The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 3 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

ہراسانی: ایک معاشرتی مسئلہ اور اس کی مختلف جہتیں ۔ احتشام الرحمن 

ہراسانی: ایک معاشرتی مسئلہ اور اس کی مختلف جہتیں ۔ احتشام الرحمن

حالیہ دنوں کھوار زبان میں ایک ڈرامہ, پھیک سمندر، منظر عام پر آیا ہے جسے ایک غیرسرکاری ادارے  نے اسپانسر کیا ہے۔ اس ڈرامے میں دیہی معاشرے کی ایک تلخ حقیقت کو اجاگر کیا گیا ہے کہ کس طرح اسکول جانے والی بچیاں گاؤں کے اوباش نوجوانوں کی طرف سے ہراسانی کا شکار ہوتی ہیں۔ کہانی میں والدین کی بے حسی، سماجی دباؤ اور خاموش تماشائی رویہ نمایاں دکھایا گیا ہے، لیکن ساتھ ہی بچی کی جرات اور خود اعتمادی کو بھی مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ ڈرامے کا نقطۂ عروج وہ لمحہ ہے جب بچی ہراساں کرنے والے لڑکے کو تھپڑ مار کر اپنی مزاحمت کا اظہار کرتی ہے۔

یہ ڈرامہ ویمن ایمپاورمنٹ کا پیغام دیتا ہے لیکن ناقدین کے نزدیک کہانی کے کچھ پہلو دیہی معاشرت کے لحاظ سے غیر حقیقی ہیں۔ بڑے شہروں کی طرح دیہات میں اوباشوں کا روزانہ کھلے عام گلی کے نکڑ پر بیٹھ کر سیٹیاں بجانا نسبتاً کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ تاہم اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ ہراسانی دیہی و شہری ہر معاشرے میں مختلف شکلوں میں موجود ہے۔

ہراسانی کا مسئلہ صرف گلی کوچوں یا عوامی مقامات تک محدود نہیں بلکہ تعلیمی اداروں کے اندر بھی نمایاں طور پر موجود ہے۔ سکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر طالبات بالخصوص اساتذہ اور ساتھی طلبہ کے غیر مناسب رویوں کا نشانہ بنتی ہیں۔ ان رویوں میں بار بار ذاتی رابطہ کرنے کی کوشش، غیر ضروری قربت، گریڈز کے نام پر دباؤ، کلاس روم میں غیر شائستہ جملے کسنا، یا طالب علم کے لباس پر تبصرہ و تنقید کرنا (جیسے برقعہ یا اسکارف لینے یا نہ لینے کے حوالے سے جبر) شامل ہیں۔ اسی طرح طالبات کے ساتھ معلمات کا تضحیک آمیز رویہ اور سرکاری اسکولوں میں جسمانی سزا، دونوں کو ہراسانی کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ لبرلزم اور ماڈرنزم کے نام پر بعض حلقے ان رویوں کو ’’روشن خیالی‘‘ کا لبادہ اوڑھا کر معاشرتی معمول بنانے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ رجحانات فرد کی آزادی، وقار اور عزت نفس پر براہ راست حملہ ہیں۔

مدارس کے حوالے سے بھی ایک سنگین پہلو سامنے آتا ہے۔ چونکہ خواتین معلمات کی کمی کی وجہ سے اکثر مضامین مرد پڑھاتے ہیں جن میں نجی و صنفی مسائل پر بحث ہوتی ہے، جیسے بہشتی زیور یا قدوری۔ ایسے مضامین کا مرد اساتذہ کے ذریعے طالبات کو پڑھایا جانا مناسب نہیں، کیونکہ یہ ایک غیر آرام دہ ماحول پیدا کرتا ہے اور نفسیاتی دباؤ کا سبب بنتا ہے۔ یہ بھی ایک طرح کی پوشیدہ ہراسانی ہے جس پر بہت کم بات کی جاتی ہے۔

دفاتر میں مرد و خواتین بیک وقت کام کرتے ہیں، لیکن خواتین کو سہولت فراہم کرنے کے بجائے اکثر مشکلات پیدا کی جاتی ہیں۔ ان کے بارے میں جملے کسنا، پیشہ ورانہ صلاحیت کو کمتر سمجھنا یا صنفی تبصرے کرنا بھی ہراسانی کی نمایاں صورتیں ہیں۔ ایسے رویے سرکاری، نیم سرکاری اور نجی اداروں میں دیکھنے کو ملتے ہیں، جو خواتین کے کیریئر کی ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ان حرکات کو بھی بعض اوقات یہی ادارے ’’روشن خیالی‘‘ کے پردے میں چھپا دیتے ہیں، حالانکہ یہ رویے خواتین کی عزت اور وقار پر براہِ راست حملہ ہیں۔

دیہی معاشرت، جسے سوشیالوجی کی اصطلاح میں جیمین شافٹ سوسائٹی کہا جاتا ہے، میں خاندانی اور قریبی تعلقات کے جال کی وجہ سے خواتین کو اکثر نفسیاتی دباؤ اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خصوصاً مشترکہ خاندانی نظم میں۔ تاہم رشتوں کے ٹوٹنے کے خدشے اور عزتِ نفس کے خوف کے باعث یہ معاملات عموماً دبائے جاتے ہیں۔ بالخصوص چترال جیسے معاشروں میں مرد و خواتین کا ملنا (دوچھار بیک) ایک ثقافتی روایت کے طور پر قبول کیا جاتا ہے، لیکن خواتین کی اکثریت اس ماحول میں غیر آرام دہ اور دباؤ محسوس کرتی ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ نہ مذہبی طبقہ اور نہ ہی تعلیم یافتہ طبقہ اس مسئلے کو موضوع بحث بناتا ہے، یوں ثقافت کے نام پر خواتین کی مشکلات کو محض کلچر کا حصہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

ہراسانی محض ایک جگہ یا طبقہ تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک کثیرالجہتی سماجی مسئلہ ہے جو گلی سے لے کر تعلیمی اداروں، اور خاندانی زندگی تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ ڈرامہ اگرچہ ایک مثبت پیغام دیتا ہے کہ خواتین کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ ادارے ان پوشیدہ اور کم بیان ہونے والے پہلوؤں پر بھی بات کریں۔

ہمارے معاشرے میں عموماً بیٹیوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ گھر کی عزت ان کے رویے اور کردار سے وابستہ ہے، حالانکہ اصل ضرورت بیٹوں کو یہ شعور دینے کی ہے کہ خاندان کی عزت ان کے رویے ہی سے قائم یا مجروح ہوتا ہے۔ اسی طرح بیٹیوں کے ساتھ ہراسانی جیسے حساس موضوعات پر گفتگو ہونی چاہیے تاکہ ان میں خوداعتمادی پیدا ہو اور وہ ہراسانی کا شکار ہونے کے بجائے جرات سے اس کا مقابلہ کر سکیں۔ اگر بیٹیوں کو خود اعتمادی دی جائے اور بیٹوں کو بچپن ہی سے صنف مخالف کے احترام کا شعور سکھایا جائے تو ہراسانی جیسے مسائل کی جڑ کو کافی حد تک کاٹا جا سکتا ہے۔

اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو صنفی حساسیت کے حوالے سے تربیت دی جائے تاکہ تدریس اور رویے میں احتیاط برتی جا سکے۔ دفاتر اور سرکاری اداروں میں مؤثر شکایتی نظام قائم ہو، قوانین پر عمل درآمد ہو، اور آگاہی مہمات کے ذریعے خواتین کو یہ باور کرایا جائے کہ ہراسانی صرف جسمانی بدسلوکی تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ رویہ ہے جو خواتین کے وقار اور اعتماد کو مجروح کرے۔ اس مقصد کے لیے لازم ہے کہ علماء، وکلاء، تدریسی شعبے، حکومتی ادارے اور سماجی تنظیمیں سب مل کر عملی ٹھوس اقدامات کریں تاکہ ہراسانی کا تدارک کر کے ایک محفوظ اور باوقار معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
114501

