Chitral Times

Jan 25, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بھارت روس معائدے اور امریکی مفادات ۔ پروفیسرعبدالشکور شاہ

شیئر کریں:

بھارت اور روس کے مابین آمدہ عشرے کے لیے تجارتی اور دفاعی معائدے مستقبل قریب میں جنوبی ایشیاء میں طاقت کے توازن کی منتقلی کا نقارہ بجاتے دکھائے دیتے ہیں۔ یہ بات غور طلب ہے کہ افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد روس جنوبی ایشیاء میں پہلے سے زیادہ متحرک دکھائی دیتا ہے۔ حالیہ بھارت روس دفاعی معائدے جنوبی ایشیاء میں بھارتی اجارہ داری کے مضموم عزائم کی ایک کڑی ہے۔بھارت اور روس 2025تک تجارتی ہدف30بلین ڈالرز مقرر کر چکے ہیں۔ چین کے خلاف بھارت امریکہ گھٹ جوڑ کے بعدروس کی آمدسے ایک دلچسپ تکون بن چکی ہے۔ روس پہلے ہی چین کے خلاف انڈین پیسیفک میں بھارت، امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا کے منصوبے پر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکا ہے۔یوں لگتا ہے روس بھارت قربتیں کسی تکون کی تشکیل کے بجائے دیگر مقاصد کے لیے ہیں۔اگرچہ بھارت امریکہ اور روس دونوں کے ساتھ یارانہ نبھانا چاہتا ہے تاہم بھارت دومصیبتوں کے درمیان پھنس چکا ہے۔ سرد جنگ میں روس پربھارتی دفاعی انحصار کی وجہ سے بھارت امریکہ سے ہاتھ ملانے سے گریزاں رہا۔

امریکی صدر ٹرمپ کے دور میں بھارت اور امریکہ میں 3بلین ڈالر کے دفاعی معائدے مکمل ہوئے او ر دوطرفہ دفاعی تجارت کا حجم جو کہ سال2008میں تقریباصفر سے2019میں بڑھ کر17بلین ڈالر تک پہنچ گیا۔ بھارت کی روسی ساختہ S-400 میزائل سسٹم کی خریداری چین کو روکنے کے ساتھ ساتھ امریکی ناراضگی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔روس نے بھارت کو ممکنہ امریکی پابندیوں کی بھٹی میں جھونک دیا ہے۔ بھارت روس قربت کی بنیادی دو وجوہات ہو سکتی ہیں یا تو بھارت امریکہ تعلقات میں پہلے جیسا جنوں نہیں رہا یا بھارت اس بات کو بھانپ چکا ہے امریکی دوستی مفادات پر منحصر ہے اور مشکل کی گھڑی میں امریکہ دغا دینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔اس وقت بھارت کی دفاعی سمت چین روس اور امریکہ کے درمیان ڈگمگا رہی ہے۔بھارت کی خواہش ہے کہ وہ یوروایشیائی طاقت بن جائے ایشیاء اور یورپ دونوں طاقتوں کو ایک ساتھ لے کر آگے بڑھے۔ بھارت ماسکو کی دفاعی،چین کی معاشی اور امریکہ کی دفاعی منصوبہ بندی کے درمیان کھٹ پتلی بنا ہوا ہے۔

عالمی افق پر ابھرتی ہوئی چینی معاشی طاقت او ر رو س چین بڑھتی قربتوں نے بھارت کو شش و پنچ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ چین روس کی دوستی یا دشمنی دونوں ہی عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے اور یہ دونوں صورتحال بھارت پر گہرے نقوش مرتب کریں گی اول تاریخی اور دوئم مستقبل کے پس منظر کے لحاظ سے۔ بھارت روس تعلقات بھارت امریکہ تعلقات سے کہیں زیادہ گہرے اور مضبوط ہیں۔ روس نے بھارت کی عسکری اور سیاسی پرفائل کو مضبوط کرنے کے علاوہ بے شمار علاقائی مسائل میں بھارت کی بھر پور مدد کی ہے۔ روس اور چین ماضی میں بھی دفاعی اور معاشی ٹیکنالوجی کے تبادلے کے ساتھ باہمی تجارت کو فروغ دیتے رہے ہیں۔ چین اور روس میں بڑھتے مراسم شائد چین بھارت سردمہری کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کریں اور شائد یہ اقدام امریکہ کو افغانستان کی طرح جنوبی ایشیاء سے بے دخل کرنے میں معاون ثابت ہوں۔ یہ بات بھی خارج از امکان نہیں کہ روس انڈیا اور چین آر آئی سی طرزکا کوئی گروپ بنا لیں اور بھارت کی جانب روسی جھکاو شائد چین بھارت کشیدگی کو کم کرتے ہوئے امریکہ کردار کو جنوبی ایشیاء سے نکال باہر کرے۔

بھارت سرد جنگ کے دوران بھی نان الائن بلاک بنا کردرمیانی راستے پر گامزن رہ چکا ہے۔ روس کی سرد مہری کی وجہ سے بھارت مجبورا امریکہ سے ہاتھ ملانے پر راضی ہوااور امریکہ کے لیے بھی خطے میں چین کو روکنے کے لیے بھارت کے علاوہ کوئی اور آپشن موجود نہ تھا۔ اس لیے دونوں کے مشترکہ مفادات نے بھارت اور امریکہ کو باہمی حلیف بنا دیا۔ امریکہ بھارت کے زریعے چین کو روکنا چاہتا ہے جبکہ بھارت امریکہ کے زریعے ایشیائی بادشاہت کا تاج سر پر سجانا چاہتا ہے۔ 50 کی دہائی میں بھارت چین جنگ میں روس نے بھارت کوجدید اسلحہ سے لیس کیااور چین روس جنگ میں بھی روس نے بھارت کو سمندری آبدوزوں اور دیگر آلات سے مزین کیا تاکہ بھارت امریکی دباو کا سامنا کر سکے۔ روس کے فراہم کردہ اسلحہ کی مدد سے بھارت 1971میں پاکستان کو دولخت کرنے میں کامیاب ہوا۔ روس کے ٹوٹنے کے بعد نئی دہلی کو شدید دھچکا لگا اور دونوں ممالک کی باہمی تجارت انتہائی کم ہو کر رہ گئی۔ مغرب میں نیٹو کی توسیع اور افغانستان میں امریکہ موجودگی ماسکو اور بیجنگ کو قریب لانے میں سنگ میل ثابت ہوئی۔ اگر ماضی کی 60سالہ تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ چین اور روس ماضی میں دوست اور دشمن دونوں کردار ادا کر چکے ہیں اور یہی صورتحال یورپ اور روس کے تعلقات میں نظرآتی ہے۔موجودہ صورتحال میں روس اور چین کو ایک دوسرے سے جدا رکھنا بہترین امریکی مفادات میں ہے۔

کم از کم جنوبی ایشیاء میں امریکہ روس دوستی تقریبا ناممکن دکھائی دیتی ہے۔ بھارت کو اپنے سارے انڈے امریکی ٹوکری میں ڈالنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ وسط ایشیاء میں چینی اثرورسوخ روسی مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔شائد روس یہ خلا بھارت روس دوستی کے بعد ایران کے زریعے وسط ایشیاء میں اپنے پنجے مضبوط کرنے کے اہداف کے تحت منصوبہ بندی کر رہا ہو۔روس بھارت قربت داری کی ایک اور بڑی وجہ امریکہ اور جاپان کے فری اور اوپن انڈو پیسیفک منصوبے پر بھارتی ناراضگی ہے۔ہو سکتا ہے بھارت کو اس بات کا یقین ہو چکا ہو کہ امریکہ دوستی سے نہ صرف بھارت چینی تعاون کو کھو دے گا بلکہ روس کی جانب سے بھی دھچکا لگنے کا امکان ہے۔ روس ممکنہ طور پر نئی ہلی اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی کو کم کر کے امریکہ کی جانب بھارتی جھکاو کو کم کرنے کو شش کر رہا ہو کیونکہ خطے میں امریکی موجودگی روس اور چین دونوں کے مفادات کے خلاف ہے۔ بھارت بھی افغانستان سے امریکی روانگی کے بعد مایوسی کا شکار ہے کیونکہ افغانستان میں بھارتی اثرورسوخ صفر ہو چکا ہے جبکہ روس اور چین افغانستان پاکستان کی مدد سے اپنی گرفت مضبوط کر رہے ہیں۔ عقلمندی کا تقاضہ یہی ہیکہ بھارت امریکہ نوازی کے بجائے روس اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو خوشگوار بنائے۔


شیئر کریں: