Chitral Times

Oct 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعلیِ کا وفاقی حکومت کی طرف سے ضم اضلاع کے ترقیاتی فنڈز کی عدم منتقلی،بجلی کے خالص منافع کی مد میں بقایاجات کی عدم ادائیگی اور وفاق سے جڑے صوبے کے دیگر معاملات میں مرکزی حکومت کے غیر سنجیدہ روئیے پرشدید تحفظات کا اظہار

Posted on
شیئر کریں:

وزیراعلیِ کا وفاقی حکومت کی طرف سے ضم اضلاع کے ترقیاتی فنڈز کی عدم منتقلی،بجلی کے خالص منافع کی مد میں بقایاجات کی عدم ادائیگی اور وفاق سے جڑے صوبے کے دیگر معاملات میں مرکزی حکومت کے غیر سنجیدہ روئیے پرشدید تحفظات کا اظہار

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے وفاقی حکومت کی طرف سے ضم اضلاع کے ترقیاتی فنڈز کی عدم منتقلی،بجلی کے خالص منافع کی مد میں بقایاجات کی عدم ادائیگی اور وفاق سے جڑے صوبے کے دیگر معاملات میں مرکزی حکومت کے غیر سنجیدہ روئیے پرشدید تحفظات کا اظہار کیاہے اور واضح کیا کہ صوبائی حکومت صوبے کے حقوق کے حصول کے لئے تمام سیاسی، آئینی اور قانونی راستے اختیار کرےگی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاق کی طرف سے کمٹمنٹ کے مطابق فنڈز فراہم نہ کرنے کی وجہ سے صوبے خصوصاً ضم اضلاع کا ترقیاتی پروگرام بری طرح متاثر ہو رہا ہے جو کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے۔ ہم صوبے کے عوام کے حقوق پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے ہر ممکن آپشن اختیار کریں گے۔

 

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز وزیراعلیٰ ہاو س پشاور میں ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر برائے خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، چیف سیکرٹری ڈاکٹر شہزاد بنگش، ایڈیشنل چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ،وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت اور اس سلسلے میں درپیش مسائل خصوصاً صوبائی حکومت کے وفاق سے جڑے معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ موجودہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ موجودہ این ایف سی میں خیبرپختونخوا کو اس کا پورا شیئر مل رہا ہے اور نہ ہی ضم اضلاع کیلئے فنڈز کی فراہمی کے سلسلے میں وفاقی حکومت اپنی کمٹمنٹ پوری کر رہی ہے۔ علاوہ ازیں بجلی کے خالص منافع کی مد میں صوبے کے بقایا جات کی ادائیگی بھی مستقل ایک معمہ بنی ہوئی ہے جس کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ سابقہ فاٹا کے انضمام کے بعد صوبے کی آبادی اور رقبے دونوں میں خاطر خواہ اضافہ ہو ا ہے جس کے تناسب سے این ایف سی میں صوبے کو شیئر دینا ناگزیر ہے۔

 

اجلاس میں مذکورہ مسائل کے حل کیلئے وفاق کے ساتھ فور ی طور پر معاملہ ا ±ٹھانے اور وفاق کی طرف سے شنوائی نہ ہونے کی صورت میں صوبے کے حقوق کیلئے تمام آئینی ، سیاسی اور قانونی راستے اختیار کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ موجودہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے ساتھ کھلم کھلا ناانصافی پر اُتر آئی ہے جو قابل برداشت نہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت انسانیت کی فلاح و کامیابی پر وسائل خر چ کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ ہم سیاسی مفادات کیلئے برائے نام منصوبوں کا افتتاح کرنے اور عوام کو دھوکہ دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ا ±نہوںنے کہاکہ صوبائی حکومت نے شدید مالی مشکلات کے باوجود صوبے کی یکساں ترقی کیلئے منصوبہ بندی کی ہے اور ضم اضلاع میں عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے خصوصی اقدامات کئے ہیں۔ علاوہ ازیں حالیہ سیلاب سے متاثرہ عوام کو ریلیف کی فراہمی پر اربوں روپے خرچ کئے گئے ہیں۔

 

وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبے بشمول ضم اضلاع میں عوامی فلاح کے میگا منصوبوں خصوصاً تکمیل کے قریب سکیموں کی بروقت تکمیل صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے تاکہ ان منصوبوں کو مکمل کرکے عوام کی سہولت کیلئے فعال بنایا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر متعلقہ حکام کو رواں مالی سال کے لئے ریونیو جنریشن کا ہدف تیز رفتاری سے مکمل کرنے جبکہ پیداواری شعبوں پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی بھی ہدایت کی۔ ا ±نہوںنے کہاکہ صوبائی حکومت عوام کی فلاح و ترقی کیلئے شروع کئے گئے اقدامات اور منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کیلئے پر عزم ہے۔ اس سلسلے میں تمام متعلقہ محکموں اور اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اُنہوںنے ہدایت کی کہ صوبائی انتظامی محکمے جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے کیلئے باقاعدگی کے ساتھ ماہانہ اجلاس منعقد کریں تاکہ منصوبوں پر تیزی سے پیشرفت ممکن ہو سکے۔


شیئر کریں: