Chitral Times

Dec 5, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

محسن انسانیتﷺ بحیثیت معلم – ڈاکٹر ساجد خاکوانی

Posted on
شیئر کریں:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

محسن انسانیتﷺ بحیثیت معلم

(5اکتوبر،عالمییوم معلمین کے حوالے سے خصوصی تحریر)

ڈاکٹر ساجد خاکوانی (اسلام آباد،پاکستان)

 

ایک بار محسن انسانیتﷺ مسجد نبوی شریف میں تشریف لائے اور دیکھا کہ مسلمانوں کے دو گروہ وہاں پر الگ الگ بیٹھے ہیں،ایک گروہ ذکر اذکار میں مشغول تھا جب کہ دوسرا گروہ تعلیم و تعلم کا شغف کر رہا تھا،آپ ﷺ نے دونوں کو پسند یدگی کی نگاہ سے دیکھا اور پھر تعلیم و تعلم والے گروہ کے ساتھ شریک ہو گئے اور ارشاد فرمایا کہ ”بعثت معلماََ“کہ مجھے معلم بناکر بھیجا گیاہے۔انسانوں کے قبیلے میں بہت سے کردارہواکرتے ہیں لیکن اللہ تعالی نے تخلیق آدم علیہ السلام کے بعد سب سے پہلے اپنے لیے معلم کاکردار پسند کیااور حضرت آدم علیہ السلام کو خود سے تعلیم دی اور انسانوں کے لیے رشدوہدایت کا جو سلسلہ جاری فرمایا ان کو بھی معلمین انسانیت بناکر بھیجا اور تعلیمی ثقافت کے فروغ کے لیے ان معلمین انسانیت کے ہاتھوں میں اپنی کتب تھما دیں تاکہ جب کبھییہ معلمین نہ بھی ہوں تو بھی کتاب کی صورت میں تعلیمات الہیہ انسانوں کے ہاتھوں میں موجود رہیں۔آنجناب ﷺ انسانیت کے آخری معلم،خاتم المعلمین اس لحاظ سے ہیں کہ آپ نے معلمانہ اخلاقیات کی تکمیل کر دی ہے،دیگر معلمین تو قیامت تک آتے رہیں گے لیکن وہ اس میدان میں کسی بھی طرح کااضافہ نہ کر پائیں گے اورعمل تدریس کے لیےآپﷺ کے طریقوں کی پیروی سے ہی انسانوں کے ذہنوں میں کوئی بات ڈالی جاسکی گی اور وہی طریقے ہی موثر رہیں گے جو خاتم المعلمینﷺنے اختیار کیے۔

 

آپ ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ کسی نامعلوم بات پر خیال و گمان اور ظن و تخمین سے رائے نہیں دیا کرتے تھے بلکہ وحی کا انتظار کرتے تھے۔حیات مبارکہ میں متعدد ایسے مواقع آئے جب آپ ﷺ سے کوئی سوال پوچھاگیا تو آپ ﷺ کا جواب تھا کہ وحی آنے کے بعد جواب د دوں گا۔ایک بار ایکیہودی عالم مکہ میں آیا تو مکہ والوں نے اس سے کہا کہ ہمارے ہاں ایک شخص نے نبوت کا دعوی کیا ہے،تم پرانی کتابوں کے جاننے والے ہو بتاؤتو ہم کیسے اسکا امتحان لیں؟؟اسیہودی عالم نے کہا کہ اس سے حضرت یوسف علیہ السلام کی بابت پوچھو۔جب آپ ﷺ سے پوچھا گیاتوآپ نے ارشاد فرمایا کہ میں وحی آنے کے بعد بتاؤں گا چنانچہ حضرت جبریل نے اس سوال کے جواب میں سورۃیوسف نازل کی۔اس سورۃمیں حضرت یوسف علیہ السلام سمیت اس وقت کے جملہ حالات اور دیگرواقعات کا بھی تفصیل سے ذکر ہے اور ان واقعات کی ایک ایک سطر میں کتنے ہی اسباق رشدوہدایتپوشیدہ ہیں۔مدینہ پہنچنے پر یہودی علمائے تورات نے آپﷺ سے تین سوالات کیے،آپﷺنے فرمایا کہ میں وحی کاانتظارکرتاہوں چنانچہ جبریل نے آپﷺ کو ان سوالات کے جوابات بتائے۔

 

آپ ﷺ کامبارک طریقہ تدریس تھا کہ بات کو ذہن نشین کراتے ہوئے مثالیں دیاکرتے تھے اس طرح مدرسہ نبویﷺ کے طلبہ جلدی سے بات سمجھ لیتے،نیکی کاحکم اور برائی سے روکنے کے بارے میں آپ نے مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ ایک بحری جہاز میں کچھ لوگ سفر کر رہے ہوں اور نیچے کی منزل والوں کو پانی کے حصول کے لیے اوپر آنا پڑے جس سے اوپر والوں کو بھی دقت ہو اور نیچے والے اس دقت و تکلیف کا حل یہ ڈھونڈیں کہ جہاز کے فرش میں سوراخ کر دیاجائے تاکہ نیچے سے آنے والے پانی کو استعمال کر یں،اب اگر اوپری منزل کے لوگ نیچے والوں کو اس عمل سے روکیں گے تو خود بچیں گے اور نیچے والوں کو بھی بچائیں گے اور نہیں روکیں گے تو خود بھی ڈوبیں گے اور نیچے والوں کو بھی ڈبوئیں گے۔اسی طرح امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے کہ دین کاعلم  رکھنے والے نیکی کاحکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے تو خود بھی اللہ تعالی کے عذاب سے بچیں گے اور دوسروں کو بھی بچائیں گے۔آپ ﷺ نے اللہ تعالی کے راستے میں مال دے کر پھر واپس لے لینے والے کی مثال دی کہ جیسے کتا قے کر کے چاٹناشروع کر دے۔ایک بار ایک مسلمان نے دریافت کیاکہ میرے والد مرحوم نے حج نہ کیاتھا تو کیامیں ان کی جگہ اس فرض کی ادائگی کر سکتاہوں؟؟آپ ﷺ نے مثال دے کر سمجھایا کہ تمہارے والدمرحوم نے کسی کا قرض اداکرناہوتا تو کیا وہ قرض بھی تم ادا کرتے؟؟جواب ہاں میں تھاچنانچہ آپ نے اجازت مرحمت فرمائی کہ والدمرحوم کی جگہ حج بھی اداکیاجاسکتاہے۔

 

آپ ﷺ کسی اہم بات کو ذہن نشین کراتے ہوئے تین بار دہرایاکرتے تھے۔جیسے کہ آپ ﷺ نے ایک بار ارشاد فرمایا مذاق میں جھوٹ بولنے والے پر لعنت ہے،لعنت ہے لعنت ہے۔ایک مسلمان نے آپ ﷺ سے دریافت کیا کہ مجھ پر سب سے زیادہ حقوق کس کے ہیں؟؟آپﷺ نے ارشاد فرمایا تیری ماں کے،اس نے پوچھا اس کے بعد کس کے ہیں؟؟آپﷺ نے مکررارشاد فرمایا تیری ماں کے اس نے پھر اس نے پوچھا اس کے بعد کس کے ہیں؟؟آپﷺ نے تیسری بار بھییہی جواب دیا کہ تیری ماں کے جب اس مسلمان نے چوتھی بار استفسار کیا کہ اس کے بعد کس کے ہیں؟؟تو چوتھی بار آپ نے جواب دیا کہ تیرے باپ کے۔ایک  بار آپ ﷺنے اپنے سینے کی طرف تین مرتبہ اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ”تقوییہاں ہوتاہے،تقوییہاں ہوتاہے،تقوییہاں ہوتاہے“،اس ارشاد مبارک کاایک مطلب یہ بھی ہے کہ تقوی کااصل مقام دل ہوتاہے نہ کہ کسی طرح کالبادہ یاحلیہ وغیرہ۔

 

کبھی کبھی آپ ﷺ اپنے طالب علموں سے امتحان کی غرض سے سوال بھی پوچھاکرتے تھے تاکہ اس طرح بھی کوئی بات ذہن نشین ہوجائے۔ایک بار جب آپ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل کو گورنر بناکر یمن کی طرف روانہ کر رہے تھے اور حضرت معاذ گھوڑے پر بیٹھ چکے تھے توآپ ﷺ نے ارشاد فرمایا معاذاب تم جب مدینہ آؤتو شاید مجھ سے ملاقات نہ ہوسکے۔پس مجھے بتاؤ کہ مسائل کو کس طرح حل کرو گے؟؟حضرت معاذ بن جبل نے جواب دیا کہ کتاب اللہ کے مطابق،آپ ﷺ نے دوسراسوال کیا کہ اگر کتاب اللہ میں نہ پاؤ تو؟؟حضرت معاذ بن جبل نے جواب دیا کہ تب سنت رسول اللہ ﷺ کے مطابق حل کروں گا،اس پر آپ ﷺ نے تیسراسوال پوچھا کہ اگر کسی مسئلے کا حل کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ میں بھی نہ پاؤ تو کیا کرو گے؟؟تو حضرت معاذ بن جبل نے جواب دیا کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے مطابق اپنی عقل سے فیصلہ کروں گا۔آپ ﷺ اس جواب پر بے حد خوش ہوئے اور اپنا دایاں ہاتھ حضرت معاذ بن جبل کے سینے پر لگاتے ہوئے انہیں شاباش بھی دی اور اللہ تعالی کا بھی شکر اداکیا جس نے اس طرح کے لائق طالب علم عطا کیے۔حدیث جبریل کے موقع پرآپ ﷺ نے حضرت عمر ؓسے استفسار فرمایا،عمرجانتے ہویہ کون تھا؟؟،حضرت عمرؓنے عرض کی اللہ تعالی اور اس کارسولﷺہی بہتر جانتے ہیں،ارشادفرمایایہ جبریل علیہ السلام تھے جو تمہیں تمہارادین سکھانے آئے تھے۔

 

آپ ﷺ کی عادت تدریس تھی کہ خاص لوگوں کو خاص مسائل بتاتے تھے اور ہر کسی کو نہ بتاتے تھے۔ایک بارحضرت عمر ؓنے دیکھا کہ حضرت ابوہریرؓہ خوشی کے مارے بھاگتے ہوئے جا رہے ہیں،پوچھنے پر حضرت ابوہریرہ ؓنے جواب دیا کہ میں ابھی ابھی آپ ﷺ سے سن کر آ رہا ہوں کہ من قال لاالہ الا اللہ فدخل الجنۃ  جس نے کہ دیا کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں وہ جنت میں داخل ہو گیا۔حضرت ابو ہریرہ ؓبھاگتے ہوئے جا رہے تھے کہ مسلمانوں کو اس حدیث نبویﷺ سے آگاہ کریں،حضرت عمرؓنے کہا کہ آئیں میرے ساتھ چلیں دونوں اصحاب رسول جب خدمت اقدس ﷺ میںپہنچے تو حضرت عمرؓ نے عرض کی کہ یہ حدیث سن کر مسلمان بے عملی کاشکار ہو جائیں گے،آپ ﷺ خاموش رہے جس کا مطلب حضرت عمرؓکے موقف سے اتفاق تھا۔چنانچہ حضرت ابوہریرہؓنے اپنی زندگی کے آخری ایام میںیہ حدیث روایت کی تاکہ نبیﷺ کی کوئی بات چھپانے کے مرتکب نہ ہوں۔آپ ﷺجنگ سے پہلے بھی عسکری قسم کی مشاورت بعض اوقات مخصوص لوگوں سے ہی کرتے تھے اور رازداری برتتے تھے،جیسے فتح مکہ کے لیے روانہ ہوتے وقت کسی کو معلوم نہ تھا کہ یہ لشکر کدھرجارہاہے۔

 

محسن انسانیتﷺ خواتین کی تعلیم و تدریس کے لیے الگ وقت نکالتے تھے،شروع میں سوموارکا دن مخصوص تھابعد میں ایک اوردن کااضافہ بھی کردیا،خواتین چونکہ مردوں کے ساتھ مسجد نبوی میں نماز پڑھا کرتی تھیں اس لیے نماز کے بعد کے ارشادات نبویﷺ میں شریک ہوتی تھیں۔آپ ﷺ کیکثرت ازدواج کی ایک مصلحت خواتین کی تعلیم و تربیت بھی تھی کیونکہ جو مسائل براہ راست نبیﷺ سے نہیں پوچھے جاسکتے تھے وہ مسائل امہات المومنین کے توسط سے پوچھ لیے جاتے تھے۔آپ ﷺ خواتین کے ساتھ سلام میں پہل کیاکرتے تھے،ایک بار ایک بندمحلے میں تشریف لے گئے تو مرد حضرات سب کے سب اپنے اپنے مشغولات پر گئے تھے،اور صرف خواتین ہی موجود تھیں آپ نے بآواز بلند سلام کیا،کوئی جواب نہ آیا،پھر سلام کیا کوئی جواب نہ آیا،پھر تیسری بار سلام کیا تو بھی کوئی جواب نہ آیا،تب آپ واپس لوٹنے لگے تو ہر گھر سے وعلیکم السلام یاایھاالنبی کیصدائیں بلند ہو گئیں۔آپ ﷺ نے پوچھا کہ پہلے کیوں جواب نہ دیا تھا؟؟تو خواتین نے عرض کی کہ ہم چاہتی تھیں کہ زبان نبوت سے زیادہ سے زیادہ سلامتیاں ہم پر بھیجی جائیں تاکہ ہم رحمت خداوندی کی حق دار ٹہریں۔

 

آپ ﷺ کے ارشادات بہت مختصر ہوا کرتے تھے،تدریس و تعلیم کے وقت لمبے لمبے خطابات سے احتراز فرماتے تھے اصحاب رسول فرماتے ہیں آپﷺ قرآن کی آیات پڑھ کر ہمیں نصیحتیں کیاکرتے تھے۔آپ ﷺ نے کبھی لمبی لمبی تقاریر نہیں کیں اور نہ ہی کبھی چینخ چینخ کر اپنے حاضریں سے خطاب کیا۔آپ ﷺ کی زبان نہایت شستہ اور دلنشین ہوتی تھی،بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر اشعار آپ سے منسوب ہیں بہت زیارہ زور خطابت آپ ﷺ نے کبھی نہ فرمایا تھا۔خود آپ ﷺ کا قول مبارک ہے کہ خیرالکلام ما قل و دل کہ بہترین بات وہ ہے مختصر ہو اور مدلل ہو۔ آپ ﷺ کا طویل طرینخطبہ،خطبہ حجۃ الوادع ہے،اسے پڑھنے لگیں تو یہ نصف گھنٹے سے کم مدت میں ختم ہوجاتا ہے اور بیان میں تو ظاہر ہے کہ اس سے بھی کم مدت لگی ہو گی۔خطبات نبویﷺ کے نام سے ایک کتاب بھی شائع ہو چکی ہے۔

 

حسن خلق آپ کی تدریس کا سب سے عمدہ پہلو ہے آپ کے طلبہ آپ کے حسن خلق کی وجہ سے کھنچتے چلے آتے،خود اللہ تعالی نے بھی قرآن میں آپ ﷺ کے حسن خلق کی تعریف کی ہے۔آپﷺ جامع کمالات تھے لیکن اللہ تعالی نے پورے قرآن مجیدمیں صرف ایک وصف کی تعریف کی ہے کہ ”انک لعلی خلق عظیم“کہ آپﷺ کا حسن خلق بہت اعلی ہے۔حالانکہ آپ کے تعلقات،معاملات،نشست و برخواست،خورودونوشت، دوستی و دشمنی اور صلح و جنگ وغیرہ سب کچھ کمال کے اعلی ترین درجے پر فائز تھے لیکن ان سب کے باوجود حسن خلق کوان سب پر فائق سمجھاگیا۔یہ بات دعوے سے کہی جاسکتی ہے کہ صحابہ کرام کی بہت قلیل تعدادسوچ سمجھ کر،جانچ پرکھ کر،تقابلات کے بعد اور حق و شر اورتوحیدوشرک کے درمیان فرق کے باعث مسلمان ہوئی اور بہت کثیرتعدادآپﷺ کے حسن خلق کے باعث مسلمان ہوگئی۔تدریس رسول ﷺ کا یہ پہلو باقی تمام جہتوں پرفوقیت رکھتاہے کیونکہ سیرۃ النبیﷺکے مطالعے سے بے شمار ایسے واقعات کا سراغ ملتاہے جہاں لوگ آپﷺ سے ملتے تھے اور پھرہمیشہ کے لیے آپ کے گرویدہ بن جاتے۔جو معلمین بدخلق ہوتے ہیں،بدتمیز ہوتے ہیں اور اپنے طالب علموں سے بدترین رویوں کے ساتھ پیش آتے ہیں ان کے لیے قرآن مجید کییہ آیت اپنے اندربہت بڑی نصیحت رکھتی ہے جس میں آپﷺ سے فرمایاگیاکہ فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَہُمْ وَ لَوْکُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ َ(۳:۹۵۱) ترجمہ:”اے پیغمبرﷺیہ اللہ تعالی کی بہت بڑی رحمت ہے کہ ٓپﷺان لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہیں،ورنہ آپﷺکہیں تندخواورسنگ دل ہوتے تویہ سب آپ کے گردوپیش سے چھٹ جاتے“۔

 

محسن انسانیتﷺ نے اپنے طالب علموں کو اختلاف کرنے کا بھی حسن انداز سکھایا۔آپﷺ کے صحابہ انتہائی ادب کادامن تھامے ہوئے اپنے استادمبارکﷺسے بھی اختلاف کرتے تھے اور باہم آپس میں بھی اختلاف کرتے تھے۔آپﷺنے غزوہ بدرکے موقع پر ایک جگہ پڑاوکاحکم صادرفرمایا،ایک انصاری سردارصحابی حضرت حباب بن منذرؓنے بڑے احترام و ادب سے استفسارکیا کہ آنجنابﷺ نے اللہ کے حکم کے تحت یہاں قیام فرمایا؟؟ارشادہواکہ نہیں،اپنی مرضی سے یہاں قیام کیاہے،اس پر اس صحابی نے اس مقام کی بجائے دوسرے مقام پر قیام کامشورہ دیااوراس کے فوائد بھی گنوائے۔آپﷺنے کمال شفقت سے اس اختلاف کو پسند فرمایااوراس پر عمل کاحکم دے دیا۔اسی طرح غزوہ احزاب کے موقع پر جب یہودیوں کے لیے باغات کی فصل کاایک حصہ دینے کا معاہدہ لکھوایاتاکہ وہ قریش کی حمایت سے دستبردارہو جائیں،لیکن انصاری صحابہ حضرت سعد بن معاذؓ اور حضرت سعد بن عبادہؓ نے ادب نبویﷺ کا اخیرترین لحاظ کرتے ہوئے اس موقف سے اختلاف کیااور عرض کیا کہ خراج دینے کی نسبت قتال کرنے کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔اسی طرح غزوہ بنی قریظہ کے موقع پر جب ایک گروہ نے عصر راستے میں بروقت اداکی اور دوسرے گروہ نے  منزل پر پہنچ کر قضاداکی توآپﷺ نے دونوں گروہوں کے عمل کودرست قراردیاکیونکہ دونوں کی نیت میں خلوص تھا۔

 

اسی طرح”مشورہ“بھی تدریس رسول ﷺ کاایک اہم عنصرہے۔اللہ تعالی نے بھی آپﷺ کو حکم دیاتھا کہ  وَ شَاوِرْہُمْ فِی الْاَمْرِ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ(۳:۹۵۱)ترجمہ”اوراپنے کاموں میں ان سے مشورہ لیاکرو،اورجب کسی کام عزم مصمم کرلوتوپھراللہ تعالی پربھروسہ رکھو کہ اللہ تعالی بھروسہ رکھنے والوں کو پسند کرتاہے“۔معلم انسانیت نے اپنے طریق تدریس میں مشورے اور حکم میں فرق بھی واضع کیا۔حکم واپس نہیں لیاجاتالیکن مشورہ کے نتیجے میں اپنی رائے کو قربان بھی کیا جاسکتاہے اوراس صورت میں اپنی انا میں گرفتارہوجانا بالکل بھی خلاف سنت ہے۔غزوہ احدکے موقع پر آپ ﷺ کی اور بزرگوں رائے شہرمیں اندررہ کر لڑنے کی تھی لیکن نوجوانوں کے پرزوراسرارپر آپﷺ نے کمال شفقت و مہربانی سے اپنی رائے واپس لے لی اور اسے اپنی اناکو راستے کی رکاوٹ نہیں بننے دیاکہ مشورے کا عمل اسی رویے کامتقاضی ہوتاہے۔جو آمرانہ قیادت اپنے مشیروں سے اس لیے مشورہ لیتی ہے کہ ان کی ہاں میں ہاں ملائی جائے اور ان کی رائے کو ہی آخری سمجھ کر اختلاف سے گریز کیاجائے وہ قیادت خیرخواہوں کی بجائے خوشامدیوں کو اپنے گرد اکٹھاکرلیتی ہے اور نتیجہ تباہی ان کامقدرٹہرتی ہے۔صلح حدیبیہ کے موقع پر  مسلمانوں نے حکم نبوی کی اطاعت میں تاخیرسے کام لیاتوآپﷺ نے ام المومنین حضرت ام سلمہؓکے مشورے کے مطابق جب آپﷺ نے اپنے جانورذبح کیے توباقی مسلمان بھی اطاعت نبویﷺ پر کمربستہ ہو گئے۔اس واقعے سے آپﷺ نے اپنے طالب علموں کوسکھادیاکہ خواتین اور اہل خانہ کو بھی شریک مشورہ کرناچاہیے۔

 

آپ ﷺکے طر ق تدریس میں ایک طریقہ املا ء بھی تھا۔قرآن مجید کی مکمل املاء آپ ﷺنے اپنی نگرانی میں کروائی پھر”عرضے“ کی محافل میں لکھے ہوئی آیات کی اصلاح بھی فرمائی۔قرآن مجید لکھنے والے کاتبین وحی کہلاتے تھے جن کی تعداد کم و بیش اکتالیس بتلائی جاتی ہے۔آپﷺنے متعدد اہم دستاویزات کی بھی املا کروائی اورانہیں ضبط تحریرمیں لانے کا حکم دیا۔میثاق مدینہ اور صلح نامہ حدیبیہ کی املا آپﷺ نے خود کراوئی تھی۔اسی طرح خطبہ حجۃ الوداع کی املاء بھی آپﷺ نے بنفس نفیس کروائی۔آپﷺ نے حضرت علی کا زکوۃ کے احکامات املاء کروائے تھے۔ایک صحابی آپﷺ کی احادیث لکھاکرتے تھے پھرانہوں نے لکھناچھوڑ دیا۔آپﷺکے استفسارپر اس صحابی نے عرض کی کہ آپﷺ کبھی کبھی غصے کی حالت میں ہوتے ہیں،کبھی ناراضگی کی حالت میں اور کبھی خوشی کے عالم میں۔یہ کہ کر وہ صحابی خاموش ہوگئے کہ اس سے آگے کچھ بھی کہنا حد ادب تھا۔تب آپﷺ نے ان کی اصلاح فرمائی اور اپنی زبان مبارک کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ خداکی قسم میں جس حال میں بھی ہوں اس زبان سے سوائے حق کے کچھ بھی نہیں نکلتا۔اسی طرح کتاب الصدقہ ازحضرت عمرو بن العاص کی املاء بھی آپﷺ سے منسوب ہے۔ایک دفعہ حضرت ابوہریرہ سے پوچھاگیاکہ انہیں اتنی احادیث کیسےیاد ہیں توانہوں نے جواب دیاکہ وہ اقوال رسولﷺ لکھ لیاکرتے تھے۔

