Chitral Times

Oct 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قوم کے بڑے بوڑھے۔ بابا لوگ !- قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

شیئر کریں:

مردوں کے کرنے کے کیا کام ہیں، قوم کے بڑے بوڑھوں سے کوئی گلہ نہیں، جب ان سے کوئی توقع ہی نہیں تو پھر گلہ کس بات؟۔ ان میں کوئی خاص کام کرنا چاہے تو اس کو روکا بھی نہیں جاسکتا، ورنہ لگتا تو یہی ہے کہ فالج کے مریضوں کی طرح مردم شماری کے رجسٹرمیں نام لکھانے کے لئے ’جیا‘ کرتے ہیں۔ البتہ جس چیز کا غم کھائے جاتا ہے وہ قوم کے نوجوانوں کی حالت ہے۔ ان کے دل و دماغ حاکم قوم کے وضع کردہ تعلیمی قالب میں ڈھلتے ہیں، وہ قالب ان نوجوانوں کی صلاحیتوں کو صرف اس حد تک بڑھنے دیتے ہیں جس حد تک حکومت کو ان کی ضرورت ہوتی ہے۔ان کی مثال کچھ ایسی ہے کہ کسی عمارت کے سامنے ادھر اُدھر بہت سے خوب صورت پیڑ دور سے یوں نظر آتے ہوں کہ جیسے کھلی ہوئی چھتر یاں، دریافت کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ اعلیٰ درجہ کی نارنگی کے درخت ہیں، لیکن چونکہ ان سے مقصود محض زیبائش صحن ہے،

اس لئے جوں ہی کوئی شاخ فطرت کے تقاضا سے اُبھرنے کی کوشش کرتی ہے اُسے قلم کردیا جاتا ہے اور اس طرح ان درختوں کو چھتریوں کے قالب میں ڈھال رکھا ہے، یعنی ان کے پھلوں کو دیکھیں تو رنگ نہایت شوخ، لیکن نہ خوشبو نہ ذائقہ۔ یہی مقصد تعلیم سے ہے کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو صرف قوم غالب کے مصالح کی حد تک بڑھنے دیا جائے، ایک تو تعلیم ایسی ناقص، اس پر ذرائع معاش کی کمی۔ نوجوانان ِ قوم کے عمدہ عمدہ دماغ سب ملازمتوں کی نذر ہوجاتے ہیں انہیں شریک حکم تو کیا نہیں جاتا، البتہ ان کے ’جوھر ادراک‘ نہایت سستے  داموں خرید لئے جاتے ہیں اور پھر ان پر پابندیاں اس قدر سخت عائد کی جاتی ہیں کہ یہ کسی اور طرف خیال تک بھی نہیں کرسکتے۔نوجوانوں کے اتنے متنوع وسائل ہیں کہ نوجوانوں کے چند ایک دماغ کو ملازمتوں کے نام پر سوشل میڈیا میں بھرتی کرلیا گیا، جن کے کام صرف عزتیں اچھالنا، بہتان، الزام تراشی اور گالم گلوچ بریگیڈ کا کردار ادا کرنا ہے۔ سوشل میڈیا کے ٹرینڈز پر تسلط اور مدر پدر آزاد میدان شور وغوغا میں اعلیٰ دماغوں کو بہترین پرورش گائیں دینے کے بجائے، ان سے موزوں کام لینے سے گریز نے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے۔

ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں ’ملازمتوں‘ کی ضرورت نہیں، لیکن ان کے بچے بالعموم سہل انگار اور عشرت پسند ہوتے ہیں، اس لئے ان میں عمدہ دماغ  بھی بہت کم نکلتے ہیں، اس پر طوق ِ حکومت کی لعنت کہ بہترین دماغوں کو اپنے پاس ملازمت میں رکھنے کو وجہ افتخار سمجھا جاتا ہے۔ اچھے اچھے جاگیر داروں، سرمایہ کاروں، وڈیروں، خوانین  اور سرداروں کے جانشینوں کو دیکھئے، باپ داد ا کے  ”کارناموں“ کی سندات  شیشے کے چوکھٹوں میں جڑی ہوئی، بغل میں دبائے مارے مارے پھر رہے ہیں کہ کہیں ’اسامی‘ مل جائے تاکہ غلاموں پر حکومت کرسکیں۔بد قسمتی سے بہترین دماغوں کا جو طبقہ تھا جسے قوم کی راہ نمائی کا کام کرنا تھا، وہ یوں ضائع ہورہا ہے، کہئے کہ کل کو قوم کے اجتماعی مسائل کی گتھیاں کون سلجھائے گا؟۔ ہمارے بڑے بوڑھوں نے اس اولیّں فریضہ سے چشم پوشی کی۔ اس کا خمیازہ ہم آج بھگت رہے ہیں،جو مجرمانہ تغافل آج ہم سے سرزد ہورہا ہے اس کی سزا ہماری آنے والی نسل مزید بھگتے گی۔فرض کیجئے کہ زندگی کی جس سیاسی کشاکش سے آپ آج گذر رہے ہیں اس میں آپ کامیا ب ہوجائیں اور آنے والی حکومت میں آپ کو حسب ِ خاطر حصہ مل جائے یا آپ کو جداگانہ آسائش ہی مل جائے  تو اس وقت وہ کون سے لوگ ہوں گے جن کے ہاتھوں میں زمام حکومت ہوگی  یہ قحط الرجال ہی ہے کہ سوشل میڈیا میں نوجوانوں کو ایسا شعبہ سپرد کیا گیا کہ آج انہی کی وجہ سے آپ خود ہر روز نالاں ہیں، اس سے زیادہ آپ کی تہی مائیگی کا اور کیا ثبوت ہوگا۔


شیئر کریں: