Chitral Times

May 17, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ملکی مالیاتی پوزیشن آئی ایم ایف کے معاشی استحکام کے دعووں پر سوالیہ نشان بن گئی

Posted on
شیئر کریں:

ملکی مالیاتی پوزیشن آئی ایم ایف کے معاشی استحکام کے دعووں پر سوالیہ نشان بن گئی

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ)پاکستان کی مالیاتی پوزیشن نے آئی ایم ایف کی جانب سے معیشت کے استحکام کے دعووں پر سوالیہ نشان لگا دیا، جولائی تا مارچ 4.33 ہزار ارب روپے کا بجٹ خسارہ ہوچکا جوکہ گزشتہ مالی سال کے خسارے کے مقابلے میں ایک چوتھائی زائد ہے، اس نے آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کی مالیاتی پوزیشن کے استحکام کے دعووں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات میں جولائی تا مارچ تک کی معاشی صورتحال کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کا پروگرام کامیابی کے ساتھ مکمل کرلیا ہے۔ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر آئی ایم ایف نے پیر کے روز کہا تھا کہ پہلی ششماہی میں پرائمری سرپلس 1.8 ہونا ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کی مالیاتی پوزیشن مضبوط ہوتی جارہی ہے اور یہ رواں سال کے اختتام تک 0.4 فیصد پرائمری سرپلس کا ہدف حاصل کرلے گا، انھوں نے قیمتوں میں بار بار اضافے کی انرجی پالیسی کو سراہتے ہوئے اسے جاری رکھنے پر زور دیا ہے، اگرچہ پرائمری سرپلس آئی ایم ایف کے بینچ مارک سے زیادہ رہا ہے لیکن بلند شرح سود کی وجہ سے مالیاتی پوزیشن ابھی بھی کمزور ہے، جو کہ 60 فیصد کے قریب بجٹ کو چوس رہے ہیں۔9 ماہ کے دوران حکومت نے 5.52 ہزار ارب روپے سودی ادائیگیوں کی مد میں خرچ کیے ہیں، جو کہ اس دوران کی نیٹ انکم کے مقابلے میں 205 ارب روپے زیادہ ہیں، اور گزشتہ سال کے اسی دورانیے کے مقابلے میں یہ 1.94 ہزار ارب روپے زیادہ ہیں، جس کی بنیادی وجہ آئی ایم ایف کی جانب سے مرکزی بینک کو شرح سود کم کرنے سے روکنا ہے،

 

بلند شرح سود مہنگائی کو روکنے میں بھی ناکام رہی ہے، داخلی قرضوں پر نو ماہ کے دوران 4.8 ہزار ارب روپے سود ادا کیا گیا ہے۔آئی ایم ایف نے مہنگائی کا تخمینہ 24.8 فیصد لگایا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ بلند شرح سود مقصد کے حصول میں ناکام رہی ہے، مجموعی طور پر وفاقی حکومت آئی ایم ایف کی شرائط پر 1.2 ہزار ارب روپے کا پرائمری بجٹ سرپلس ظاہر کرنے میں کامیاب رہی ہے، پرائمری بجٹ سرپلس میں سودی ادائیگیوں کو شمار نہیں کیا جاتا جو کہ اب مجموعی آمدنی سے بڑھ چکی ہیں، سودی ادائیگیوں کے ساتھ 9 ماہ کے دوران بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 4.1 (4.33 ہزار ارب روپے) رہا ہے، جو کہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 23 فیصد (803 ارب روپے) زائد ہے، اس بار حکومت نے دفاعی اخراجات سمیت تمام ضروریات پوری کرنے کیلیے قرض کا سہارا لیا ہے۔دفاعی اخراجات 1.22 ہزار ارب روپے رہے جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 22 فیصد زیادہ ہیں، دفاع اور سودی ادائیگیوں کی مد میں مجموعی طور پر 6.74 ہزار ارب روپے خرچ ہوئے جو کہ وفاق کی خالص آمدنی سے 1.4 ہزار ارب روپے زیادہ ہیں، ان 9 ماہ کے دوران وفاقی حکومت کے اخراجات میں 38 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ جاری اخراجات میں 40 فیصد اضافہ ہوا، حکومت نے 473 ارب روپے سبسڈی کی مد میں دیے ہیں، پینشن کی مد میں 612 ارب روپے خرچ ہوئے، جبکہ ترقیاتی اخراجات میں کمی کا رجحان دیکھا گیا، جو کہ گزشتہ سال کے اس دورانیے کی نسبت 7 ارب روپے کمی کے ساتھ 322 ارب روپے رہے۔ان مایوس کن اعداد و شمار کے باجود حکومت کچھ اچھی کارکردگی دکھانے میں بھی کامیاب رہی ہے، نان ٹیکس ریونیو میں پیٹرولیم لیوی وصول کرنے کی وجہ سے 95 فیصد (2.4 ہزار ارب روپے) کا اضافہ ہوا، پیٹرولیم لیوی کی مد میں 719 ارب روپے جمع ہوئے، مرکزی بینک کا منافع972 ارب روپے رہا، جبکہ ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس وصولیاں 30 فیصد اضافے سے 6.7 ہزار ارب رہیں۔

 

 

پی آئی اے کی نجکاری میں غیر ملکی کمپنیوں کی عدم دلچسپی

کراچی(سی ایم لنکس)پی آئی اے کی نجکاری کی بولی میں غیر ملکی کمپنیوں نے عدم دلچسپی کا اظہار کردیا، خلیجی ممالک کی صرف دو کمپنیوں نے رجوع کیا۔ خلیجی ممالک کی صرف دوکمپنیوں نے سرمایہ کاری کیلئے پانچ ہزار ڈالرز جمع کراکے کاغذات حاصل کیے اور مذکورہ کمپنیوں کی جانب سے ٹینڈرز کے لیے درخواستیں تاحال جمع نہیں کرائی جاسکیں۔ذرائع نجکاری کمیشن کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق ٹینڈرز کی درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ تین مئی ہے تاہم پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق ٹینڈرز میں مزید ایک ماہ کی توسیع کا امکان کا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق مالیاتی مشیر سمیت نجکاری کے افسران بیرون ملک سے سرمایہ حاصل کرنے کیلئے ناواقف ہیں، بیرون ملک کے سرمایہ کاروں کے اس عمل سے دور عدم دلچسپی اس بات کی غمازی ہے کہ ابھی تک بیرون ملک کے سرمایہ کاروں کے پیغامات بھی نہیں پہنچ پائے۔واضح رہے کہ ٹینڈروں کی درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 3 مئی ہونے کے باوجود سرمایہ کاروں کی عدم دلچسپی سامنے آئی ہے، نجکاری کمیشن اور پی آئی اے انتظامیہ نے مختلف روڈ شو بھی کیے اس پر بھی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
88208