Chitral Times

Nov 30, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بزمِ درویش ۔ خدا کی پکڑ ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Posted on
شیئر کریں:

بزمِ درویش ۔ خدا کی پکڑ ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

میں روزانہ کی طرح صبح اپنے آفس جا رہا تھا میں نے مو بائل آن کیا تو کسی نمبر سے بہت ساری مس کالیں آئی ہوئی تھیں نمبر میرا جانا پہچانا نہیں تھا ابھی میں نمبر کے بارے میں غور کرہی رہا تھا کہ پھر اُسی نمبر سے کال آنی شروع ہو ئی تو میں نے فوری طور پر نمبر اٹھا لیا کہ پتہ نہیں کون کس ایمرجنسی میں بار بار کالیں کر رہا ہے سبز بٹن دبا یا تو دوسری طرف سے کسی پریشان دیہاتی کی آواز سنائی دی اُس نے میرا نام لے کر پہلے کنفرم کیا پھر بات کو مزید آگے بڑھایا کہ جناب میں آپ کے گاؤں کے قریبی گاؤں سے بات کر رہا ہوں میرا چاچا بہت بیمار ہے ڈاکٹروں نے تو جواب ہی دے دیا ہے ڈاکٹروں کے جواب کے بعد ہم مریض کو بے شمار بابوں بزرگوں کے پاس لے کر گئے ہیں لیکن مریض کو آرام نہیں آیا بیماری ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے جس کے پاس بھی دم کرا نے جاتے ہیں یہی کہتا ہے بہت خطرناک کالا جادو ہوا ہے اِس کا توڑ کر نا پڑے گا اُس توڑ کے لیے بہت خرچہ آئے گا جناب ہم گھر کے زیورات مویشی بیچ بیچ کر عاملوں کا پیٹ بھر رہے ہیں لیکن جادو کا توڑ نہیں ہوا اب کسی نے آپ کا پتا بتایا تو اب آج آپ کے پاس آرہے ہیں ایک اور بات جناب میرے والد صاحب آپ کے والد صاحب کے بہت گہرے اچھے دوست تھے پھر اُس نے اپنے والد صاحب کا ذکر کیا جو انتقال کر چکے تھے اُس کے ذکر کرنے پر مجھے بچپن کی دھندلی یادوں میں اُس کے والد کا نام اور سرا پا یاد آگیا جب بچپن میں ہم لوگ گنے کے رس اور گُڑ کے لیے زمینوں پر جاتے تھے تو وہ میرے والد صاحب سے ملنے ضرور آتے آکر والد صاحب کے ساتھ حُقہ پیتے زمینداری فصلوں کی گپ شپ بھی لگاتے

 

جب اُس نے میرے والد صاحب کا ذکر کیا تو میرا جذبہ ہمدردی بھر پور طور پر بیدار ہو گیا میں شفیق لہجے میں بولا جناب آپ میرے دفتر آجائیں میں آپ کا انتظار کروں گا اور جو کُچھ مُجھ فقیر سے ہو سکا میں ضرور کروں گا فون بند ہوا تو میرے آنکھوں میں والد صاحب کی یاد کا پانی کروٹیں لے رہا تھا اور بچپن کی بہت ساری یادیں جب ہم چھٹی کا دن ٹیوب ویل زمینوں پر گزارتے جہاں پر گنے کا رس اور موسمی پھلوں سے خوب لطف اندوز ہو تے بیروں کے موسم میں بیروں سے لدے درخت اور ہماری شرارتیں عروج پر ہوتیں میں انہی یادوں میں ہلکورے لیتا لیتا دفتر پہنچ گیا تھوڑی دیر بعد ہی مریض بھی آگیا میں مریض کو دیکھ کر بہت پریشان ہو گیا کیونکہ اُس کی حالت بہت خراب تھی اُس کے چہرے پر زندگی کی لالی کی جگہ موت کی زردی تھی ہر گزرتے لمحے کے ساتھ قبضہ جما تی جار ہی تھی میں عام سا مریض سمجھا تھا لیکن جب غور سے مریض کو دیکھا تو جسم کانپ سا گیا مریض کے گلے کے اندر باہر کوئی پھوڑا تھا جو خوب پھول کر اب خراب ہو گیا تھا پھوڑے کے پھیلاؤں کی وجہ سے گلا بند سا ہو گیا تھا خوراک کی نالی سے خوراک پیٹ تک جارہی تھی بیماری نے مریض کو خوب جکڑ رکھا تھا بیماری عضلات سے اب ہڈی تک سرایت کرتی جارہی تھی مریض سے چلا بھی نہیں جا رہا تھا دو بندوں نے اُس کو کندھوں سے پکڑ رکھا تھا ان بندوں نے اُس کو لاکر بینچ پر بیٹھا دیا میں پہلے سے انتظار میں تھا تیزی سے مریض کی طرف بڑھا تو ساتھ آیا بندہ جس کی مُجھ سے بات ہوئی تھی

 

اُس نے اپنے والد صاحب اور چچا کا مزید تعارف کرانا شروع کر دیا باتوں باتوں میں اُس نے بتا یا آپ کو یاد ہو گا میرے والد صاحب اور چاچا جان بھینسوں کا علاج بھی کرتے تھے اگر کسی بھینس کا گلا بند ہو جاتا جس کو گل گھوٹو کہتے تھے تو لوگ میرے والد صاحب اور چاچا جان کو لے جاتے تھے اللہ نے والد صاحب اور چاچے کے ہاتھ میں خوب شفا رکھی تھی جس بھینس کی کمر پر ہاتھ رکھتے بھینس کا بند گلا کھل جاتا والد صاحب کے چند شاگرد بھی تھے جن کو اُنہوں نے اجازت اور طریقہ بتا یا تھا وہ بھی بھینسوں کا علاج کر تے تھے والد صاحب عرصہ پہلے فوت ہو گئے ان کے شاگرد بھی اب دنیا میں نہیں رہے اب یہ فن صرف اور صرف میرے چاچے کے پاس تھا یہ لوگوں کی خدمت کر رہا تھا لیکن اب اِس بیماری کے بعد یہ کام بھی رک گیا ہے میں جب مریض کو دیکھ رہا تھا تو ساتھ آیا ایک ادھیڑ عمر بڑی عمر کا بزرگ غور سے میری طرف دیکھ رہا تھا اُس کے چہرے کے تاثرات سے لگ رہا تھا جیسے وہ مُجھ سے کوئی بات کرنا چاہتا ہے میں نے اُس کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا دیا میں اُس کی طرف بڑھا تو وہ بولا جناب میں نے اکیلے میں کوئی بات کرنی ہے میں اُس کو لے کر تھوڑا دور چلا گیا تو وہ بولا جناب میں بھی فقیری میں دل چسپی رکھتا ہوں میں مریض کو بہت پرانا جانتا ہوں یہ جو بھینسوں کا علاج کرتا تھا یہ کسی کامل درویش کا فیض تھا جو اِن کے گھر آیا کرتا تھا

 

ا ِس کے والد صاحب پیروں فقیروں کے بہت ماننے والے تھے وہ درویش اِن کے گھر آکر بہت دن ٹھہرتا اِس کے گھر والے اُس کی خوب خدمت کر تے اُس درویش نے خوش ہو کر اِن کو بھینسوں کا دم دیا تھا ساتھ میں شرط رکھی تھی کہ اِس دم کے پیسے نہیں لینے یہ خدمت خلق کے تحت فی سبیل اللہ مفت علاج کرنا ہے اِس کا بڑا بھائی تو مفت علاج کر تا رہا لیکن جب وہ فوت ہوا اب لوگ اِس کے پاس آتے تو اِس نے پیسے لینے شروع کر دئیے ساتھ میں اُس درویش نے یہ بھی شرط لگائی تھی کہ یہ فیض آگے بانٹنا ہے زندگی میں جب کوئی اِس قابل نظر آئے تواُس کو بھی طریقہ اور وظیفہ بتا دینا ہے اِس نے یہ عمل آگے دوسروں کو بھی نہیں دیا اِس وجہ سے یہ اب خود بیمار ہے اور اس کا گلا بند ہو گیا ہے یہ سارا راز اُس بزرگ نے سرگوشی میں مجھے بتا دیا اب میں نے کچھ سوچھا اور واپس مریض کے پاس آگیا اور آکر میں رات کو اچھی طرح حساب لگاؤ ں گا آپ لوگ کل دوبارہ میرے پاس پھر آئیں تا کہ اِن کو اُس بزرگ پر شک نہ ہو جائے ساتھ یہ بھی کہا کہ یہ چیزیں لے کر آئیں اگلے دن یہ لوگ مریض کے ساتھ پھر حاضر تھے تو میں نے مریض اور بھتیجے کو الگ کیا اورکہا کیا تم کوئی دم وغیرہ بھی کرتے ہو تو اُس نے ہاں میں گردن ہلائی میں مزید بولا یہ دم کہاں سے آپ کے خاندان میں آیا تو ساتھ آیا بھتیجا بولا میرے والد صاحب اور چاچے کے مرشد نے یہ دم دیا تھا اب میں بولا کیا چاچے نے یہ دم کسی دوسرے کو دیا اجازت دی تو وہ بولا نہیں ابھی تو چاچے کے پاس ہی ہے تو میں بولا آپ کے پیر صاحب کی روح ناراض ہے فوری طور پر یہ عمل دوسروں کو بھی دو تاکہ چاچا ٹھیک ہو جائے لہذا چاچے نے بڑی مشکل سے بول کر وہ دم مجھے دیا اور شاروں میں کہا کسی اور کو بھی دوں گا پھر مریض چلا گیا ایک ماہ بعد واپس آیا تو ٹھیک ہو چکا تھا بار بار معافی بولتا اور پھر میں بولا یہ رب کا فیض ہے جو اِس کو روکتا ہے رب اُس کا فیض چھین لیتا ہے۔


شیئر کریں: