نشانہ بنتی ہیں۔ ان رویوں میں بار بار ذاتی رابطہ کرنے کی کوشش، غیر ضروری قربت، گریڈز کے نام پر دباؤ، کلاس روم میں غیر شائستہ جملے کسنا، یا طالب علم کے لباس پر تبصرہ و تنقید کرنا (جیسے برقعہ یا اسکارف لینے یا نہ لینے کے حوالے سے جبر) شامل ہیں۔ اسی طرح طالبات کے ساتھ معلمات کا تضحیک آمیز رویہ اور سرکاری اسکولوں میں جسمانی سزا، دونوں کو ہراسانی کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ لبرلزم اور ماڈرنزم کے نام پر بعض حلقے ان رویوں کو ’’روشن خیالی‘‘ کا لبادہ اوڑھا کر معاشرتی معمول بنانے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ رجحانات فرد کی آزادی، وقار اور عزت نفس پر براہ راست حملہ ہیں۔
مدارس کے حوالے سے بھی ایک سنگین پہلو سامنے آتا ہے۔ چونکہ خواتین معلمات کی کمی کی وجہ سے اکثر مضامین مرد پڑھاتے ہیں جن میں نجی و صنفی مسائل پر بحث ہوتی ہے، جیسے بہشتی زیور یا قدوری۔ ایسے مضامین کا مرد اساتذہ کے ذریعے طالبات کو پڑھایا جانا مناسب نہیں، کیونکہ یہ ایک غیر آرام دہ ماحول پیدا کرتا ہے اور نفسیاتی دباؤ کا سبب بنتا ہے۔ یہ بھی ایک طرح کی پوشیدہ ہراسانی ہے جس پر بہت کم بات کی جاتی ہے۔
دفاتر میں مرد و خواتین بیک وقت کام کرتے ہیں، لیکن خواتین کو سہولت فراہم کرنے کے بجائے اکثر مشکلات پیدا کی جاتی ہیں۔ ان کے بارے میں جملے کسنا، پیشہ ورانہ صلاحیت کو کمتر سمجھنا یا صنفی تبصرے کرنا بھی ہراسانی کی نمایاں صورتیں ہیں۔ ایسے رویے سرکاری، نیم سرکاری اور نجی اداروں میں دیکھنے کو ملتے ہیں، جو خواتین کے کیریئر کی ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ان حرکات کو بھی بعض اوقات یہی ادارے ’’روشن خیالی‘‘ کے پردے میں چھپا دیتے ہیں، حالانکہ یہ رویے خواتین کی عزت اور وقار پر براہِ راست حملہ ہیں۔
دیہی معاشرت، جسے سوشیالوجی کی اصطلاح میں جیمین شافٹ سوسائٹی کہا جاتا ہے، میں خاندانی اور قریبی تعلقات کے جال کی وجہ سے خواتین کو اکثر نفسیاتی دباؤ اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خصوصاً مشترکہ خاندانی نظم میں۔ تاہم رشتوں کے ٹوٹنے کے خدشے اور عزتِ نفس کے خوف کے باعث یہ معاملات عموماً دبائے جاتے ہیں۔ بالخصوص چترال جیسے معاشروں میں مرد و خواتین کا ملنا (دوچھار بیک) ایک ثقافتی روایت کے طور پر قبول کیا جاتا ہے، لیکن خواتین کی اکثریت اس ماحول میں غیر آرام دہ اور دباؤ محسوس کرتی ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ نہ مذہبی طبقہ اور نہ ہی تعلیم یافتہ طبقہ اس مسئلے کو موضوع بحث بناتا ہے، یوں ثقافت کے نام پر خواتین کی مشکلات کو محض کلچر کا حصہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ہراسانی محض ایک جگہ یا طبقہ تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک کثیرالجہتی سماجی مسئلہ ہے جو گلی سے لے کر تعلیمی اداروں، اور خاندانی زندگی تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ ڈرامہ اگرچہ ایک مثبت پیغام دیتا ہے کہ خواتین کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ ادارے ان پوشیدہ اور کم بیان ہونے والے پہلوؤں پر بھی بات کریں۔
ہمارے معاشرے میں عموماً بیٹیوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ گھر کی عزت ان کے رویے اور کردار سے وابستہ ہے، حالانکہ اصل ضرورت بیٹوں کو یہ شعور دینے کی ہے کہ خاندان کی عزت ان کے رویے ہی سے قائم یا مجروح ہوتا ہے۔ اسی طرح بیٹیوں کے ساتھ ہراسانی جیسے حساس موضوعات پر گفتگو ہونی چاہیے تاکہ ان میں خوداعتمادی پیدا ہو اور وہ ہراسانی کا شکار ہونے کے بجائے جرات سے اس کا مقابلہ کر سکیں۔ اگر بیٹیوں کو خود اعتمادی دی جائے اور بیٹوں کو بچپن ہی سے صنف مخالف کے احترام کا شعور سکھایا جائے تو ہراسانی جیسے مسائل کی جڑ کو کافی حد تک کاٹا جا سکتا ہے۔
اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو صنفی حساسیت کے حوالے سے تربیت دی جائے تاکہ تدریس اور رویے میں احتیاط برتی جا سکے۔ دفاتر اور سرکاری اداروں میں مؤثر شکایتی نظام قائم ہو، قوانین پر عمل درآمد ہو، اور آگاہی مہمات کے ذریعے خواتین کو یہ باور کرایا جائے کہ ہراسانی صرف جسمانی بدسلوکی تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ رویہ ہے جو خواتین کے وقار اور اعتماد کو مجروح کرے۔ اس مقصد کے لیے لازم ہے کہ علماء، وکلاء، تدریسی شعبے، حکومتی ادارے اور سماجی تنظیمیں سب مل کر عملی ٹھوس اقدامات کریں تاکہ ہراسانی کا تدارک کر کے ایک محفوظ اور باوقار معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔
