Chitral Times

Apr 19, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

رمضان ڈائری – رمضان، مسلمان اور خوف خدا ۔  قسط ۲- میر سیما امان

Posted on
شیئر کریں:

رمضان ڈائری – رمضان، مسلمان اور خوف خدا ۔  قسط ۲- میر سیما امان

 

ہماری روزمرہ زندگی میں اکثر لوگ  ہمیں اللہ سے ڈرانے کی کوشش کرتے ہیں اور ایسا عموماً تب ہوتا ہے جب ہم ان لوگوں کی مرضی کے خلاف کوئی بات یا عمل کرتے ہیں ۔۔۔ یوں ایک انسان بظاہر اللہ کا نام لیکر اپنی ذات سے آ پکو ڈرا رہا ہوتا ہے۔ اسکا مقصد آپ کو خدا کے بجائے اپنے تابع کرنا ہوتا ہے۔ یہاں پر دیکھا جائے تو ہر کوئی ایک دوسرے کو خوف خدا کا درس دیتا ہوا نظر آتا ہے لیکن خود اس بات سے بلکل بے خبر ہے کہ اسکے کون کونسے اعمال اسکو اللہ کی پکڑ میں لا سکتے ہیں ۔۔دیکھا جائے تو قرآن کریم میں اللہ پاک نے کہیں مرتبہ خود تمام مخلوقات کو اللہ سے ڈرنے کا حکم دیا ہے ۔۔جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کا خوف کسی مخصوص طبقے یا مخصوص ذات کے لیے نہیں ہے بلکہ خوف خدا کا حکم خود اللہ کی طرف سے تمام مخلوقات کے لیے ہے ۔۔۔جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے کہ اے ایمان والو اللہ سے ڈرو۔ حضرت سیدنا فقیہ ابواللیث سمرقندی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں ۔۔

 

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف کی علامت آٹھ چیزوں میں ظاہر ہوتی ہے پہلی چیز انسان کی زبان میں، اس طرح کہ ربّ تَعَالٰی کا خوف اس کی زبان کو جھوٹ، غیبت، فضول گوئی سے روکے گا اور اسے ذکرُاللہ، تلاوتِ قرآن اور علمی گفتگو میں مشغول رکھے گا۔دوسرا اس کے شکم میں، اس طرح کہ وہ اپنے پیٹ میں حرام کو داخل نہ کرے گا اور حلال چیز بھی بقدرِ ضرورت کھائے گا۔۔تیسری چیز اس کی آنکھ میں، اس طرح کہ وہ اسے حرام دیکھنے سے بچائے گا اور دنیا کی طرف رغبت سے نہیں بلکہ حصولِ عبرت کے لیے دیکھے گا۔۔چوتھی علامت اس  کے ہاتھ میں، اس طرح کہ وہ کبھی بھی اپنے ہاتھ کو حرام کی جانب نہیں بڑھائے گا بلکہ ہمیشہ اِطاعت الٰہی میں استعمال کرے۔پانچویں علامات اسکےقدموں میں، اس طرح کہ وہ انہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی میں نہیں اٹھائے گا بلکہ اس کے حکم کی اِطاعت کے لیے اٹھائے گا۔ چھٹی چیز اسکے دل میں، اس طرح کہ وہ اپنے دل سے بغض، کینہ اور مسلمان بھائیوں سے حسد کرنے کو دور کردے اور اس میں خیرخواہی اور مسلمانوں سے نرمی کا سلوک کرنے کا جذبہ بیدار کرے۔ ساتھواں  اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں، اس طرح کہ وہ فقط اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رِضا کے لیے عبادت کرے اور رِیاء ونفاق سے خائف رہے۔ اور آ ٹھویں اسکے اس کی سماعت میں، اس طرح کہ وہ جائز بات کے علاوہ کچھ نہ سنے۔

میرے خیال میں خوف خدا کی اس سے زیادہ واضح اور مکمل تشریح نہیں ہوسکتی جن الفاظ میں محترم جناب نے کی ہے ۔۔۔  ایک حدیث کے ساتھ اس مضمون کو اختتام کی طرف لیکر جاؤنگی ۔  حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضورِ اقدس(ﷺ) نے ارشاد فرمایا: مسلمان کے ایمان کا افضل درجہ یہ ہے کہ اسے اس امر کا یقین رہے کہ وہ جہاں بھی ہے اس کا خدا اس کے ساتھ (نگران) ہے۔ بہت ہی سادہ بات ہے کہ آپ ہر قدم میں اللہ کی موجودگی کو تسلیم کریں ۔۔اس پورے فلسفے کا نچوڑ ہی یہی بات ہے جسے ہمارے ایک بہت پسندیدہ لکھاری ممتاذ مفتی کہتے ہیں کہ ساتھیوں اپنے اوپر ایک خدا مسلط کر لو باقی سب آسان ہو جائے گا ۔۔۔۔

رمضان کا مہینہ ہے اور مسلمان ہمیشہ  کی طرح خود سے زیادہ دوسروں کے اعمال پر پریشان ہیں کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اس رمضان دوسروں پر  خدامسلط کرنے کے بجائے خود پر کر لیں اپنی آ خرت سنوارنے کی تھوڑی سی بھی کوشش کرلیں اور اپنے اوپر ڈھیر ساری خداؤں کے بجائے صرف ایک خدا مسلط کر لیں اسی کے تا بع ہو جا ئیں اور اپنے ہر عمل کا خود کو اسی ایک خدا کے آگے جوابدہ تسلیم کرلیں ۔۔۔۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
73336