ہراسانی Harassments  – تحریر: دلشاد پری

ہراسانی Harassments  – تحریر: دلشاد پری

ہراسانی ایک ایسا رویہ ہے جس کا ہدف بننے والا شخ،ص اپنی توہین ,بے عزتی ,رسواٸی یا شرمندگی محسوس کرے۔ایسارویہ متاثرہ افراد کو ان کے حقوق سے محروم کرتا ہے اور ان کے لۓ کام کی جہگہ کو غیر محفوظ کرتا ہے۔

کسی شخص کو جنس ,شکل وصورت ,لباس ,عمر ,علاقاٸی یا نسلی وابستگی اور مذہب کے حوالے سے مذاق کا نشانہ بنانا بھی ہراسانی ہے۔ایسا رویہ جس سے کسی دوسرے کی عزت نفس مجروح ہو ,جو اسکی کارکردگی پر ناموافق اثر پڑے,ہراسانی ہی گردانا جاۓ گا۔ہراسانی ,اشاروں الفاظ اور حرکات کی صورت میں ہوسکتی ہے۔ایسی صورت میں اس شخص کو رنج ,تذلیل اور اشتعال کا سامنا ہو سکتا ہے اورکام کا ماحول اس کے لۓ پریشان کن اورپر خطر بن سکتا ہے۔

ہراسانی کی اقسام میں مذہبی ہراسانی/فرقہ واری ہراسانی ,نسلی ہراسانی ,صنفی ہراسانی, جنسی ہراسانی ,جسمانی ہراسانی وغیرہ شامل ہیں۔
جنسی ہراسانی کسی کی جنسی تصاویر ,فحش مواد بھیجنا,جنسی تبصرے ,مزاق یا سوالات کرنا,ناپسندیدہ /غیر ممناسب انداز میں قریب ہونےکی کوشش کرنا وغیرہ۔

کام کی جہگہ پر جنسی ہراسانی کے قانون ایکٹ 2010 کے مطابق ۔ایسا جنسی پیش رفت ,جنسی تعلق کے لۓ کہنا یا کوٸی بھی ایسا زبانی یا تحریری بات جو جنسی نوعیت کی ہو
جنسی طور پر ہراساں کرنے والے لوگ طاقت کا غلط استمعال کرنے والا اور ان میں انسانی ہمدردی کا فقدان ہوتا ہے۔۔

جنسی ہراسانی کے اثرات۔جنسی ہراسانی کا کسی شخص پر نہ صرف
جسمانی اثرات بلکہ نفسیاتی و جزباتی اثرات اور روزگار سے متعلقہ اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔جنسی ہراسانی کا سامنا کرنے والا فرد پر منفی اثرات تو ہوتے ہیں لیکن اگر کسی معاشرے میں اس کے خلاف موثر اقدام نہ کیا جاۓ تو معاشرے پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔جنسی ہراسانی کو نظر انداز کرنے سے جنسی اور صنفی بنیادوں پر تشدد اور جراٸم میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ایسے کلچر کو فروغ مل سکتا ہے جس میں طاقت کے کلچر میں عورتوں ,بچوں ,خواجہ سراٶں اور مذبی ولسانی اقلیتوں کے بنیادی حقوق کا احترام ختم ہو جاتا ہے۔

پاکستان میں جنسی ہراسانی سے تحفظ کے لۓ قانون کام کی جگہ پر ہراسانی سے خواتین کو تحفظ دینے کا ایکٹ مجریہ 2010 ء
قانون فوجداری ترمیمی ایکٹ 2009 دفعہ 509 مجموعہ تعزیرات پاکستان,
خواجہ سراٶں کے حقوق کے تحفظ کا ایکٹ 2018;
الیکٹرونک کراٸمز کی روک تھام کا ایکٹ2016

جس میں دوسرے کی عزت وقار کو زک پہنچے ,جس کے نتیجے میں اس کے کام میں مداخلت ہو ,اسکی صلاحیت متاثر ہو یا اسکو خطرہ محفوظ ہو یا ایسا ماحول بن جاۓ جہاں وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرے اس میں تعلق سے انکار پر سزا دینے کی کوشش بھی شامل ہے۔جنسی ہراسانی کا شکار کوٸی شخص بھی ہو سکتا ہے ۔یہ ضروری نہی کہ متاثرہ فریق ہراسان کرنے والے کی مخالف جنس کا ہو۔

اج کل ہراسمنٹ کی جو سب سے سخت اور قابل مواخذہ جرمbullying ہے جو ڈاٸریکٹ زبانی گالم گلوچ ی, جھوٹی افواہ پھیلانا یا انٹرنیٹ کے ذریعے نامناسب تصویریں یا نازیبا ہراساں کرنے والے مسیج اور غیر مناسب اور غیر شاٸستہ کمنٹس وغیرہ کرنا شامل ہے ۔مگر اج کل نوجوان نسل اسے سوشل میڈیا کا استمعال کہ کر لوگوں کی عزت اچھالنے سے باز نہی اتے۔ان کو یہ نہی پتہ کہ یہ سب قابل مواخذہ جراٸم أور ہراسگی کے ذمرے میں اتے ہیں۔

صوباٸی محتسب براۓ انسداد ہراسیات ,حکومت خیبر پختنخواہ کے کام کی جہگہ پر ہونے والی جنسی ہراسانی کے بارے میں رہنما کتابچہ سے چنے گۓ الفاظ

Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
71866

ہراسانی کی تعریف اور سزائیں ۔ محمد شریف شکیب

ہراسانی کی تعریف اور سزائیں ۔ محمد شریف شکیب

جنسی طور پر ہراساں کرنے کی روک تھام کے لئے تعینات وفاقی محتسب کشمالہ طارق نے انکشاف کیا ہے کہ خواتین کو خوبصورت کہنا،گڈ مارننگ کا ایس ایم ایس بھیجنا، ذومغنی شعر یا گڈ نائٹ کے پیغامات ارسال کرنا بھی ہراساں کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔وویمن پراپرٹی رائٹس کا قانون آ گیا ہے،خواتین کو اگر پدری جائیداد میں حصہ نہیں مل رہا تو وہ قانون کی مدد حاصل کرسکتی ہیں۔ وفاقی محتسب ساٹھ دنوں کے اندر جائیداد میں خواتین کے حقوق سے متعلق کیس کا فیصلہ کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اکثر خواتین کو یہ نہیں پتہ کہ ان کے حقوق کیا ہیں اس لئے وہ قانون کا سہارا نہیں لیتیں۔ وفاقی محتسب دو ماہ کے اندر جنسی طور پر ہراساں کئے جانے کے مقدمات کا بھی فیصلہ کرے گا۔

خواتین وکیل کے بغیر آن لائن بھی درخواست دے سکتی ہیں،خواتین کو انصاف تبھی ملے گا جب وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی سے متعلق رپورٹ کریں گی۔وفاقی محتسب کا کہنا تھا کہ تمام اداروں کے اندر جنسی ہراسیت کے تدارک کی کمیٹی بنانا ضروری ہے،دریں اثنائسعودی ماہر سائبرکرائم اور انسداد جعلسازی کمیٹی کے رکن معتز کتبی کا کہنا ہے کہ کسی کوواٹس اپ پر سرخ دل کا علامتی نشان بھیجنا سائبرکرائم کے زمرے میں آتا ہے جس پر دوسال تک قید اور ایک لاکھ ریال جرمانہ ہوسکتا ہے۔ان کا کہناتھا کہ سوشل میڈیا پرسرخ دل یا پھول اور اس نوعیت کی دیگرعلامتیں ارسال کرنے میں احتیاط برتنی چاہئے۔خواہ یہ علامات کسی مرد کی جانب سے ارسال کی گئی ہوں یا خاتون کی۔

