Chitral Times

Oct 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دیامر کے مسائل: قصور وار کون؟ ….تحریر: ثمر خان ثمر

شیئر کریں:

جب دیامر کے مسائل پر کوئی صاحب سوشل میڈیا پر رقمطراز ہوتا ہے یا کسی محفل میں بات اُٹھاتا ہے تو احباب آناً فاناً تین دھڑوں میں منقسم ہوجاتے ہیں۔ ایک گروہ منتخب نمائندوں کی تعریف و توصیف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے نہیں تھکتا ، ایک جماعت شکست خوردہ نمائندوں کی مدح سرائی میں اپنی توانائیاں صرف کرتی ہے تو فریق سوم حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں سے نالاں دکھائی دیتی ہے۔ وہ ان دونوں سے بیزار کسی مسیحا کی منتظر نظر آتی ہے کہ کوئی مسیحا آئے گا اور مسائل چٹکی بجاتے حل کر دے گا۔ بدقسمتی سے نامعلوم “مسیحا” کے انتظار میں آنکھیں سفید ہو گئیں مگر اس نے نہ آنا تھا نہ آیا۔ ملک کے دیگر گوشوں کی طرح دیامیر کے سیاسی اُفق پر بھی دور دور تک فریق سوم کے تصوراتی و تخیلاتی مسیحا کے آثار معلوم نہیں ہوتے۔ ایک ایسا مسیحا جس کے پاس جادو کی چھڑی ہو اور وہ یوں گھمائے اور یوں مسائل حل کردے۔ ایسے کئی لوگوں نے قسمت آزمائی کی اور شکست ان کا مقدر ٹھہری۔ اُنہوں نے جس پھرتی سے سیاسی اُکھاڑے میں قدم رکھا تھا اتنی ہی تیزی سے منظر سے غائب بھی ہو گئے۔ میں یہاں ان کا دوش نہیں سمجھتا ، جن لوگوں کو مسیحا کی تلاش تھی ، عین وقت پر وہی لوگ دغا دے جاتے ہیں۔ دمامیر میں بھی سیاست میں موروثیت آگئی ہے۔ گنے چنے خاندان ہی سیاسی میدان کے شہسوار ہیں اور اگر سچ کہا جائے تو باریاں لیتے ہیں۔ سیاست ویسے بھی بڑا  پیچیدہ عمل ہے ، یہ بازیچہ اطفال تو ہے نہیں مگر اگر دیامیر کی سیاست پر نگاہ دوڑائی جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ یہ کتنا کٹھن ، پُرخطر اور مشقت طلب عمل ہے؟ یہاں الیکشن لڑنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ الیکشن لڑنا جتنا کارگراں ہے اس سے کئی گنا مشکل تو جیت کر اپنا دورانیہ نکالنا ہے۔


مسائل کے ذمہ دار عوام سیاسی نمائندوں کو سمجھ رہے ہیں ، بیشک وہ ذمہ دار ہیں لیکن کچھ کم ذمہ دار خود عوام بھی نہیں ہیں۔ سوشل میڈیا اور عام محفلوں میں عوامی گروہ بندی اور الزام تراشی سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم سب اپنی آستینوں میں ایک ایک عدد “بُت” چھپائے بیٹھے ہیں۔ اس کی شان میں کوئی ذرا سی گستاخی کرے ، ہم برداشت نہیں کر پاتے۔ میں مانتا ہوں ہمارے نمائندوں سے ماضی میں غلطیاں ہوئی ہیں ، انہیں جیسا کام اپنے اپنے حلقوں میں کرنا چاہیے تھا وہ ان سے نہ ہو سکا لیکن دوسری طرف اچھائیاں بھی ہوئی ہیں۔ یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اپنے اپنے حلقوں میں انہوں نے کچھ نہ کچھ کیا ہے۔ انہیں کچھ نہیں بہت کچھ کرنا چاہیے تھا۔ آپ سیاسی نمائندوں کو قصوروار گردان کر اپنا غم و غصہ فیس بکی دیواروں پر چسپاں کر رہے ہیں اور بالکل اسی طرح نجی محفلوں میں بھی ان کی خوب خبر لے رہے ہیں لیکن یہاں پر میرا نقطہ نظر آپ سے میل نہیں کھاتا۔ میں الگ زاویے سے سوچتا ہوں۔ یقینا بہت سوں کو مجھے سے اختلاف بھی ہوگا ۔ کسی کا کسی کی رائے سے اتفاق کرنا ضروری نہیں ہوتا ، ہر شخص آزادانہ سوچ کا حامل ہے۔ میں سیاسی نمائندوں کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی قصوروار گردانتا ہوں۔ ذرا سوچ لیجئے ، ان کو مسند اقتدار پر کس نے بٹھایا؟ فرد واحد کی عزت کی خاطر کتنے افراد نے اپنی ناموس کا جنازہ نکلوایا؟ کتنے لوگوں نے شبانہ روز انتھک کوششوں سے عام آدمی کو خاص آدمی بنا دیا؟ کتنے لوگوں نے مدعی سست گواہ چست کا عملی مطاہرہ کیا؟ ہم میں سے کتنے لوگ دن رات قومیت اور تعصب کا راگ الاپتے رہے؟ کتنے لوگ شب کی گھور تاریکی میں در در ایک ایک ووٹ کی بھیک مانگتے رہے؟ کیسی کیسی منصوبہ بندیاں کی گئیں؟ کیسے کیسے پاپڑ بیلے گئے؟ کیا کیا حربے آزمائے گئے؟ کیسی کیسی منتیں ، فریادیں ، دھونس ، دھمکی ،لالچ ، رشوت ، خوشامد ، سبز باغ ، وعدے ، قسمیں وغیرہ سے کام چلایا گیا؟ کیسے پروپیگنڈے ، کیسے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے؟


ہزار جتن کے بعد جب نمائندہ ایوان کے بالا خانوں میں پہنچ گیا تو مجھے بتایا جائے کہ ہم میں سے کتنے لوگوں نے عوامی مفاد کو ذاتی مفاد پر فوقیت دی؟ کتنے لوگوں نے ممبر صاحب کو بلاتفریق عوامی خدمت کرنے پر مجبور کیا؟ کس کس نے ممبر صاحب سے گزارش کی کہ “پُل” ہمارے گاؤں سے زیادہ فلاں گاؤں کے لئے ضروری ہے؟ اسکول یہاں نہیں وہاں بننا چاہیے ، ڈسپنسری کی ضرورت یہاں نہیں وہاں ہے ، لنک روڈ مجھے نہیں فلاں کو درکار ہے؟ ملازمتیں سیاسی اثر رسوخ پر نہیں ، میرٹ پر ملنی چاہیں؟ نہیں ، بالکل نہیں۔ یہ باتیں ہم میں سے کسی نے بھی ممبر صاحب کے گوش گزار نہیں کیں۔ ہر شخص نے اپنی جیب اور ذات تک سوچا ، یا اگر سوچ کا دائرہ ذرا وسیع ہوا تو اپنے خاندان تک گیا اور بس۔ کوئی نمائندہ برا نہیں ہوتا وہ عوامی خدمت کا زبردست جذبہ لے کر میدان عمل میں اُتر آتا ہے۔ اس کی عادات و اطوار بگاڑتے ہیں تو ہم ، اس کو غلط پٹی  پڑھاتے ہیں تو ہم۔ اس کو راہ غلط پر لگاتے ہیں تو ہم۔ برے مشیروں میں گھرا ہوا ممبر بیچارہ کیا کر سکتا ہے؟ وہ وہی کرے گا جیسا مشیر چاہتے ہیں۔ ایسے میں ممبر صاحب سے شکوہ کیسا تو شکایت کیسی؟ شکوہ کرنا ہے تو خود سے کریں ، شکایت کرنی ہے تو خود سے کریں۔ کیونکہ اگر ہم صراط مستقیم پر گامزن ہوں تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ممبر راہ غلط پر گامزن ہو۔ سارے فساد کی جڑ خود عوام ہے نہ کہ خواص۔ ہم چاہتے ہیں ہمارے سیاسی نمائندے درست سمت پر چلیں اور علاقے کی فلاح و بہبود کے لئے کوشاں ہوں تو سب سے پہلے ہمیں اپنا قبلہ درست کرنا ہوگا۔ صاحب اقتدار کو بلاتفریق عوامی خدمت کرنے پر مجبور کرنا ہوگا۔ میرا اور تیرا کا نعرہ دفنانا ہوگا۔ ممبر کسی کا نہیں ہوتا وہ پورے حلقے کا مشترک ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے “جو چیز سب کی ہوتی ہے وہ درحقیقت کسی کی بھی نہیں ہوتی”۔


پہلے لوگ نمائندہ عوامی خدمت اور مستحق کو اس کا حق دلانے کے لئے چُنتے تھے لیکن آج ذاتی مفاد اور مستحق کا حق چھیننے کے لئے چُنا جاتا ہے۔ ایک چیز یہاں بہت اچھی ہے کہ ممبروں تک کوئی بھی شخص رسائی پا سکتا ہے حتی کہ ایک بیوہ عورت بھی اپنے حلقے کے منتخب نمائندے سے مل سکتی ہے۔ وہ اپنا دکھ درد سنا سکتی ہے۔ ایسا گلگت بلتستان میں تو ممکن ہے ملک کے دیگر گوشوں میں ممکن نہیں۔ لوگ تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ میری خواہش ہے کہ دیامیر کے ہر ہر حلقے سے ایک ایک عوامی کمیٹی بنے اور اپنے اپنے نمائندے سے اپنے اپنے مسائل پر گفت و شنید کرے۔ دیامیر میں اس وقت بھی مسائل بےانتہا ہیں۔ یہاں بجلی کا مسئلہ ہے ، پینے  کے لئے شفاف پانی کا مسئلہ ہے۔اسکولوں کا فقدان ہے اور اگر اسکول موجود ہے تو اساتذہ کی کمی ہے۔ فیمیل ایجوکیشن کا ریشو تو بالکل نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کا مسئلہ ہے ، اسٹاف کی کمی کا مسئلہ ہے۔ ہسپتالوں میں آلات کی کمی ہے ، سڑکوں کا مسئلہ ہے ، بچوں کے لئے کھیلوں کے میدان نہیں ہیں۔ زرعی اراضی کے لئے نہروں کی کمی کا سامنا ہے۔ ایسے بہت سارے مسائل ہیں جو حل طلب ہیں۔ ہر علاقے کے اپنے اپنے مسائل ہیں اور اہل مکین بہتر جانتے ہیں۔ کون سا کام ہنگامی بنیادوں پر ہونا چاہئے اور کون سا بعد میں؟ یہ اہل علاقہ طے کر سکتے ہیں۔ میرا خیال ہے اس کام کے لئے عوامی کمیٹیاں تشکیل دینی ناگزیر ہیں۔ جب عوام کے اندر لگن اور جذبہ ہوگا تو کوئی منتخب نمائندہ ایسا نہیں ہے جو انکار کرے۔ وہ تو آتے ہی خدمت خلق کے لئے ہیں۔ ان کی عادات بگاڑنے اور غلط راہ پر لگانے والے ہم ہیں۔ ممبر نے پانچ سال کے بعد واپس عوامی عدالت میں آنا ہوتا ہے ، انکار کی گنجائش اس کے پاس ہے ہی نہیں۔ خدارا اپنا اپنا احتساب کریں،  ذاتی مفادات کو عوامی مفادات پر ترجیح نہ دیں۔باہم متحد ہو کر اپنے علاقے کے فلاح و بہبود کے بارے میں سوچ لیں۔ذاتی مفادات کے چکروں میں پڑ جائیں گے تو علاقائی مسائل جوں کے توں رہیں گے اور یقیناً آنے والی نسلیں آپ کو بددعا دیں گی کیونکہ ان کی تباہی کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔


شیئر کریں: