Chitral Times

Apr 16, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

زکواۃ فنڈ کا مناسب مصرف…….. محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

عالمی شہرت یافتہ ماہر نفسیات ڈیل کارنیگی کہتے ہیں کہ انسان فطری طور پر کانوں کا کچا ہوتا ہے۔ جو بات وہ سنتا ہے اسے بلاتحقیق آگے بڑھاتا ہے۔اگر کوئی اسے بتائے کہ آسمان پر پانچ ارب ستارے چمک رہے ہیں تو بلاتامل اس پر یقین کرے گا۔ لیکن اگر کوئی کہے کہ اس فرنیچر پر ابھی تازہ رنگ ہوا ہے۔ اس پر نہ بیٹھیں تمہارے کپڑوں میں رنگ لگے گا تو وہ اپنی تسلی کے لئے فرنیچر پر انگلی مار کر ضرور دیکھے گا۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت نے صوبے کے ان فن کاروں، ادیبوں ،گلوکاروں اور موسیقاروں کے لئے ’’ ثقافت کے زندہ امین‘‘ کے نام سے مالی امداد کا پروگرام شروع کیا تھا۔جو بیماری کی وجہ سے بستر سے لگے ہوئے ہیں۔ بوڑھے ہوچکے ہیں۔مالی طور پر بہت کمزور ہیں اور فن کے ذریعے کمانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ حکومت کی طرف سے تیس ہزار روپے ماہانہ کی مالی امداد سے وہ اپنے گھر کا چولہا گرم رکھ سکتے ہیں اور اپنا علاج معالجہ کرواسکتے ہیں۔ فن کاروں کے لئے یہ مالی امداد زکواۃ فنڈ سے دی جاتی ہے جس کے لئے حکومت پندرہ کروڑ روپے کی منظوری دے چکی تھی۔ یہ امدادی رقم مستحق فن کاروں تک پہنچانے کے لئے مقامی اخبارات میں اشتہار شائع کرکے درخواستیں منگوائی گئیں۔محکمہ ثقافت کو صوبے کے پچیس اضلاع سے ہزاروں کی تعداد میں درخواستیں موصول ہوئیں۔ محکمہ ثقافت نے صوبے کے ہر ڈویژن سے فن و ثقافت کے ماہرین پر مشتمل 25رکنی کمیٹی تشکیل دی ۔ اس کمیٹی میں فن کار بھی تھے۔ فن کاروں کو متعارف کرنے والے لوگ بھی تھے۔سینئر صحافی ، ریڈیو پاکستان کے اسٹیشن ڈائریکٹر ، پی ٹی وی کے جنرل منیجر کے علاوہ فن و ادب کو سمجھنے والے لوگ شامل تھے۔ سکروٹنی کمیٹی نے دس دنوں تک درخواستوں کی جانچ پڑتال کی۔ ایک ایک درخواست کو ہر زاویے سے جانچنے کے بعد ہزاروں درخواست دہندگان میں سے 500مستحق افراد کا انتخاب کیا گیا۔ یہ بہت مشکل اور پیچیدہ معاملہ تھا۔ کیونکہ درخواست دینے والوں کی اکثریت ان لوگوں پر مشتمل تھی جنہوں نے فن کی بڑی خدمت کی ہے۔ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو ایک یا ایک سے زیادہ اداروں سے مالی امداد لے رہے تھے۔ ان میں ایسے لوگ بھی تھے۔ جو مالی لحاظ سے بہت خوشحال تھے۔ بہت سے ایسے بھی تھے جو مختلف اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ فن و ادب پر مکمل عبور رکھنے والے افراد پر مشتمل کمیٹی نے طویل بحث و تمحیص اور غور و فکر کے بعد ایسے فن کاروں کا چناو کیا جو زکواۃ فنڈ سے مالی امداد کے مستحق تھے۔ بلاشبہ مالی امداد سے محروم رہنے والوں میں بہت سے ایسے مستحق فن کار بھی شامل ہوں گے جنہوں نے درخواست ہی جمع نہیں کرائی تھی۔ کمیٹی نے ایسے درجن بھر افراد کو مالی امداد دینے کی سفارش کی تھی تاہم صوبائی حکومت نے کمیٹی کی سفارش کو یہ کہہ کر قبول نہیں کیا۔ کہ اشتہار شائع کرنے کے باوجود جن لوگوں نے مالی امداد کے لئے درخواست نہیں دی۔ ان کو امدادی رقم نہیں دی جاسکتی۔ سکروٹنی کمیٹی کو مستحق فن کاروں کی حتمی فہرست تیار کرنے میں تین مہینے کا عرصہ لگا۔ بالاخر مستحق فن کاروں کو امدادی رقم کے چیک جاری کئے گئے۔ اس پر بعض حلقوں نے اعتراضات کئے ۔بعض لوگوں نے عدالتوں سے بھی رجوع کیا۔ کچھ نے پریس کانفرنس کرکے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔ اعتراض کرنے والوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اپنی دانست میں خود کو سکروٹنی کمیٹی میں شامل ہونے کے زیادہ مستحق سمجھتے تھے۔ کچھ اعتراضات اس غلط فہمی کی بنیاد پر ہیں کہ زکواۃ فنڈ سے ملنے والی امداد کو ایوارڈ سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ کمیٹی کے پہلے ہی اجلاس میں یہ واضح کیاگیا تھا کہ یہ رقم صرف نادار، مجبور، بے سہارا اور بیمار فن کاروں کے لئے مالی مدد ہے تاکہ انہیں سہارا دیا جاسکے۔ اس پورے عمل میں محکمہ ثقافت کا کردار صرف Facilitatorکا رہا ہے۔ لیکن لوگ اسے بھی لعن طعن کا نشانہ بنارہے ہیں۔ثقافت کے زندہ امینوں کے چناو میں سکروٹنی کمیٹی کا کردار سوفیصد شفاف، مصفانہ اور غیر جانبدارنہ رہا ہے۔پانچ سو مستحق افراد کے چناو میں دو چار غیر مستحق لوگ بھی شامل ہوئے ہوں گے لیکن ننانوے فیصد فیصلے میرٹ پر ہوئے ہیں ۔ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہر اس کام کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے جس میں اپنا مفاد نظر نہ آئے۔جن لوگوں کو مالی امداد کا مستحق قرار دیا گیا ہے ان کی فہرست محکمہ ثقافت کی ویپ سائٹ پر موجود ہے۔ جو اس کی شفافیت کی دلیل ہے۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
11360