ایسی علامات وصول کرنے والے کو ان سے کسی قسم کی ایذا پہنچے تو یہ قانونی مسئلہ اختیار کرسکتی ہے۔ہراساں محض جسمانی طور پر ہی نہیں بلکہ الفاظ، عبارت یا غیرمناسب رویے کا اظہار کرنا بھی ہے جوقابل دست اندازی پولیس جرم ہے۔اب تک ہم یہی سنتے آرہے تھے کہ تعریف کرنا خواتین کی پیدائشی کمزوری ہے اگر کوئی خاتون واقعی خوبصورت ہو۔تو اس کی تعریف بنتی ہے۔تاہم کسی بدصورت، بدی،حد سے زیادہ موٹی یا ہڈیوں کا ڈھانچہ نظر آنے والی عورت کو خوش کرکے اپنا مطلب نکالنے کے لئے اسے خوبصورت کہنا واقعی جرم ہے۔ ایسے بدزوق لوگوں کو واقعی سزا ملنی چاہئے۔مشہور ماہر نفسیات ڈیل کارنیگی کا کہنا ہے کہ لوگوں سے کام نکالنے کے لئے ان کے چھوٹے چھوٹے کاموں کی تعریف کرنا ضروری ہے۔کسی کا دل رکھنے کے لئے اسے گڈ مارننگ، گڈ نائٹ،ٹیک کیئر، ہیو اے نائس ڈے اورآئی لو یو کے الفاظ یا علامات پر مبنی پیغام بھی کوئی نہ بھیجے تو معاشرے کے کام کیسے انجام پائیں گے۔دنیا میں کوئی بے حس اور بدذوق عورت بھی اپنی تعریف پر ناراض نہیں ہوتی۔

جب پیغام وصول کرنے والی کو محبت بھرے پیغامات سے تھوڑی دیر کے لئے راحت ملتی ہے تو غیر متعلقہ لوگوں کے پیٹ میں کیوں مروڑ اٹھتے ہیں۔وفاقی محتسب نے شکوہ کرنے کے انداز میں کہا ہے کہ خواتین ہراساں ہونے کی شکایت ہی نہیں کرتیں تو کوئی ان کی مدد کیوں کرے۔ہراسانی کی تعریف میں عصری تقاضوں کے مطابق ترامیم کی ضرورت ہے۔ ویلنٹائن ڈے پر اپنے کسی پیارے کو سرخ گلاب کا پھول نہ دیں تو لوگ کنجوس قرار دیتے ہیں پیسے خرچ کرکے پھول لے لو۔تو عاشق مزاج ٹھہرایاجاتا ہے۔ہماری فلموں اور ڈراموں میں کسی کا دل جیتنے کے لئے ہیرو کو پہاڑوں پر چڑھتے، دریاؤں میں اترتے، پہاڑ کاٹ کر دودھ کی نہریں بہاتے، چاند تارے توڑ کر محبوب کا دامن بھرنے، اس کے ایک ہاتھ پر چاند اور دوسرے ہاتھ پر سورج رکھنے کے دعوے کرتے دکھایاجاتا ہے ان پر کبھی ہراسانی کا مقدمہ نہیں ہوا۔ پھول اور دل کی تصویر بھیجنے کوقابل تعزیر جرم ہی کیوں نہ قرار دیا جائے۔دل والے یہ جرم کرتے رہیں گے۔ آخر دل لگی، کسی کے لئے نیک جذبات رکھنا،رات کی پرسکون نیند اور دن کے خوشگوار اجالے کی تمنا بھری دعائیں کرنا ہماری تہذیب و ثقافت کا جزولاینفک ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
58423