Chitral Times

Apr 17, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

‌”ختم قرآن کی بابرکت محفلیں اور لاؤڈ اسپیکر کا ظالمانہ استعمال” ‌۔ عبدالحی

Posted on
شیئر کریں:

ختم قرآن کی بابرکت محفلیں اور لاؤڈ اسپیکر کا ظالمانہ استعمال ‌۔ عبدالحی

آج کل چترال میں ختم قرآن مجید کے مبارک ساعات کی مناسبت سے مساجد میں محفلیں منعقد ہو رہی ہیں۔ اس میں ادنی شک کی بھی گنجائش نہیں ہے کہ ختمِ قرآن مجید کی محفل بڑی با برکت، بے شمار فضائل و کمالات کی حامل ہوتی ہے؛ اور ختم قرآن کے بعد دُعا بہت جلد قبول ہوتی ہے۔

ان محافل میں اکثر و بیشتر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ مقررین اور نعت خواں حضرات لاؤڈ اسپیکر کچھ اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ وہ دور دور تک مار کرتے ہیں اس صورتحال میں کوئی شخص اپنے گھر میں نہ آرام سے سو سکتا ہے، نہ یکسوئی کے ساتھ اپنا کوئی کام کر سکتا ہے۔ بعض مساجد میں اس کا استعمال اس طرح بے تکان جاری ہوتا ہے کہ کسی کو کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی ہے۔ قرب و جوار میں نہ کوئی سو سکتا ہے اور نہ ہی آرام کر سکتا ہے ۔

نیک کام غلط طریقے سےکیا جائے تو فقہاء اور اصولیین اس کیلئے حسن لذاتہ، قبیح لغیرہ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ بسا اوقات اس طرح کے مجالس کے منتظمین حضرات پوری نیک نیتی سے یہ کام کرتے ہیں، وہ اس سے دین کی تبلیغ کا ایک ذریعہ سمجھتے اور اس سے دین کی خدمت قرار دیتے ہیں، لیکن ہمارے معاشرے میں یہ اصول بھی بہت غلط مشہور ہوگیا ہے کہ نیت کی اچھائی سے کوئی غلط کام بھی جائز اور صحیح ہو جاتا ہے، واقعہ یہ ہے کسی کام کے درست ہونے کے لیے صرف نیک نیتی ہی کافی نہیں، اس کا طریقہ بھی درست ہونا ضروری ہے۔ لاؤڈ اسپیکر کا ایسا بے دریغ استعمال بالکل درست نہیں ہے ۔اور ایسا عمل دعوت وتبلیغ کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے ۔

میرے استاد محترم مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ العالی لکھتے ہیں کہ “ایذا رسانی کی بے شمار صورتوں میں ایک انتہائی تکلیف دہ صورت لاؤڈ اسپیکر کا ظالمانہ استعمال ہے ۔ جب کوئی شخص کہیں لاؤڈ اسپیکر نصب کرتا ہے تو اسے اس بات کی پروا نہیں ہوتی اس کی آواز صرف ضرورت کی حد تک محدود رکھا جائے اور آس پاس کے ان ضعیفوں اور بیماروں پر رحم کیا جائے جو یہ آواز سننا نہیں چاہتے ۔

لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ اذان کی آواز دور تک پہنچانا تو برحق ہے لیکن مسجدوں میں جو وعظ اور تقریریں یا ذکر و تلاوت لاؤڈ اسپیکر پر ہوتی ہے ان کی آواز دور دور تک پہنچانے کا کوئی جواز نہیں ملتا “۔

مشہور محدث حضرت عمر بن شیبہ نے مدینہ منورہ کی تاریخ پر چار جلدوں میں بڑی مفصل کتاب لکھی ہے ۔ جس کا حوالہ بڑے بڑے علماء اور محدثین دیتے رہے ہیں ۔
اس کتاب میں انہوں نے ایک واقعہ اپنی سند سے روایت کیا ہے کہ ایک واعظ صاحب حضرت عائشہ صدیقہ کے مکان کے بالکل سامنے بہت بلند آواز سے وعظ کیا کرتے تھے ۔
ظاہر ہے وہ زمانہ لاؤڈ اسپیکر کا نہیں تھا لیکن ان کی آواز بہت بلند تھی اور اس سے حضرت عائشہ صدیقہ کی یکسوئی میں فرق آتا تھا ۔ یہ زمانہ حضرت عمر فاروق کی خلافت کا تھا ۔

حضرت عائشہ صدیقہ نے شکایت حضرت عمر فاروق تک پہنچائ کہ یہ صاحب بلند آواز سے میرے گھر کے سامنے وعظ کرتے رہتے ہیں جس سے مجھے تکلیف ہوتی ہے اور مجھے کسی کی آواز سنائی نہیں دیتی حضرت عمر فاروق نے ان صاحب کو پیغام بھیج کر وہاں وعظ کرنے سے منع کیا لیکن کچھ عرصہ بعد واعظ صاحب نے دوبارہ وہی سلسلہ شروع کردیا ۔ حضرت عمر فاروق کو اطلاع ہوئی تو انہوں نے خود جاکر ان صاحب کو پکڑا اور ان پر تعزیری سزا جاری کی ۔

لاؤڈ سپیکر کے غیرضروری اور ظالمانہ استعمال سے اجتناب کیجیے۔ والیوم کو کم سے کم کر کے اپنے ارد گرد بیماروں اور پڑوسیوں کا خیال رکھیں، ایسا نہ کرنا لاؤڈ سپیکر کا غلط استعمال کہلائے گا۔

مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ کے محولہ بالا تحریر کے مطابق رات کو لوگوں کے آرام میں خلل ڈالنا لاؤڈ اسپیکر کا ظالمانہ استعمال ہو گا۔ اللہ ہمیں ظالم اور مظلوم بننے سے محفوظ رکھے۔

اسلام نے جہاں انفرادی زندگی کے متعلق انسان کی رہنمائی کی ہے وہیں اجتماعی اور معاشرتی زندگی کے تعلق سے بھی کچھ ہدایات اور تعلیمات دی ہیں ۔ اگر انسان ان تعلیمات و ہدایات کو اپناۓ تو ایک خوشگوار اور صالح معاشرہ تشکیل پاۓ گا اور ساتھ ہی ساتھ انسان دنیا اور آخرت کی سعادت و کامیابی سے بہرہ ور ہو گا۔ مذکورہ بالا ہدایت بھی اجتماعی اور معاشرتی زندگی سے متعلق ہیں۔

اس تحریر کا مقصد اصلاح معاشرہ اور اگاہی ہے ۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامین
86883