Chitral Times

Apr 17, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کھیلوں کا بادشاہ، بادشاہوں کا کھیل ۔ تحریر: کیپٹن (ر) سلطان الدین

شیئر کریں:

کھیلوں کا بادشاہ، بادشاہوں کا کھیل ۔ تحریر: کیپٹن (ر) سلطان الدین

کھیلوں کا بادشاہ، بادشاہوں کا کھیل ” پولو چترال کا قومی کھیل ہے، اس ناطے چترال کے ہر فرد کا پولو سے والہانہ لگاؤ ہے ۔ اور قدیم الایام سے چترال کے باسیوں نے نہ صرف کھیل کھیلتے آئے ہیں بلکہ بعض اوقات گلگت اور غزر کے ٹیموں کے ساتھ بمقام شندور ان کا مقابلہ ہوتا رہا ہے۔ تاہم اس وقت کھیل کو باقاعدہ سرکاری سرپرستی حاصل  نہیں تھی ۔ چترال اور گلگت کے درمیان پولو میچ کئ سالوں کے وقفے کے بعد کھیلا جاتا تھا ۔

پولو میچ کو چترال میں فروغ دینے میں کئ معزز خاندانوں کا خصوصی طور پر کردار رہا ہے ۔ اجکل پولو میچ کو چترال میں جو پزیرائی ملی ہے یہ انہی کی مرہون منت ہے ۔ اسی طرح کئ شخصیات انفرادی طور پر بھی چترال میں پولو کو فروغ دینے اہم کردار ادا کئے ہیں۔ ان میں ایک شخصیت سابقہ کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل مراد نئیر مرحوم ہے، انہوں نے چترال میں پولو میچ کو فروغ دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اگرچہ چترال اور گلگت کے درمیان پولو میچ کھیلا جاتا تھا، مگر سالانہ میچ کھیلنے کا باقاعدہ نظام نہیں تھا۔

col murad late gen zia chitral
کمانڈنٹ مرحوم کا چترالیوں سے دلی لگاؤ تھا وہ چترال میں غربت کو ختم کرنے کے درپے میں تھے۔ اسی حالت کے تناظر سے سن 1986ء میں کرنل مراد مرحوم نے چترال اور گلگت کے درمیان کھیلے جانے والے میچ کو سالانہ منعقد کرنے کا عزم کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے چترال سکاؤٹس کے آفیسرز اور جے سی اوز صاحبان جن میں میجر عتیق الرحمن کیانی، صوبیدار میجر گل محمد ریشن، صوبیدار میجر سلطان الدین چوئنچ اور صوبیدار شیدائی دستگیر کیسو قابل ذکر ہیں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی۔ کمانڈنٹ کی سربراہی میں کمیٹی مشترکہ طور پر چترال اور گلگت کے درمیان کھیلے جانے والے میچ کو “شندور فیسٹیول” کا نام دیکر سالانہ انعقاد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

سابقہ کمانڈنٹ صاحب کا میچ کو ریگولر کرنے کا مقصد ایک طرف پولو کو چترال میں فروغ دینا تھا تو دوسری طرف چترال کے عوام کو مزدوری اور کاروبار کا مواقع پیدا کرنا تھا، تاکہ چترال کے غریب عوام کو روزی روزگار مل سکے، اور چترال کی پسماندگی کو دور کرنے میں مدد دے سکے۔

قارئین کرام 1986ء سے شندور کا میلہ سلانہ منعقد تو کیا جاتا ہے مگر افسوس اس بات کی ہے، کہ تاحال شندور میں نہ صرف کرنل مراد مرحوم کے خدمات کے اعتراف میں اس کے نام پر کوئی نشان بنایا گیا بلکہ اس کمیٹی میں شامل تاحیات جے سی اوز صاحبان کو بھی سرکاری طور پر نظرانداز کیا گیا ہے۔ ان کو نہ پول میچ کے کس کمیٹی یا میٹنگ میں شامل کیا جاتا ہے اور نہ ان کو شندور فیسٹیول کے موقع پر سرکاری طور پر مدعو کیا جاتا ہے۔ بجائے ان کے ایسے لوگوں کو اہمیت دی جاتی ہے جو اس معاملے میں الف-با- تک ناواقف ہیں۔

col murad late gen zia chitral shandur

لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ شندور میں کمانڈنٹ مرحوم کے پولو کے لیے خدمات کی اعتراف میں کرنل مراد میموریل بنایا جائے اور ساتھ ساتھ اس کمیٹی کے تاحیات ہیں جے سی اوز صاحبان کو سرکاری طور پر مدعو کرکے ان کا حوصلہ افزائی کی جائے۔
کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس اور ونگ کمانڈر 41 ونگ کی خدمت میں التجا ہے، کہ کرنل مراد خان نئیر کی خدمات کو مدنظر رکھکر شندور میں کرنل مراد خان نئیر میموریل بنائیں۔ شکریہ

آنریری کیپٹن (ر) سلطان الدین چوئنچ مستوج

 

chitraltimes shandur festival polo chitral 6


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
75776