Chitral Times

May 27, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • نوائے سُرود ………..عدم برداشت………….. شہزادی کوثر

    January 23, 2019 at 7:34 pm

    انسان کو بولنے کی صلاحیت سے سرفراز کر کے اوپر والے نے بڑا کرم کیا ہے۔ایک دوسرے سے بات چیت کر کے ،اپنا غم دوسرے کو سنا کے اور دوسرے کی دکھ بھری داستان سن کے ہم ایک اٹوٹ بندھن میں بندھ جاتے ہیں۔یہی صلا حیت ہمیں دوسری مخلوقات سے ممتاز بھی بناتی ہے۔اگر ہمیں اس صفت سے متصف نہ کیا جاتا تو ہم کچھ کہنے سننے اور سمجھنے یا سمجھانے کے اوصاف سے محروم ہو جاتے،کتنا اچھا لگتا ہے جب ہم کسی بات یا چیز کو اچھی طرح سمجھنے کے بعد اسے ہو بہ ہو دوسرے کے دل و دماغ میں منتقل کرتے ہیں ۔اسی زبان سے ہم خالقِ لم یزال کا کلامِ پڑھتے اور من کی چٹختی زمین کواس کی تاثیر سے سیراب کرتے ہیں۔یہی زبان ہے جو ذکرِ الہی سے تر ہو تو کبھی لحنِ داودؑ اور کبھی بلالِ حبشیؓ کی اذان بن جاتی ہے۔پہلی وحی میں نبی کریمﷺ کو جو حکم ہوا وہ بھی اسی صلاحیت سے متعلق تھا،یہ صفت قوموں کی تقدیر بدلنے کی طاقت رکھتی ہے،لیکن اس کا صحیح اور موقع محل کے مطابق استعمال ہی کامیابی کی دلیل ہے۔انسان زبان کے بارے میں کافی شاہ خرچ واقع ہوا ہے۔جہاں بولنے کی ضرورت نہ بھی ہووہاں بے دریغ اور فالتو بولتا رہتا ہے۔اس دوران وہ بھول جاتا ہے کہ کیا بولنا ہے۔کہاں؟ کب اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیسے بولنا ہے؟نہ الفاظ کا انتخاب درست نہ لہجہ ہی قابلِ قبول،جو زبان پرآ ئے وہ بغیر تولے بول دیتے ہیں۔یہ سمجھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ اس لفظ اور لہجہ کی کاٹ کیسی ہے۔یہ کسی معصوم کے دل کو ٹکڑے ٹکڑے تو نہیں کر رہے۔انجانے میں ہم کتنوں کی دل ازاری کا سبب بن رہے ہیں ہمیں اس کا اندازہ بھی نہیں ہو پاتا۔بہت سے والدین بچوں کے سامنے بھی زبان کا غلط استعمال کرتے ہیں۔جھوٹ بولتے، گالی دیتے یا اونچی ٓاواز میں جھگڑتے ہیں۔اس دوران جو اثر ان ننھے ذہنوں پر پڑتا ہے وہ ناقابلِ بیان ہے۔زبان کا استعمال ہماری عدم برداشت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔اگر بچوں کے سامنے غصے کا اظہار یا گالم گلوچ سے ایک طرف اپنی زبان کو خراب کرتے ہیں تو دوسری طرف نسلوں کو بگاڑنے کا فریضہ بھی انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ہماری عدم برداشت کا ثبوت اس سے بڑھ کر کیا ہو گا کہ کسی بات کو ہضم کرنے کا حوصلہ ہم میں نہیں۔خواتین تو اس معاملے میں کافی بدنام تھیں،لیکن آج کل تو مرد حضرات نے عدم برداشت میں پی ایچ ڈی کرنے کی قسم ؛؛کھائی ہے۔حلانکہ اسلام سے صبر اور برداشت سے کام لینے کا حکم دیا گیا ہے۔اس حکمِ ربانی کو بھلانے میں کبھی دیر نہیں لگاتے۔اگر کوئی اونچی ٓاواز سے بات کرے تو دوسرے کو اپنا لہجہ دھیما کر کے سامنے والے کے غصے کو کم کرنا چاہیے لیکن ہماری غیرت کو کب گوارا ہے کہ اس کی ٓاواز ہماری ٓاواز سے اونچی ہو اور ہم بھیگی بلی بنے رہیں۔جب تک اس کے بندوق کی ل گولیوں کا جواب توپ داغ کے نہ دوں کلیجے میں ٹھنڈ نہیں پڑتی۔اگر کوئی تلخ لہجے کے تیر برسائے تو کڑواہٹ کے خنجروں سے اسے چھلنی نہ کروں سکھ کا سانس نصیب نہیں ہوتا۔کیا فرشتوں نے ہمیں اس لیے سجدہ کیا تھا کہ ہم ایک دوسرے کو ذلالت کے کیچڑ میں لت پت کرتے رہیں۔اکثر لوگ شرفا کی زبان استعمال ہی نہیں کرتے۔بلکہ انتہائی بازاری الفاظ کا تبادلہ ایسے کیا جاتا ہے کہ سر شرم سے جھک جاتا ہے۔کچھ لوگ فحش گفتگو کو مزاح تصور کر کے ایسے الفاظ سے ایک دوسرے کو پکارتے ہیں جنھیں سن کر دل کرتا ہے کہ زمین پھٹ جائے اور میں اس میں سما جاؤں۔سوچ کر ڈر لگتا ہے کہ انسان کا اندرون غلاظتوں کے انبار سے ڈھکا ہوا ہے۔ سوچا جائے تو انسان کی ٓازمائش زبان سے ہوتی ہے۔کسی کے بارے میں کوئی غلط بات نہیں کرنی چاہیے جو ہمارے گلے کا پھندا بنے۔اپنی زبان کی حفاظت کرنے کے بجائے دوسرے کی باتوں کے نقاد بن جاتے ہیں۔جس سے ہمیں اپنی خامیوں کا اندازہ نہیں ہو پاتا اور ہم کوئلہ ہی رہتے ہیں ہیرا بننا ہمیں نصیب نہیں ہوتا۔ ؛سختی اللہ تعالی کو ؛پسند نہیں اس لیے زبان میں ہڈی نہیں بنائی،یہی زبان دل کا دروازہ ہے،جس پر ہم نے کرختگی کا دربان بٹھا رکھا ہے۔جو کسی کو بھی اندر گھسنے کی اجازت نہیں دیتا،اور انسان تنہا ہی اپنی پریشانیوں کو سہتا ہوا زندگی گزارنے پر مجبور ہوتا ہے۔اگر ہم میں اپنی خامیوں کے ساتھ دوسرے کی کمزوریوں کو برداشت کرنے کا حوصلہ ہوتو زندگی بڑی ٓاسان ہو جائے گی۔

  • error: Content is protected !!