 

آپ ﷺ اپنے طالب علموں کے لیے کثرت سے دعائیں بھی کرتے تھے۔حضرت عمر بن خطاب کااسلام لاناآپ کی دعاکا ثمرہ تھا۔امت مسلمہ نے اپنے استادمحترمﷺ سے سیکھاکہ دن میں مخلوق کو خالق کی طرف کھینچاجائے اور رات کی تاریکیوں میں خالق کو مخلوق کی طرف۔قیامت تک کی انسانیت آپ کی طالب علم ہے اور آپ ﷺ کی امت تو خاص طور پر آپ کی طالب علم ہے آُ ﷺ نے اپنی امت کے لیے خاص طور پر اور کل انسانیت کے لیے عام طور پر بے حد دعائیں کی ہیں،یہ نبی علیہ السلام کی دعاؤں کا ہی نتیجہ ہے کہ گزشتہ اقوام کی سب خرابیاں موجودہونے کے باوجود امت مسلمہ اور کل انسانیت تباہ نہیں کی گئی۔محسن انسانیتﷺ روز محشر بھی اپنے طالب علموں کو یاد رکھیں گے اور آپ نے اپنے صحابہ کو فرمایا قیامت کے دن حوض کوثرپر آجانا میں وہاں موجود ہوں گا،تب آپ ﷺ اپنے طالب عملوں کی شفاعت فرمائیں گے۔اللہ تعالی ہمیں آپ ﷺ کا سچا طالب علم بنائے،آمین۔آپ اپنے طالب علموں سے کسی طرح کامعاوضہ نہیں لیتے تھے۔بلکہ کل انبیاء علیھم السلام نے اپنی قوموں سے کہاکہ ہم تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتے اور ہمارااجر ہمارے رب کے ذمے ہے۔معلم کییہ صفت بھی پیارے نبیﷺ نے سکھادی کہ اسے بے لوث ہوناچاہیے اور کسی طرح کی طالچ اور غرض اس کے قریب بھی نہ پھٹکے۔

 

مسلمانوں نے کم و بیش ایک ہزارسال اس دنیامیں از شرق تاغرب حکومت کی ہے،لیکن اس دوران نسلوں اور صدیوں تک کوئی تصورہی موجود نہ تھا کہ طالب علم اپنے استادکو کوئی معاوضہ بھی دے گا،استاد سگے باپ سے بڑھ کر شفیق اور طالب علم سگی اولاد سے کہیں زیادہ تابع فرمان،اطاعت کیش اور خدمت گزارہوتاتھا۔انہیں روایات کاحامل مدرسہ جاتی نظام آج بھی بچی کھچی شکل میں موجود ہے جہاں کوئی معاوضہ دیے بغیرطالب علم  حصول علم میں مصروف رہتاہے۔لیکن جب سے سیکولرازم نے انسانیت کی گردن پر پنجے گاڑھے ہیں تب سے تعلیم نے صنعت کادرجہ حاصل کر لیاہے۔سیکولرازم نے معلم کو باپ کی بجائے دکاندار بنادیاہے اور طالب علم کو پسر کی بجائے گاہک بنادیاہے اور مادر علمی کو سوداکاری کی آماجگاہ بنادیاگیاہے۔اسلامی دورعروج میں طالب علم اپنے اساتذہ کے نام سے پہچانے جاتے تھے اور ان کا سرفخرسے بلند رہتاتھاکیونکہ تب نظم تعلیم کی مرکزیت کامحور ومرکزمعلم ہوتاتھا،سیکولرازم نے یہ مرکزیت طالب علم کو عطاکر کے معلم اوراستادکے کردارکو ثانوی کر دیا۔اب طالب علم اپنے اساتذہ کی بجائے اپنے اداروں سے پہچانے جاتے ہیں اورادارے بھاری رقوم کے عوض اسنادجاری کر دیتے ہیں حالانکہ طالب علموں میں استنادنام کی کوئی چیز بھی موجود نہیں ہوتی کیونکہ استاد کا کردار اس سارے نظام میں محض مزدور کے برابر رہ گیاہے۔سیکولرنظام تعلیم میں استادکا دوہری چھری سے استحصال کیاجاتاہے کہ بیک وقت اسے مالکان اور طالب علموں،دونوں کو خوش رکھناہوتاہے اوردونوں طبقوں کے نخرے اٹھانے سے معیارتعلیم بری طرح سے پسماندہ ہوتاہے۔استادکی عزت و احترام اور عظمت گزشتہ کے حصول کے لیے ضروری ہے اسلامی دورکا نظام تعلیم کااحیاء کیاجائے اوراسے خالصتاََ خطوط تدریس نبویﷺ کے مطابق استوار کیاجائے۔

 

انسان کے اولین اساتذہ اس کے والدین ہوتے ہیں اوربچے کی سب سے پہلی درس گاہ ماں کی گود ہوتی ہے اور زندگی کاپہلا تعلیمی ادارہ گھرہوتاہے۔سیکولر تہذیب میں ماں باپ کے اس کردارکو حذف کردیاگیاہے اب ماں اور باپ دونوں صرف کماتے ہیں،دھن دولت جمع کرتے ہیں اور معیارزندگی میں اضافے کی دوڑجیتنے کے لیے کوہلوکے بیل کی طرح دنیاکے کوئیں کے گرد جتے رہتے ہیں۔اس بھیانک بدعت کاسب سے خوفناک نقصان یہ ہواہے کہ بچے اپنے شفیق ترین فطری اساتذہ سے محروم ہوگئے ہیں۔محسن انسانیتﷺنے نمازجیسے فرض اورآنکھوں کی ٹھنڈک جیسی عبادت کی بابت بھی سات سال کی عمرمیں صرف تلقین اور دس سال کی عمر میں سختی کی اجازت دی ہے۔لیکن تف ہے اس سیکولرتہذیب پر جو چندماہ کے بچے کونرسری اورمانٹیسوری میں داخلہ دلواکر اسے مامتاجیسی استادسے محروم کر دیتی ہے۔تین سے چارسال کے بچے کاایساتعلیمی سفرشروع کردیاجاتاہے جس کے بعد والدین اوراولادکے درمیان صرف نطفے کا رشتہ باقی رہ جاتاہے اور نسلوں کی نسلیں ہیں جواپنے خالق مالک و محسن انسانیتﷺسمیت اپنی تہذیب،روایات،اپنی تاریخ،اپنی پہچان اوراپنی عاقبت و آخرت سے بیگانہ ہوکرانسان نماجانوربنتے چلے جارہے ہیں۔والدین اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی نسل کواغواہوتے دیکھتے ہیں اور بے بس ہیں۔اس مسئلے کاایک ہی حل ہے کہ والدین ایک بار پھر معلم انسانیتﷺکا دیاہواآموختہیادکریں اور اپنی اولاد کے لیے اساتذہ کے کردارکواپنے لیے لازم کرلیں،ان کی معیت میں وقت کابہت حصہ گزاریں اور سنت رسول اللہ ﷺکے مطابق ان کی تعلیم و تربیت کافریضہ اداکریں اور نسلی تفاوت(جنریشن گیپ)کاقلع قمع کریں۔

drsajidkhakwani@gmail.com


شیئر کریں: